خون آلود پارا چنار میں ایک رات


”جب بھی یہاں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے تو کہیں سے بھی یہ نہیں لگتا کہ یہ دو فرقوں یا دو فریقین کی لڑائی ہے۔ فساد ایک دفعہ شروع ہو جائے تو لگتا ہے کہ یہ معمولی فساد نہیں بلکہ دو ملکوں کی جنگ ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پارہ چنار کی شیعہ آبادی کے لیے کوئی ملک بھی اپنا نہیں ہوتا“

یہ بات شہر کی مضافات میں زیڑاں نامی گاؤں میں ایک لڑکے نے علی زیارت پہ اس وقت کہی جب میں نے ان سے پوچھا کہ

”اس وقت پارہ چنار میں فرقہ وارانہ فسادات کی کیا صورتحال ہے۔ ؟“

”ہمارے تین طرف کی سرحدوں پہ افغانستان ہے اور ایک رستہ ہے جو ہمیں باقی پاکستان سے ملاتا ہے فسادات ہوں تو وہ بھی بند کیا جاتا ہے۔ پھر جتنا عرصہ وہ رستہ بند رہتا ہے ہمیں افغانستان سے گھوم کر باقی پاکستان جانا پڑتا ہے جو کہ کم۔ ازکم چالیس گھنٹے کا سفر ہوتا ہے“

یہ عجیب اتفاق تھا کہ فسادات کے حوالے سے اس بات چیت کے عین ایک دن بعد پارا چنا پھر سے کہ سلگ اٹھا تھا۔ ویسے پار چنار میں ایک رات کا قیام اتفاقی بھی کہا کا سکتا ہے کہ وہاں جانے کا ارادہ تو دور میرے وہم و گمان کے رستے میں بھی پارا چنار نہیں پڑتا تھا۔ پشاور سے سفر شروع ہوا تھا۔ اورکزئی ایجنسی میں پھاڑ کی ٹھنڈی چوٹی سمانہ پہ مختصر قیام کے بعد کسی نے پارا چنار جانے کا مشورہ دیا۔

پارا چنار کا نام پرانی یاد میں یوں ضرور محفوظ تھا کہ مجلس کے اختتام پہ ذاکر حضرات، شہیدان پار چنار کے کیے دعا کرتے اور امن کی خصوصی دعا مانگی جاتی۔ مگر یہ تصور کے کسی کونے میں بھی نہیں تھا کہ کسی رات کو اچانک وہیں قیام لکھا ہو گا۔

امن امان اس وقت خراب تو نہیں تھی پھر بھی کہا گیا کہ کسی ریفرینس کے بغیر وہاں جانا ممکن نہیں یوں ڈی پی او سے بات ہوئی تو پارا چنار تک مسلسل پولیس اسکواڈ حفاظتی طور پہ ساتھ چلتی رہی یوں تو اورکزئی سے کرم ایجنسی تک کوئی پانچ پولیس گاڑیوں نے مختلف چیک پوسٹوں پر روک کے چیک کیا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ پھر بھی مجھے یہ اندازہ قطعی نہیں تھا کہ ٹھیک ایک دن کے بعد یہ راستہ فسادات کی وجہ سے یوں بند ہو جائے گا۔

فسادات سے ٹھیک ایک دن پہلے میں بارگاہ زیڑاں نامی گاؤں میں ملانہ کے مقام پہ واقع علی زیارت کے مقام پہ تھی۔ زیارت علی کو پارا چنار میں وہی مقام ہے جو افغانستان میں مزار شریف کو حاصل ہے۔ مقامی لوگ عقیدے کے مطابق مزار شریف کو حضرت علی ابن ابی طالب سے منسوب کرتے ہیں جبکہ وہ مزار حضرت علی بلخی کی مزار کے طور پہ بھی مشہور ہے مگر وہاں پہ ولادت حضرت علی، نوروز اور عید مباہلہ اس خطے میں شیعان علی کے سب سے بڑے اجتماع مانے جاتے ہیں۔ مزار شریف کی تعمیر بارہویں صدی میں سلجوق سلطان سنجر نے کی۔ ٹھیک مزار شریف کی طرح کا رتبہ زیڑاں کی زیارت علی کو حاصل ہے، جہاں علم عباس کی پرچم کشائی، نوروز اور ولادت علی کا جشن باقی پاکستان سے نمایاں و روایتی انداز میں منایا جاتا ہے۔

