پتھر کی زبان اور صندل کی گیلی لکڑی کا دھواں! فہمیدہ ریاض، حصہ اوّل


وہ آج اگر ہمارے درمیان ہوتیں تو اٹھتّر برس کی ہوتیں، لیکن جنم دن کا بچھڑنے کے دن یا سال سے تو کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ طبعی عمر میں تو وہ 72 سال کی تھیں لیکن اپنے جوہر میں وہ ”مٹی کی مورت“ جیسی انسان خالص اور پویتر مٹی جتنی ہی قدیم تھیں، اپنی شاعری میں آبشاروں کی روانی جیسا اظہار کرنے والی یہ شاعرہ تو پانی جتنی پرانی تھیں، اس کا مزاحمتی اور باغیانہ وجود تو تب سے تھا جب سے انسان نے آگ کو جنما تھا اور پتھروں کے جسمانی مکالمے سے آگ کو دریافت یا تخلیق کیا تھا۔

وہ قدیم تہذیب، ماں کے سماج کی ایک قدیم پرچھائی اور جدید ترقی پسند افکار کا تخلیقی اور تنقیدی سنگم تھی۔ ہماری فہمیدہ ریاض جو اپنے تخلیقی وجود میں آبشاروں جیسی میٹھی اور ملائم اور آگ کی طرح بھسم کرنے والی انگارے والی ڈاکٹر رشید جہاں کا نیا جنم تھیں۔ گو کہ عصمت اپنے اظہار کی کاٹ میں بے مثال ہیں لیکن میں ان کو عصمت چغتائی اس لیے نہیں کہوں گا کہ عصمت میں باغیانہ مزاج تو فہمیدہ سے بھی بڑھ کر تھا لیکن بغاوت سے آگے ان کے افکار میں بند گلی تھی جب کے فہمیدہ کو مستقبل کے متبادل راستوں کا ادراک تھا، یہ وہی فرق ہے جو ایک باغی اور انقلابی میں ہوتا ہے۔

فہمیدہ ریاض کا باغیانہ مزاج ترقی پسند، رجائیت پسند اور انقلابی تھا۔ دراصل اس کا تخلیقی اور جدلیاتی وجود پانی اور آگ کا تخلیقی امتزاج تھا۔ رومانوی اظہار اور محسوسات میں وہ گرمی میں ٹھنڈے پانے کے احساس کی مانند تھیں لیکن اپنے سماجی شعور میں وہ اگنی دیوی کا انسانی روپ تھیں جس کا آدرش تھا کہ اس انسان دشمن، عورت دشمن اور آزادی دشمن سماج اور نظام کو جلا کر راکھ کر دینا چاہیے۔ وہ ایک ایسی دیو مالا رقاصہ تھیں جس کا ایک پاؤں پانی اور دوسرا پاؤں آگ سے عبارت تھا۔ وہ اپنی شخصیت میں دھوپ کی طرح سادہ اور اپنے کُلی وجود میں بادلوں کی طرح پیچیدہ تھیں۔ اسی لیے فہمیدہ ریاض کو آسانی سے کسی ایک خانے میں مقید کرنا دشوار کیا ناممکن ہے۔

فہمیدہ ریاض کا وجودی ظہور 1945 میں حیدرآباد سندھ اور جنم نو مہینے بعد اٹھائیس جولائی کو میرٹھ میں اپنے ننھیال میں ہوا۔ میرٹھ سے ہجرت کر کے آنے والے اس خاندان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے تھا، ان کا خاندان ان کے تعلیم دان والد کے تبادلہ کی وجہ سے تیس کی دہائی میں حیدرآباد سندھ میں رہائش پذیر ہو چکا تھا۔ وہ کراچی، لندن، دہلی اور لاہور میں رہیں لیکن ان کا حیدرآبادی مزاج ہمیشہ زندہ رہا۔ ان کی بنیادی تربیت حیدرآباد کے ادبی اور متنوع ثقافتی ماحول میں ہوئی اور اس دور کی نوجوان لڑکی فہمیدہ کی شخصیت پر ان کی پکی اور بچپن کی دوست انیس ہارون نے کیا خوب لکھا ہے۔

