پُرسکون زندگی کا راز : گرین زون فلسفہ


”ان تمام مردوں اور عورتوں کے نام جو ایک پر سکون زندگی گزارنا اور ایک پر امن معاشرہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔“

یہ فقرہ کتاب کا دلکش انتساب ہی نہیں بلکہ خوُبصورت خواب بھی ہے۔ زیرِ نظر کتاب کا نام ”پرُ سکون زندگی کی طرف سات قدم“ ہے جو ڈاکٹر خالد سہیل اور محترمہ ثمر اشتیاق کی مشترکہ تصنیف ہے۔ حال ہی میں کراچی (پاکستان ) سے شائع ہونے والی یہ کتاب انسانی نفسیات کا تجزیہ اور خود تشخیصی کے عمل سے ایک پر سکون اور خوُشگوار زندگی کی نوید دیتی ہے۔

زندگی اپنی فطرت میں ایک سادہ آسان اور سُہانا سفر ہے مگر اکثر دیکھا گیا ہے انسانوں نے زندگی کو اپنے لیے مشکل اور پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ برٹرینڈرسل نے کہا ”: بہترین زندگی وہ ہے جس کا محور محبت ہو اور وہ علم کی روشنی میں آگے بڑھتی ہو۔“

ذہنی تربیت کے فقدان اور ہمارے اندر ذہنی تناؤ اور بے چینی کے مستقل قیام سے ہماری نفسیات ایک بیمار شخص کی نفسیات بن جاتی ہے جس سے ہمارے پیار کے رشتے، ہماری عائلی زندگی اور سماجی زندگی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ کچھ نوجوان ساری عمر مختلف نفسیاتی الجھنوں کا شکار پائے گئے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ آغازِ بچپن میں ان کے والدین آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے اور بچوں نے اپنے گھر میں ہمیشہ ایک تناؤ کی فضا، خوف کا عالم اور نفرت کا ماحول دیکھا۔ پھر یہی رویے ان کی شخصیت کا حصہ بھی بن گئے۔ ظاہر ہے جب زمین میں کانٹے بوئے جائیں گے تو اس میں پھول کیسے کھلیں گے؟ لہٰذا اگر انسان کو مزاج قابو کر کے اپنے کل کو پُر امن، پر سکون اور خوشگوار بنانا ہے تو آج کے دن اس کو لازمی طور پر اپنے مزاج کو جانچنے، پرکھنے اور قابو کرنے کا کوئی میکانزم اپنانا چاہیے۔ اس طرح وہ ایک خوُشگوار اور خوُش مزاج انسان بن سکتا ہے۔ ایسا انسان خود بھی خوش رہتا ہے اور اس کے ارد گرد بسنے والے دوست رشتے دار بھی ایک پر ُسکون اور خوُشگوار زندگی بسر کر سکتے ہیں۔

پھر ایسا کیا ہو کہ انسان اپنی کوشش سے ایک متوازن، خوُشگوار اور پر سکون زندگی گزار سکیں؟ اس ضمن میں پچیس سال قبل نامور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر خالد سہیل نے گرین زون فلسفہ دریافت کیا۔ اور اس کو آغاز میں شمالی امریکہ میں متعارف کروایا تھا۔ یہ اپنی مدد آپ کے تحت ایک نفسیاتی طریقہِ علاج ہے۔ گرین زون فلسفے اور طریقہ علاج کے حوالے سے انگریزی زبان میں ایک مفصل کتاب لکھی جا چکی ہے۔ مگر بر صغیر پاک و ہند اور بالخصوص پاکستان میں ایسے افراد کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے جو انگریزی پڑھنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ اردو قارئین کے لیے اس کتاب کو اردو میں ترجمہ کر کے شائع کیا گیا ہے۔ اردو کتاب میں ایک اضافہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ اس کی گرین زون کہانیاں یا سرگزشتیں زیادہ تر مشرق نژاد افراد سے لی گئی ہیں۔

مگر گرین زون فلسفہ ہے کیا؟ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ گرین زون فلسفے کو ٹریفک کے اشاروں کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ٹریفک سگنل، گرین (سبز) ، یلو (پیلا) اور ریڈ (سرخ) رنگوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ان اشاروں کی مدد سے ٹریفک کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہی نظم انسانوں کو حادثات سے محفوظ رکھ کر منزل مقصود تک پہنچاتا ہے اور گاڑیوں کی روانی کو بھی قائم رکھتا ہے۔ اسی طرح ہماری جذباتی کیفیات کے بھی حلقے یا زون ہوتے ہیں۔ جب ہم خوش، مطمئن اور زندگی سے لُطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں تو جذباتی طور پر اپنے گرین زون میں ہوتے ہیں۔ جب ہم تھوڑے سے پریشان، تھوڑے سے اداس اور قدرے غصے میں ہوتے ہیں تو یلو زون میں ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب ہم بہت زیادہ پریشان، مایوس یا شدید غصے میں ہوتے ہیں تو اپنے ریڈ زون میں ہوتے ہیں۔ مگر اچھی خبر یہ ہے کہ عملی طور پر کچھ اقدامات کر کے نہ صرف ہم اپنے گرین زون کا دورانیہ بڑھا سکتے ہیں بلکہ ریڈ زون میں جانے سے پہلے یلو زون سے ہی واپس گرین زون میں بھی آ سکتے ہیں۔ اور یہیں سے اپنی مدد آپ کے تحت عملی علاج (تھراپی) شروع ہوتی ہے۔ زیرِ نظر کتاب ”پرُ سکون زندگی کی طرف سات قدم“ میں، اپنی مدد آپ والے عملی اقدامات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں صرف عنوانات اور چند کلمات لکھے جائیں گے :

