خلیل الرحمن قمر: پاکستان کا ثقافتی عمران خان
عورت دشمنی پاکستان تحریک انصاف کی سیاست کا جزو لاینفک ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کی سماجی بنیاد درمیانہ طبقہ ہے۔
پاکستان کا درمیانہ طبقہ شدید قسم کے رجعتی رجحانات کا حامل ہے۔ عورت دشمنی رجعتی رجحانات کا خاصہ ہوتی ہے۔ اس طبقے میں اپنی مقبولیت بنانے اور قائم رکھنے کے لئے عمران خان سمیت اس جماعت کی ساری قیادت مسلسل عورت دشمنی کا ایجنڈا آگے بڑھاتے رہے ہیں۔
باقیوں کو چھوڑیں، صرف عمران خان کی بات کر لیتے ہیں۔ بطور وزیر اعظم عمران خان کے بیانات ریکارڈ پر ہیں جن میں ریپ کا جواز یہ کہہ کر مہیا کیا گیا کہ اگر خواتین مناسب لباس نہیں پہنیں گی تو مرد روبوٹ تو ہیں نہیں۔ بات صرف بیانات کی نہیں۔ مشرف دور میں جب خواتین کے خلاف گھریلو تشدد روکنے کے لئے بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو عمران خان نے اس بل کی مخالفت کی۔
بعد ازاں، جب 2013 میں خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت بن گئی تو یہ واحد صوبائی حکومت تھی جس نے عورتوں کے خلاف گھریلو تشدد روکنے کے لئے بل منظور کرنے کی بجائے، اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیج دیا۔ سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں یہ بل منظور ہو چکے تھے۔ پنجاب میں چونکہ تحریک انصاف ایک بڑی حزب اختلاف تھی، وہاں اس نے بل کی شدید مخالفت کی۔ جس دن یہ بل پنجاب اسمبلی سے منظور ہوا، پارٹی کے مرد اراکین نے اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ خواتین کے حوالے سے اس جماعت کا ریکارڈ مذہبی جماعتوں جتنا شرمناک ہے۔
ہر سیاسی نظریے کی ایک ثقافت ہوتی ہے۔ تحریکِ انصاف کی سیاست کا سب سے بڑا اظہار تو سوشل میڈیا سے گالم گلوچ ہے۔ اس کا دوسرا بڑا اظہار ٹاک شوز میں بدتمیزی اور تشدد ہے۔ پرانی بات ہے :حامد میر کے ایک شو میں، وقفے کے دوران، عمران خان نے پرویز ہود بھائی پر حملہ کر دیا۔ اگر افضل مروت جیسے کارندے تشدد پر اترتے ہیں تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے عمران خان کو باقاعدہ منہ کی کھانی پڑی۔ پرویز ہود بھائی کے بقول انہوں نے جوانی میں باکسنگ سیکھی تھی، جس کا بہترین استعمال اس موقع پر کیا۔
اس ثقافت کا تیسرا اظہار خلیل الرحمن قمر، طارق جمیل، شان، ماریہ بی اور اس قماش کے دیگر فنکار ہیں۔ جس طرح عمران خان کی سیاست، ردِ سیاست (anti۔ politics) ہے، عین اسی طرح خلیل الرحمن قمر کی ثقافت، ردِ ثقافت ہے۔
سیاست کا مطلب ہے مکالمہ اور جمہوریت۔ تحریکِ انصاف مکالمے کی بجائے گالم گلوچ اور جمہوریت کی بجائے آمریت پر یقین رکھتی ہے۔ اگر الیکشن جیت جائے تو جمہوریت ٹھیک (چاہے دھاندلی سے جیتے)، ورنہ رائے دہندگان وہ بد عنوان پٹواری ہیں جو بریانی کے لئے ووٹ بیچ دیتے ہیں۔ ایوب خان عمران خان کا پسندیدہ حکمران ہے۔ ضیا الحق نے ان کو بیٹا بنایا ہوا تھا (ضیا نے نواز شریف کو بھی بیٹا بنایا ہوا تھا، اس ناتے دونوں منہ بولے بھائی ہیں)۔ مشرف آمریت نے جب تک پوری طرح دھتکار نہیں دیا، عمران خان مشرف آمریت کے زبردست حامی تھے۔ بطور وزیر اعظم انہوں نے علی وزیر اور محسن داوڑ کے ساتھ جو کیا، اگر اب ان کے ساتھ کیا جائے تو تحریکِ انصاف ناچ ناچ کر آسمان سر پر اٹھا لے۔
یہی حال خلیل الرحمن قمر کا ادبی حوالے سے ہے۔ ادب مظلوم کی آواز بننے کا نام ہے۔ ادب فیض احمد فیض، حبیب جالب، استاد دامن، شیخ ایاز اور میر گل نصیر خان کی میراث ہے۔ یہ امرتا پریتم اور فہمیدہ ریاض کی روایت ہے۔ خلیل الرحمن کا ادب بے ادبی کی بد ترین بلکہ متشدد شکل ہے۔ بلا شبہ عمران خان کی سیاست کی طرح، خلیل الرحمن قمر کے کھیل بہت مقبول ہوئے ہیں لیکن اس کی وجہ وہی ہے جو عمران خان کی سیاسی مقبولیت کی وجہ ہے: رجعتی بلکہ جنونی مڈل کلاس۔ ایک ایسی مڈل کلاس جو وینا ملک ڈس آرڈر کا شکار ہے۔
آخری اور اہم ترین بات: عمران خان اور خلیل الرحمن قمر، دونوں کا کولمبس ایک ہی ہے۔ ایک کا انجام ہم نے دیکھ لیا ہے۔ دوسرے کا وقت کے ساتھ ہو جائے گا۔ اصل مسئلہ کولمبس ہے۔ جب تک ملک میں سوشلسٹ جمہوریت قائم نہیں ہوتی، کولمبس نئے نئے عمران خان اور خلیل الرحمن قمر دریافت کرتا رہے گا۔
(بشکریہ: جدوجہد)



سوشل میڈیا کے دور میں لوگ سچ جھوٹ مزید شہرت اور سرخیوں میں رہنے کے لئے الٹے سیدھے بیانات دیتے ہیں۔ ہمارا چونکہ نظام عدل لگ بھگ فارغ ہی ہے اس لئے سب برداشت کرنا پڑتا ہے
وگرنہ اپنے کام کے علاوہ متھیرا ہو یا ریشم اور یا خلیل قمر ۔۔۔۔ ان کے بیان اس قابل نہیں ہوتے کہ انہیں ایک بار دیکھ کر دوبار ان پر نظر ڈالی جائے۔
باقی اپنی عام زندگی میں جو شخص جو کچھ کررہا ہے اسے بھگتنے دیں۔
اس وقت اس ویب سائٹ پر ہی آٹھ دس مضمون ان صاحب کے بارے میں ہیں۔ تو ریٹنگ اور شہرت تو مل گئی۔