برزخ ڈرامہ، لواطت کی ترغیب اور تبلیغی کاوشیں


برزخ ڈرامہ آج کل خاصا تنقید کی زد میں ہے، پارساؤں کو دن رات ایک ہی فکر کھائے جا رہی ہے کہ اس شیطانی ڈرامے کی وجہ سے معاشرے میں ہر طرف لواطت کا سلسلہ چل پڑے گا اور قوم گمراہی و رسوائی کے راستے پر دوڑنے لگے گی۔

سوال یہ ہے کہ لواطت کا سلسلہ فقط اس ڈرامہ کی وجہ سے پھیلے گا یا یہ سب کچھ پہلے سے ہی ہمارے سماج میں موجود ہے؟ انٹرنیٹ آن کیجیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بس گزشتہ چند سالوں کا ڈیٹا نکال لیجیے حقائق تک رسائی میں زیادہ وقت نہیں لگے گا بس کھلا ذہن اور کشادہ فکر درکار ہے۔

رپورٹس پڑھیں اور حیرت کے سمندر میں ڈوب جائیں کہ وہ مقدس جگہیں جن کے متعلق ہمارا ایمان ہے کہ وہاں خدا کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے، وہی پاکیزہ جگہیں بھی اس مکروہ و نجس کام کے لیے استعمال ہوتی رہتی ہیں۔ اگر خدا کا خوف خدا کے گھر میں ہی محسوس نہیں ہوتا تو پھر اور کہاں محسوس ہو سکتا ہے۔ جو بندہ سجدہ و سجود ایسی پاکیزہ جگہ پر بھی مکروہ علتوں سے نہ بچ پایا تو کہاں محفوظ رہ سکتا ہے؟ اگر خدا کا گھر اور اس کی موجودگی کا احساس آپ کو برائی سے نہ بچا پایا تو پھر آپ کیسے بچیں گے؟

اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانی ارادوں، علتوں، جبلتوں اور منہ زور نفسانی خواہشات کے آ گے کسی بھی ماورائی طاقت کا خوف یا ایک فکس قسم کے تقدسی بندوبست کا بند نہیں باندھا جا سکتا۔ ہاں وقتی تشفی کے لیے ایک جگاڑ کے طور پر منہ زور جبلتوں یا جذبات کو کچھ دیر تک کے لیے معطل یا بہلایا ضرور جا سکتا ہے ورنہ مقدس مقامات پر علت مشائخ ایسی حرکات و سکنات کا سر زد ہو جانا باعث حیرت نہیں؟ اگر تسبیحات و استغفار یا ذکر و اذکار کے باوجود بھی بہکنے کے امکانات موجود رہتے ہیں تو پھر سوچنا ہو گا نا کہ آ خر ایسا کیوں ہوتا ہے؟

انسان اور انسانی ذہن بہت کمپلیکس ہوتا ہے اور ان کے اعمال و افعال یا افکار کو بلیک اینڈ وائٹ یا فکس پیرائے میں نہیں دیکھا جا سکتا اور نا ہی کسی مخصوص زاویے، پیمانے یا کسوٹی کی بنیاد پر کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ ججمینٹل ذہن یا داروغی رویوں کے ساتھ کسی کے جنس، جینڈر یا جنسی اورینٹیشن کو برا بھلا کہنا یا سماجی سطح پر تضحیک کرنا کوئی مناسب رویہ نہیں ہوتا بلکہ بیمار ذہنیت کا عکاس ہوتا ہے۔

سائنسی علم و شعور کے وجود میں آ نے سے پہلے بہت کچھ مفروضوں پر مشتمل تھا اور مختلف جنسی رجحان کے حوالے سے منفی و غیر منطقی رجحانات پائے جاتے تھے۔ جنسی طور پر ذرا سے مختلف انسان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور خواجہ سرا کو تو منحوس سمجھتے ہوئے گھر سے ہی بیدخل کر دیا جاتا تھا اور آج بھی ایسا ہی ہے۔

میڈیکل سائنس کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ اس نے مختلف جنسی رجحان رکھنے والے انسانوں کے متعلق واضح بتا دیا ہے۔ میڈیکل سائنس کی ریسرچ کے مطابق دنیا بھر میں مختلف جنسی رجحان رکھنے والے انسان پائے جاتے ہیں، ان میں بائی سیکشول، ٹرانس جینڈر، ہیٹرو سیکشول، گے، لیزبین، کیوئر، ڈیمی سیکشول اور پین سیکشول شامل ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ میڈیکل سائنس نے اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے کہ دنیا میں ایسے انسان بھی پائے جاتے ہیں جو اے سیکشول ہیں جن کا قدرتی طور پر سیکس کی طرف رجحان یا خواہش ہی نہیں ہوتی۔

