مذہب اور سائنس کے پرستار


مصنف:
خالد سہیل
قدیر قریشی

خالد سہیل کا قدیر قریشی کو خط

محترمی و مکرمی قدیر قریشی صاحب!

آپ جس ذوق و شوق سے سائنس کی خدمت کر رہے ہیں اس کا مجھے پہلے بھی تھوڑا سا اندازہ تھا لیکن آپ کا سائنسی محبت نامہ پڑھ کر میں اور بھی متاثر ہو گیا۔ آپ کی محنت، محبت اور ریاضت قابل رشک بھی ہے اور قابل صد تحسین بھی۔

قدیر قریشی صاحب!

میں جب اپنے ان دوستوں کے بارے میں سوچتا ہوں جو مذہب اور سائنس کے پرستار ہیں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں

پہلا گروہ ان دوستوں کا ہے جو مذہب کو اپنا محبوب سمجھتے ہیں۔ وہ آسمانی خدا، وحی، پیغمبروں، قیامت اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ آسمانی کتابوں کو اپنا رہبر سمجھتے ہیں اور مذہب کی تعلیمات پر صدق دل سے عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر زندگی کے کسی موڑ پر انہیں مذہب اور سائنس میں تضاد دکھائی دے تو وہ مذہب کو، وحی کو

DIVINE REVELATION
کو قبول کرتے ہیں اور سائنسی تحقیق کر رد کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ڈارون کا نظریہ ارتقا ہے۔

ایسے دوستوں کا ایمان ہے کہ ایک وہ وقت تھا جب آدم اور حوا جنت میں خوشحال اور پر سکون زندگی گزار رہے تھے۔ پھر شیطان نے انہیں بہکایا اور ورغلایا اور انہوں نے سیب یا گندم کا دانہ کھایا اور انہیں سزا کے طور پر جنت سے زمین پر امتحان کے لیے بھیج دیا گیا۔ اب وہ مرنے کا اور مرنے کے بعد قیامت کا انتظار کر رہے ہیں تا کہ قیامت آئے اور فیصلہ ہو کہ وہ امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں یا ناکام اور انہیں جنت میں جانا ہے یا جہنم میں۔ ایسے دوست ڈارون کے نظریے کو نہیں مانتے کیونکہ وہ اس نظریے کو قرآنی تعلیمات کے خلاف سمجھتے ہیں۔

دوسرا گروہ ان دوستوں کا ہے جو مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہہ چکے ہیں۔ وہ سائنس کو اپنا محبوب سمجھتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ کائنات خدا کے احکام سے نہیں قوانین فطرت سے چل رہی ہے اور قوانین فطرت کو جاننے اور سمجھنے کے لیے ہمیں کسی مذہب یا خدا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے لوگ منطق کو تو مانتے ہیں وحی کو نہیں۔

THEY PREFER REASON OVER REVELATION

ایسے دوست مشرق وسطیٰ کے پیغمبروں سے زیادہ یونان کے فلسفیوں کو اپنے دل کے قریب رکھتے ہیں۔ ایسے دوست ڈارون کے نظریے کو دل کی گہرائیوں سے مانتے ہیں۔

تیسرا گروہ ان دوستوں کا ہے جن کے دو محبوب ہیں۔ مذہب اور سائنس۔ وہ دونوں کو بیک وقت خوش رکھنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔

ایسے دوست سارا ہفتہ سائنسی تحقیقات کو پڑھتے ہیں اور ڈارون کے نظریے کو سراہتے ہیں اور جمعے کو مسجد جا کر کسی مولوی کا خطبہ سنتے ہیں اور آدم و حوا کی کہانی کو مان لیتے ہیں۔ ایسے دوست بیک وقت دو دنیاؤں میں رہتے ہیں اور ان دو دنیاؤں کے تضادات کو محسوس تک نہیں کرتے۔

وہ سارا ہفتہ ایک محبوب اور ویکنڈ دوسرے محبوب کے ساتھ گزارتے ہیں اور دونوں محبوبوں کو ایک دوسرے سے دور رکھتے ہیں۔

چوتھا گروہ ان دوستوں کا ہے جو ہر نئی سائنسی تحقیق کا جواز آسمانی کتاب میں تلاش کر لیتے ہیں اور پرانی آیت کی نئی تفسیر کر لیتے ہیں۔

ایسے لوگ ڈارون کے نظریے کے مقبول عام ہونے سے پہلے ارتقا کے نظریے پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن سائنسی تحقیق کے بعد انہوں نے قرآنی آیت کی نئی تفسیر کر کے ثابت کر دیا ہے کہ قرآن اور ڈارون کے نظریے میں کوئی تضاد نہیں۔

ڈارون کی تحقیق سے پہلے وہ قرآنی الفاظ
نفس الواحدہ
کا ترجمہ آدم کرتے تھے لیکن ڈارون کے نظریے کے بعد وہ قرآنی الفاظ
نفس الواحدہ
کا ترجمہ آدم کی بجائے
unicellular organism…….amoeba
کرتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سائنس اور قرآن میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

میں ایسے دوستوں سے بصد احترام یہ عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن میں تمام انسانی مسائل کا حل موجود ہے تو آپ ہمیں قرآن سے کینسر کا علاج نکال کر بتائیں تا کہ ساری دنیا کے سائنسدان اپنی تحقیق روک دیں۔ اور لاکھوں ڈالر اور سینکڑوں قیمتی گھنٹے ضائع نہ کریں۔

لیکن جب کوئی ایسا سائنسدان جن نے کبھی کوئی آسمانی کتاب نہیں پڑھی اپنی تحقیق سے کینسر کا علاج تلاش کر لے گا تو آپ دوبارہ قرآن کی طرف پلٹیں گے اور کسی پرانی آیت کی نئی تفسیر کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ قرآن میں یہ علاج صدیوں سے موجود تھا۔

قدیر قریشی صاحب!