ویسے مزار شریف سے ملحقہ بلخ شریف بیک وقت مولانا رومی اور زرتشت پیغمبر کی جائے پیدائش ہے۔ محرم کی وجہ سے پارا چنار میں جگہ جگہ موجود زیارت پہ لنگر کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ زائرین اپنی مرادیں لیے زیارت پہ گل ہائے عقیدت پیش کرتے، منت مراد کا سلسلہ جاری رکھتے لنگر سے فیضیاب ہوتے جاتے۔

میری حاضری پہ جب ان کو پتہ چلا کہ میرا تعلق سندھ سے ہے تو خوش آمدیدی کلمات کے ساتھ انہوں نے لنگر کھانے کی دعوت دی اور واپسی پہ تبرکات کے ساتھ کچھ ہاتھ میں بھی تھما دیا۔

حالیہ فساد میں تادم تحریر تقریباً 45 لوگ مارے گئے ہیں اور کوئی دو سو کے قریب زخمی ہیں۔ فساد شروع ہونے سے ٹھیک ایک دن پہلے میں نے مختصر قیام کے بعد اس کی دلپذیر یادوں کو دل سموتے ہوئے پارا چنار سے واپسی کی تھی۔

اس شہر پہ پارا چنار نام کے حوالے سے روایت ہے کہ چنار درختوں کی کثرت اور پارا نام کے قبیلے سے منسوب اس شہر کا نام پارا چنار پڑ گیا جبکہ ایک اور روایت کے موجب ایک تناور چنار درخت کے نیچے پارا چمکانی قبیلہ اپنے قبائلی و دیگر مسائل کے لیے مل بیٹھتا تھا اور مسائل پہ گفت و شنید کی جاتی تھی۔ اس وجہ اس بھی اس کا نام پارا چنار پڑا۔ کہتے ہیں کہ وہ درخت آج بھی اسی آب تاب سے موجود ہے۔

تقریباً سوا ایک صدی پہلے اہل تشیع ہم وطنوں کی اکثریت رکھنے والا شہر پارا چنار پشتون بولنے والے طوری قبائل نے افغانستان کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر آباد کیا جہاں بعد میں بنگش اور دیگر قبائل نے بھی مستقل رہائش اختیار کی

1947 / 48 میں یہ علاقہ فاٹا کے علاقہ کرم ایجنسی میں شامل کر کے پارا چنار کو بھی پاکستان کا حصہ بنا دیا گیا۔ پارا چنار مذہبی فسادات کے حوالے سے اس خطے میں سب سے زیادہ خون آمیز تاریخ رکھتا ہے۔

افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد سی آئی اے کے فنڈڈ جہاد سے اس خطے کی زمین انسانی خون سے اس لئے سرخ ہونا شروع ہوئی کہ افغان جہاد میں جہادی یہاں آس پاس آباد ہوئے، جو یقیناً دیگر مسلمانوں کی تکفیر کرنے کی روایت رکھتے تھے، اس لیے مقامی شیعہ آبادی کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرنے کے بجائے پارا چنار کو مفتوحہ سرزمین سمجھ کر ان پہ فرقہ وارانہ لڑائی مسلط کر دی گئی۔

جہاد سے پہلے یہاں کی سیاسی فضا بھی ترقی پسندانہ ہی تھی کہ سوشلسٹ نظریات کے حامل کئی پرانے سرخے اب بھی اپنی نظریاتی مورچہ پہ کاربند کھڑے ہیں۔