یہ سائنسی حقائق ہیں اور انہی بنیادوں پر ”ایل جی بی ٹی کیو“ کا پلیٹ فارم معرضِ وجود میں آ یا اور دنیا نے حقائق کی بنیاد پر مختلف جنسی رجحان رکھنے والے انسانوں کو قبول کیا اور اسی بنیاد پر ہی ان کی انفرادیت اور حقوق کو قانونی حیثیت دی گئی۔

معاشرے ”زندگی تماشا یا برزخ“ ایسے ڈراموں یا فلموں سے خراب یا اخلاقی بے راہ روی کا شکار نہیں ہوتے بلکہ سماج کے ادیب و مصنف اور دانشور معاشرے کی ان بے لگام بدصورتیوں اور مکروہات کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں جو چھپی ہوتی ہیں یا جان بوجھ کر چھپائی جاتی ہیں اور استحصال کے روپ میں ڈھلی ہوتی ہیں اور چھوٹے بچے بچیوں کا جنسی استحصال بھی اسی مکروہ جال کا حصہ ہے۔

جہاں تک پارسائی اور تقویٰ و طہارت کا معاملہ ہے تو ٹی وی کا ریموٹ یا کمپیوٹر کے بٹن پر تو خود کا کنٹرول ہوتا ہے نا! فوری طور پر شیطانی ڈرامہ یا مووی کو بند کر دیجیے یا مذہبی چینل پر منتقل ہو جائیں کس نے روکا ہے بھائی؟
خود کی اصلاح، پاکیزگی و طہارت تو آپ کے ہاتھ میں ہے اور قبر و آخرت بھی آپ کی اپنی ہے، جتنا چاہیں نیک اعمال کے ذریعے اور نفس کی بے لگام خواہشوں اور جبلتوں کو قابو کر کے گل و گلزار بنا لیں اور یہی مذہبی تعلیمات کا نچوڑ بھی ہے۔
لیکن براہ کرم دوسروں کے اصلاحی داروغے مت بنیں، مورل پولیسنگ کرتے ہوئے کسی کو زبردستی گائیڈ مت کریں۔

تبلیغ و تلقین یا ترغیب سے معاشروں میں نکھار نہیں آ تا، عبادات و ریاضت سے کوئی خاص بدلاؤ نہیں آ تا اگر ایسا ہوتا تو یقین مانیں ہماری سرزمین نجانے کب کی جنت بن چکی ہوتی۔ کروڑوں کے مذہبی اجتماعات، لاکھوں مدارس، عبادت گاہیں اور درگاہیں اس خطے میں ذرا سی تبدیلی یا شعور کا سبب نہیں بنیں۔

پانی کے کولروں کے ساتھ زنجیر میں جکڑے گلاس، قبرستان میں لوہے کے کتبوں کا چوری ہونا، گٹروں کے ڈھکن کا غائب ہونا اور مساجد کی ٹونٹیوں اور چندے کی گولک تک اکھاڑ کے لے جانا ایسی حرکات ہماری پارسائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اب تو مسلمان ممالک بھی ہماری رعایا کو ویزہ دینے میں ہچکچاہٹ سے کام لینے لگے ہیں۔ یو اے ای کا برتاؤ ہمارے سامنے ہے۔

تبلیغی کاوشیں اور گشت اس وقت تک کارآمد ثابت نہیں ہو سکتے جب تک انسانوں کو انسانی نظر سے نہیں دیکھا جائے گا۔ اصحاب زہد و ورع انسانوں کو صرف مذہبی پیرائے میں دیکھتے ہیں اور ان کے کردار کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔ انسانی جبلتوں، رجحانات، رویوں اور ضروریات کو جانے بغیر اصلاح معاشرہ، مرد مومن یا صالح نوجوان کا خواب محض سراب یا مغالطہ ہی رہے گا۔ مغالطوں میں جینے یا حقائق سے بچ بچا کے چلنے کے لیے ریت میں سر دے لینے سے سچائیاں تبدیل نہیں ہو جاتیں بلکہ وہیں موجود رہتی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ اس سماج میں بہت ساری غلاظتیں موجود ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا برزخ نامی ڈرامہ سامنے آ نے سے پہلے یہاں ہم جنس پرستی نہیں ہورہی؟ کیا چھوٹے بچے بچیوں کا جنسی استحصال نہیں ہوتا؟ یہاں سب کچھ ہی ہوتا ہے بس تذکرے کو معیوب یا بے شرمی سمجھا جاتا ہے۔ یاد رکھیں اصلاح یا معاشرے کو خوبصورت بنانے کا خواب دیکھنے والے حقائق کا سامنا کرتے ہیں، نظریں نہیں چراتے۔

Facebook Comments HS

One thought on “برزخ ڈرامہ، لواطت کی ترغیب اور تبلیغی کاوشیں

  • 07/09/2024 at 3:25 شام
    Permalink

    بہترین تحریر۔ بہت شکریہ

Comments are closed.