آپ چونکہ مجھ سے زیادہ تجربہ کار ہیں اور کئی سالوں سے
سائنس کی دنیا

کے سینکڑوں ہزاروں لاکھوں پرستاروں سے تبادلہ خیال کر چکے ہیں آپ ان سائنسدانوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو دو دنیاؤں میں بیک وقت زندگی گزارتے ہیں۔ وہ سائنسی لیبارٹری میں قوانین فطرت کے اصولوں کو مانتے ہیں اور لیبارٹری سے باہر مافوق الفطرت مذہبی اعتقادات پر یقین رکھتے ہیں۔

آپ اپنے ان دوستوں سے کیا کہتے ہیں جو ہر نئی سائنسی تحقیق کو قرآن کی کسی پرانی آیت کی نئی تفسیر کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سچائی قرآن میں صدیوں سے موجود تھی؟

آپ کی کاوشوں کا مداح
خالد سہیل
۔

قدیر قریشی کا جواب

محترم خالد سہیل صاحب
آپ کے محبت نامے کا بہت شکریہ

مذہب اور سائنس کے حوالے سے آپ کا سوال بے حد اہم ہے۔ ہمارے ہاں کچھ حلقوں کی طرح سے یہ خدشہ اکثر ظاہر کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں الحاد تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات بیان کی جاتی ہیں : مذہب سے دوری، مغربی کلچر کی یلغار، بھارتی فلمیں، پاکستانی ڈرامے، سوشل میڈیا، آسانی سے میسر پورنوگرافی اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ اس کا علاج عمومی طور پر یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو مزید مذہبی تعلیم دی جائے اور اپنے کلچر سے روشناس کروایا جائے۔ ان تمام بیانات میں کسی حد تک صداقت موجود ہے، لیکن میری رائے میں یہ تمام وجوہات اور ان کے تدارک کی تجاویز انتہائی سطحی ہیں۔ اصل مسئلہ کہیں زیادہ گہرا اور گمبھیر ہے جس پر بہت کم لوگ بات کرتے ہیں

ہمارا معاشرہ ایک روایتی معاشرہ ہے جس میں سوچنے سمجھنے کو نہ صرف اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ خود سے سوچنے کی روش کو معاشرے کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ بچپن سے ہی بچوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ بڑوں کی بات کبھی غلط نہیں ہوتی

(خطائے بزرگاں گرفتن خطا است)

سوال کرنا بغاوت کی علامت ہوتی ہے، بچوں کو بڑوں کا کہنا ماننا چاہیے وغیرہ۔ سکولوں میں بھی بچوں کو سبق، یاد کرنے، کی تلقین کی جاتی ہے۔ استاد ایک اتھارٹی فگر ہوتا ہے جو ہمیں معلومات فراہم کرتا ہے اس لیے استاد کی کسی بات کی نفی کرنا بے ادبی ہے، درسی کتابوں کی معلومات ہمیشہ درست ہوتی ہیں اور جو شخص ان معلومات پر سوال اٹھائے وہ باغیانہ ذہن رکھتا ہے، وغیرہ۔ مذہب کی تعلیم میں اتھارٹی کا رویہ مزید جابرانہ ہے۔ بچوں کو سب کچھ یاد کرنا ہے اور لفظ بلفظ سنانا ہے، کسی مسئلے پر سوال نہیں اٹھانا۔ خاص طور پر، کیوں، کا سوال کبھی نہیں اٹھانا

مذہب اور سائنس میں ظاہری تصادم:

آج کی نوجوان نسل بیدار ذہن ہے۔ اس کے ذہن میں سوالات ہیں جن کے جوابات اسے اپنے بزرگوں سے نہیں ملتے۔ ایسے سوالات پر بزرگوں سے اکثر صرف ڈانٹ ڈپٹ ملتی ہے۔ لیکن آج نوجوان کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے جو انٹرنیٹ سے منسلک ہے۔ اس کے پاس سوشل میڈیا کی ایکسس ہے۔ سوشل میڈیا پر اب وہ تمام انفارمیشن موجود ہے جس پر ہمارے ہاں روایتی طور پر سخت پابندیاں تھیں اور اس قسم کی انفارمیشن پر سختی سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ یہ وہ لٹریچر ہے جس میں ہماری روایات پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ ہمارے نوجوان جب اس قسم کی، ناپسندیدہ، انفارمیشن پڑھتے ہیں تو انہیں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ انہیں اب تک اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔ روایات پر سوال اٹھانا ممکن ہے۔

