زن مرید

یہ میری نوکری کے ابتدائی دن تھے۔ آفس میں کسی سے کھل کر بات نہ کر سکتا تھا، اس لیے چمن میں جا کر موبائل میں مصروف ہو جاتا۔ آج بھی معمول کے مطابق چمن میں بیٹھا ہوا تھا۔ میرے دو کولیگ اور آپس میں گہرے دوست مراد اور حسن مجھ سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ کر گفتگو کرنے لگے۔ میرا دھیان ایک لمحے کو ان کی طرف گیا۔ ان کا موضوعِ بحث ”فرمانبردار اولاد“ کے گرد گھوم رہا تھا۔

Read more

محلہ طبیباں

یہ سڑک تقریباً آدھا کلومیٹر تک ہے۔ دونوں اطراف پہ اونچے اونچے مکانات ہیں۔ ہر ایک مکان کئی ایکڑ زمین پر محیط ہے۔ ان مکانوں کے سامنے تختیاں نصب کی گئی ہیں۔ اور ان تختیوں پہ ایک لفظ مشترک ہے۔ ”ڈاکٹر“ ان محلات کے علاوہ یہاں مٹی کے چند جھونپڑیاں بھی آباد ہیں۔ ان میں بعض کے دیواروں پر اپلے توپ دی گئی ہیں اور بعض کے دیواروں سے مٹی اکھڑ رہی ہیں۔ کچے گھروں میں ایک چوکیدار رہتا ہے

Read more