محبت کے رشتے


پتہ نہیں لوگ کیسے ایک ہی زبان میں سوچ لیتے ہیں۔ ہم تو دعا کرتے ہوئے بھی خدا کو اردو اور انگریزی کا ملغوبہ ہی سناتے ہیں۔ شکر ہے کہ دعا میں اسی کوئی قید نہیں اور خدا تمام زبانیں بخوبی سمجھتا ہے۔ ہم انگریزی میڈیم اسکولوں سے پڑھے لوگوں کا یہ المیہ مزید گہرا ہے کہ اپنی مادری زبان اور انگریزی دونوں ہی اپنی زبانیں لگتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم نے لکھنے کا آغاز تو انگریزی زبان سے کیا لیکن کچھ ہی عرصے میں اردو کی طرف گاڑی موڑ لی۔ آپ کی دعا سے دونوں زبانوں میں سوچتے بھی ہیں اور لکھتے بھی۔ بس ایک ننھا سا مسئلہ ہے۔ اور وہ یہ ہے ہم دونوں زبانوں میں یکسر مختلف لکھتے ہیں۔ اس لیے ان دونوں میں پل باندھنا ایسا سہل نہیں لگتا۔

کیا کہا؟ فرسٹ ورلڈ پرابلم؟
درست کہا۔ الحمدللہ! اللہ ایسے ہی مسائل سے سب کو نوازے۔ آمین۔

تو صاحب، قصہ کچھ یوں ہے کہ کچھ مہینے قبل ہم نے ایک انگریزی مضامین کی کتاب میں طبع آزمائی کی جسارت کی۔ ہمارے مضمون کا مرکزی خیال ان رشتوں پر مبنی تھا جو خون کے نہیں، محبت کے ہوتے ہیں۔ آج بانو سے بات کرتے ہوئے اسی مضمون کا خیال آیا اور سوچا کہ کیوں نہ آج اردو میں اس موضوع پر آپ سے تبادلہ خیال ہو۔ کچھ اپنی کہیں کچھ آپ کی سنیں۔

اب یہ نہ پوچھیے گا کہ بانو کون ہے۔ پچھلا کالم پڑھا تو تھا آپ نے۔

اس کتاب میں پاکستان کی کچھ خواتین نے ان مادری فگرز کے بارے میں بات کی جنہوں نے ان کو نسوانی حقوق کے حوالے سے شعور سمجھا۔ کہنے کو تو لفظ فیمنزم انگریزی زبان سے آیا ہے اور ہمارے ہاں اس کا چرچا حال ہی میں شروع ہوا ہے۔ لہذا وہ خواتین جن کا تعلق آج کی نوجوان نسل سے بھی نہیں انہیں حقوق نسواں کے بارے میں کیا جانکاری ہوگی، بڑا مزے دار سوال تھا۔

ہم نے آس متن میں ذکر کیا اپنی دادی کا جن کی ہماری شخصیت اور سوچ پر گہری چھاپ ہے۔ دادی کا تعلق ضلع خوشاب کے ایک دور افتادہ گاؤں سے تھا۔ عالم خاتون نامی ہماری دادی نے کسی قسم کی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن عقل و دانش میں ڈگری والوں کو بھی مات دیتی تھیں۔ ہماری ایم اے پاس امی کو کہاں کرتی تھیں کہ تم نے یونیورسٹیوں سے پڑھا ہے اور میں نے زندگی سے۔ دلیر ایسی تھیں کہ تن تنہا موذی سانپ کلہاڑی سے مار لیتی تھیں۔ خاندانی دشمنیوں کے باوجود سنگلاخ پہاڑوں سے گھرے سنسان رستوں پر اکیلی چل پڑتی تھیں کہ فلاں رشتے دار کے ہاں کھانا پہنچانا ہے۔ زبان کی ایسی پکی تھیں کہ ایک بار کسی کو زبان دے دی تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں متزلزل کرنے پر قادر نہیں تھی۔ آواز میں ایسی کھنک تھی کہ جب فالج ہوا تو اس موئے نے بھی وہیں حملہ کیا۔ انہوں نے تب بھی ہمت اور حوصلہ نہ ہارا۔ ہمیں بھی ہمیشہ یہی درس دیا کہ باہر سے مار کھا کر گھر مت رونا۔ وہیں حساب بے باق کرنا۔ ہم سے نہ ہو پایا۔

سننے میں لگ رہا ہے نا کہ جیسے کسی پتھر دل جنگجو کا نقشہ ہو؟ ہم آج بھی ان سی دلیر عورت سے نہیں ملے۔ لیکن پکچر ابھی باقی ہے، دوست۔

اب ذکر ہو ان کی لطافت کا۔ دادی کی حس مزاح ایسی تھی کہ آج بھی ان کے جملے یاد کر کے ہنسی کے فوارے پھوٹ پڑتے ہیں۔ سرائیکی زبان بولتی تھیں۔ ترجمہ مزہ ختم کر دے گا ورنہ چند چٹکلے ضرور سناتے۔ ٹی وی بڑے شوق سے دیکھتی تھیں۔ اردو زبان بول نہیں سکتی تھیں لیکن ڈرامے اور فلمیں ضرور دیکھتی تھیں۔ سرائیکی ہونے کہ وجہ سے انہیں پی ٹی وی کے علاقائی پروگرام بھی بے حد پسند تھے۔ بھلے وہ سرائیکی ہوں یا سندھی اور پنجابی۔ داستان گوئی پر ملکہ حاصل تھا۔ ہمیں بچپن میں ان کے ساتھ گزاری کوئی ایسی رات یاد نہیں جس میں ان سے کہانی نہ سنی ہو۔ چاول پڑے شوق سے کھاتی تھیں۔ ہم نے جب کھانا بنانا سیکھنا شروع کیا تو ہمارے بنائے ہوئے کچے پکے چاول خوب تعریف کر کے کھاتی تھیں۔