اسی طرح بچے جب جدید سائنس کو سٹڈی کرتے ہیں تو انہیں سائنس کے کچھ نظریات مذہبی تصورات سے متصادم نظر آتے ہیں۔ انہیں کسی ایسے دوست کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے کنفیوژن کو دور کر سکے۔ لیکن چونکہ ہمارے ہاں ان موضوعات پر بات کرنا منع ہے اس لیے بچے ان سوالات کے جواب نہیں تلاش کر پاتے۔ اس لیے ان بچوں کا کنفیوژن بڑھتا چلا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر اوقات مذہب اور سائنس میں اس perceived تصادم کا علاج سائنس سے مکمل انکار کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ کچھ بزرگوں میں ایسا رویہ اکثر دیکھنے میں ملتا ہے اور یہ رویہ نوجوان نسل کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس رویے کہ وجہ عموماً یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کو نہ تو سائنس کی سمجھ ہوتی ہے اور نہ ہی مذہب کی، لیکن انہیں بہت زیادہ اعتماد ہوتا ہے کہ انہیں سائنس اور مذہب دونوں کی بہترین سمجھ ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے حقائق سمجھنا عملاً ناممکن ہوتا ہے کیونکہ ایسے لوگوں کو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ انہیں علم نہیں۔

ہماری پرانی نسل یہ مسئلہ سمجھنے سے کوتاہی کرتی معلوم ہوتی ہے کہ اگر انہیں ہماری نئی نسل مذہب سے بیزار نظر آتی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ خود ہماری پرانی نسل ہے جو نئی نسل کے سوالات کے تسلی بخش جواب دینے سے یکسر قاصر ہے

سائنس دشمنی کا رویہ:

ہمارے ہاں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں مذہب کی سمجھ قدرے بہتر ہوتی ہے اگرچہ یہ سمجھ ہمارے مذہبی علماء کی لکھی تفاسیر اور کتابیں پڑھ کر حاصل کی گئی ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے چونکہ ہمارے ہاں کئی صدیوں سے علمی روایات ختم ہو چکی ہیں اس لیے ہمارے بیشتر مذہبی علماء بھی جدید علوم سے خطرناک حد تک بے خبر ہوتے ہیں۔ صدیوں پہلے ایک زمانہ تھا جب ہمارے مدرسے واقعی دانش گاہیں ہوا کرتے تھے۔ جب ہمارے اجداد کو درس گاہوں میں فقہ کے علاوہ فلسفہ، طب، ریاضی، اور موسیقی کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ اس وقت علمی اختلاف کو محض علمی اختلاف ہی سمجھا جاتا تھا، اسے قابل گردن زدنی گناہ قرار نہیں دیا جاتا تھا۔ چونکہ اس زمانے کے علماء جدید ترین علوم سے بھی واقف تھے اور کئی زبانیں لکھ پڑھ سکتے تھے، اس لیے اس زمانے کی تفاسیر اُس وقت کے جدید علوم کی روشنی میں لکھی جاتی تھیں

جب ہماری روایات میں قدامت پرستی غالب آ گئی تو اجتہاد کا راستہ بھی بند ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کے اب کئی صدیوں سے ہمارے اکثر علماء جب قرآن مجید کی تفاسیر لکھتے ہیں، قرآن مجید اور احادیث کا ترجمہ دوسری زبانوں میں کرتے ہیں تو وہی صدیوں پرانی تفاسیر کے حوالے دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں عام لوگوں میں عربی پڑھنے والے اور سمجھنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ زیادہ تر لوگ علماء کے تراجم اور تفاسیر پڑھ کر ہی مذہبی علم حاصل کرتے ہیں، لیکن ان تراجم اور تفاسیر کو ایک انسان کی کاوش کے بجائے از خود قرآن مجید یا احادیث سمجھ بیٹھتے ہیں۔ میری دانست میں ہمارے کلچر میں سائنس دشمن رویے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ صدیوں پرانی تفاسیر پر مبنی اردو/انگریزی تراجم کو پتھر پر لکیر سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس بات کا احساس بہت کم لوگوں کو ہوتا ہے کہ یہ تراجم اور تفاسیر از خود الہامی کتابیں نہیں ہیں بلکہ علماء نے اپنے محدود علم کے مطابق قرآن مجید یا احادیث کا جو مطلب سمجھا ہے وہ بیان کیا ہے

ایک عام شخص کو جس مذہبی شخصیت تک پہنچ ہوتی ہے وہ عموماً مقامی مساجد کے امام حضرات ہوتے ہیں جو عموماً دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اگرچہ بڑے شہروں کے معروف دینی مدارس میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی عمدہ تعلیم دی جاتی ہے، لیکن اب بھی زیادہ تر مدارس ایسے ہیں جن میں روایتی تعلیم ہی دی جاتی ہے جو صدیوں پرانے نصاب پر مشتمل ہے۔ ان متروک تصورات کے مطابق زمین کو ساکن اور کائنات کا مرکز قرار دیا جاتا ہے جس کے گرد تمام فلکی اجسام گردش کرتے ہیں، دنیا چار عناصر یعنی پانی، مٹی، ہوا، اور آگ پر مشتمل ہے اور تمام اشیاء انہی عناصر سے بنی ہیں۔ ایسے حضرات چونکہ جدید علوم سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں اس لیے لوگوں کے سوالات کے جواب نہیں دے پاتے۔ چنانچہ ایسے حضرات سوال پوچھنے کو ہی معیوب قرار دینے لگتے ہیں۔ گویا بچوں کو بھی یہی سکھایا جاتا ہے کہ انہیں جو کچھ بتایا جا رہا ہے اسے یاد کرنا ضروری ہے، ان کے بارے میں کوئی سوال کرنا ممنوع ہے

