ہزارہ کی کہانیاں
اردو میں تاریخی ناول لکھنے کی روایت ایک صدی سے پرانی ہے۔ عبدالحلیم شرر اور راشد الخیری سے لے کر اسلم راہی، ایم اسلم اور نسیم حجازی تک درجنوں لکھنے والوں کی ایک لمبی فہرست بن سکتی ہے۔ جنہوں نے اسلامی تاریخ کے خاص واقعات اور نامور شخصیات پر سینکڑوں ناول لکھے ہیں۔ یہی مصنفین اسلامی تاریخ میں مبالغے گھولنے اور مسلمانوں کو ایسے جنگ جو مجاہدین کے طور پر پیش کرنے کے ذمہ دار ہیں جو اپنے مذہب کی سر بلندی کے لیے برسرِ پیکار ہیں۔
جنرل ضیاء الحق ایسے لکھنے والوں کے بڑے شیدائی تھے اور انہوں نے ہی پاکستان ٹیلیویژن پر ایسے ناولوں کی ڈرامائی تشکیل کا آغاز کیا جس سے خود ان کے مذہبی پروپیگنڈے کو تقویت ملی اور ملک میں ایسی جہادی سوچ پروان چڑھی جو اب تک ہمارے ذہنوں پر حاوی ہے۔ اس رجحان نے ملک میں کم از کم چار نسلوں کو متاثر کر کے غلط فہمیوں کی دَلدَل میں دھکیلا جس کا نتیجہ یہ کہ پاکستان میں اب سوات اور سرگودھا سے لے کر صوابی اور سیالکوٹ تک انتہا پسندی کا راج ہے۔
اس طرح کی کتابیں اب بڑی آسانی سے تقریباً تمام اسکولوں اور کالجوں کے کتب خانوں میں دستیاب ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں جنہیں نوجوان بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔
ان کے علاوہ اردو میں ایک اور سنجیدہ لکھنے والوں کی کھیپ بھی ہے جنہوں نے تاریخ کے کسی حصے یا طویل دورانیے کو موضوع بنایا۔ ان میں ایک اعلیٰ ترین مثال قرۃ العین حیدر کے ناول ”آگ کا دریا“ کی ہے جو برصغیر کی تاریخ کے سینکڑوں سال پر محیط دورانیے کا احاطہ کرتا ہے اور نسبتاً زیادہ حقیقی اور معروضی تصویر پیش کرتا ہے۔ عبداللہ حسین کا ناول ”اداس نسلیں“ بھی اعلیٰ ادب کا شاہکار ہے جو بیسویں صدی کے اوائل کی تاریخ کو عالمی جنگوں کے تناظر میں پیش کرتا ہے اور خاص طور پر اُن کے اثرات کا جائزہ پنجاب کے پس منظر میں لیتا ہے۔ قاضی عبدالستار کے ناولٹ ”دارا شکوہ“ اور ”غالب“ بھی ان شخصیات کے کئی رخ پیش کرتے ہیں۔ پھر بھی اردو میں اچھے تاریخی ناولوں کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے جو روایتی مجاہدوں کے کارناموں کے علاوہ بھی کچھ پیش کریں۔
اکیسویں صدی میں اختر رضا سلیمی نے ہزارہ کی تاریخ پر اچھے ناول لکھے۔ یاد رہے کہ جب ہم ہزارہ کی بات کرتے ہیں تو اس خطے میں ایبٹ آباد، ہری پور اور مانسہرہ شامل ہوتے ہیں۔ اختر رضا سلیمی کے تین ناول بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ایک ناول اور دو ناولٹ تاریخی ناولوں میں اچھا اضافہ ہیں۔ ”جاگے ہیں خواب میں“ ”جندر“ اور ”لواخ“ صرف دس برس کے مختصر عرصے میں منظر عام پر آئے اور قارئین کی توجہ حاصل کی۔
پاکستان کے اردو ادبی منظر نامے پر اختر رضا سلیمی ایک شاعر کے طور پر نمودار ہوئے جن کا پہلا مجموعہ کلام ”اختراع“ 2003 میں شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ ”ارتفاع“ کے عنوان سے 2006 میں اور تیسرا ”خواب دان“ کے نام سے 2013 میں سامنے آیا۔ اس کے بعد سلیمی کا پہلا ناول ”جاگے ہیں خواب میں“ 2015 میں شائع ہوا جس میں ہم انیسویں صدی کے ہزارے کو کسی اردو ناول میں پہلی مرتبہ اتنے حقیقی انداز میں دیکھتے ہیں۔
ناول نگار نے تاریخی بیانیے اور مقامی لوک روایات کا بخوبی استعمال کرتے ہوئے اس خطے پر سکھ ریاست کے قبضے اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل بریلوی کی سکھوں کے خلاف جدوجہد اور 1831 کے معرکہِ بالاکوٹ کو بھی موضوع بنایا ہے۔ ان دونوں بریلویوں کی جہادی تحریک جو ہندکو اور پشتو بولنے والے علاقوں میں خلافت قائم کرنے کی کوشش کر رہی تھی بُری طرح ناکام ہو گئی تھی۔
