یہ جو زندگی کی کتاب ہے (نوائے سروش)
نوًے کی دہائی کے آخری سال تھے۔ دسمبر یا جنوری کی سرد راتیں تھیں۔ اور تقریباً رات کے آٹھ یا نو بج چکے تھے۔ باہر خوف کا عالم تھا۔ فوجی بنکروں سے وقف وقفے سے سیٹیوں کی آوازیں دلوں پہ کسی بھاری بم کی طرح جیسے گر رہی تھیں۔ ہم نے سارے گھر کی روشنیاں گل کی ہوئی تھی، سوائے ایک کمرے کے جس میں سب لوگ بیٹھے تھے۔ اور کمرے کی واحد کھڑکی کے شیشوں پر ایک کمبل لٹکا تھا تاکہ روشنی باہر نہ جھلکے ۔ اچانک باہر کسی نے آہنی گیٹ کو زور زور سے اور تابڑ توڑ بجانا شروع کیا۔ سارے گھر والے خوف سے زرد پڑ گئے۔ کیونکہ ان دنوں کے حالات کا کوئی بھی اندازہ کر کے اس بات کو خوب سمجھ سکتا ہے کہ رات کے وقت کسی کا یوں گیٹ بجانا کیا معنی رکھتا ہے۔ ہم سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر سہمے ہوئے دعائیں کرنے لگے کہ اللہ۔ آج تو بس خیر کرنا۔
گھر کے کسی بڑے نے ہمت کر کے اور ہاتھ میں ٹارچ یا لالٹین لے کر آواز دی کہ ”ایک منٹ جناب۔ ابھی گیٹ کھولتے ہیں۔“ لیکن جب گیٹ کھولا تو اپنے ہی علاقے کی ایک عورت زبردستی اندر گھس آئی جس کا دماغی توازن کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ اس عورت کا کبھی کبھی ہمارے گھر آنا جانا رہتا تھا اور کھانا وغیرہ کھانا سب ٹھیک تھا۔ مگر وہ مرحومہ کبھی کبھی اچانک رونا دھونا، اپنے رشتے داروں وغیرہ کو بد دعائیں دینا شروع کر دیتی تھی۔ اور جب اسے خاموش یا چپ رہنے کا کہا جاتا تو وہ اور زیادہ رونا دھونا اور بد دعائیں وغیرہ دینا شروع کر دیتی تھی۔ یہی وجہ تھی رات کے وقت انتہائی خوف کے عالم میں اس کا ہمارے گھر آنا سب کو اچھا نہیں لگا۔ کھانا کھانے کے بعد جب اسے گھر والوں نے واپس جانے کا کہا تو وہ بالکل نہیں مانی اور عجیب طرح کا شور اور بد دعائیں دینے لگی۔ میں نے گھر والوں سے استدعا کی کہ اسے اس رات کے لئے رہنے دو ۔ مگر اس کے واویلا کرنے کی وجہ سے گھر کے کسی بڑے نے اسے زبردستی نکالا اور گیٹ بند کر دیا۔
مجھے اچانک اس بات سے گہرا صدمہ سا ہوا اور میں زار و قطار رونے لگا۔ سارے گھر والے مجھے چپ کرانے میں لگ گئے اور میں روئے جا رہا ہوں۔ کسی نے گیٹ کھول کر اس عورت کو ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی، مگر وہ کہیں جا چکی تھی۔ پھر میں نے خود کو کمرے میں بند کیا اور ساری رات روتا رہا۔ صبح طبیعت سنبھل گئی۔ اور گھر والوں نے پیار سے اور اپنے طریقے سے مجھے سمجھانے کی کوشش کی مگر دل پہ ایک شدید ضرب سی لگ چکی تھی۔
کچھ دن پہلے زندگی کی کتاب کا اچانک ایک اور ورق رقم کرنے کو ملا۔ اور دو صدیوں سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد ایک ایسی ہی تمثیل سے واسطہ پڑا۔ ہوا یوں کہ ایک برخوردار نے فیس بک پر ایک پوسٹ ڈالی کہ اگر کسی ضرورتمند کو نیٹ کی کتابیں چاہئیں تو وہ مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے۔ میں نے فوراً اسے میسج کیا کہ میں یتیم خانے لے جاؤں گا تاکہ کسی ضرورت مند کے کام آ سکیں۔ اگلے دن مجھے ایک طالبہ کا فون آیا اور اس نے پوچھا کہ کیا آپ ہی نے فلاں بھائی کو کتابیں لینے کا کہا تھا؟ تو میں نے ہاں بولا۔ اس طالبہ نے اپنا ایڈریس بتایا اور پوچھا کہ آپ کب آئیں گے۔ میں نے اسی دن شام کو آنے کا کہا۔
