قُرۃ العین حیدر کا ناول ”آگ کا دریا“: تاریخ، تہذیب اور سماج کا لافانی سفر


”میں ایک دریا ہوں، میرے اندر تاریخوں کا ایک وسیع خزانہ چھپا ہوا ہے۔ ہر تہذیب، ہر زوال، اور ہر بلندی میرے وجود میں سموئی ہوئی ہے۔ میں پرسکون انداز میں بہتا ہوں، لیکن جب میرے سینے میں ان سب کا بوجھ بھر جاتا ہے، تو میں انہیں آگ کی طرح باہر پھینک دیتا ہوں۔ پھر میں آگ کا دریا بن جاتا ہوں۔

” ناول“ آگ کا دریا ”کی مصنفہ قُرۃ العین حیدر 20 جنوری 1927 کو اُتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان چلا گیا، لیکن بعد میں اُنہوں نے بھارت آ کر رہنے کا فیصلہ کیا۔ اِن کے تمام ناولوں میں تقسیم ہند کا درد نمایاں ہے، خاص کر “ آگ کا دریا ”اور“ آخری شب کے ہمسفر ”میں۔ قُرۃ العین کی افسانہ نگاری کی مشق اِن کی پیدائش سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ اِن کے والد سجاد حیدر یلدرم اُردو کے پہلے افسانہ نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کی والدہ نذر سجاد بھی ادیبہ تھیں۔ قُرۃ العین حیدر نے ایک انتہائی علمی اور ادبی ماحول میں پرورش پائی۔ نو سال کی عمر میں ہی ان کے ناول منظر عام پر آنا شروع ہو گئے تھے۔

ایک انٹرویو میں اپنے ناول ”آگ کا دریا“ کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ یہ ناول اُنہوں نے 1957 میں لکھنا شروع کیا تھا اور اس کی اشاعت دو برس بعد ممکن ہوئی۔ 1998 میں قُرۃالعین حیدر نے خود اس ناول کا انگریزی میں ترجمہ ”River of Fire“ کے نام سے کیا، جس میں اُنہوں نے کچھ ترمیمات کیں اور اِسے مزید موثر بنایا۔ یہ ناول ہمیشہ دو قومی نظریے کے حامی ادیبوں اور نقادوں کے لیے ناخوشگوار رہا، لیکن اس ناول میں استعمال ہونے والی تکنیک کو ہمیشہ ادیبوں کی طرف سے سراہا گیا۔

یہ ناول تاریخ اور انسانی فطرت پر ایک مراقبہ ہے جس میں وقت کے ساتھ چار روحوں کا سراغ لگایا گیا ہے۔ ہر حصے کو ایسے کرداروں سے جوڑا جاتا ہے جو ہر دور میں ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ اس ناول کی کہانی ڈھائی ہزار سال پہلے شروع ہوتی ہے اور بیسویں صدی کے نصف پر آ کر رُکتی ہے، اس تاثر کے ساتھ کہ بہتے دریا کی لہروں کی مانند یہ کہانی ابھی چلتی رہے گی، شاید ابد تک۔ اور اگر کائنات کے مکمل خاتمے کے بعد دھرتی اور آکاش دوبارہ جنم لیتے ہیں تو یہ کہانی پھر کبھی شروع ہو جائے گی۔

اس ناول کے دو مرکزی کردار ہیں : گوتم نیلمبر اور چمپا، جس کا نام ہر دور میں مختلف ہوتا ہے۔ پہلا دور چندر گپت موریہ کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے جہاں چمپا کا ذکر چمپک نامی خاتون کے طور پر ہوتا ہے۔ اس دور میں یہ خاتون ایک شہزادے سے منگنی کرتی ہے جو بعد میں بدھ بھکشو بن جاتا ہے۔ دوسرے دور میں یہی خاتون، جسے مغلیہ دور کی آمد کا دور کہا جا سکتا ہے، ایک پنڈت کی بہن کے کردار میں نمودار ہوتی ہے۔ اس دور میں یہ ایک مسلمان سے عشق کر بیٹھتی ہے، منظور کمال، جو سفر سے کبھی واپس نہیں آتا۔ اِس کے انتظار میں یہ زندگی گزار دیتی ہے اور آخر کار سنیاسن بن کر جنگل کی راہ لیتی ہے۔

تیسرے دور میں ہماری ہیروئن اُودھ کی ایک ذہین اور تیز طرار طوائف کے طور پر سامنے آتی ہے جس کی محفل میں انگریز، نواب اور مسلم اشرافیہ کے لوگ آ کر بیٹھتے ہیں۔ اس دور میں بھی دونوں کردار منظر عام پر آتے ہیں : منصور کمال اور گوتم نیلمبر، جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا وفادار ملازم ہے۔ اس دور میں بھی خاتون انتظار کے بعد بھیک مانگتی ہے اور گوتم کی راہ تکتی ہے۔

آخری دور تقسیم ہند کا ہے، جس میں ایک طرف ہندوستان اور دوسری طرف پاکستان ہے۔ اس دور میں مختلف یاد داشتیں اور پہلو بیان کیے گئے ہیں۔ چمپا احمد، ایک مسلم لیگی وکیل کی بیٹی ہے، اپنے دور کے گوتم سے محبت کرتی ہے، لیکن یہ محبت بھی کامیاب نہیں ہوتی۔ وہ اپنے آبائی گاؤں بنارس چلی جاتی ہے اور اپنے ہر دور کی غلطیوں کو سنوارتے ہوئے اپنی زندگی گزارتی ہے۔

اِس ناول میں ہر دور میں اسی زمانے کی زبان کو استعمال کیا گیا ہے اور کرداروں کے اندرونی مکالمات کو شامل کیا گیا ہے، جو اس ناول کو عروج پر پہنچانے کی بنیادی وجہ ہے۔ اس نے کہانی کو نہ صرف تاریخی اعتبار سے مستند بنایا بلکہ کرداروں کے احساسات اور خیالات کو بھی بھرپور طریقے سے پیش کیا، جس کی وجہ سے قاری ہر دور اور اس کے کرداروں کے ساتھ گہری وابستگی محسوس کرتا ہے۔

Facebook Comments HS