ماؤں کی محبت میں جنگجو ریاستی بیانیے بہہ گئے
آج وارث شاہ، پنجاب کی دو ماؤں کی زبانوں میں بول اٹھا ہے۔ امرتا پریتم کے پنجاب میں نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم کی ماؤں نے امن، محبت اور بھائی چارے کی نئی داستان رقم کر دی ہے۔ آج ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ پنجابیوں کے دلوں میں بابا فرید اور گرو نانک کا انسانیت اور امن کا پیغام زندہ جاوید ہے۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ مادھو لال حسین، بلے شاہ اور وارث شاہ کا انسان دوستی، رواداری، اور مذہبی منافرت کے خلاف درس پنجابی عوام کے ذہنوں سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ زمانے نے دیکھا کہ دو ماؤں کی محبت بھری آوازوں نے مذہبی منافرت، شدت پسندی اور عدم برداشت کی دیواریں گرا دیں۔ اربوں ڈالروں کے اسلحے کے انبار، ایٹم بموں کے ذخیرے، جنگی دھمکیاں اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کے بیانیے دو ماؤں کی محبت کے سامنے ریت کی دیواریں ثابت ہوئے۔
جیولین تھرو اولمپک چیمپین پاکستانی ارشد ندیم سے ہارنے والے ہندوستانی نیرج چوپڑا کی ماں سروج دیوی نے کہا تھا گولڈ میڈل جیتنے والا ارشد ندیم بھی میرا بیٹا ہی ہے اور میں اس کی کامیابی پر بہت خوش ہوں۔ دوسری طرف ارشد ندیم کی والدہ نے بھی خوب کہا کہ نیرج چوپڑا بھی میرا بیٹا ہے اور میری دعا ہے کہ وہ آئندہ گولڈ میڈل جیتے۔ ارشد ندیم نے نیرج چوپڑا کی ماں کو اپنی ماں کہہ کر مخاطب کیا اور اسی طرح نیرج چوپڑہ نے بھی ارشد ندیم کی ماں کو اپنی ماں کہا۔ خیر سگالی اور بے لوث محبت کے جذبات پر نہ صرف سرحد کی دونوں جانب پنجابیوں نے بے پناہ خوشی کا اظہار کیا بلکہ دنیا بھر میں اس خلوص اور جذبہ محبت کی دل کھول کر تعریف کی گئی۔
پنجاب اگست 1947 میں تقسیم ہوا تھا اور یہیں پر لاکھوں نہتے عوام کے خون سے ہولی کھیلی گئی تھی۔ تاریخ کی سب سے بڑی جبری اور دلخراش ہجرت بھی پنجابیوں کی تقدیر ٹھہری تھی۔ مگر اب تاریخ کے اس موڑ پر سرحد کے آر پار دونوں ملکوں کے عوام ماضی کی تلخیوں کو بھلا چکے ہیں۔ وہ ہزاروں سالوں کی مشترکہ تاریخ، ثقافتی وراثت اور زبان کے امین بن کر امن، بھائی چارے اور دوستی کے نئے دور کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ دونوں اطراف کے عوام کی خواہشات پر عمل پیرا ہو کر اس خطے کو امن، خوشحالی اور ترقی کا گہوارہ بنانے کے طرف پیش قدمی کی جا سکتی ہے۔ مگر دونوں ریاستوں کے حکمران طبقے سرحد کے دونوں اطراف کے پیار بھرے عوامی جذبات اور خواہشات کو درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ وہ اسے محض ایک وقتی ابال کہتے ہیں۔ درحقیقت حکمران طبقے تاریخی حقیقتوں سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ جلد یا بدیر دونوں ملکوں کے حکمران طبقوں کو عوامی جذبات اور خطے کی معاشی ضروریات کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کے عوام کی خوشحالی، ترقی اور دنیا میں باعزت مقام حاصل کرنے کا دار و مدار خطے کے ممالک میں امن، دوستی، معاشی تعاون اور باہمی تجارت کو فروغ دینے میں ہے۔ اب حکمران طبقوں کو تسلیم کر لینا چاہے کہ علاقائی امن اور معاشی تعاون کے بغیر ترقی و خوشحالی کے راستے کی رکاوٹیں دور نہیں کی جا سکتیں۔ ورنہ ترقی یافتہ ملکوں کی اقتصادی محتاجی، معاشی پسماندگی، ناخواندگی، بے روزگاری ان ملکوں کے عوام کی قسمت بنی رہے گی۔
قائد اعظم محمد علی جناح بر صغیر کی تقسیم کے بعد ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے تھے۔ وہ دونوں ملکوں کے تعلقات امریکہ اور کینیڈا کے تعلقات جیسے رکھنا چاہتے تھے۔ انڈیا کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو تنازعہ کشمیر کا پرامن حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے اعلانات کرتے رہے۔ مگر حالات کسی اور سمت چل پڑے۔ پاکستانی ریاست نے پاکستان میں جناح کی سوچ کو شکست فاش دی تو انڈیا میں گاندھی جی اور پنڈت نہرو کے نظریات کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ پاکستان اور بھارت کے حکمران طبقے برٹش نو آبادکاروں کے پیدا کردہ مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ خطے کو امن و خوشحالی کا گہوارہ بنانے کی بجائے علاقائی تنازعات، جنگوں، غربت اور معاشی پسماندگی کا گھر بنا دیا ہے۔ جبکہ مذہبی شدت پسندی، فرقہ واریت اور سماجی عدم برداشت اس خطے کے عوام کا مقدر بن چکے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن اور دوستی کی بات دیوانے کا خواب لگتا ہے۔ نیرج چوپڑا کی ماں سروج دیوی اور ارشد ندیم کی ماں کا ایک دوسرے کے لئے بے لوث محبت کے اظہار نے عوام کے دلوں چھو لیا اور آنکھیں پرنم کر دیں۔ دونوں ماؤں نے کروڑوں عوام کو عظیم انسانی اقدار، محبت، امن، رواداری اور بھائی چارے کی جس روشنی سے روشناس کرایا ہے اس سے امن، دوستی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلنے کی امید کرنی چاہے۔ تنازعہ کشمیر پر اصولی موقف پہ قائم رہتے ہوئے پاکستان کے لئے علاقائی امن و معاشی تعاون کی طرف قدم بڑھانے میں کوئی حرج نظر نہیں آتا۔ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے کوششیں، علاقائی امن، تجارت اور معاشی تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیں۔ یاد رہے کہ عوامی جمہوریہ چین کا مسئلہ تائیوان پر اصولی موقف، مغربی دنیا کے ساتھ تجارتی، معاشی اور سیاحتی سرگرمیوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ حالات وہ وقت دکھانے میں زیادہ دیر نہیں لگائیں گے جب دونوں ریاستوں کے حکمرانوں باہمی تجارت، سیاحت، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کی جانب قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ امید کی جانی چاہے کہ نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم کی دوستی، اور ان کی ماؤں کی بے مثال محبت دونوں ملکوں میں امن و دوستی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ امید ہے کہ وارث شاہ اور امرتا پریتم کا پنجاب، جنوبی ایشیاء میں امن، ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھول دے گا۔