اس رویے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کا فطری تجسس بچپن میں ہی ختم کر دیا جاتا ہے اور اکثر لوگ تمام عمر کسی بھی چیز کے بارے میں تجسس نہیں رکھتے۔ انہیں چونکہ بچپن سے یہی بتایا جاتا ہے کہ قرآن مجید اور احادیث کا علم ہی اہم علم ہے اس لیے انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ سائنسی علوم سیکھنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ ایمان کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ سائنس سیکھنے سے بچوں میں تجسس پیدا ہوتا ہے اور وہ سوال کرنے لگتے ہیں۔ ایسے افراد اگرچہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں عار نہیں سمجھتے لیکن ان سائنسی اصولوں کو سمجھنا غیر ضروری سمجھتے ہیں جن کی بنیاد پر یہ ٹیکنالوجی ایجاد کی گئی۔ یہ رویہ شدت پسندانہ یعنی extremism پر مبنی رویہ ہے جس کی وجہ سے مسلمان، اور خصوصی طور پر برصغیر کے مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں

سائنس پرستی کا رویہ:

روایتی علماء میں سائنس دشمنی پر مبنی رویوں کا ردعمل یوں دیکھنے میں آتا ہے کہ جو لوگ جدید علوم سے واقف ہیں ان میں سے کچھ لوگ روایتی رویوں کے خلاف اسی قدر شدت سے دوسری انتہا پر پہنچ جاتے ہیں اور ہر سوال کا جواب سائنس میں تلاش کرنے لگتے ہیں۔ سائنس ایک مشاہداتی علم ہے جو استقرائی منطق پر مبنی ہے۔ اس لیے سائنس ان مظاہر کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیتی جن کا مشاہدہ ممکن نہیں ہے۔ جن مظاہر کا مشاہدہ ممکن ہے ان کے بارے میں بھی سائنس کے بیانات کبھی سو فیصد اعتماد کے ساتھ نہیں دیے جاتے۔

اگرچہ عام میڈیا میں سائنسی بیانات کو مطلق بیانات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن جب خود سائنس دان سائنسی پیپرز میں کسی مظہر کے بارے میں کوئی بیان دیتے ہیں تو ساتھ کانفیڈنس لیول کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ یہ کانفیڈنس لیول عموماً شماریات کی زبان میں سپیسیفائی کیا جاتا ہے۔ کسی ایسے سائنسی بیان کو قابل اعتماد نہیں سمجھا جاتا جو ایسے ڈیٹا کی بنیاد پر دیا گیا ہو جس کا کانفیڈنس لیول تین سگما سے کم ہو۔ تین سگما کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ 99.73 فیصد امکان اس بات کا ہے کہ یہ دعویٰ بیان درست ہے اور صرف 0.27 فیصد امکان اس بات کا ہے کہ یہ بیان غلط ہے۔ جب 2012 میں ہگز بوزون کی دریافت کا اعلان کیا گیا تھا تو یہ اعلان صرف اس وقت کیا گیا جب اس قدر ڈیٹا اکٹھا ہو گیا کہ کانفیڈنس لیول پانچ سگما تک پہنچ گیا یعنی صرف 0.00006 فیصد امکان اس بات کا تھا کہ یہ دعویٰ غلط ہے، 99.99994 فیصد امکان اس بات کا تھا کہ یہ بیان درست ہے۔ اگرچہ ہمیں یہ امکان سو فیصد ہی لگتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم خواہ کتنا بھی ڈیٹا اکٹھا کیوں نہ کر لیں، ہمارا کانفیڈنس لیول کبھی سو فیصد تک نہیں پہنچ پائے گا

اس لیے اگرچہ سائنس کے بنیادی نظریات انتہائی قابل اعتماد ہیں لیکن جب ہم سائنس کے نظریات کا ذکر کرتے ہیں تو دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے بارے میں کشادہ ذہنی سے تشکیک کا رویہ رکھا جائے اور اس بات کا اعتراف کیا جائے کہ اصولاً موجودہ سائنسی نظریات مستقبل میں رد بھی کیے جا سکتے ہیں (اگرچہ اس کا امکان انتہائی کم ہے ) ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سائنسی نظریات قابل اعتماد نہیں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ سائنسی نظریات میں مسلسل بہتری ہوتی رہے گی۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ سائنس صرف معروضی مظاہر (یعنی ایسے مظاہر جن کا مشاہدہ اصولاً ممکن ہو) پر ہی گفتگو کر سکتی ہے۔ عقائد by definition بغیر کسی ثبوت، بغیر کسی مشاہدے کے درست تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ہمارے عقائد میں جن چیزوں پر ایمان لانا فرض ہے وہ تمام چیزیں سائنس کے دائرہِ کار سے باہر ہیں۔ اس نقطہ نظر سے اگر کشادہ ذہنی سے مذہب کا مطالعہ کیا جائے تو قوانین فطرت اور بنیادی مذہبی عقائد میں کوئی تصادم نظر نہیں آتا

کیا مذہب اور سائنس میں تصادم ہے؟

اگر ہمیں قوانین فطرت اور مذہبی عقائد میں کہیں کوئی ظاہری تصادم نظر آتا ہے اور ہم ان مسائل پر کچھ گہرائی میں جا کر غور کرتے ہیں تو ہمیں علم ہوتا ہے کہ جن بیانات کو ہم مذہبی عقائد قرار دے رہے ہوتے ہیں ان میں سے زیادہ تر دراصل کچھ مذہبی علماء کی آراء ہوتی ہیں۔ اس کی ایک عمدہ مثال بنیاد پرست عیسائی حضرات کا یہ ایمان ہے (جسے بعض مسلم علماء بھی درست تسلیم کرتے ہیں اگرچہ قرآن مجید میں ایسا کوئی واضح تصور موجود نہیں ہے ) کہ دنیا (زمین) صرف لگ بھگ چھ ہزار سال پرانی ہے۔ جو عیسائی حضرات زمین کو چھ ہزار سال پرانا سمجھتے ہیں ان میں سے اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ ایسا بائبل میں لکھا ہے۔ لیکن حقیقت میں بائبل میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ تصور سترہویں صدی میں ایک پادری جیمز عشر نے پیش کیا تھا۔ لیکن یہ تصور اتنا مقبول ہوا کہ اب بہت سے عیسائی حضرات اسے بائبل کا حصہ سمجھنے لگے ہیں اور اس تصور پر ایمان لا چکے ہیں۔

اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بنیادی مذہبی تصورات اور سائنس میں ظاہری تصادم کی بہت بڑی وجہ مذہبی علماء کی آراء ہوتی ہیں جنہیں لوگ عین خدا کا کلام سمجھ بیٹھتے ہیں

سائنس پرستی کی وجوہات

اکثر اوقات لوگوں کا مذہبی علم انتہائی سطحی ہوتا ہے جو بچپن میں سکھائے گئے تصورات کی بنیاد پر ہوتا ہے جس کے بارے میں لوگوں نے کبھی کوئی تفکر نہیں کیا ہوتا۔ ایسے لوگ جب کالج یونیورسٹی جاتے ہیں اور جدید سائنس کو سٹڈی کرتے ہیں تو انہیں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ان کے عقائد تو غلط تھے۔ بہت سے ایسے لوگ بجائے مذہب کو گہرائی میں جا کر سٹڈی کرنے کے، مذہب سے بیزار ہو کر اس کو ترک کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اکثر لوگوں کے لیے مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے سے reconcile کرنا ناممکن نظر آنے لگتا ہے۔ لیکن حقیقت میں مسئلہ از خود مذہب نہیں ہوتا بلکہ ایسے لوگوں کا مذہب کے بارے میں سطحی علم ہوتا ہے

اس کے علاوہ بہت سے لوگوں کو بچپن سے ان کی مرضی کے خلاف زبردستی مذہبی روایات اور عبادات کی پابندی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس لیے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں مذہب کے خلاف ایک منفی رویہ پنپتا رہتا ہے جسے وہ معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ظاہر نہیں کر پاتے۔ لیکن ایسے نوجوان جب کالج یا یونیورسٹی جاتے ہیں جہاں نسبتاً آزاد ماحول ہوتا ہے تو انہیں اپنے منفی جذبات کے اظہار کا موقع مل جاتا ہے۔ گویا مذہب سے دوری میں صرف سائنس ہی ایک محرک نہیں ہوتا، بچپن سے دل میں دبے جذبات بھی اس رویے کی وجہ بنتے ہیں۔ لیکن سائنس چونکہ فطری مظاہر کی وضاحت بہت عمدگی سے کرتی ہے اس لیے پہلے اگر مذہب کے ساتھ کوئی وابستگی صرف اس وجہ سے تھی کہ فطری مظاہر کی واحد توجیہہ مذہب فراہم کرتا تھا، تو سائنس کو جاننے کے بعد یہ رکاوٹ دور ہو جاتی ہے اور ایسے لوگ مکمل طور پر سائنس پر ایمان لے آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ تو سائنس کے درست دائرہِ کار سے باہر بھی سائنس کو استعمال کرنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ خوبصورتی کو بھی سائنسی تراکیب سے ڈیفائن کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ خوبصورتی ایک اندرونی احساس ہے اور سائنس اندرونی احساسات کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیتی

الہامی کتابوں سے سائنس اخذ کرنے کا رویہ:

مذہب اور سائنس کے حوالے سے سب سے پریشان کن رویہ ان لوگوں کا ہے جو سائنس کو درست تسلیم کرتے ہیں لیکن اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ تو الہامی کتابوں میں پہلے سے ہی موجود تھا۔ ہمارے ہاں چونکہ سائنسی علم قدرے حال ہی میں آیا ہے اس لیے یہ رویہ بھی قدرے نیا ہے۔ آج سے چالیس پچاس سال پہلے ہمارے ہاں یہ رویہ بالکل موجود نہیں تھا۔ لیکن مغربی ممالک میں بائبل سے سائنس اخذ کرنے کا یہ رویہ بہت پرانا ہے

قرآن مجید میں کہیں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ یہ سائنس کی کتاب ہے۔ الہامی کتابوں کا مقصد ہمیں درست سائنسی انفارمیشن مہیا کرنا نہیں ہے بلکہ ہمیں الٰہیات کی تعلیم دینا ہے، درست اور غلط کی تمیز سکھانا ہے، اپنا کردار بہتر کرنے کے لیے ٹولز فراہم کرنا ہے، اور ایک کامیاب معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے الہامی کتابوں میں بعض اوقات فطری مظاہر کو یا تاریخی کہانیوں کو دلائل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان دلائل کا مقصد ان مظاہر یا تاریخ کے بارے میں انفارمیشن فراہم کرنا نہیں ہوتا بلکہ انہیں استعارے کے طور یا تمثیلی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