”اسان تاں چاول پسند ہن۔ ریشم ہار پلے چاول“
(ہمیں تو چاول پسند ہے، ریشم سے نرم چاول)
ہمیشہ مہین جارجٹ کا سفید دوپٹہ لیتی تھیں۔

ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ چوبیس برس قبل انہوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے دم توڑا تھا۔ جیسے ہی دادی کا دل بند ہوا ہمیں لگا شاید ہمارا بھی ہو گیا ہے۔ زندگی عجیب چیز ہے۔ ہمیں لگتا ہے کچھ لوگوں کے بنا ہم جی نہیں پائیں گے۔ وہ چلے جاتے ہیں اور ہم جیے جاتے ہیں۔ دادی کی وفات کے کچھ عرصے تک ہم ہر جمعرات کو چاول بناتے رہے۔ جب صبر آ گیا تو چھوڑ دیے۔

صبر آ جاتا ہے۔ خلا رہ جاتا ہے۔

آج بھی کئی بار ان کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ کانوں میں آواز پڑتی ہے۔ بھلے ہم جو مرضی ڈگریاں لے لیں، ملکانی عالم خاتون ہی ہماری رول ماڈل رہیں گی۔ آج بھی جب کہیں فیصلہ کرنے میں دشواری ہو تو سوچتے ہیں کہ ایسے میں وہ کیا کرتیں۔ جب بھی وہ کیا سپھل ہوئے۔ جب اپنی کی، کچھ حاصل نہ ہوا۔

پکچر ابھی بھی باقی ہے، دوست۔

اس قدر محبت اور عقیدت کے باوجود ان سے ہمارا خون کا رشتہ نہیں تھا۔ دادی ہمارے والد کی چچی تھیں جنہوں نے ان کے والدین کی جواں موت کے بعد ان کے بچوں کو ماں بن کر پالا۔ اپنے شوہر کی وفات کے باوجود تا حیات ان ہی کے ساتھ رہیں۔ ان بچوں کے بچوں کو بھی وہ پیار دیا کہ آج چوبیس سال کے بعد بھی ان کی پوتی ان کا ذکر آپ سے کر رہی ہے۔

دادی تو دنیا سے چلی گئیں لیکن ہمیں زندگی گزارنے کا ایک نیا زاویہ دے گئیں۔ کیا وہی رشتے دائمی ہیں جن سے خون یا کاغذ کا تعلق ہو؟ اگر ایسا ہے، تو کیا خون محبت اور تاحیات ساتھ کا ضامن ہے؟ کیا خون کے رشتے دغا نہیں دیتے یا کاغذ کے رشتے انسان کا مان اور اعتبار تار تار نہیں کرتے؟ اگر ہمارے معاشرے کو اپنی ہمالیہ سے اونچی خاندانی اقدار پر اس قدر ناز ہے تو خاندان کی تعریف کیا ہے؟ خون اور کاغذ؟ کیا اس اعتبار سے بانو جیسی سہیلیاں جو ہمیں چبھے کانٹے کو بھی کوستی ہیں بہنوں سے کم ہیں؟

بڑی کنفیوژن ہے۔

ہماری بھی بھلی عادت ہے۔ اینگلز کو چھوڑ کر بانو سے پوچھا کہ خاندان کیا ہے۔ وہ بولی، ”وہ لوگ جنہیں ہم چنیں اور جو ہمیں چنیں وہی ہمارا خاندان ہیں۔“ ہمارا دل لگتا ہے صحیح کہتی ہے۔

رشتے خون کے نہیں، مان، عزت، وفا، اور اعتبار کے ہوتے ہیں۔ اگر محبت اسم نہیں فعل ہے اور روز دہرائے جانے کا نام ہے، تو محبت خون پر مقدم ٹھہری۔ وہ تمام لوگ جو ہمیں چنیں اور جنہیں ہم ہر روز چنیں، وہی ہمارا سب کچھ ہیں۔ وہ دوست جو ہماری خوشی میں ہم سے خوش اور ہمارے غم میں ہم سے غمگین ہوں، ہر خونی اور کاغذی رشتے سے بڑھ کر ہیں۔

ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہماری حقیقی دادی کیسی دکھتی تھیں۔ ہماری دادی تو ملکانی عالم خاتون ہی رہیں گی جنہوں نے زندگی کی یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی۔ ہمیں کہانیاں سنائیں بھی اور کہنی سکھائیں بھی۔ جرآت کا درس زبان سے دیا اور محبت کا عمل سے۔ ہمیں ہمیشہ کے لیے باور کرا دیا کہ محبت خون پر حاوی ہے، تھی، اور رہے گی۔

لانگ اسٹوری شارٹ، محبت زندہ باد!
یہ پکچر اپنے اختتام کو پہنچی۔

بانو کہانی: کیا عورت ہی عورت کی دشمن ہے؟

Facebook Comments HS