فتوحل زرداری گاؤں کے صدر پاکستان
آصف علی زرداری عرف سجاول زرداری 26 جولائی 1955 کو زمیندار اور تاجر حاکم علی زرداری کے گھر پیدا ہوئے۔ 32 سال تک آصف علی زرداری اپنے والد کے اکلوتے بیٹے ہونے کے ناتے پیار کے ساتھ زندگی گزارتے رہے۔ آصف علی زرداری قیام پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے پہلے پاکستانی صدر بھی تھے۔
69 سالہ صدر آصف علی زرداری کا تعلق ضلع سکرنڈ کے شہید بے نظیر آباد نواب شاہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں فتوحل زرداری سے ہے ان کے دادا محمد حسین زرداری ایک تاجر اور چھوٹے زمیندار تھے اور وہ مقامی سطح مسلم لیگ کے رہنما بھی تھے۔
سنہ 1987 میں اپنے رشتہ داروں کی رضامندی سے انہوں نے بے نظیر بھٹو سے شادی کی جو بیس سال تک قائم رہی جس کا خاتمہ 2007 میں بے نظیر بھٹو کی ناگہانی موت سے ہوا۔ انہوں نے گیارہ سال جیل اور چار سال جلاوطنی دبئی میں اور تقریباً پانچ سال وزیراعظم ہاؤس میں گزارے۔ وہ اکثر ملاقاتوں میں کہا کرتے تھے کہ میں یا تو وزیراعظم ہاؤس میں رہوں گا یا جیل میں۔ اگرچہ انہیں سیاست وراثت میں ملی لیکن ان کا سیاسی سفر 32 سال کی عمر میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ شروع ہوا۔
ان کے والد حاکم علی زرداری کی پہلی شادی ایک پڑھے لکھے گھرانے کی خاتون بلقیس بیگم سے ہوئی جو سندھ کے ممتاز سیاسی اور سماجی رہنما، سندھ مدرستہ السلام کراچی کے بانی حسن علی آفندی کی پوتی تھیں۔ آصف زرداری ان کے ہاں پیدا ہوئے۔ بلقیس بیگم کے اصرار پر حاکم علی زرداری نے اپنا گاؤں سکرنڈ چھوڑ دیا اور کراچی آ کر سینما گھر اور بڑی بڑی عمارتیں بنانے کا کاروبار شروع کیا۔ ان کے والد حاکم علی زرداری نے کاروبار کے ساتھ سیاست کا آغاز بھی کیا۔
سنہ 1970 کے الیکشن میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے موجودہ ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی شاہ کے والد سید شبیر احمد شاہ کو ان کو شکست دی۔
کیڈٹ کالج پٹارو سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے والے آصف علی زرداری پانچ بار قومی اسمبلی کے رکن، ایک بار سینیٹ آف پاکستان کے رکن اور اب دوسری بار پاکستان کے صدر بن چکے ہیں۔ ان کی سیاسی سرگرمی 1989 میں بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد شروع ہوئی تھی۔ یوں ان کی سیاست کے اچھے اور برے دن شروع ہوئے۔
پاکستان کی حالیہ سیاست میں سب سے زیادہ عرصے تک سب سے زیادہ قید، تنقید اور الزامات میں رہنے والے آصف علی زرداری گزشتہ 35 برسوں سے پاکستان کے ایک ’غیر معمولی سیاستدان‘ رہے ہیں۔ 2007 میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد انہوں نے جس طرح سے پارٹی کو منظم کیا، خصوصاً سندھ میں، وہ ان کی سیاسی حکمت عملی کا واضح ثبوت ہے۔
سندھ میں ہمیشہ سے جاگیردارانہ قیادتیں رہی ہیں، لیکن آصف زرداری کی سوچ اور سیاست غیر روایتی رہی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ان پر تنقید اور مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاست خطرے کا کھیل ہے، جہاں سیاستدانوں کو یا تو پھانسی دی جاتی ہے، گولیوں سے مار دیا جاتا ہے یا جلاوطنی پر مجبور کیا جاتا ہے، وہاں آصف زرداری جیسے سیاستدان کا دوسری بار ملک کا صدر بننا ایک عام سی بات نہیں ہے۔