قرآن مجید اگرچہ رہتی دنیا تک کے لیے نازل ہوا لیکن اس کا پہلا مقصد ساتویں صدی کے خانہ بدوش قبیلوں کے افراد کو توحید کا پیغام دینا تھا۔ ساتویں صدی میں عرب علاقوں میں رہنے والے افراد کے ذہن سائنسی ذہن نہیں تھے، ان کے سوالات سائنسی سوالات نہیں تھے، انہیں بیکٹیریا، وائرس، بیالوجی، فزکس، کیمسٹری کی نہ تو کوئی سمجھ تھی اور نہ ہی انہیں ایسے کسی علم کی ضرورت تھی۔ اس لیے قرآن مجید میں ان سائنسی علوم کے بارے میں کسی قسم کے بیان کی غیر موجودگی کسی اچنبھے کا باعث نہیں ہے۔ البتہ ساتویں صدی کے لوگوں کی ذہنوں میں بھی یہ بنیادی سوالات یقیناً پیدا ہوتے تھے کہ زمین، سورج، چاند، ستارے کیسے بنے، یہ ایک ترتیب سے حرکت کرتے کیوں معلوم ہوتے ہیں، انسان دنیا میں کیسے آیا، بچہ کیسے بنتا ہے وغیرہ۔ اس لیے قرآن مجید میں اس قسم کے سوالات کے جوابات آسان فہم زبان میں دیے گئے ہیں جو ساتویں صدی کے ذہن کو بھی سمجھ میں آ سکیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، یہ جوابات سائنسی نقطہ نظر سے نہیں دیے گئے بلکہ rhetorical انداز میں دلائل کے طور پر دیے گئے۔ اس لیے یہ بیانات مبہم ہیں، پریسائز نہیں ہیں۔ کوئی شخص علمی دیانت داری سے انہیں سائنسی بیانات نہیں قرار دے سکتا، اور نہ ہی ان بیانات سے سائنسی حقائق اخذ کرنا دانشمندی ہے۔ انہیں سائنسی بیانات قرار دینے یا ان سے جدید سائنسی نظریات اخذ کرنے کے لیے علمی بددیانتی پہلی شرط ہے۔

کیا تمام سائنس قرآن سے نکلی ہے؟

آج کل بہت سے نوجوان یہ دلیل دیتے نظر آتے ہیں کہ تمام کی تمام سائنس قرآن مجید میں موجود ہے۔ ایسے بیانات دینے میں ان بچوں کا کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ بچے وہی بیانات دے رہے ہیں جو انہیں بچپن سے سکھایا گیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ بچوں کو قرآن مجید کے بارے میں اس قدر غلط انفارمیشن کون دے رہا ہے۔ جو لوگ یہ بیانیہ گھڑتے ہیں وہ نہ صرف شدید ترین علمی بددیانتی سے کام لے رہے ہیں بلکہ عمداً قرآن مجید کے معنوں میں تحریف کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اللہ کے کلام سے اپنی مرضی کا مطلب اخذ کرنے کا رویہ قابل صد مذمت ہے۔

سائنس میں جب ہم کوئی بھی بیان دیتے ہیں تو عموماً اس کتاب، سائنس دان، یا سائنسی پیپر کا ریفرنس دیتے ہیں جس میں یہ بیان موجود ہے۔ جس قدر زور ہم سائنس میں درست بیانات کو دیتے ہیں اور ہر سائنسی بیان کا ریفرنس طلب کرتے ہیں (جو کہ بالکل درست رویہ ہے ) ہمیں اس سے کہیں زیادہ سخت رویہ مذہبی بیانات کے بارے میں اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جب بھی کوئی شخص کوئی بیان دے اور یہ دعویٰ کرے کہ یہ بیان قرآن مجید کا ہے یا کسی حدیث مبارکہ کا ہے تو ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اس بیان کی سند طلب کریں۔ اصولاً مذہب کے بارے میں ایسا کوئی دعویٰ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے جس کی مضبوط سند موجود نہ ہو۔

”میں نے سنا ہے“
”ہماری مسجد کے مولوی صاحب نے بتایا ہے“
یا ”میری خالہ کہتی ہیں“

کی قسم کی اسناد کسی بیان کے درست ہونے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اگر ہم مذہبی معاملات میں بھی وہی رویہ اپنائیں جو ہم سائنس میں اپناتے ہیں (یعنی بغیر سند کے کسی بیان کو قبول نہ کیا جائے ) تو قرآن مجید کے بارے میں اس قسم کے علمی بددیانتی پر مبنی دعووں کی قلعی فوراً کھل جائے گی

حقیقت یہ ہے کہ سائنس قرآن مجید سے نہیں نکلی اور نہ ہی نکل سکتی ہے۔ قرآن مجید سے سائنس نکلنے کا بیانیہ ان لوگوں نے گھڑ رکھا ہے جنہیں قرآن مجید اور سائنس دونوں کا علم نہیں ہے۔ اگر واقعی قرآن مجید میں تمام سائنس موجود ہوتی تو اسلام کے سنہری دور کے مسلمان سائنس دان (جو قرآن مجید پر نہ صرف ایمان رکھتے تھے بلکہ اسے سمجھتے بھی تھے ) قرآن مجید سے سائنس اخذ کر کے دنیا میں انقلاب برپا کر سکتے تھے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جدید سائنسی انقلاب کا آغاز یورپ سے ہوا۔ جدید سائنس کا کسی بھی مذہبی کتاب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ایک اور مقبول اور جہالت کی حد تک غلط بیانیہ یہ بھی ہے کہ مغربی سائنس دان قرآن مجید پڑھ کر سائنسی نظریات قائم کرتے ہیں۔ کسی جدید لیبارٹری میں کسی بھی مذہبی کتاب سے سائنس نہیں سیکھی جاتی۔ سائنس کے نظریات صرف اور صرف معروضی ڈیٹا کی بنیاد پر قائم کیے جاتے ہیں۔ جس مذہب میں مذاق میں بھی جھوٹ بولنا منع ہے اس مذہب کی الہامی کتاب میں ایسے جھوٹے دعوے کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ محض اپنی جذباتی تسکین کے لیے ایک انتہائی مقدس کتاب کی تضحیک کے مرتکب ہو رہے ہیں

