اسماعیل ہانیہ کی شہادت اور عالمی سیاست کی شطرنج


کہاوت مشہور ہے کہ ”بیگانی شادی میں عبدللہ دیوانہ“ مگر پاکستان میں سماجی روابط کے پلیٹ فارمز کھولیے تو اس کہاوت کا انطباق یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیگانی جنگ میں مُلّا دیوانہ۔ بہرحال گزشتہ چند دنوں سے آوازوں کے جنگل میں ایسی ہاؤ ہو تھی کہ کوئی سنجیدہ بات کرنا تو کجا سانس تک لینا محال تھا۔ بھلا ہو اس سائنس کی ترقی کا جسے ہمارے مذہبی پیشوا ’کافر دی ایجاد‘ کہتے رہے اور پھر حماس کے رہنما اسمٰعیل ہانیہ کے قتل کی خبر آنا تھی کہ اسی کافرانہ سائنسی ایجاد کے تصرف سے ایرانی سازش، شیعہ منافقت اور جانے کیسے کیسے مفروضے سوشل میڈیا میں آفاقی حقیقت اور عالمی سیاست کے معروضی پس و پیش کے دعوے قرار پائے۔

اس منطقے سے قطعِ نظر کہ یہ قتل محض اس سٹریٹیجک وار فیئر کا ایک شاخسانہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل فلسطین تنازعے کی صورت عالمی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ کشکولِ گدائی میں خیراتی سِکوں پر چلتی ریاستِ پاکستان کو اس عالمی سیاسی تنازعے میں اس مزارعے کی سی اہمیت بھی حاصل نہیں جسے چوہدری پنچایت کے دوران محض حقہ سلگانے تک محدود رکھتا ہے۔ مگر اس کے باوجود گام گام تفرقوں میں لپٹے رنگ برنگے بدذائقہ بیانیے ہیں جو روکے نہیں رکتے۔

بہرکیف اسماعیل ہانیہ گزشتہ کچھ عرصے سے قطر میں زیر مقیم ایک پرتعیش اندازِ زندگی میں حماس کی جہادی پالیسی کے ذریعے فلسطین کی جنگِ آزادی میں مصروف تھے۔ ہانیہ کی وفات کے بعد مختلف عالمی اداروں نے ان کے کُل اثاثوں کی قیمت بتائی تو ہمارے جذباتی جہادی دوست کچھ اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ ہانیہ اس وقت 4 بلین ڈالرز کے اثاثوں کے مالک تھے جن میں قطر اور ترکی میں کئی مہنگی جائیدادوں اور انٹر پرائیزر سمیت غزہ میں رئیل سٹیٹ کا ایک بڑا اور مستحکم کاروبار ہے۔ یہاں تک کہ ان کے فرزندِ معتبر کو غزہ کے رئیل سٹیٹ کا حقیقی باپ کہا جاتا ہے۔

دولت کی اس قدر فراوانی اور اتنے سرمائے کے باوجود تباہ شدہ فلسطین کا غذائی قلت اور بُنیادی سہولیات کے قحط سے سسکتے رہنا خود ارب پتی فلسطینی رہنماؤں کی نیت و مقاصد پر ایک گستاخانہ سوالیہ نشان ہے۔ ہم یہ گستاخی ہمیشہ سے کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اموات کا یہ سلسلہ بھی اسی کڑی کا تسلسل ہے جو شیخ احمد یاسین، عبدالعزیز، محمود المبوح، احمد جباری سمیت کئی جہادی رہنماؤں کے قتل کا مؤجب بنی۔ اب کی بار بھی مغربی پٹی پر اسرائیل کی مسلسل بمباری اور ہزاروں بے گناہ انسانوں پہ دائرہ حیات تنگ کرنے کا سبب 07 اکتوبر کو حماس کی جانب سے داغے گئے میزائل اور راکٹ قرار دیے جاتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بارہا حماس کی ان دہشتگردانہ کارروائیوں کو جواز بنا کر فلسطین پر حملوں کو جسٹیفائی کر چکے ہیں۔

اس اثنا میں سوال تو یہ بھی ہے کہ ایسی خانہ جنگی کے ماحول میں جہاں دشمن فریق کئی گناہ طاقت و اسلحہ سمیت عالمی طاقتوں کا آشیرباد اور جدید ٹیکنالوجی سمیت بہترین خفیہ ایجنسی رکھتا ہو وہاں محض ایک جذباتی جتھہ بنا کر لڑائی مول لینا کیا عین حماقت نہیں؟ کیا یہ جلتی آگ پر تیل چھڑک کر اپنی جھونپڑی ہی کو خاکستر کردینے سے مماثلت نہیں رکھتی؟ کیا جدید دنیا میں میز پر بیٹھ کر مذاکرات اور مصلحت کوشی کے بجائے گولی اور گالی کا چلن کوئی مثبت اظہاریہ ہے؟ یہ کاٹ دار سوالات دہائیوں سے یاسر عرفات سمیت ہر امن پسند فلسطینی ان جہادی جتھوں سے پوچھتا رہا ہے جن کے جوش مارتے جذبہ ایمانی کا خمیازہ بھگتنے میں شہر کے شہر قبرستان بن گئے۔ خبریں گرم ہیں کہ آج ہی حزب اللہ نے ہانیہ کی شہادت کے ری ایکشن میں اسرائیل پر پھر راکٹ برسا دیے ہیں۔ اب خدا جانے اس حملے کا قرض چکانے میں مزید کتنی فلسطینی آباد بستیاں اجڑ جائیں گی۔

ہانیہ کی شہادت کے بعد علاقائی سیاسی توازن میں بھی دلچسپ صورتحال متوقع ہے۔ چینی حکام کی دیرینہ خواہش ہے کہ ایران اپنا سفارتی و سیاسی جھکاؤ چین کی جانب کر لے جس سے خطے میں امریکا مخالف کیمپ مضبوط ہو جائے گا۔ فی الوقت بھارت اور سعودی عرب کے علاوہ امریکا کے پاس خطے میں کوئی واضح حلیف موجود نہیں۔ البتہ ایران کا چین کی جانب ممکنہ جھکاؤ مزید معاشی پابندیوں اور سختیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جس کا براہِ راست نتیجہ امریکا کی اسرائیل کے ساتھ مزید یکجہتی اور نتیجتاً فلسطین کی تباہی ہو گا۔ اب عالمی سیاست کے مہروں کو سوچنا یہ ہے گلوبل پیراڈائم کے یہ بنتے بگڑتے پیچ و خم کہیں مستقبل قریب میں عالمی طاقت کے ممکنہ امیدواروں کا حتمی امتحان تو نہیں اور کہیں اسرائیل کی حمایت میں امریکہ اپنی عالمی طاقت ہونے کی پوزیشن پر خوفناک خطرہ تو نہیں لے بیٹھے گا۔ دیکھنے اور سمجھنے کو بہت کچھ ہے مگر اس سب میں پاکستانیوں کا کردار پھر بھی کسی مزارع کی طرح صفر ہے۔

Facebook Comments HS