ناول میں ان واقعات کو بیان کرنے کے لیے کوئی مسلسل کہانی نہیں جوڑی گئی بل کہ یہ ناول اکیسویں صدی میں شروع ہوتا ہے جس میں زمان نامی ایک کردار کسی غار کے دہانے پر بار بار جاتا ہے جہاں اسے ماضی سے وابستہ عجیب و غریب خواب نظر آتے ہیں۔ غار اس مقام پر واقع ہے جہاں کے قریب سے ایک راستہ ٹیکسلا کی طرف جاتا ہے۔ کہانی کا آغاز راجہ رسالو سے ہوتا ہے جس کی رانی کوکلاں کسی اور سے تعلقات استوار کرتی ہے جس پر طیش میں آ کر اپنی بے وفا رانی کو قتل کر کے اس کے آشنا کو غار میں پھینک دیتا ہے۔ پھر کہانی میں ایک کردار ماہ نور نامی لڑکی کا زمان کی زندگی میں داخل ہوتا ہے لیکن بالآخر ماہ نور کسی اور سے شادی کر لیتی ہے۔ زمان خواب دیکھتا رہتا ہے اور ہزارے کی دو سو سال پرانی تاریخ سامنے آتی ہے جس میں سیاسی جدوجہد بھی ہے اور زمان کے پرکھوں کی سکھوں سے لڑائیاں بھی۔ زمان کو خواب میں ایک پرانی حویلی بار بار نظر آتی ہے جو اس کے آبا و اجداد نے تعمیر کرائی تھی اور جو اس کی خاندانی تاریخ میں بڑا اہم مقام رکھتی ہے۔
سلیمی کا دوسرا ناولٹ ”جندر“ دو ہزار اٹھارہ میں شایع ہوا۔ صرف ایک سو بیس صفحات پر محیط یہ ناولٹ پانی کی چکّی کی مرتی ہوئی ثقافت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایک اچھوتا موضوع ہے جسے ناول نگار نے احسن طریقے سے برتا ہے۔
ناول کا مرکزی کردار ایک بوڑھا آدمی ہے جو اپنے گھر کے صحن میں موت کا منتظر ہے۔ ساتھ ہی پانی کی چکّی ہے جسے وہ پوری زندگی چلاتا آیا ہے۔ اب اسے موت کے خدشات نے گھیر رکھا ہے بلکہ اسے اندیشہ ہے کہ موت کی صورت میں اس کا بیٹا اسلام آباد سے بر وقت نہیں آ سکے گا اس لیے تدفین میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ممکن ہے بیٹا اپنی کاروباری مصروفیات کے باعث اپنے باپ کی تدفین میں شرکت کو ایک بلا وجہ کی مصیبت سمجھے۔ اب باپ کو فکر ہے کہ ہو سکتا ہے اس کے جسدِ خاکی کو کیڑے مکوڑے کھانا شروع کر دیں کیوں کہ ممکن ہے کہ آس پاس کے لوگوں کو اس کی موت کی خبر کئی دن بعد پتا لگے۔ پھر اسے خیال آتا ہے کہ اگر اس کی موت پچیس برس پہلے ہوجاتی تو صورتِ حال خاصی مختلف ہوتی کیوں کہ مالی حالات اتنے بدلے نہیں تھے اور گاؤں کے لوگ متواتر اس کی چکّی پر اناج پسوانے آتے رہتے تھے۔ کیوں کہ ابھی بجلی نہیں آئی تھی۔ پانی کی چکّی پر آٹا پسوانا ایک روز کا معمول تھا جس سے چکّی کا مالک گاؤں والوں سے مسلسل رابطے میں رہتا تھا۔ چکّی چلنے کی آواز مالک کو کبھی مدھر لگتی تھی اور اس کی دل کشی میں وہ کھویا رہتا تھا۔
جب اس کی شادی ہوئی تو اس کی بیوی نے چکّی کی آواز کو پسند نہیں کیا بلکہ جلد ہی اس سے نفرت کرنے لگی۔ اسے یہ شور بالکل اچھا نہیں لگتا تھا اسی لیے جلد وہ چکّی سے دور گاؤں میں رہنے لگی جہاں یہ شور نہیں تھا مگر اس کا شوہر چکّی چلنے کی آواز سنے بغیر چین سے نہیں رہ سکتا تھا نہ ہی رات کو سو سکتا تھا اس لیے دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ پھر وہ یاد کرتا ہے کہ اس کے پرکھوں نے کس طرح اس چکّی کی تعمیر کی تھی۔ ہزارے پر سکھ حکومت کے دوران میں اس علاقے کے لوگ اپنے حکمرانوں سے بالکل خوش نہیں تھے جو عوام کو اپنا غلام سمجھتے تھے۔ اس کے دادا کے دادا احمد خان نے اپنے بھائی محمد خان کے ساتھ مل کر اس چکّی کی بنیاد ڈالی تھی اور صرف ایک مہینے میں اسے تعمیر کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔ یہ ایک ناقابلِ یقین کارنامہ تھا کیوں کہ اس وقت نہ تو پکی سڑکیں تھیں اور نہ ہی موٹر کاریں یا ٹرک جو سامان ڈھو کر جلدی آ جاتے۔ اس ناول میں 1841 میں پڑنے والی مسلسل اور طویل موسلا دار بارش کا بھی تذکرہ ہے جس نے کئی پانی کی چکّیوں کو اُکھاڑ پھینکا تھا اور جنہیں اس خطے کے لوگوں نے دوبارہ تعمیر کیا تھا۔ پھر برطانوی حکمران آتے گئے اور اس خطے کا نقشہ ہی بدلنے لگا۔
