زن مرید


یہ میری نوکری کے ابتدائی دن تھے۔ آفس میں کسی سے کھل کر بات نہ کر سکتا تھا، اس لیے چمن میں جا کر موبائل میں مصروف ہو جاتا۔ آج بھی معمول کے مطابق چمن میں بیٹھا ہوا تھا۔ میرے دو کولیگ اور آپس میں گہرے دوست مراد اور حسن مجھ سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ کر گفتگو کرنے لگے۔ میرا دھیان ایک لمحے کو ان کی طرف گیا۔ ان کا موضوعِ بحث ”فرمانبردار اولاد“ کے گرد گھوم رہا تھا۔ حسن کہہ رہا تھا کہ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ والدین جن کو فرمانبردار اولاد مل جائے۔ بہت خوش بخت ہوتی ہیں وہ بہنیں جنھیں ان کے حکم کی تعمیل کرنے والا بھائی مل جائے۔ ہمارے معاشرے میں گنے چنے والدین اور بہنوں کا شمار ان خوش نصیبوں میں ہوتا ہے۔

مراد ان کی تصدیق کے لیے سر ہلاتا رہا اور ”ہمم، ہمم“ کرتا رہا۔ حسن کہنے لگا : ”تمھیں پتہ ہے کل میں بازار گیا تھا۔ میری ملاقات غلام رسول سے ہوئی۔ پسینے میں ڈوبا ہوا میڈیکل اسٹور کی طرف جا رہا تھا۔ میں نے کہا خیریت؟ کہنے لگا کہ ماں کا بلڈ پریشر ہائی ہو گیا تھا۔ انھیں ہسپتال لے کر آیا ہوں۔ یہاں سے کچھ گولیاں لینی تھیں۔ میں نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر میری ضرورت ہو تو ؟ ”شکریہ! بس یہ دوا لے کر ہم بھی جا رہے ہیں۔“ یہ کہہ کر وہ میڈیکل اسٹور گئے۔ میرے خیال سے غلام رسول کے والدین بھی ان گنے چنے خوش بخت لوگوں کی قطار میں کھڑے کیے جا سکتے۔ مراد نے کہا ”بالکل یار! میں نے غلام رسول کو دیکھا ہے۔ بہت سلجھا ہوا بندہ ہے۔ ”

خیر ہمارے گاؤں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں آپ کو غلام رسول کی طرح بہت لوگ ملیں گے۔ پچھلے دنوں کی بات ہے۔ میں چہل قدمی کے لیے پارک گیا تھا۔ شامیر اپنی بہنوں کے ساتھ پارک آیا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ ماشاء اللّٰہ شامیر کی بہنیں خوش نصیب ہیں۔ جنھیں شامیر جیسا بھائی ملا ہے۔

اتنے میں ”رنگ رنگ رنگ“ کی آواز ہونے لگی۔ حسن کہنے لگے ون سیکنڈ، میم روبینہ کی کال ہے اور کال اُٹھائی۔ اُدھر کی طرف سے بات نہیں سن پا رہا تھا۔ لیکن یہاں حسن ”جی میم۔ اوکے میم۔”جی جی۔ کل تک میں بھیج دوں گا۔”او کے میم۔ بہت شکریہ۔

کال کاٹتے ہی مراد اسے کہنے لگا ویسے یار! فرمانبردار اولاد تو خیر! لیکن آپ کا یہ اندازِ تکلم دیکھ کر آپ کو “ فرمانبردار شاگرد ”کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس نے اپنی تعریف سنی تو چہرے پر فخریہ مسکراہٹ پھیل گئی۔

ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ پھر سے موبائل رِنگ ٹون کی آواز کانوں تک پہنچ گئی۔ اس مرتبہ مراد کو کال آئی تھی۔ مراد کہنے لگا: ”ون منٹ! آپ کی بھابھی کی کال ہے۔“ہیلو۔ کیا؟ کب سے؟ ابھی آیا۔ ”

جناب! آپ کی بھابھی کی طبیعت خراب ہے۔ کہہ رہی ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔ مجھے آفس سے چھٹی لینی ہوگی۔ حسن نے چند لمحے توقف کیا۔ پھر کہنے لگے۔ تم ناں! بیوی سے ڈرتے ہو، زن مرید ہو۔ یہ کہہ کر دامن کو جھاڑتے ہوئے چمن سے اُٹھ گیا۔

Facebook Comments HS