77 واں یوم آزادی اور اقلیتیں

جو قومیں تاریخ سے پیار کرتی ہیں۔ تاریخ بھی انہیں زندہ رکھتی ہے۔ یقیناً ان قوموں کا وقار، کارنامے، صلاحیتیں اور خدمات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتی ہیں۔ یقیناً کسی بھی ملک، معاشرے اور خطے کی صورت احوال جاننے کے لیے تاریخ کے اوراق پلٹنے پڑتے ہیں۔ تب کہیں جا کر اس کا اصلی چہرہ سامنے آتا ہے۔ کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہوتی ہے۔ محبت اور نفرت کا علم ہوتا ہے۔ وطن پرستی کا احساس ہوتا ہے۔
اس حقیقت سے کون چشم پوشی کر سکتا ہے کہ 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا تھا جس کی بنیاد دو قومی نظریے پر رکھی گئی تھی۔ قائد اعظم چونکہ سیکولر سوچ کے مالک تھے۔ وہ تمام مذاہب کو آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے 11 اگست کی اپنی تاریخ ساز تقریر میں کہا تھا۔
” آپ آزاد ہیں۔ ہندو اپنے مندروں میں، سکھ اپنے گردواروں میں، مسیحی اپنے گرجا گھروں میں اور مسلمان اپنی مساجد میں آزادی سے عبادت کر سکتے ہیں“
1931 ء میں دوسری گول میز کانفرنس کے دوران اقلیتوں کے مسائل حل کرنے کے لیے سکھوں ہندوؤں اور مسیحیوں نے سر آغا خان کی قیادت میں ایک معاہدہ کیا تھا جو پاک و ہند کی تاریخ میں ”اقلیتوں کا معاہدہ“ کہلاتا ہے۔ اس معاہدے پر مسیحوں کی طرف سے سر ہنری گڈنی اور سر ہربرٹ کار نے دستخط کیے تھے۔
قیام پاکستان سے قبل بھی اقلیتیں تعلیم اور صحت کے میدان میں سرگرم تھیں۔ اسی جوش و خروش سے آج مشنری سکول، کالج اور یونیورسٹیاں اپنے اپنے حصہ کی شمع روشن کر رہی ہیں۔ چند بڑے تعلیمی اداروں میں ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور، گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ، گارڈن کالج راولپنڈی، ایڈورڈ کالج پشاور اور سینٹ جوزف کالج کراچی شہرہ آفاق اہمیت کے حامل ہیں۔
پاکستان کے کسی بھی شعبے کی بات ہو اقلیتوں کا کردار مثبت اور پاکستان کی خوشحالی کا ضامن رہا ہے۔ پاکستان کی دھرتی پر کوئی مسیحی غدار نہیں ہے بلکہ ہر کسی نے اپنی طاقت اور بساط کے مطابق پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے تمام شعبوں میں اقلیتوں کا کردار موثر، دیرپا، پرامن، اور محب وطن کے طور پر رہا ہے۔ 1965 اور 1971 کی جنگ میں سیسل چوہدری نے جس جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا وہ قابل فخر کارنامے تھے۔ جسٹس اے آر کارنیلیس کو پاکستان کا چیف جسٹس ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یعنی اقلیتوں کے پہلے اور پاکستان کے چوتھے مسیحی چیف جسٹس اے آر کارنیلیس تھے۔ جن کی انتھک محنت اور ایمانداری کی آج بھی مثال دی جاتی ہے۔ دیوان بہادر ایس پی سنگھا پنجاب اسمبلی کے پہلے اسپیکر تھے جنہوں نے برملا یہ بات کہی تھی "سینے پہ گولی کھائیں گے پاکستان بنائیں گے“
اسی طرح پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل تھے۔
چند بڑی شخصیات کے نام جن کی خدمات قابل فخر ہیں۔ میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان بھگوان داس،بہرام آواری، کرکٹر دانش کنیریا، گلوکاروں میں سلیم رضا، اے نئیر کی آوازیں فلم انڈسٹری میں گونجتی تھی۔ اداکارہ شبنم، دیپک پروانی اور موسیقار روبن گھوش، ڈاکٹر روتھ فاؤ جو جرمن نزاد تھی۔ بینجمن سسٹرز کے گائے ہوئے قومی گیت وطن سے محبت کا جذبہ بڑھا دیتے ہیں۔ شعر و شاعری کے فروغ میں نذیر قیصر، پروفیسر وکٹوریا پیٹرک، پروفیسر ڈاکٹر پریا تابیتا، منظور راہی اور ڈاکٹر کنول فروز جیسی شخصیات ہمارا قابل فخر اثاثہ ہیں۔