کیونکہ اس ملک میں صدر یا تو طاقتور یا کمزور اور فضل الہی چوہدری رفیق تارڑ کی طرح بے اختیار رہے ہیں، جو اپنے محسنوں کو فوجی آمروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر ہٹاتے دیکھنا پسند کرتے تھے لیکن مستعفی ہونے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ فاروق لغاری جیسے بے وفا صدر نے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا اور اپنی ہی محسن بے نظیر کا تختہ الٹ دیا۔ دوسری طرف فوجی صدر ایوب خان، جنرل یحییٰ، جنرل ضیاءالحق، جنرل پرویز مشرف تاریخ میں انتہائی طاقتور صدور رہے ہیں۔ ان جرنیلوں نے عزت اور وقار کے ساتھ اپنے عہدے نہیں چھوڑے۔
سنہ 2008 میں جب آصف علی زرداری پہلی بار صدارت کے لیے منتخب ہوئے تو انہیں معلوم تھا کہ اسلام آباد کا صدارتی محل اچھی شہرت کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ سازشی محل ہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ایسے عہدے پر رہیں، جو سازشوں کا سامنا کر سکے، اس وقت جیسے ہی آصف زرداری نے صدارت کے عہدے کے لیے فارم جمع کرایا، ان کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ ایک مشہور صحافی نے صدارتی انتخاب رکوانے کے لیے فوج کو مداخلت کرنے کو کھا۔ اسلام آباد کے ایک اور صحافی نے لکھا کہ اس ملک میں جو زلزلے آئے ہیں وہ آصف زرداری کے صدر بننے کی وجہ سے ہیں۔
جب آصف زرداری پاکستان کے صدر بنے تو انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں بہت سے غیر معمولی فیصلے کیے، جن میں 2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری دینا، ان کے صدارتی اختیارات ختم کر کے پارلیمنٹ کو دینا، آرمی چیف کی تقرر کا آئینی اختیار ختم کر دیا۔ آئینی ترمیم کی جس کے ذریعے میاں نواز شریف دوسری بار پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔ انہوں نے چھوٹے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی، سرحدی صوبے کا نام خیبر پختونخوا رکھ کر اور تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی رکھ کر ملک میں ایک نیا کلچر متعارف کرایا۔ جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے پہلے سویلین صدر بن گئے جنہوں نے اپنے پانچ سال پورے کیے ۔ تاہم ان پانچ سالوں کے دوران انہیں بڑی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
2011
جب ایوان صدر میں صدر زرداری کی حالت خراب ہوئی تو وہ چل نہیں سکتے تھے، مکمل بول نہیں سکتے تھے اور انھی راولپنڈی کے ملٹری ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، راولپنڈی کے ملٹری ہسپتال کے ڈاکٹروں بالخصوص نیورولوجسٹ کی رپورٹ کے مطابق وہ زیادہ دیر تک صدارت نہیں کر سکیں گے۔ فوج مطمئن تھی کہ زرداری صاحب اب مزید وقت صدر نہیں رہ سکیں گے۔ لیکن وہ علاج کے بعد دبئی سے واپس آ گئے، بیماری اور کمزوری کے باوجود ایوان صدر میں روزمرہ کے کام کرتے رہے۔
یہاں تک کہ جب انہیں صدارتی محل سے بے دخل کرنے کی دھمکی دی گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر دباؤ کا مقابلہ کیا کہ آپ مجھے ایمبولینس میں صدارتی محل سے باہر لے جا سکتے ہیں۔ خفیہ پیغامات موصول ہو رہے تھے کہ انہیں زبردستی ایوان صدر سے ہٹا دیا جائے گا جس پر صدر زرداری نے کہا کہ وہ ان کی جبری بے دخلی کی ہر ممکن مزاحمت کریں گے۔ 2016 میں صدر زرداری کی پانچ سالہ صدارتی مدت پوری ہونے کے تین سال بعد آصف زرداری نے ایک جنرل میٹنگ میں دہرایا کہ آپ تین سال کے لیے آرہے ہیں۔ ہم مستقل رہنے کے لیے آتے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے دوبارہ صدر بن کر خود کو ثابت کیا۔