شہر سے آدھے گھنٹے پہ موجود ہوائی اڈا جو کہ اب بند ہے اس کا افتتاح بھٹو نے کیا تھا لہذا شہر میں مجھے کئی پرانے سرخوں کے ساتھ وہ کامریڈ ساتھی بھی ملے جو بھٹو سے ملاقات کی یادیں سینے سے لگائے بیٹھے تھے۔ شاید یہ ان کے اچھے دنوں کی یاد کا یہی سرمایہ ان کے پاس تھا جس کو بانٹتے ان کے چہروں پہ آنے والی چمک کو محسوس کیا جا سکتا تھا ورنہ تو خون بھری تاریخ تھی جس سے پارا چنار کے ہر اس شخص کی یاد غم و غصے سے بھری تھی جب ضیاالحق کی بدترین مارشل لا حکومت میں ضیاالحق کی پشت پناہی میں مقامی سنی و افغان مجاہدوں کے گٹھ جوڑ سے فرقہ وارانہ فسادات سے خون کی ہولی کھیلی جاتی۔

مزے کی بات یہ تھی کہ پشتون علاقوں میں مخصوص مذہبی انتہا پسندی ان چند گنے چنے ترقی پسندوں کا کچھ بھی بگاڑنے سے قاصر تھی کہ ان کی بیٹھکی ڈیروں میں اب بھی لینن کے چھوٹے مجسمے فخریہ آرائش کی علامت بنے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

اسی کی دہائی کے نصف حصے سے شروع ہوتی فرقہ واریت کی یہ آگ کبھی ٹھنڈی نہ ہوئی کہ پارا چنار کے گرد نواح کے علاقوں کی زمین القاعدہ و افغان طالبان کے سرغنہ مجاہدین کے لیے محفوظ پناہ گاہ کا کام دیتی اور پارا چنار کی شیعہ آبادی اس کی قیمت اپنے خون سے ادا کرتی۔

1981 اور 1982 میں فسادات پارا چنار کے مضافاتی قصبے صدہ میں شروع ہوئے۔ جب مقامی غیر شیعہ قبائل نے افغان مہاجرین سے مل کر دائود حاجی کے پورے خاندان کو موت کے گھاٹ اتار کر تمام مقامی شیعہ قبائل کو جبری طور پہ قصبے سے بے دخل کر دیا جہاں پھر وہ کبھی واپس جا کر آباد نہ ہو سکے۔ دیکھا جائے تو پشتون علاقوں کی یہ دربدری، علاقہ بدری بغیر کسی فرق کے ہر جگہ یکساں تھی۔

مگر کرم ملیشیا جس میں طوری قبائل کے ساتھ دوسرے مقامی قبائل بنگش، مینگل وغیرہ بھی شامل تھے اس لیے انہوں نے علاقے میں امن امان قائم رکھنے کی خاطر افغان مہاجرین کو صدہ سے آگے بڑھنے سے روکے رکھا لہذا پارا چنار تک فسادات کی آگ اتنی جلدی نہیں پہنچی۔

مگر بدنام زمانہ ضیاالحق پشت پناہی نے فرقہ واریت کو ریاستی آلہ کار کے طور پہ استعمال کرنے کے کیے اس طرح پھیلایا کہ صرف قصبہ صدہ ہی نہیں، بلاش خیل، ابراہیم زئی اور سمیر گاؤں تک یہ علاقہ فرقہ واریت کے خون سے رنگین ہوا۔ کئی گاؤں جلائے گئے، گھرانے لوٹے گئے، امام بارگاہوں کا مسمار کرنا، مساجد کو شہید کرنے کی مہم بازی کا آغاز ہوا۔

اور مزید ستم یہ ہوا کہ 1986 میں پارا چنار کے نواحی گاؤں پیواڑ سے تعلق رکھنے والے شیعوں کے مسلکی قائد عارف حسینی کو پشاور میں مارا گیا۔ اس کے بعد پھوٹ پڑنے والے فسادات کے بعد شاید پارا چنار نے امن کے وقفے تو دیکھے ہوں مگر لڑائی کا اختتامیہ تاحال نہیں ہوا۔

شیعہ ٹارگیٹ کلنگ ویسے تو ملک بھر میں عام ہوئی مگر تکفیری جماعتوں کو پارا چنار آنکھ میں کانٹے کی طرح یوں چبھتا کہ یہاں کے پشتون قبائل میں جتنی مزاحمت تھی وہ ملک کے کسی اور حصے سے نہیں ہوئی۔ باقی تمام پشتون علاقوں کے برعکس پارا چنار میں محرم کی وجہ سے سیاہ کپڑوں میں ملبوس خواتین کو بازار سے لے کر سڑکوں اور کھیتوں میں دیکھ کر میری حیرت نہ جاتی اور میں بار بار پوچھتی کہ ”کیا یہ پشتون قبائل کی خواتین ہیں؟“

