زن مرید
یہ میری نوکری کے ابتدائی دن تھے۔ آفس میں کسی سے کھل کر بات نہ کر سکتا تھا، اس لیے چمن میں جا کر موبائل میں مصروف ہو جاتا۔ آج بھی معمول کے مطابق چمن میں بیٹھا ہوا تھا۔ میرے دو کولیگ اور آپس میں گہرے دوست مراد اور حسن مجھ سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ کر گفتگو کرنے لگے۔ میرا دھیان ایک لمحے کو ان کی طرف گیا۔ ان کا موضوعِ بحث ”فرمانبردار اولاد“ کے گرد گھوم رہا تھا۔
Read more