اختر رضا سلیمی کا تازہ ترین ناولٹ ”لواخ“ ہے جو اس خطے کی داستان کو ذرا مختلف انداز سے بیان کرتا ہے۔ اس ناول کا مرکزی خیال نئے حکمرانوں یعنی انگریزوں کے خلاف مقامی لوگوں کی جدوجہد کے گرد گھومتا ہے۔ یہ لوگ 1857 کی جنگِ آزادی کے دوران میں مری پر قبضے کی کوشش کرتے ہیں مگر انگریز ان کے حملے کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ ایک سو اسّی صفحات کے اس ناولٹ میں اس خطے کی سو سالہ تاریخ جیتی جاگتی شکل میں سامنے آجاتی ہے جس میں بہادری بھی ہے اور غداری بھی۔ گو کہ سکھ حکومت کے خاتمے پر ہزارے کے لوگوں نے سکون کا سانس لیا تھا لیکن یہ سکون عارضی ثابت ہوا اور جلد ہی نئے حکمرانوں کے ساتھ اچھاڑ پچھاڑ شروع ہو گئی تھی۔ جیسے ہی اس خطے میں خبر پہنچی کہ دہلی میں بغاوت شروع ہو چکی ہے اور بہادر شاہ ظفر اس بغاوت کی قیادت کر رہے ہیں تو مقامی لوگ بھی اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
لواخ کا مطلب ہے وہ مشعل یا شعلہ جو مقامی لوگ پہاڑوں پر ایک دوسرے سے پیغام رسانی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس ناول کا مرکزی کردار اپنے ساتھ ایک فرمان لیے پھرتا ہے جس میں اس کے پرکھوں کی داستانِ شجاعت بھی درج ہے۔ لیکن اگر وہ اس دستاویز کے ساتھ پکڑا گیا تو اس کی سزا قید کے علاوہ موت بھی ہو سکتی ہے۔ لواخ میں بتایا گیا ہے کہ مقامی لوگ انگریزوں کو شکست دے سکتے تھے اور مری کی پہاڑیوں کو آزاد کرا سکتے تھے لیکن ایک غدار مخبری کر کے دشمن کو اس بغاوت سے آگاہ کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں برطانوی افواج پوری طرح تیار ہو کر حملہ ناکام بنا دیتی ہیں اور آزادی کے متوالوں کو نیست و نابود کر دیتی ہیں۔
یہ ایک ناول اور دو ناولٹ اختر رضا سلیمی کی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔ سلیمی کا فکشن دل کش پیرائے میں قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ ناول نگار نے کہیں بھی غیر ضروری طوالت سے کام نہیں لیا ہے جو کئی ناول نگاروں کے فن کو متاثر کرتا ہے۔ اگر کوئی ناول اپنے اندر دو سو صفحات کا مواد رکھتا ہو اور اسے پانچ ہا چھ سو صفحات پر پھیلا دیا جائے تو ناول میں خامی آ جاتی ہے۔
اختر رضا سلیمی نفسیاتی معاملات پر بھی عبور رکھتے ہیں اور فرائڈ یا ینگ کے خیالات اُن کی تحریروں میں واضح نظر آتے ہیں لیکن ان سے تحریر کی خوب صورتی متاثر نہیں ہوتی بلکہ تحریر میں کمال کی ندرت در آتی ہے۔ اختر رضا سلیمی کا فکشن خاصا متاثر کن ہے اور اردو ادب میں شان دار اضافہ سمجھا جاسکتا ہے۔ موضوعات ایسے ہیں جن پر اب تک اردو ادب میں کسی نے اس خطے کے تناظر میں طبع آزمائی نہیں کی تھی۔تینوں تخلیقات میں ایک واضح کمی یہ ہے کہ کسی میں بھی کسی خاتون کا کوئی مضبوط کردار نہیں ہے صرف دو ایک خواتین اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں مارتی نظر آجاتی ہیں۔ ناول میں ضرور بعض مقامات پر ہزارے کے لڑاکا جنگ جو دکھائے گئے ہیں جن میں کہیں کہیں مبالغہ آرائی سے بھی کام لیا گیا ہے لیکن کہیں بھی عبدالحلیم شرر یا نسیم حجازی کی طرح ناقابلِ یقین خیال آرائی کر کے اپنے مجاہدین کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کہا گیا۔ مصنف کو علم ہے کہ کہیں کہیں تڑکا لگایا جاسکتا ہے لیکن اپنے سورماؤں کو انسان ہی رکھنا چاہیے۔