”ہم نے اپنے سماج کی خود تعمیر کی ہے، ہماری قائد بی بی زینب ہے جس کی تعلیمات خواتین کو ترغیب دی ہے کہ وہ اپنی زندگی کی جنگ میں خود ہی قائدانہ رول ادا کریں“

زیارت حضرت عباس پہ سیاہ پتلون میں ملبوس لڑکے نے بتایا۔

پارا چنار کو باقی روایتی پشتون علاقوں سے منفرد بنانے والے حسینی شیعہ قبائل کے بلند سیاہ و سرخ علم تھے جو مجھے تقریباً ہر گھر کے باہر نظر آئے۔

شاید میری طرح بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ جب بھی فسادات ہوں تو کرم ایجنسی کی پارا چنار جانے والی مین شاہراہ تکفیری گروہوں کے کارندے بند کر دیتے ہیں اور پھر شناختی کارڈ پہ نام دیکھ کر قتل کیے جانے کی خبریں بھی عام ہوتی ہیں۔ پشاور جانے والی مین شاہراہ بند ہونے سے پارہ چنار کا رابطہ صرف کرم ایجنسی سے ہی نہیں بلکہ پورے ملک سے منقطع ہوجاتا ہے اور پارا چنار کے باشندے بذریعہ افغانستان باقی ملک تک پہنچتے ہیں جس میں کم از کم چالیس گھنٹے کا سفر طے کر کے پارا چنار پہنچا جا سکتا ہے۔ 2007 میں تکفیری جماعتوں کی لڑائی کی کمانڈ حکیم اللہ محسود اور منگل باغ نے خود سنبھالی یوں فرقہ وارانہ فسادات نے مکمل جنگ کی صورت اختیار کر لی کہ اس میں مہارت سے بھاری اسلحہ و توپ خانے مارٹر گولوں سے حملے شروع ہوئے۔

ان حملوں میں مرکزی امام بارگاہ کے ساتھ سارے شہر کو مارٹر گولوں کا نشانہ بنا کر آدھے پارا چنار کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا گیا جس میں مقامی لوگوں کے دعوی کے مطابق پانچ ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں اور مرکزی شاہراہ بند کر کے پارہ چنار کا محاصرہ تین سال تک جاری رکھا گیا۔ چونکہ گاڑیوں سے اتار کر شیعہ شناخت پہ لوگوں کو قتل کر دینا عام تھا اس لیے عام لوگ بھی اس مرکزی شاہراہ کے بجائے بذریعہ افغانستان سفر کرنے پہ مجبور ہوتے۔

” ہم اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں ریاست کبھی بھی ہمارے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی البتہ جب القاعدہ اور مجاہدین کی سرکوبی کے لیے فوج آئی تھی تب بھی ہم نے اسے اپنا ہمدرد نہیں پایا“

یہ عام لوگوں کی شکایت تھی مگر روایتی پشتون غیرت و بہادری کے جذبے سے سرشار ان کو یہی زعم تھا کہ ”ہم پشتون ہیں مگر یہ لڑائی حق و باطل کی ہے جو کربلا سے لے کر اب تک علی کی اولاد اور اس کے چاہنے والوں پہ مسلط ہے، حسینی لشکر سدا اکیلا ہوتا ہے، اس لیے ہمیں غم نہیں کہ یہ لڑائی کب تک رہتی ہے۔ سر کٹ گیا تو خیر ہے مگر علم عباس کو جھکنے نہیں دیں گے۔“