لیکن ادبی دنیا میں فہمیدہ کا پہلا اور بھرپور تعارف تب ہوا جب ان کی پہلی مختصر لیکن چونکا دینے والی کتاب ”پتھر کی زبان“ شایع ہوئی۔ فہمیدہ کی عمر اس وقت مشکل سے اٹھارہ انیس سال ہوگی۔ بقول زہرہ نگار، ن م راشد نے لندن میں اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اس چھوٹی سی لڑکی کے جذبات کی روئیداد ہے جس کے دکھ اور سکھ دونوں اس کی عمر کی طرح چھوٹے چھوٹے ہیں۔ یہ ایک اچھا تبصرہ تھا لیکن یہ تبصرہ اس کتاب کی احساساتی گہرائی کا احاطہ نہیں کرتا، اس میں تو لگتا ہے کہ فہمیدہ اپنی عمر سے دو دہائیاں آگے جا کر سوچتی اور محسوس کرتی ہیں۔

”پتھر کی زبان“ پر پہلا حیرت کا احساس اس کی اسی نام سے پہلی نظم سے پیدا ہوتا ہے، ایک پنکھڑیوں جیسی معصوم اور گداز لڑکی اپنے جذبات کا وجودی اظہار آخر پتھر کی زبان میں کیونکر کر رہی تھی؟ لیکن اس کے پاس اپنے دلائل تھے، اس نے لکھا تھا

اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھا
یہی بلندی ہے وصل تیرا
یہی ہے پتھر مری وفا کا
اُجاڑ، چٹیل، اُداس، ویران
مگر میں صدیوں سے
اس سے لپٹی کھڑی ہوں!

کیا یہ معصوم لڑکی یہ سب کچھ صرف اپنی ذات کے بارے میں کہ رہی تھی؟ یہ تو اپنی صنف کے اجتماعی وجود کے اجتماعی درد کا اظہار علامتی انداز سے کر رہیں تھیں۔ وہ شرماتی لڑکی جو اپنے آپ کا تعارف یوں کرواتی ہو کہ

یہ میری سوچ کی انجان کنواری لڑکی
غیر کے سامنے کچھ کہنے سے شرماتی ہے
اپنی مبہم سی عبارت کے دوپٹّے میں چھُپی
سر جھکائے ہوئے کترا کے نکل جاتی ہے

وہ اپنی چوڑیوں کی کھنک سے شرماتی لڑکی اس کم عمری میں ان بڑے سوالات پر ایسے نتائج پر کیسے پہنچ پائی تھی جب برملا یہ کہ رہی تھی کہ

سچائی، اُلفت، خودداری
مٹی کے کمزور کھلونے
پل بھر میں ٹوٹ جاتے ہیں

اس کتاب میں اس کی شخصیت کا رومانوی اور جمالیاتی تشخص اپنے دھیمے لہجے میں صرف اس پر ہی نہیں اردو ادب کی ہمعصر دنیا پر بھی آشکار ہوا تھا۔ اس عمر کی لڑکیوں کو تو دن کے اُجالے اچھے لگتے ہیں لیکن اس کو دن سے بڑھ کر رات کے رومانوی تجسس اور پراسراریت میں دلچسپی تھی۔ ”ایک رات کی کہانی“ ، ”احتراز“ میں رات کے دامن میں چھپے جادو، نشے میں جھومتی شب کی طلب انگیز مہک، لاحاصل اور مفہوم سے عاری دھڑکنیں بھلا اس عمر میں کس معصوم وجود پر آشکار ہو سکتی ہیں؟