پہلا قدم : آپ کی اپنے جذباتی حلقوں سے آگاہی۔
دوسرا قدم: آپ کی اپنے جذبات میں تبدیلی سے آگاہی۔
تیسرا قدم : یلو اور ریڈ زون سے بازیافتی۔
چوتھا قدم : یلو اور ریڈ زون میں واپس جانے کی روک تھام۔
پانچواں قدم : پرُ سکون گرین زون رشتوں کو تخلیق کرنا۔
چھٹا قدم : پرُ سکون گرین زون نظاموں کو تخلیق کرنا۔
ساتواں قدم : پر سکون گرین زون طرز زندگی تخلیق کرنا۔

اس کے لیے ایک ڈائری یا روزنامچہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس روزنامچے میں ہر شام یہ لکھا جائے گا کہ آج کا سارا دن کتنے دورانیے کے لیے ہم کس جذباتی حلقے یا زون میں تھے۔ اور اس کے سامنے وہ وجوہات لکھی جائیں گی جو ہمیں ”یلو“ یا ”ریڈ زون“ میں لے گئیں۔ یہ وجوہات دراصل ہمارے ٹرگرز (جذباتی محرکات) ہیں۔ یہ کتاب ان ٹرگرز کو ختم کرنے کی تجاویز اپنے اندر رکھتی ہے۔ لوگوں کو اپنے جذباتی محرکات (ٹرِگرز) یا جذبات بر انگیختہ کرنے والی باتوں سے جتنی زیادہ آگاہی ہوتی جاتی ہے وہ اتنے ہی اس قابل ہوتے جاتے ہیں کہ اُن سے نمٹ بھی سکیں۔ اُن کو یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ ’گرین زون‘ والے افراد عمل کرتے ہیں جبکہ ’ریڈ زون‘ والے افراد ردِعمل دیتے ہیں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ ہر وقت ریڈ زون میں رہنے کی وجوہات کلینیکل ہوں۔ جیسے اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ دیگر وجوہات کے علاوہ ان عارضوں میں سٹریس (ذہنی تناؤ) ، ڈپریشن (یاسیت) اور اینگزائٹی (بے چینی) وغیرہ شامل ہیں۔ تشخیص کے بعد ان کا علاج بھی ادویات کے کم سے کم استعمال کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افراد کی طرح معاشرے، ادارے اور دفاتر بھی گرین، یلو اور ریڈ زون زون رکھتے ہیں۔ اس کے بعد تین نظاموں کی بات کی گئی ہے۔ یہ تین نظام خاندان، کام (کی جگہ) اور معاشرہ ہیں۔

اس کے علاوہ گرین زون تھراپی کے حوالے سے کچھ متفرق مضامین بھی کتاب میں موجود ہیں۔ جن میں ’پرسکون خاندانی زندگی تخلیق کرنا‘ ’خوشگوار ازدواجی یا رومانوی رشتے، پر ُسکون گرین زون خاندان تخلیق کرنا‘ خوشحال صحتمند خاندان اور پُرامن تعلیمی نظام شامل ہیں۔ کتاب کی سب سے دلچسپ بات اس میں شامل اکیس گرین زون کہانیاں ہیں جو مختلف خواتین و حضرات نے اس کتاب کے لیے بھیجی ہیں اور ان کو کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ان افراد نے ریڈ زون زندگی ختم کر کے گرین زون زندگی اپنانے کے اپنے اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ ان آپ بیتیوں کی مدد سے گرین زون فلسفے کو نہ صرف صاف طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ گرین زون تھراپی انفرادی ذات پر لاگو کرنے کے لیے عملی نقطے میسر آئیں گے۔ ان خواتین و حضرات کی کاوش لائقِ تحسین ہے جنہوں نے وقت نکال کر اپنی نجی سرگزشتیں نہ صرف رقم کیں بلکہ ان کو شائع کرنے کی اجازت بھی دی۔ بلا شبہ انسانی جذبات، نفسیات اور رویوں کو صحت مندانہ رُخ دینے کے لیے یہ ایک اہم کتاب ہے۔ میری تجویز ہے کہ اس کتاب کو یونیورسٹی کی سطح پر نفسیات کے نصاب میں شامل کرنے کے لیے کوشش کی جانی چاہیے تاکہ نفسیات کے طلبا اور مستقبل کے کلینیکل سائیکالوجسٹس بھی اس طریقہ علاج سے لیس ہو کر انسانیت کی بہتر خدمت کر سکیں۔

Facebook Comments HS