آفس سے سیدھے گھر آ کر چائے پی تو اس طالبہ نے پھر سے میسج کیا کہ میں کب آ رہا ہوں۔ ؟ میں نے چھہ بجے شام کا بولا اور اس نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ پہنچ جائیے گا۔ چائے پی کے میں اپنی اسکوٹی پہ اس طالبہ کے گاؤں پہنچا جو تقریباً چار کلو میٹر دور ہے اور اس کو فون کر کے گھر کا پتا پوچھا۔ وہ معصوم باہر آئی اور میں اس کے ساتھ ان کے صحن تک آیا۔ گھر کے آنگن میں ان کی والدہ، والد اور شاید چھوٹی بہن گھر کی صفائی کے کام میں مصروف نظر آئے۔ کچھ مستری لوگ صحن میں ایک طرف علیحدہ کچن میں کوئی مرمت کا کام کر رہے تھے۔ اور کچن اور گھر کا کافی سامان صحن میں ایک طرف پڑا ہوا تھا۔ ساتھ ہی کسی کپڑے کی شیٹ پہ کتابوں کا ایک انبار پڑا ہوا تھا۔ میں نے سب کو سلام کیا۔ اور سب نے ایک روکھا سا جواب دیا۔ میں نے اس طالبہ سے کہا کہ اس کے لئے ایک بڑا سا بیگ چاہیے ہو گا اور اسکوٹی پہ یہ نہیں لادی جا سکتیں۔ میں نے ٹرسٹ کے ڈرائیور کو فون کر کے کہا کہ آپ یہاں فلاں جگہ آ جاؤ، کچھ کتابیں ہیں جو میں اسکوٹی پہ نہیں لا سکتا۔
اتنے میں اس طالبہ کی بہن دھیمے لہجے میں اپنی ماں سے مخاطب ہوئی کہ اگر یہ کتابیں کسی دکاندار یا کسی دوسرے طالب علم کو دیتی تو نصف قیمت ہی وصول ہوجاتی۔ وہ طالبہ بے قرار سی دکھائی دینے لگی۔ میں اچانک چونک گیا۔ اتنے میں مذکورہ طالبہ کے والد نے مجھ سے پوچھا کہ آپ یہ کہاں لے جا رہے ہیں؟ میں نے انہیں بتایا کہ میں یہ ایک یتیم خانے لے جا رہا ہوں، جہاں یہ مستحق بچیوں کے کام آئیں گی۔ اتنے میں مذکورہ طالبہ کی ماں نے مجھ سے کہا کہ ہم ہی جانتے ہیں کہ ہم نے یہ کتابیں کس طرح خریدی ہیں۔ مذکورہ طالبہ اپنی ماں کے پاس چلی گئی اور اسے بے بسی اور پریشانی کے عالم میں کچھ سمجھانے لگی۔ میں نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مذکورہ طالبہ کے والد سے کہا کہ اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہو رہا ہے یا آپ کتابیں نہیں دینا چاہتے تو کوئی بات نہیں، میں چلا جاؤں گا۔ اور یہ میرے لئے کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ طالبہ کے والد صاحب نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ آپ چلے جائیں، ہم ابھی یہ کتابیں نہیں دے سکتے۔ میں اطمینان سے وہاں سے نکل آیا اور ڈرائیور کو فون کر کے اسے نہ آنے کا کہا۔
میں جب گھر آیا تو اس طالبہ نے مجھے کئی فون کیے تھے۔ لیکن میں اسکوٹی پہ تھا اور فون کا بجنا نہیں سن پایا۔ میں نے واٹس ایپ چیک کیا تو اس معصوم طالبہ نے کئی میسج کیے تھے اور اپنی بے بسی کا اظہار کر کے مجھ سے معافیاں مانگ رہی تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ وہ بہت زیادہ رو رہی ہے اور اسے اس بات کا کافی دکھ ہو رہا ہے کہ گھر والوں نے اچھا نہیں کیا۔ وہ کتابیں ان کے گھر میں کسی کام کی نہیں ہیں اور اگر صدقہ کردی جاتی تو میرے ہی والدین کو ثواب ملتا۔ میں نے اسے اپنی طرف سے مطمئن کیا کہ مجھے نہ آپ سے کوئی شکایت ہے اور نہ آپ کے گھر والوں سے، اور یہ کہ اس کی نیت کے حساب سے اسے اجر برابر ملے گا۔ میں نے اس طالبہ کو دلاسا تو ضرور دیا مگر میں جانتا ہوں کہ اس کے چھوٹے اور معصوم دل پہ کیا گزری ہوگی۔
ہم بحیثیت والدین، گھر کے بڑے، اساتذہ، اداروں کے ذمہ دار اور سماج میں کوئی حیثیت رکھنے والے اس بات سے انجان رہتے ہیں کہ نازک دلوں اور معصوم بچوں کے جذبات اور احساسات کی کس طرح حفاظت ضروری ہے۔ اور ہماری جھوٹی انا اور بے جا اتھارٹی ایک معصوم کا یا ایک انسانی دل کا کیا ستیاناس کر سکتی ہے۔ اپنی زندگی کی کتاب کو ڈراؤنی اور بھیانک کہانیوں سے مت بھریے۔ کچھ صفحوں پہ پیار اور محبت کے گیت لکھنا بھی ضروری ہیں۔ کچھ اوراق پہ آڑی ترچھی لکیروں سے ہنستی مسکراتی کچھ ٹیڑھی میڑھی ہی سہی، شکلیں بنانا بھی ضروری ہیں، اور کچھ صفحوں پر رقص کرتے ہوئے انسانوں اور چہچہاتے ہوئے پرندوں کی تصویریں بنانا بھی ضروری ہیں۔