”سوچ“ میں اس کو رات ایک رنگ، راگ اور خوشبو کی مانند لگتی ہے، رات کے نرم تنفس کے چھونے کی امید یہ سب اس وقت اس کی عمر سے بہت آگے کے احساسات تھے۔ اس کے جمالیاتی وجود کو ”بارش“ سے اٹھے والی سوندھی خوشبو مسحور کر دیتی ہے۔ ”دلِ دشمن“ میں وہ عاقلوں کے فرمان سننے کو تیار نہیں، وہ رومانوی پاگل پن کو اولیت دیتی ہے، کیا خوب کہا کہ

عاقلوں نے فرمایا:
”دل کی بات پاگل پن
جوشِ شوق دو اک دن
حسن و عشق کم مایہ
آب و گل کی دنیا میں
سنگ جیسے دل کرلو
خواب دیکھنے چھوڑ دو ”

وہ خواب چھوڑنے والی کب تھی، انہی خوابوں نے اس کو زندگی میں خاردار تاروں اور کانٹوں پر چلنا سکھایا تھا اور زندگی کی بے رحم چٹانوں سے ٹکر لینا سکھایا تھا۔ بقول اس کے اس کا دل ضدی تھا، اس کو حاصل سے بڑھ کر حاصل کے شدید احساس کے تجربے سے سروکار تھا، یہ اس کو خود کو بھی معلوم تھا تب ہی تو اس نے کہا تھا کہ

پتھر بن کے میں سوچتی ہوں
تو میرے لیے نہیں بنا ہے
لیکن دل کی اُداس دھڑکن
چپکے چُپکے یہ کہ رہی ہے
تُو میری رگوں میں رچ گیا ہے

اس کی نظم ”تمنا“ اسی لاحاصل گھاٹے کے خواب کے تعاقب میں دوڑنے کی سعی ہے،
مجھے تمُ سے ملنے کی امید کب ہے
مآلِ مسرت کی تاریکیوں میں
نہیں خود فریبی کا کوئی اُجالا
میرا حوصلہ سر جو زانو پہ رکھے
خجالت سے منہ آستینیں چھپائے
بڑی دیر سے سسکیاں لے رہا ہے
کبھی آس کی پھانس دل میں چُبھتی تھی
سو مدت ہوئی، ٹوٹ کر رہ گئی ہے
میرے دل میں ایک پھول امید کا تھا
اسے وقت کے ہاتھ نے نوچ ڈالا
اب اس زخم سے تجربہ رس رہا ہے
مری روح کی چیخ، اُبھرنے سے پہلے
لبوں پر مرے، منجمد ہو گئی ہے
میرے چاروں اطراف غم کا دھواں ہے
مگر ایک شعلہ بھڑکتا ہے دل میں
لپکتی ہوئی جس کی خونی زبانیں
مری روح کو چاٹتی جا رہی ہیں
یہ شعلہ ابھی تک یونہی ضو فشاں ہے
نہ امید کوئی، نہ کوئی سہارا
بغاوت کی ہمت، نہ کوشش کا یارا
مری بے بسی مجھ پہ ظاہر ہے لیکن
تمہاری تمنا، تمہاری تمنا

عاشقی کے اس گہرے احساسات میں اس میں یہ کیسی بے نیازی تھی، کیسا فقیرانہ وجود تھا کہ جو محبت میں رقابت سے نا آشنا تھا، عشق کی بات اور ہے لیکن محبت تو خود غرض ہوتی ہے، عدم تحفظ کا شکار اور چاروں طرف رقابتوں کو تلاش کرتی ہے لیکن یہ معصوم صفت فہمیدہ تھیں کہ کیسے کیسے سوالات کیے جا رہی تھیں کہ

مجھ سے کہتے تھے، بن کاجل اچھی لگتی ہیں مری آنکھیں
تم اب جس کے گھر جاتے ہو، کیسی ہوں گی اس کی آنکھیں
تنہائی میں چُپکے چُپکے نازک سپنے بُنتی ہوگی
تم اب جس کے گھر جاتے ہو، کیا وہ مجھ سے اچھی ہوگی؟