صحافت کے میدان میں 50 سے زائد جرائد و رسائل علم و ادب کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جس میں 15 روزہ کیتھولک نقیب 94 برس سے تواتر و تسلسل کے ساتھ چھپ رہا ہے۔ روزنامہ آفتاب کوئٹہ/ اسلام آباد کا کردار بھی اقلیتوں کے مسائل کی نشاندہی کرنے میں پیش پیش ہے۔ شعبہ طب میں کئی ہسپتال اور ڈسپنسریاں غریب عوام کی فلاح و بہبود میں مشغول ہیں۔ ہزاروں ڈاکٹرز اور نرسز مریضوں کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں 50 سے زائد مسیحی دیہات ہیں جو زراعت اور کھیتی باڑی کے ذریعے ملک کی معاشی ترقی میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔
اب اقلیتوں کا کچھ شکوہ جو حقیقت پر مبنی ہے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔
گزشتہ 30 سالوں سے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی، جنونیت، نفرت، حیوانیت اور درندگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ جبری مذہب تبدیلی جیسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے مطابق جبری مذہب تبدیلی کے واقعات ان کم سن بچیوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن کی عمر 18 سال سے کم ہوتی ہے۔ ان لڑکیوں کو روشن مستقبل کے سہانے خواب دکھا کر بہکایا جاتا ہے۔ تقریباً گزشتہ 10 سالوں میں 55 مسیحی لڑکیوں نے اپنا مذہب تبدیل کیا جن کا تعلق پنجاب سے تھا۔ اس کے علاوہ 33 برسوں میں 1855 کے قریب لوگوں پر توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے۔
1971 میں مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد اقلیتوں کی آبادی تین فیصد تک رہ گئی۔ 1981 کی مردم شماری کے مطابق بھی آبادی کی شرح تین فیصد ہے۔ جبکہ 1998 کی مردم شماری میں اقلیتوں کی آبادی کو تین فیصد سے بڑھا کر چار فیصد تک کر دیا گیا۔ جبکہ 2017 میں یہ پھر کم ہو گئی۔ ان 15 سالوں میں مجموعی طور پر اقلیتوں کی آبادی میں 19 فیصد کمی آئی۔ اس معاملے پر میڈیا خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ محکمانہ غفلت کہاں ہے؟
پاکستان کی سرزمین میں اس سے زیادہ درندگی اور حیوانیت کی کیا مثال ہو سکتی ہے۔ جہاں ایک مسیحی جوڑے شمع شہزاد کو اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ توہین رسالت کے نام پر مسیحی بستیاں جلا دی جاتی ہیں۔ ان کے گھر مسمار کر دیے جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ ظلم و ستم کی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔ کون کون سا قصہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ جسے بھی بیان کرنے کی جسارت کروں اسے سن کر ہر آنکھ اشکبار، ہر دل خون کے آنسو روئے گا۔
آپ کی خدمت میں اقلیتوں کہ حقوق اور تحفظ پر چند گزارشات پیش ہیں۔
* اقلیتوں کا کوٹہ پانچ فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کیا جائے۔
* اقلیتوں کو تعلیمی قابلیت کے مطابق ملازمتیں مہیا کی جائیں۔
* بے گھر لوگوں کو پلاٹ الاٹ کیے جائیں۔
* اقلیتوں کے مسائل کے لیے ہر ضلع پر ایک کمیٹی بنا دی جائے تاکہ جلد از جلد مسائل پر قابو پا لیا جائے۔
* آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ مسیحوں کے لیے علیحدہ قبرستان بھی مختص کیے جائیں۔
* جن آبادیوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ انہیں ترجیحی بنیادوں پر پانی بجلی اور گیس مہیا کی جائے۔
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
( احمد ندیم قاسمی)