اپنے دور صدارت میں انہوں نے اخبار واشنگٹن پوسٹ میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں ایک مضمون لکھا جس میں کہا گیا کہ اسامہ بن لادن اس صدی کی سب سے بڑی برائی تھا۔ جس کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا، جس کے ساتھ ان مظلوموں کو انصاف فراہم کیا گیا، وہ بات قابل اطمینان ہے کہ اس کی موت میرے لیے ذاتی، سیاسی حیثیت رکھتی ہے۔ بے شک انہی عناصر نے بے نظیر بھٹو کو قتل کیا۔ اس بات کا انکشاف امریکی صدر بش نے عراق سے افغانستان جانے والے اپنے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ جب میں نے پاکستانی صدر زرداری سے کہا کہ ”ڈو مور“ تو انہوں نے میری آنکھوں میں دیکھا اور کہا، ”میں ان لوگوں کے ساتھ کیسے نرمی اختیار کر سکتا ہوں جنہوں نے میرے بچوں کی ماں، میری بیوی کو قتل کیا ہے؟“
آج جب آصف علی زرداری 16 سال بعد ایک بار پھر اسی صدارتی عہدے پر براجمان ہیں، ان کی عمر 69 سال ہے، بڑے مینڈیٹ کے ساتھ منتخب ہونے والے آصف زرداری کے لیے پہلی صدارت سے زیادہ چیلنجز ہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ کہتے ہیں۔ وہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے، میں سرخیوں میں رہنے کے بجائے تاریخ میں رہنا پسند کروں گا۔



اقبال نے کہا تھا۔۔۔۔
معلوم نہیں ہے کہ خوش آمد کہ حقیقت
کہدے کوئی الو کو اگر رات کا شہباز
آپ کا نام ہی کافی ہے یہ بتانے کیلئے کہ لفافے کے اندر موجود خط کا مضمون کیا ہوگا۔
متعدد کاپی پیسٹ باتیں غلط لکھی ہیں۔
صدر محترم نے کیڈٹ کالج پٹارو سے میٹرک نہیں کیا تھا بلکہ کالج انتظامیہ کے خلاف کی جانے والی بغاوت کے بعد اپنے دوستوں سمیت وہاں سے ڈرم آوٹ ہوئے تھے۔ بعد میں کراچی کے کسی اسکول سے میٹرک اور پھر روپیٹ کر انٹر پاس کیا تھا۔ یادرہے اس زمانے میں حضرت کا نام "آصف علی بلوچ” ہوتا تھا۔ اور اس نام پر لگی پابندیوں سے پیچھا چھرانے کے لئے اس کے بعد یہ صاحب آصف علی زرداری ہوگئے تھے۔ گوگل کرلیں تو اس خط کا متن بھی بہ آسانی مل جائے گا۔
صدر الدین ہاشوانی کی خود نوشت میں ان کے اس دور جوانی کے کئی دل چسپ واقعات موجود ہیں۔
ان کے اس دور پٹارو کے ایک ساتھی ذوالفقار مرزا بھی تھے جو ایک مجسٹریٹ کے بیٹے تھے اور اس بغاوت سے بچ نکلے تھے۔
حاکم علی زرداری صاحب نے 1968 کے آس پاس کراچی میں دوسری شادی زیڈ اے بخاری کی صاحب زادی زریں آرا بخاری سے بھی کی تھی جو 2022 میں کرونا کے دنوں میں انتقال کرگئی تھیں۔
حیرت ہے زرداری صاحب کی بی اے کی فرضی ڈگری کی بات نہیں کی جس کی بنیاد پر وہ صدر منتخب ہوئے تھے۔ برطانیہ والے آج تک اس پتے پر کسی یونیورسٹی کی موجودگی کو ڈھونڈرہہے ہیں جہاں سے بقول انہوں نے بی اے کیا تھا۔
صدر بن کر جب پہلی باار یہ صاحب مزار قائد پر پہنچے اور یادگاری کتاب میں انگریزی کی گل کاریاں کیں وہ بھی ادب کیلئے کسی یادگار سے کم نہیں۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