امرتا پریتم ، وارث شاہ اور پنجاب کی دو مائیں

ستتر سال پہلے انسانی تاریخ کی بدترین ہجرت، خونریزی اور عصمت دری کی ہولناک ہولی کھیلی گئی تو پنجاب کی ایک بیٹی امرتا پریتم نے وارث شاہ کو مخاطب کر کے تقسیم کا نوحہ لکھا۔
اج آکھاں وارث شاہ نوں کِتوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وین
اَج لَکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن
اُٹھ درد مندایا دردیا،اُٹھ تَک اپنا پنجاب
اج بیلے لاشاں و چھیاں تے لہو دی بھری چناب
سچ ہے کہ بٹوارے کا دکھ عورت نے زیادہ محسوس کیا ۔مرد تو اپنی انا اور ضد کے خول سے نکل ہی نہ سکا ، مگر عورت انسانوں کی بے رحم تقسیم،تہذیب کی موت اور نسلوں کی بربادی پر تڑپ اٹھی ۔اس وقت دوطرفہ مہاجرین امرتا کے یہ شعر کاغذ پر لکھ کر مدت تک جیبوں میں رکھتے اور پڑھ پڑھ کر رویا کرتے تھے ۔امرتا کی اپنی زندگی بھی المیہ تھی ۔سولہ سالہ امرتا کور کی شادی پریتم سے ہوئی تو وہ امرتا پریتم ہوئی مگر دل ساحر لدھیانوی کو دے بیٹھی جو اس کا تھا نہ ہو سکا۔ وہ باقی کی عمر امروز کے ساتھ گزار کر کبھی نہ لوٹ کر آنے والے سفر پر چل دی۔ لاہور سے امرتا دہلی کس دل سے گئی، ہم نہیں جانتے۔ کئی سالوں بعد پاکستانیوں نے امرتا کو چادر کا تحفہ بھجوایا تو بہت نہال ہوئی اور سب کو بتایا،دیکھو آج میرے میکے نے مجھے یاد کیا ہے۔
ادھر مردوں میں منٹو نے بٹوارے کا کرب محسوس کیا۔ وہ کہتا تھا کہ ہر صاحبِ دل، باشعور، دردمند بلکہ پاگل بھی اس قہرناک بٹوارے کا مخالف ہے۔ سادہ لوح پریشان ہیں کہ ہندوستان ایک دم کدھر گیا؟ کوئی ڈھونڈتا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ اِدھر ہے یا اُدھر؟ میں صرف داغدار ہونے والے دوپٹوں پر رنجیدہ نہیں ہوں بلکہ پوچھتا ہوں کہ وہ پھولے ہوئے پیٹوں والیاں ہندوستان کی ملکیت ہیں کہ پاکستان کی؟ اور یہ خاک و خون سے لِتھڑی لاشوں کو دفنایا جائے یا جلایا جائے ؟ یہ حقیقت ہے کہ وہ دو ملکوں کی نہیں، معاشرے اور تہذیب کی تقسیم تھی۔ بہت سی مائیں، بہنیں، بیٹیاں، دوست اور رشتے دار جدا ہوئے۔ لاتعداد محبت کرنے والے بچھڑ گئے۔ ہندو اسلام کو مٹاتے رہے اور مسلمان ہندو ازم کو ختم کرتے رہے۔ کوئی مسلمان یا ہندو نہیں مَرا، بلکہ دو لاکھ ہندوستانی انسان مَرے۔ اگر یہ تقسیم اس قدر وحشیانہ انداز میں نہ ہوتی تو شاید پاکستان اور ہندوستان آج امریکہ اور کینیڈا کی طرح کے ہمسائے ہوتے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کو دیکھ کر مولانا آزاد کے الفاظ یاد آتے ہیں، "پاکستان کی تشکیل میں صرف اعلیٰ طبقات کے مسلمان فائدہ اٹھائیں گے، اسے بین الاقوامی طاقتیں کنٹرول کریں گی کیونکہ اس کے بنانے والوں کو صرف اقتدار کا شوق ہے۔ میں اُس پار جانے والوں سے کہتا ہوں کہ دماغ سے سوچنا سیکھو۔ ابھی کل کی بات ہے کہ تمھارے قافلوں نے جمنا کے کنارے وضو کیا تھا اور آج یہاں تم خوف محسوس کرتے ہو، صدیوں سے اکٹھی رہتی قومیں اب کیوں اکٹھی نہیں رہ سکتیں؟ مجھے یقین ہے تم اس حقیقت کو جلد ہی جان لو گے مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوگی”۔
خیر جو ہوا سو ہوا، پچھلے ستتر سالوں میں الگ ہو کر بھی ہمارے بڑوں اور چھوٹوں سب نے نفرتیں بانٹنا فرض سمجھا اور اس فرض کو خوب نبھایا۔ کئی بار حالات سدھرے مگر غزوہ ہند کے مجاہدوں، زاہدوں، ساحلوں اور خلیلوں نے انسانیت کو ہر بار شکست دی۔ اِدھر عوام پہلے ہی کسی نہ کسی کے حصے کے بے وقوف ہوا کرتے ہیں، ان سے خیر کی امید کیا؟ مگر خیر کا جھونکا آیا تو ایک بار پھر عورت کی جانب سے ہی آیا۔ پیرس اولمپکس میں دو پنجابی جوانوں نے پوری دنیا میں جھنڈے گاڑھے تو مذکورہ دو طرفہ بے وقوف کرکٹ کی جنگ کی طرح زہریلے ہوئے ہی تھے کہ پنجاب کی دو ماؤں نے قوموں کی مائیں ہونے کا حق ادا کردیا ۔دو طرفہ نفرت کے سوداگر اپنے خسارے پر چکرا سے گئے۔رضیہ پروین اور سراج دیوی نے پنجاب کے دونوں سپوتوں کو اپنے اور پنجاب کے بیٹے قرار دے کر تاریخ رقم کردی۔ جناب عقیل جعفری نے خوب کہا کہ محنت بیٹوں نے کی اور جیت مائیں گئیں۔ بے شک جس قوم کی مائیں ایسی ہوں وہاں جنگ کی اصطلاح لغات سے نکل جاتی ہے۔
کاش ہمارے سیاسی،سماجی اور مذہبی راہنما ان ماؤں سے کچھ سیکھ سکیں اور نفرت بیچنا کم کر دیں۔ مگر کیوں، وہ عورت کی عظمت کیوں مانیں؟ کیونکہ عورت تو جاہل، کم عقل اور شاید جہنمی بھی ہے۔ اچھا ہوا جو عورت طاغوت جیسی شیطانی اصطلاح سے ناواقف رہی ورنہ وہ بھی طاغوت کی منزل سے سلامت نہ جا پاتی۔ مگر خیر خیر ہوتی ہے۔ ارشد ندیم اور دو ماؤں کی جیت سے وقتی ہی سہی، قمروں اور ساحلوں کو سوشل میڈیا پر عوامی رد عمل سے سکھ کا سانس ضرور ملا ہے۔ آخر پہ پھر کہنا چاہوں گا ستتر سال پہلے پنجاب کے عظیم صوفی شاعر وارث شاہ سے امرتا نے شکوہ کرتے ہوئے سوال کیے تھے مگر بابا جی مرد ہو کر بھی مداوا نہ کر پائے لیکن پنجاب کی دو ماوٗں نے امرتا کے دکھوں کا خوب مداوا کر دیا ہے۔ دھرتی بھی ماں ہوتی ہے اِدھر کی ہو یا اُدھر کی،ماں ماں ہی ہوتی بس ذرا من سے دیکھنے کی بات ہے۔ امرتا جی، اب تم بھی اٹھو! اور وارث شاہ کو مژدہ سناؤ۔
اج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں ویکھ
اج دھرتی تے نواں پیار والا ،کُھلا ہویا ورقہ ویکھ
اُٹھ درد مندیا دردیا، اُٹھ ویکھ اپنا پنجاب
ماواں خوشیاں ونڈیاں تے ہاسیاں بھری چناب