ایسا ہی رقابت سے پاک معصومانہ اظہار اس نے اپنی بی حد حسین نظم ”اب سو جاؤ“ میں کیا۔ اس عمر میں جدائی یا وصل سے نا امیدی کا احساس وجود کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ یہ کیفیت تو وجودی بحران پیدا کر دیتی ہے جس میں وہ کہتی ہیں

کوئی نہ میری آرزو
کوئی نہ دل میں اشتیاق
کیوں میری خالی آنکھ میں
رنگ بھرے گا کوئی خواب
شام کا تارا دیکھ کر
میں نہ کسی کا لوں گی نام
میرے لیے کوئی نہیں
اجنبی ہیں یہ خوشبوئیں
اجنبی ہیں یہ دھنک کے رنگ
شام کا تارا اجنبی
اجنبی ہے ہوا کا راگ سب کسی اور کے لیے

جس وجودی کیفیت میں ”ذوقِ وصل کی اب تو، خاک بھی نہیں باقی“ اس احساساتی تجربے اور درد کی ریاضت نے فہمیدہ ریاض کی ایسی وجودی تربیت کی کہ وہ سچ مچ میں پتھروں کی زبان میں بات کرنے کا سلیقہ سیکھ گئی۔ فہمیدہ ریاض کی پہلی کتاب ”پتھر کی زبان“ دراصل اس کی وجودی خود شناسی کے سفر کا آغاز تھا، سونے سے گہنا بننے سے پہلے جس آگ کی ضرورت ہوتی ہے، اس کتاب میں اس کے رومانوی احساسات اور تجربات اُسی آگ کے روپ سروپ تھے۔

اسی لئے خالدہ حسین نے اس کتاب کی کیفیات کو ”رومانوی کرب“ کا نام دیا تھا اور درست نام دیا تھا، لیکن فرق یہ ہے کہ یہ کرب وجودی بحران پیدا کرنے والا نہیں ملکہ وجود کی ایک نئی تشکیل کرنے والا کرب تھا۔ یہ ایک مبارک کرب تھا، یہ ایک رہنما درد تھا۔ اس کتاب میں حسرت، تڑپ، ہجر کا لامتناہی احساس، کھو جانے کا شدید احساس تو ہر نظم سے عیاں ہے لیکن یہ فہمیدہ ریاض کا کمال تھا کہ اس میں زندگی کے بارے میں قنوطیت کہیں نہیں تھی۔ یہ تمام کیفیات تو زندگی کی علامات تھیں۔ کیسے لطیف انداز میں انہوں نے خود اس کا اظہار اپنی نظم ”اندیشہ“ میں کیا تھا کہ

گال پہ کاجل پھیلا پھیلا
محرومی سے اُجڑی صورت
رُسوائی سے آنچل میلا
چُپکے چُپکے آنسو پونچھوں
نہیں نہیں میں روتی کب ہوں
اس کا مجھ کو دھیان کہاں ہے
مجھ پر تم اُنگلی نہ اُٹھاوٓ
یہ گیلی لکڑی کا دھواں ہے

فہمیدہ ریاض کی پہلی کتاب ”پتھر کی زبان“ صندل کی مہکتی ایک گیلی لکڑی کا دھواں تھا جس کی درد آمیز مسحورکن خوشبو دور دور تک پھیل گئی!

 

Facebook Comments HS

جامی چانڈیو

جامی چانڈیو پاکستان کے نامور ترقی پسند ادیب اور اسکالر ہیں۔ وہ ایک مہمان استاد کے طور پر ملک کے مختلف اداروں میں پڑھاتے ہیں اور ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔ Jami8195@gmail.com chandiojami@twitter.com

jami-chandio has 11 posts and counting.See all posts by jami-chandio