”ہمارا جھگڑا کسی کے ساتھ نہیں ورنہ ہم اپنے امام بارگاہ سے ملحق مندر کو یوں سلامت نہ رکھتے۔“
میں نے امام بارگاہ سے ملحقہ وہ مندر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو پتہ چلا کہ مندر کی چابی بھی اسی کے پاس ہے جو امام بارگاہ کا نگراں ہے۔ تھوڑی دیر میں چابی آئی اور چھوٹا سا کمرہ میرے لیے کھولا گیا جس کے ساتھ ہی لنگر پکانے کا کمرا اور چولہے کا سامان پڑا تھا۔ مندر کا کمرہ کھلا تو دیکھا کہ ان کے کہنے کے برعکس یہ ہندو مندر نہیں بلکہ سکھوں کا گوردوارہ ہے۔ میں نے بطور عقیدت گرو نانک کی وہاں پہ الماری میں پڑی اگر بتی جلائی اور سلام عقیدت پیش کیا۔

پہاڑوں کی چوٹیوں پہ دور سے نظر آتے امام بارگاہوں اور زیارتوں کے چمکتے گنبد اور عین پہاڑوں کے دامن میں زیارت علی کی جڑواں گنبد اس کی فطری خوب صورتی میں انسانی رنگ شامل کیے ہوئے تھے۔ شہر اور گاؤں سے ملحقہ قبرستانوں میں علم عباس کا میلا سجا ہوا تھا۔ لوگوں کی چہل پہل سے کہیں بھی اس کو شہر خموشاں کے نام سے پکارا جانا مناسب نہیں لگتا تھا کہ وہاں شہر سے زیادہ قبرستان آباد تھے۔

حالیہ فسادات پارا چنار کے مضافاتی علاقے میں بظاہر زمین کے تنازعہ سے شروع ہوئے لیکن یہاں پہ مذہبی فرقہ واریت کی فضا اس سطح پر حساس ہے کہ اس تنازعے کو فرقہ وارانہ بنتے دیر نہ لگی اور یوں چھ دن میں کوئی پچاس کے قریب لوگ مارے گئے اور دو سو سے سے زیادہ آدمیوں کے زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاعات تھیں۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تعداد کا تعلق مقامی شیعہ قبائل سے تھا جبکہ اہل سنت کے بھی چند لوگ مارے گئے جب لاشوں کے تبادلے کیے گئے تو شیعوں کی چالیس سے زیادہ لاشیں تھیں۔

ماضی کی طرح یہ فسادات بھی معمولی نوعیت کے نہیں تھے کہ بی بی سی کی رپورٹنگ کے مطابق ”اس جنگ کے دوراں بڑے ہتھیار بھی استعمال ہوتے رہے، یہ دو قبائل کی جنگ نہیں بلکہ دو ملکوں کی جنگ لگ رہی تھی جس میں راکٹ لانچر، میزائل، بڑی بندوقیں سب کچھ استعمال ہو رہا تھا۔“

بین الاقوامی اور مقامی میڈیا کی رپورٹنگ سے تاثر مل رہا تھا کہ طرفین کے قبائلی عمائدین کا حکومت پہ اعتماد دکھائی نہیں دیتا اور مقامی لوگ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کی تشویش سے تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی و ریاستی ادارے از خود یہاں پہ فرقہ ورانہ کشیدگی ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

کشیدگی کے پیش نظر انٹرنیٹ اور اور ٹیلیفون کے رابطے بند کرنے کی وجہ سے غیر مصدقہ افواہوں کا سلسلہ بھی فسادات اور غیر یقینی صورتحال کو مزید ہوا دے رہا ہے مگر لوگوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک جھڑپوں کے نتیجے میں پاراچنار سے پشاور مین روڈ بھی ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند ہے جب کہ بقول مقامی لوگوں کے پاراچنار کے ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال اور بازاروں میں ادویات ختم ہو گئیں ہیں۔

چنار کے گھنے درختوں اور باغات سے گھرا پارا چنار کب تک فرقہ واریت کی دوزخ کو جھیلے گا مجھے معلوم نہیں مگر آلووں کے کھیت میں ایک ساتھ کام کرتے مرد و زن دیکھ کر میرے چہرے پہ جو مسکراہٹ آئی تھی، ابھی اس سفر کی تھکاوٹ نہ اتری تھی کہ وہاں سے خون کی بارش کی خبر نے اس ماں کی گیلی انکھ کی یاد دلا دی جو قبرستان میں اپنے شہید بیٹے کی قبر پہ تازہ پھول رکھ کر لوٹ رہی تھی۔

Facebook Comments HS