فاطمہ! تو آبروئے امتِ مرحوم ہے
مرحوم ڈاکٹر محمد اقبال کے ہاں مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ مکرر ماضی پرستی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ بسا اوقات حکمتِ گم گشتہ کی بازیافت اور تاریخی واقعات کو تلمیحاتی رنگ میں نظم کر کے حاضر و موجود سے جوڑنے میں انہیں بے مثل ملکہ حاصل ہے۔ خطبات کی بات البتہ مختلف و منفرد ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے مولانا جلال الدین رومی کے بعد پوری اسلامی دنیا میں فکری اور نظریاتی اعتبار سے ان کے فکر و نظر کو زیادہ اعتبار و پذیرائی حاصل ہے۔ مہندس و مورخ اور محقق و شاعر ڈاکٹر عقیل عباس جعفری 30 ستمبر 2021 کو نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے لئے ایک جامع مضمون ’جنگِ طرابلس پر نظم فاطمہ بنت عبداللہ میں شاعر مشرق نے کسے خراج عقیدت پیش کیا‘ میں تحریر فرماتے ہیں :
’یہ 28 ستمبر 1911 کا دن تھا جب اٹلی نے ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی غرض سے سلطنتِ عثمانیہ کو الٹی میٹم دیا اور 30 ستمبر کو طرابلس پر قبضہ کر لیا۔‘ انہی سطور میں آگے آپ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک تحریر ’الہلال‘ سے نقل کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ :
’ اس جنگ نے صدیوں کے بعد اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور کے غزوات اور مجاہدات کے واقعات زندہ کر دیے اور مدتوں بعد عرب دنیا کو موقع ملا کہ ان کے اصلی جوہر نمایاں ہوں۔ ‘ ’بدر اور احد کے واقعات میں ہم پڑھتے تھے کہ ایسی عورتیں تھیں جو اپنے آٹھ آٹھ لڑکوں کو اللہ کی راہ میں زخمی کرواتیں اور خود بھی زخمی ہو جاتی تھیں۔ وہ اللہ کے رسول ﷺ کی محبت میں ایسی محو تھیں کہ تیروں پر تیر کھاتی تھیں مگر اپنے جسم کو ان کے سامنے ڈھال کی طرح رکھتی تھیں۔ یہ ہم پڑھتے تھے مگر خاک طرابلس نے تمام واقعات دہرا دیے۔ ‘
طرابلس کے اہم قبیلہ البراعصہ کے شیخ عبداللہ کی اکلوتی اولاد فاطمہ ( 1898 پ) تیرہ/چودہ سال کی عمر میں وہ تاریخ رقم کر گئیں کہ قرونِ اولیٰ کی جان نثاریوں کی زرین تاریخ دہرا دی۔
بانگ ِدرا میں موجود نظم میں ذکر واقعات کو آج کی ’امت ِمرحوم‘ کی دگرگوں حالت پر منطبق کرتے ہوئے دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ اور درج بالا مصرع کے مصداق کتنی ’فاطمہ بنت عبداللہ‘ فلسطین میں آئے روز جان سے ہاتھ دھو رہی ہیں، بستیاں کی بستیاں او ر خاندان کے خاندان کے اجڑ رہے ہیں، پوری اسلامی دنیا میں نہ کوئی پرورشِ لوح و قلم کا علمبردار نظر آتا ہے کہ نوحہ لکھنے کی فرصت تو ہو، مرثیہ تحریر کرنے کی سکت تو ہو۔ عملی اور سیاسی مزاحمت تو اب متعلقہ چارہ گراں اور ارباب بست و کشاد کے لئے بھی شجر ممنوعہ بن چکی ہے۔ کہیں سے کوئی آواز سماعتوں سے نہیں ٹکرا رہی، کہ بول اٹھے ’فاطمہ تو آبروئے امت مرحوم ہے‘ ۔ ہم ’ہاتھ اٹھانے‘ سے بھی قاصر رہے، ہمیں ’کوئی رسم دعا یاد‘ ہی نہیں، نہ ہمیں ’سوز محبت‘ سے کوئی شناسائی ہے، نہ خدا سے ’، البتہ‘ بت ’بہت سارے یاد و ازبر ہیں کہ جن کی بندگی نے ہمیں شرمندگی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ لیکن خوئے غلامانہ جانے کا نام ہی نہیں لیتی۔
گزشتہ اکتوبر سے فلسطین میں پھر سے بھڑکائی گئی اس آگ نے ہزاروں کو بھسم کر کے رکھ دیا ہے۔ اور بربادی کا یہ سفر ابھی جاری ہے۔ نشریاتی ادارے الجزیرہ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک انتالیس ہزار چھ سو نناوے افراد بشمول پندرہ ہزار بچوں کے لقمہ اجل بن کے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوچکے ہیں۔ زخمیوں او ر مہاجرین کی داستانِ غم انگیز تو ایک الگ قیامتِ صغریٰ کا سمان باندھتی ہے۔