قرآن مجید سے سائنس اخذ کرنا نہ صرف مذہبی نقطہ نظر سے خطرناک ہے کیونکہ اس کی بنیاد قرآن مجید کی معنوی تحریف پر ہوتی ہے جو ہرگز قابل قبول نہیں ہونی چاہیے، بلکہ علمی طور پر بھی یہ رویہ انتہائی خطرناک ہے۔ یہ رویہ علمی سستی (intellectual laziness) سے شروع ہوتا ہے (ہمیں یہ جعلی احساس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے پاس سائنس کا تمام علم پہلے سے موجود ہے ) اور جہالت پر ختم ہوتا ہے (ہمارے پاس سائنس کا تمام علم پہلے سے موجود ہے اس لیے ہمیں سائنس سٹڈی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ) ۔ بدقسمتی سے ہمارے یاں یہ رویہ عام ہے جس وجہ سے ہمارے ہاں سائنس سے لاعلمی بڑھتی جا رہی ہے۔ کسی بھی قوم کے لیے یہ رویہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے

سائنس اور مذہب میں توازن رکھنے کا رویہ:

بہت سے تعلیم یافتہ دوست سائنس اور مذہب دونوں کو ساتھ لے کر کامیابی سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں عموماً دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ تو سطحی سوچ رکھتے ہیں جنہیں سائنس اور مذہب کا ظاہری تضاد کسی مشکل میں نہیں ڈالتا۔ ایسے لوگ اپنے ذہن کو غالباً دو الگ الگ کمپارٹمنٹس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ ایک مذہب کے لیے اور دوسرا سائنس کے لیے۔ اب ان میں خواہ کتنا ہی ظاہری تضاد کیوں نہ ہو، ایسے لوگوں کو اس تضاد سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اگر ان کی توجہ اس ظاہری تضاد کی طرف دلائی جائے تو بھی یہ لوگ کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ سائنس کا بیان اپنی جگہ درست ہے اور مذہب کا بیان اپنی جگہ

لیکن بیدار مغز لوگ جو گہری سوچ رکھتے ہیں وہ نہ تو سائنس کو سطحی طور پر سٹڈی کرتے ہیں اور نہ ہی مذہب کو۔ ایسے لوگ الہامی کتابوں کا محض لفظی ترجمہ ہی نہیں پڑھتے بلکہ کچھ گہرائی میں جا کر مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں اور سوچ بچار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ مذہبی کتابوں کے تاریخی تناظر کو سمجھتے ہیں، مذہب کے بنیادی مقاصد کو سمجھتے ہیں، اور یہ جانتے ہیں کہ الہامی کتابوں کا مقصد ہمیں درست سائنسی انفارمیشن مہیا کرنا نہیں ہے بلکہ ہمیں الٰہیات کی تعلیم دینا ہے، درست اور غلط کی تمیز سکھانا ہے، اپنا کردار بہتر کرنے کے لیے ٹولز فراہم کرنا ہے، اور ایک کامیاب معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے الہامی کتابوں میں بعض اوقات فطری مظاہر کو یا تاریخی کہانیوں کو دلائل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان دلائل کا مقصد ان مظاہر یا تاریخ کے بارے میں انفارمیشن فراہم کرنا نہیں ہوتا بلکہ انہیں استعارے کے طور یا تمثیلی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے بیدار مغز افراد جدید ترین اور بہترین علم کی روشنی میں ان بیانات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کوشش عمر بھر جاری رہتی ہے اور اکثر صورتوں میں انہیں کبھی یہ یقین نہیں ہوتا کہ ان کی انٹر پریٹیشن درست ہے۔ یہ تشکیک جہاں ان افراد کے لیے اینگزائٹی کا باعث بھی بن سکتی ہے، وہیں یہ غیر یقینی مزید سٹڈی کی تحریک بھی پیدا کرتی ہے۔ اس لیے سائنس، مذہب، اور دوسرے علوم کی سٹڈی کا کام تمام عمر جاری رہتا ہے۔ اس پراسیس میں مختلف موضوعات پر ان حضرات کی رائے تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔ جب کبھی انہیں نئی انفارمیشن میسر آتی ہے تو اس انفارمیشن کی روشنی میں یہ افراد اپنی آراء میں بھی مناسب حد تک ترمیم کر لیتے ہیں۔

اس پراسیس کی ایک مثال کیتھولک چرچ کا ارتقاء اور بگ بینگ نظریات سے متعلق رویہ ہے۔ بائبل میں کائنات کی تشکیل اور انسان کی تخلیق سے متعلق روایات کم و بیش وہی ہیں جو قرآن مجید میں ہیں۔ جب یورپ ڈارک ایجز میں تھا، کیتھولک چرچ کو ہر قسم کے بیانیہ پر مکمل کنٹرول تھا اس وقت تک بائبل کی لفظی معنوں پر مبنی روایتی تشریح ہی کی جاتی تھی۔ چرچ کا سرکاری موقف یہ تھا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے، زمین ساکن ہے، کائنات چند ہزار سال پرانی ہے، خدا نے حضرت آدم کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ان میں اپنی روح پھونکی، حضرت حوا کو حضرت آدم کی پسلی سے بنایا گیا جس سے تمام انسانی نسل پھیلی۔