ادب ِعربی میں ابو تمام حبیب بن اوس الطائی کا ’حماسہ‘ حقیقی معنوں میں بس حماسہ ہی رہ چکا ہے۔ امت پنے کا تصور عمداً اور مقصداً ختم کیا جا رہا ہے۔ وحدت کے پاش پاش ہو جانے فکری اور سیاسی لامرکزیت کے وجود کو پختہ کیا جار ہا ہے۔ کہ اجتماعی بات سرے سے سامنے ہی نہ آئے۔
مولانا محمد یوسف کے فرمودات میں تحریر ہے کہ ’جب مسلمان ایک امت تھے تو ایک مسلمان کے کہیں قتل ہو جانے سے ساری امت ہِل جاتی تھی۔ اب ہزاروں لاکھوں گلے کٹتے ہیں اور کانوں پر جُوں تک نہیں رینگتی۔‘
ساکنان ِفلسطین کی مثال اُن مظلومانِ مکہ جیسی ہے جنہیں با الفاظ مفسر الطبری کفارِ مکہ نے بسببِ قبولیتِ اسلام ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ہوا تھا اور مستضعفین، خواتین اور بچے فریاد کرر ہے تھے کہ
رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْ ہَٰذِھِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَھْلُھَا و َاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ و َلِیًّا و َاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ نَصِیراً
(مفہوم:اے ہمارے رب ہمیں اس قریہ سے نکال لیں جس کے باسی ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی طرف سے ولی ٹھہرا اور ہمارے لئے اپنی طرف سے مدد کرنے والا ٹھہرا)
ویسے بھی امتِ مسلمہ کی بات آتی ہے تو بے ساختہ زبان پہ یہ آنے لگتا ہے کہ
تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
لیکن اللہ تعالی کی مدد و نصرت سے نا امید نہیں ہونا چاہیے کہ ذاتِ پاک کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ڈاکٹر محمد اقبال کی اسی نظم کے کچھ ابتدائی اشعار ملاحظہ کیجئے گا:
فاطمہ! تُو آبرُوئے اُمّتِ مرحوم ہے
ذرّہ ذرّہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے
یہ سعادت، حُورِ صحرائی! تری قسمت میں تھی
غازیانِ دیں کی سقّائی تری قسمت میں تھی
یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سِپَر
ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر
یہ کلی بھی اس گُلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی!
اپنے صحرا میں بہت آہُو ابھی پوشیدہ ہیں
بجلیاں برسے ہُوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں!
فلسطین کے قومی شاعر محمود درویش ( 1948 ۔ 2008 ) کی ایک شہرہ آفاق نظم ملاحظہ ہو :
’ستنتھی الحرب و یتصافح القادة
وتبقی تلک العجوز، تنتظر و لدھا الشہید
وتلک الفتاة، تنتظر زوجھا الحبیب
واولئک الاطفال، ینتظرون و الدھم البطل
لا اعلم من باع الوطن!
ولکننی رایتُ من دفع الثمن ’۔
مفہوم: ’جلد ہی جنگ ختم ہو جائے گی، اور زعماء مصافحہ کریں گے۔
اور عمر رسیدہ خاتون اپنے شہید جگر گوشے کا انتظار کرتی رہی گی۔
اور جوان خاتون اپنی محبوب شوہر کا راستہ دیکھے گی۔
اور وہ بچے اپنے بہادر باپ کا انتظار کریں گے۔
میں نہیں جانتا کہ وطن کس نے فروخت کیا۔
لیکن یہ جانتا ہوں کہ کس نے (آزاد رہنے کی) قیمت ادا کی ’۔
لیکن جنگ کب ختم ہو رہی ہے؟ ، مصافحہ و معانقہ کب ہوں گے؟ یہ ابھی دیکھنا ہے۔ غمخواروں کے درد و الم کی داستانیں تو ابدی ہیں کہ شب غم طویل ہے او ر قصہ غم طویل تر۔ جس طرح امرءُ القیس نے لکھا تھا کہ ’رات سمندر کی موجوں کی طرح ابھر ابھر کے آر ہی ہے تاکہ انواع و اقسام کے غموں سے میرا امتحاں لے سکے‘