نشاۃ ثانیہ کے آغاز میں کیتھولک چرچ نے ان سائنس دانوں کے خلاف انتہائی سخت رویہ اختیار کیا جو حقائق کو ان روایات کے برعکس بتلاتے تھے۔ اس رویے کا نتیجہ کیا ہو؟ جیسے جیسے سائنسی علم میں اضافہ ہوا، لوگ چرچ کے سخت رویوں کے وجہ سے چرچ سے بغاوت کرنے لگے، چرچ جانا چھوڑنے لگے۔ آخر کار بیسویں صدی میں جا کر چرچ کو احساس ہوا کہ سائنسی حقائق اس قدر واضح ہیں اور ان کے شواہد اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کو جھٹلانا اب ممکن ہی نہیں رہا۔ چنانچہ بیسویں صدی کے خاتمے تک کیتھولک چرچ نے ان سائنسی حقائق کو درست تسلیم کر لیا۔ اب کیتھولک چرچ کی سرکاری پوزیشن یہ ہے کہ بگ بینگ اور ارتقاء کے نظریات درست ہیں۔ بائبل کی روایات کو حقائق کے بجائے تمثیلی تسلیم کیا جاتا ہے اور اب چرچ کی نظر میں بائبل اور جدید سائنس میں کوئی تضاد نہیں ہے

ہمارے ہاں مذہب اور سائنس میں اس توازن کا شدید فقدان ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ سائنسی شعور بہت دیر سے آیا ہے (بیسویں صدی کے آخری چند سالوں اور اکیسویں صدی میں سائنس کی تعلیم زیادہ عام ہوئی ہے اور لوگوں کو سائنسی حقائق کی خبر ملنا شروع ہوئی ہے ) اس لیے ہمارے ہاں ابھی تک ان معاملات میں جہاں بظاہر سائنس اور مذہب میں تضاد ہے، سائنس کو یکسر غلط قرار دینے کا رویہ بہت عام ہے۔ تاہم اگر ہم کیتھولک چرچ کی تاریخ دیکھیں تو یہ تصور کرنا مشکل نہیں ہے کہ اگلی چند دہائیوں میں جب لوگوں میں سائنسی فہم میں مزید اضافہ ہو گا، مذہبی علماء کو بھی جدید سائنس پڑھنا پڑے گی اور قرآن مجید اور احادیث کی تفسیر جدید سائنس کی روشنی میں کرنا ہو گی

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے نئی نسل کے مذہبی رہنما مذہب کے ساتھ ساتھ آرٹس اور جدید سائنس کی اعلی تعلیم بھی حاصل کریں تاکہ کشادہ ذہنی کے ساتھ جدید ترین علوم کی روشنی میں مذہبی کتابوں کی نئی تفاسیر لکھ سکیں جو نئی نسل کے ذہنوں کے لیے قابل قبول ہوں۔ یہ تفاسیر اس لہجے میں لکھی جائیں جس لہجے سے نئی نسل مانوس ہے تاکہ انہیں یہ تحاریر اجنبی محسوس نہ ہوں۔ جب تک ہم آج کے نوجوان سے انہی کی زبان میں مذہب کی وضاحت نہیں کریں گے تب تک نوجوان نسل قرآن مجید کی گہری سمجھ نہیں پیدا کر پائیں گے۔ جب تک ہم مذہب کے بارے میں نوجوان لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب دیانت داری اور کشادہ ذہنی سے دینا نہیں سیکھیں گے اس وقت تک ہم الحاد کی اس لہر کا رخ نہیں موڑ پائیں گے جس کی شکایت اب اکثر علماء کرتے نظر آتے ہیں

ضمناً یہ بھی واضح کر دوں کے میری اس گفتگو میں مذہب کا ذکر بار بار آیا ہے۔ کچھ کرم فرما شاید یہ اعتراض کریں کہ جب کوئی دوسرا شخص سائنس اور مذہب کا ذکر ایک ساتھ کرے تو میں انہیں سختی سے منع کر دیتا ہوں کہ سائنس میں مذہب یا مذہب میں سائنس کی ملاوٹ نہ کی جائے، لیکن میں خود اس آرٹیکل میں مذہب اور سائنس دونوں پر بات کر رہا ہوں۔ ان کرم فرماؤں کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ بات درست ہے کہ علمی دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ سائنس سٹڈی کرنے وقت ہم اپنے مذہبی، سیاسی، قومی تصورات سے بالاتر ہو کر حقائق کو سٹڈی کریں۔ میرا لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیال زیادہ تر، سائنس کی دنیا، کے فیس بک فورم پر ہوتا ہے۔ ، سائنس کی دنیا، گروپ کی پالیسی ہے کہ اس گروپ میں صرف سائنس پر بحث ہوتی ہے۔ تاہم موجودہ گفتگو محض سائنسی نظریات کی وضاحت کے لیے نہیں ہو رہی، اور نہ ہی سائنس کی دنیا فورم پر ہو رہی ہے۔ اس لیے اس گروپ کے قواعد کی پابندی یہاں لازمی نہیں ہے

آپ کی توجہ کا بے حد شکریہ۔ آپ کے جواب کا انتظار رہے گا
دعا گو
قدیر قریشی
11 اگست، 2024
۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail