پہلوی ترقی: شکست تخت پہلوی (9)


 نیاوران محل روایتی پرشین تعمیر کے امتزاج کا نمونہ تھا جس میں یورپین اور امریکی آرکیٹیکچر کی جھلکی بھی تھی۔ پہلی نظر میں یہ کوئی ملٹری کی تنصیب نظر آتا لیکن اس کے گرد فرش سے چھت تک کی آرائش آنے والوں کو خوش آمدید کا پیغام دیتی تھی۔ ریسپشن کا ایریا ملکہ فرح کے ہنر کا نمونہ تھا۔ یہاں کا ماحول گرم، گھلا ملا تھا اور سلیقہ ظاہر کرتا تھا۔ قیمتی قالین، فن کے نمونے، پینٹنگز، پردے اور ایرانی سجاوٹ اچھا تاثر دیتے تھے۔ اس سے آگے محل کے مکینوں کا رہائشی ایریا تھا۔

نیاوران کا پرائیویٹ ایریا بہت بڑا نہیں تھا۔ کمرے بالکونی سے نزدیک تھے۔ بچوں کی آوازیں نیچے بیٹھے مہمان سن سکتے تھے۔ سرکاری دعوت میں شاہ کے دو چھوٹے شریر بچے شہزادہ علی رضا اور شہزادی لیلی پجاموں میں ملبوس اپنے کمروں سے نکل آتے اور مونگ پھلیاں اور روٹی کے ٹکڑے نیچے ہال میں مہمانوں کے سروں پر پھینکتے۔ ان کے والدین اس سے محظوظ ہوتے۔ نیاوران کو اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اسے مستقل رہائش گاہ بنانا مقصود نہیں تھا۔ شاہ نے بجائے اس میں تبدیلیاں کرنے کے ایک نیا محل کھڑا کرنے کو ترجیح دی۔ اس میں ایک ذاتی سنیما گھر تھا اور فرح کا کتب خانہ۔ فرح آرکیٹیکچر تھیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔

کسی بھی دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر سیکیورٹی کے انتظامات کرنل کیومرث جہان بیانی کے ہاتھ میں تھے۔ محل کے اندر بھی حفاظتی اقدام تھے۔ ہر کھانے کو پہلے ٹسٹ کیا جاتا کہ اس میں کوئی زہر تو نہیں۔ فرح باہر گراؤنڈ میں چہل قدمی بھی کرتیں تو ان کے پیچھے مسلح گارڈ ہوتے۔ خواب گاہ کے باہر بھی پوری رات پہرا ہوتا۔ نیاوران کے علاوہ شاہ کے چار محل اور بھی تھے۔ نیاوران میں شاہی خاندان خزاں کے وسط سے لے کر مئی کے وسط تک رہتے۔ اس کے بعد موسم گرما کی چھٹیاں ہوتیں۔ دسمبر کے آخر میں خاندان دو تین ہفتوں کے لیے سوئٹزرلینڈ اسکینگ کے لیے جاتے۔ اس دوران بھی ان کی حفاظت کا پورا انتظام ہوتا۔ جنوری کے وسط میں خاندان واپس تہران آ جاتا اور مارچ میں پرشین نئے سال نوروز کی تقریبات جزیرہ ’کیش‘ میں منائی جاتیں جہاں وہ اپریل کے آخری ہفتے تک رہتے۔

شاہ اگلے چھے ہفتے تہران میں ریاست کے کاموں میں گزارتے پھر وہ ملکہ کے ساتھ اپنے دس دن کے سالانہ دورے پر مقدس شہر مشہد روانہ ہوتے۔ مشہد ایک حساس جگہ تھی یہاں امام رضا کا مزار تھا۔ شاہ امام رضا سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔ شاہ اور ان کے سارے بھائیوں کے نام میں ’رضا‘ آتا تھا۔ شاہ اس زیارت سے یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وہ شیعہ مذہب کے پیرو اور رکھوالے ہیں۔ گو فرح ملائیت سے زیادہ متاثر نہیں تھیں پھر بھی انہیں مشہد کا دورہ پر لطف لگتا۔ ”مشہد بہت خوبصورت اور پرسکون ہے۔ سڑکوں پر درختوں کی قطاریں ہیں اور عظیم مسجد کا سنہرا گنبد جہاں صبح ہوتے ہی زائرین کا ہجوم جمع ہوجاتا ماحول کا تاثر بہت گہرا تھا۔“ شاہ مشہد کو قم پر ترجیح دیتے تھے۔ قم تہران سے 75 میل دور ایک افسردہ اور خاک میں ڈوبا شہر تھا جہاں جلسے ہوتے اور ریاست کے خلاف بیان بازی ہوتی۔ شاہ قم کے مقابلے میں مشہد کو مستحکم کرنا چاہتے تھے۔ ان کے تصور میں ایک پروجیکٹ یہ تھا کہ ایک اسلامک یونیورسٹی بنائی جائے جہاں ترقی پسند استاد ہوں جیسا کہ ان کی بیوی کے مشیر سید حسین نصر ہیں۔ طالب علموں کو مذہبی تعلیم کے ساتھ ماڈرن سائنس اور مختلف زبانیں بھی سکھائی جائیں۔

شاہی خاندان موسم گرما سعد آباد کے محل کے گزارتے تھے جو تہران کے مقابلے میں خنک تھا۔ یہ البورز کے پہاڑوں کی وادی میں تھا یہاں سے برف سے ڈھکا آتش فشاں کوہ دماوند نظر آتا تھا۔ ملکہ کے خیال میں یہ جگہ اداس تھی۔ اس بار شاہی خاندان نے موسم گرما شمال میں واقع ’نوشہر‘ میں گزارا۔ یہ شہر بحیرہ کیسپین کے کنارے تھا۔ بقول ملکہ ”ہم نے بہت پرلطف وقت گزارا“ شاہ کو اس مکان کی سادگی بہت پسند آئی۔ گرمی کی دوپہروں میں اپنے مہمانوں کے ساتھ برآمدے میں بیٹھ کر وقت گزارتے۔ فرح سرکاری آداب ایک طرف رکھ کر پوری طرح لطف اندوز ہوتیں۔ خوش گپیوں میں دو بجے وقفہ آتا جب ریڈیو پر خبریں نشر ہوتیں۔ شاہ اس طرف متوجہ ہو جاتے۔ فرح کا کہنا ہے ”کبھی کبھار کیسپین سی کی دوسری طرف سویت جہاز تیرتے نظر آتے۔ ایرانی انہیں دیکھ کر ہاتھ ہلاتے۔ پانی گدلا تھا لیکن ہم پھر بھی اس میں تیرتے اور واٹر اسکینگ بھی کرتے“ ۔ شاہ اور دیگر مہمان ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر کیسپین سی کے اوپر جاتے ہیلی کاپٹر ذرا نیچے آتا اور لوگ ایک ایک کر پانی میں کودتے۔ جب شاہ کی باری آتی تو ہیلی کاپٹر اور نیچے آجاتا۔ شاہ اصرار کرتے رہے کہ وہ اونچائی سے کودیں گے لیکن انہیں بتا دیا گیا کہ یہ غیر محفوظ ہو گا۔ شاہ جھنجھلا گئے۔ نوشہر سے پہلوی خاندان سعد آباد محل گئے اس کے بعد اکتوبر کے آخر میں دوبارہ نیاوران۔

نیاوران شاہ کا دفتر بھی تھا اور رہائش بھی۔ وہاں بچوں کے ہنسنے اور کھکھلانے کی آوازیں آتیں۔ شاہ اور ملکہ کی خواہش تھی کہ ان کی چار اولادیں ہوں۔ اب ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ خاندان مکمل ہو گیا۔ دو اولاد نرینہ ہونے سے تاج و تخت کی وراثت کا بھی کوئی مسئلہ بھی نہ ہوتا۔ ولی عہد رضا پہلوی پیدائش سے بھی پہلے خبروں میں رہے۔ افواہوں اور غلط خبروں کا ایک سلسلہ ساتھ چلتا رہا۔ خود شہزادے کا یہ کہنا ہے ”افواہیں یہ تھیں کہ میری ماں کبھی حاملہ ہی نہیں ہوئیں۔ میری آواز ہی نہیں تھی۔ میرے والد اصل میں میرے باپ نہیں ہیں“ ایک اور افواہ بہت پھیلی کہ شہزادے کے ہاتھ ناقص ہیں اور کسی بطخ کے پیروں کی طرح ہیں۔ آواز نہ ہونے کی افواہ دم توڑ گئی جب تیرہ سالہ شہزادے نے شیراز میں ایک یوتھ سوسر ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا اور تقریر بھی کی۔ جنرل پاک رواں کی بیوی فاطمہ کا کہنا ہے ”ایران کی گلیوں میں گوسپ چلتی تھی۔ لوگ ہر بات پر کچھ نہ کچھ گھڑ لیتے تھے“ ۔

ولی عہد سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔ ان کا کہنا ہے ”مجھ پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔ میں کبھی آدھی رات تک نہیں جاگا۔ میرا بچپن 80 فیصد اسکول تھا اور باقی 20 فیصد میرا ولی عہد کا کردار تھا کچھ نارمل زندگی بھی گزاری ایک رات میرے والد میری والدہ کا انتظار کر رہے تھے انہیں کہیں ڈنر پر جانا تھا۔ میں کچھ تیزی میں تھا اور دوڑتا ہوا باتھ روم میں گھسا لیکن میرا پیر پھسل گیا اور میں منہ کے بل گرا اور خون بہنے لگا“ شہزادے کے والدین نے ڈنر کینسل کیا اور انہیں لے کر نزدیک ہسپتال پہنچے۔ ہسپتال کے ایمرجنسی اسٹاف اور وہاں موجود مریضوں کے لیے یہ ایک یادگار شب بن گئی۔

نعمری میں ہی شہزادہ پراعتماد تھا اور شاہ نے بھی اس کی حوصلہ افزائی کی اور تیرہ سالہ بیٹے کی بغیر انسٹرکٹر تنہا ہوائی جہاز چلانے کہ خواہش مان لی۔ ملکہ اور شاہ دونوں نے یہ پرواز دیکھی۔ شہزادے نے ہموار لینڈنگ کر لی۔ فرح ہونٹ کاٹتے نروس لیکن فخریہ یہ منظر دیکھ رہی تھیں۔ شاہ نے بھی اطمینان کا سانس لیا۔ شہزادہ رضا اپنے باڈی گارڈز کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتا تھا اور کبھی کبھار اس کا فائدہ بھی اٹھاتا۔ ایک روز وہ اپنے گاڑی منی کوپر کو تیز چلاتے ہوئے لے گیا اور پیچھے آنے والی گاڑیوں کے ڈارئیور یہ نہیں جانتے تھے کہ اگلی گاڑی کا ڈرائیور ولی عہد شہزادہ ہے وہ غصے سے انہیں مکا دکھا رہے تھے۔ اپنی بہن فرح ناز کے ساتھ مل کر ایک بار درجنوں سیکیورٹی کیمروں کو کاغذوں اور ٹیپ سے ڈھک دیا۔ اس حرکت پر انہیں اپنے والد سے ڈانٹ بھی پڑی۔ سولہ سال کی عمر میں شہزادہ ایک خوش شکل نوجوان بن گیا۔ اسکول کی لڑکیوں میں مقبول ہونے لگا۔ وہ پہلوی ایونیو میں ایک میوزک کی دکان سے خریداری کرنے جاتا تو پہچان لیا جاتا۔ تہران کے امریکن اسکول میں اکثر لڑکیاں اور کچھ لڑکے بھی شہزادے کی تصویریں اور پوسٹرز جن میں وہ اپنے فٹ بال جرسی یا ہوا بازی کے لباس میں ہوتے اپنے لاکرز میں سجاتے۔

شہزادی فرح ناز اپنے بھائی کی رازدار اور نیاوران اور سعد آباد میں شرارتوں کی ساتھی تھی۔ فرح کے مطابق ”وہ ایک ٹام بوائے تھی، اپنی تین پہیوں والی موٹر بائیک محل کی سیڑھیوں پر چلاتی“ ۔ ذاتی طور پر وہ شرمیلی اور حساس تھی اور مزاج میں اپنے والد کی طرح تھی۔ کم عمری سے ہی اپنے ملازموں کی بھلائی میں دلچسپی لیتی اور ان سے شفقت سے پیش آتی۔ پالتو جانوروں سے بھی محبت تھی۔ صدر ڈیگال کی جانب سے ولی عہد کو ایک شیر کا بچہ تحفے میں ملا تھا۔ کچھ عرصہ بچے اس سے محظوظ ہوتے رہے پھر جب وہ بڑا ہو گیا تو اسے تہران کے چڑیا گھر بھیج دیا گیا۔ فرح ناز کی ایک پالتو لومڑی تھی جو کھانے پر بھی اس کے ساتھ ہوتی۔ بچوں کی نانی مادام دیبا اپنی نواسی کے کمرے میں نہیں جاتی تھیں کہ پتہ نہیں وہاں سے کون سا جانور نکل آئے۔ فرح کا کہنا ہے ”وہ اگر کبھی سڑک پر کسی غریب اور ناخوش انسان کو دیکھتی تو اس پر بہت اثر ہوتا۔“ نیاوران جہاں وہ بڑی ہوئی وہاں کے ہمسائے اکثر دیکھتے کہ ایک چھوٹی سی لڑکی محل کے گیٹ پر کھڑی شاید منتظر ہوتی کہ کوئی ہم عمر بچہ اسے کھیل میں شریک کر لے یا صرف بات کرنے ہی آ جائے۔ فرح ناز کو اپنے والد کے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگتا تھا شاہ اسے اپنے کسی دورے کی روداد سناتے یا وہ آج کس کس سے ملے۔ وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھول کر غور سے سنتی۔

شاہی جوڑے کی تیسری اولاد شہزادہ علی رضا کی شخصیت اور برتاؤ ان کے دادا رضا شاہ کی یاد دلاتا تھا۔ وہ جتنا حسین تھا اتنا ہی مضبوط بھی تھا۔ وہ پانچ سال کا تھا جب ایک رات اپنے کمرے سے پاجامے میں ملبوس نکلا اور اوپر سے نیچے ہال میں روٹی کے ٹکڑے اپنے والدین کے سروں پر پھینکے جو اس وقت مہمانوں کی پذیرائی کر رہے تھے۔ ”وہ بہت شریر تھا“ فرح نے بتایا ”نیاوران کے دروازے پر ایک گارڈ ہوتا تھا جو ایک میز پر بیٹھا رہتا تھا اس کے پاس ہمیشہ ایک بھرا ہوا پستول رہتا تھا۔ ایک دن علی رضا چپکے سے اس کی میز کے نیچے گھس گیا اور گارڈ کا پستول چرا لیا“ ۔ شہزادے نے نرسری اسکول شروع کیا اسے وہاں بہت مزا آیا۔ یہاں اسے دوسرے بچوں سے کھیلنے کے مواقع ملے جب ڈرائیور لینے آتا تو اسے واپس چلے جانے کو کہتا۔ ایک صبح جب وہ باہر جا کر کھیلنے کو بے تاب تھا اپنی ماں سے جلدی تیار ہونے کو کہا ”لوگ کیا کہیں گے یہ کیسی ملکہ ہے جو ابھی تک شب خوابی کے گاؤن میں پھر رہی ہے“ شہزادے نے رواں فرنچ میں کہا۔ ملکہ کا کہنا ہے کہ علی رضا آہستہ بات کرتا تھا لیکن جب بولتا تو اس کے جملے مکمل ہوتے اور اکثر حرف آخر اس کا ہی ہوتا۔ جب سب بچے گیلری میں دوڑ لگاتے اور اپنے والد کو رات کے کھانے سے پہلے ورزش کرتا دیکھتے علی رضا چھلانگ مار کر باپ کی پیٹھ پر سوار ہوجاتا اور انہیں گھوڑا بنا لیتا۔ اور کبھی تکیوں کی جنگ شروع کر دیتا۔ ایک رات کھانے کی میز پر اس نے اپنی فیملی کو بتایا کہ وہ ’فری لو‘ کو پسند کرتے ہیں۔

لیلی فیملی کی بے بی تھی اور علی رضا کی قریب ترین دوست۔ رات سونے سے پہلے شاہ آتے اس سلاتے وقت کہتے ”بارش کی دعا کرو لیلی جون“ ۔ شاہ کے دماغ میں ہر وقت بارش رہتی۔ اور لیلی نے بھی کہنا شروع کر دیا ”مجھے اچھا لگتا ہے جب آسمان سلیٹی رنگ ہوجاتا ہے“ فرح سوچتیں کہ باپ نے بیٹی کو بارش سے محبت کرنا سکھا دیا۔ لیکن شاہ بچوں کو ڈسپلن رکھنے میں کچھ زیادہ کامیاب نہیں تھے۔ ”بچے خوب جانتے تھے کہ وہ باپ پر غلبہ رکھتے ہیں۔ وہ بچوں کو خوش کرنے کے لیے میٹھے بول بولتے، ان سے قریب رہنا چاہتے لیکن ان کی مصروفیات آڑے آ جاتیں“ ۔

دونوں والدین بہت مصروف رہتے اور اکثر گھر سے دور بھی۔ ان کی غیر حاضری بہت محسوس کی جاتی۔ رضا کا کہنا ہے ”میں نے اپنے والدین کو بہت کم دیکھا“ ۔ فرح مانتی ہیں کہ وہ گھر اور اپنی ڈیوٹی کے بیچ توازن نہ رکھ سکیں۔ ”ہم کبھی ایک نارمل فیملی کی طرح نہ رہ سکے اور بچوں کو وہ وقت نہ دے سکے جس کی انہیں تمنا تھی۔ انہیں اندازہ تھا کہ ہماری مصروفیات ہیں ذمہ داریاں ہیں۔ اگر مجھے دوبارہ موقع ملے تو میں اپنے بچوں اور شوہر کو پورا وقت دوں“

ستر کی دہائی میں یہ افواہ پھیلی کہ ملکہ فرح دودھ سے نہاتی ہیں۔ انہیں اس بارے میں اس وقت پتہ چلا جب ان کی ایک خادمہ نے بتایا ”اسکول میں میرے پیچھے بیٹھی دو لڑکیاں باتیں کر رہی تھیں کہ آپ دن میں دو بار دودھ سے نہاتی ہیں“ ۔ یہ بات اتنی لغو تھی کہ فرح نے اسے ایک دم رد کر دیا۔ لیکن فرح نے نوٹ کیا کہ صحافی ان سے بات کرتے ہیں تو ان کے غسل کی عادات کا بھی پوچھتے ہیں۔ ”کیا یہ سچ ہے کہ آپ دودھ سے غسل کرتی ہیں قلوپطرا کی طرح؟“ ۔ فرح جھنجھلا کر ان افواہوں کی تردید کرتیں۔ ”میری کام کرتے ہوئے کوئی تصویر کھینچی؟ جو چھپتی ہیں ان میں مجھے تاج اور جواہرات پہنے دیکھا گیا ہے۔ سو میں سے ننانوے لوگ مجھے اس طرح دیکھیں گے کبھی کسی نے سوچا کہ یہ کون ہے؟ اس کی اصلیت کیا ہے؟ وہ یہ جاننا ہی نہیں چاہتے کہ ہم بھی انسان ہیں اور دوسروں کی طرح ہمارے بھی مسائل اور جذبات ہیں۔“

افواہوں کو دبانا اتنا آسان نہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ یہ باور کرتے ہیں کہ شاہ نوجوانوں کو شیروں کے آگے ڈال دیتا تھا، اور اس کی بیوی دودھ میں نہاتی ہے اور شاہ کی حکومت اصل میں اس کی بہن پرشیا کی لیڈی میکبیتھ بن کر چلا رہی ہے وہاں یہ کیسے ممکن تھا کہ شاہ کی شادی کے بارے میں افواہیں نہ اڑیں۔ شاہ اور شاہ بانو کی عمروں میں بیس سال کا فرق تھا اور دو نسلوں کا فاصلہ۔ شاہ پرانے خیالات کے تھے۔ شاہ بانو نئی اور ماڈرن سوچ رکھتی تھیں۔ شاہ کی پرورش ایک سخت ماحول میں ہوئی تھی اور فرح کی کم عمری میں اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اپنے خاندان کی طرف سے بھی انہیں یہی کہا گیا پہلوی فیملی کے سامنے خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے۔ فرح نے ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ایک شام فرح نے دیکھا کہ شاہ کا لاڈلا گریٹ ڈین نسل کا کتا ’برونو‘ کھانے کی میز پر منہ مار رہا ہے۔

”سب ہی بگڑے ہوئے ہیں۔ میں یہ سب نہیں کر سکتی۔ یہ کتا بھی یہ اس لیے کر رہا ہے کیونکہ یہ آپ کا ہے۔ میں یہ سب ختم کرنا چاہتی ہوں“ ۔

ایک بار فرح نے شاہ کی تقریر پر تنقید کی کہ اس میں وہی پرانی باتیں ہیں وہی اپنی تعریفیں ہیں۔ کچھ نیا کریں۔ کچھ پلان بتائیں۔ شاہ نے کافی برا مانا کہ اب فرح بھی انقلابی بننا چاہ رہی ہیں۔ پھر یہ جواہرات کیوں سجائے جاتے ہیں؟ شاہ نے ٓڈانٹا لیکن فرح نے کوئی معذرت نہیں کی۔ ملکہ نے بہت محنت سے اپنا مقام بنایا تھا۔ انہیں اپنی بات کہنے کا حق تھا۔ ایک بار دربار کے وزیر اسد اللہ علم سے کہا ”اعلی حضرت اور میرے خیالات آپس میں نہیں ملتے۔ ہمارا ہر بات پر اختلاف ہوتا ہے۔“ اسد اللہ علم ششدر رہ گئے۔

فرح نے اپنے شوہر کو حقیقت کی دنیا میں رہنے کی بھرپور کوشش کی۔ کبھی مقابلے سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ ٹینس میں شاہ کو ہرایا، اسکینگ میں شاہ کے برابر رہیں اور ایک بار شاہ کے پسندیدہ کھیل جو وہ رات کے کھانے کے بعد کھیلا کرتے تھے ’لفظوں کا کھیل‘ میں شکست دی۔

دونوں میں جو مشترک تھا وہ ان کا باہر گھومنا، اسپورٹس، فرانسیسی ادب اور ثقافت، ڈین مارٹن کی موویز اور وائلڈ لائف کی حفاظت۔ ملکہ کے کہنے پر شاہ نے شکار کرنا بھی ترک کر دیا تھا۔ کام ان کی ذاتی زندگی کے آڑے آتا رہا۔ ملکہ نے اپنی سی پوری کوشش کی کہ شاہ قدامت پرستی سے نکل کر لبرل ازم کو اپنائیں۔ ”یہ بہت مشکل تھا۔ میں ان سے بات کرنے کی کوشش کرتی ایسے نہیں جیسے ایک ملکہ شاہ سے بات کرتی ہے بلکہ جیسے ایک بیوی اپنے شوہر سے بات کرتی ہے۔ میں کسی چیز کے بارے میں پرجوش ہوتی ہوں لیکن مجھے خیال رکھنا پڑتا ہے کہ میری آواز اونچی نہ ہو جائے۔ انہیں غصہ نہ آ جائے“ ۔ شاہ کے پاس بات کرنے کا وقت نہیں ہوتا تھا۔ فرح انہیں نوٹس لکھ کر بتاتیں کہ وہ کیا چاہ رہی ہیں۔ ”میں ان کا وقت نہیں لینا چاہتی تھی، میں انہیں اپنے مسائل بتا کر پریشان بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ جو وقت ہمیں ساتھ ملتا وہ یا تو لنچ کا وقت ہوتا یا رات سونے سے پہلے بستر میں۔ اور دونوں مواقع ہی مسائل پر بات کرنے کے لیے غیر مناسب تھے۔ کبھی کار میں سفر کرتے مجھے پانچ دس منٹ ان کے ساتھ مل جاتے۔ لیکن میں عام طور پر انہیں لکھ کر ہی بتاتی۔ اگر بات کرتی تو وہ بعد میں بھول جاتے۔ کبھی میں کوئی نوٹ لکھ کر اسے ان کے دفتر بھی بھجوا دیتی۔“

اب وہ اپنی شادی شدہ زندگی کی دوسری دہائی میں تھے۔ ان کے تعلقات میں کچھ حیران کن باتیں بھی تھیں۔ شاہ کی سرنوشت لکھنے والے غلام رضا افخمی کا کہنا تھا ”فرح اور شاہ کو ایک دوسرے سے محبت تھی لیکن یہ محبت عشق سے زیادہ دوستی کی تھی“ ۔ بحیثیت ایک ایشیائی مرد شاہ کو زیادہ آزادی میسر تھی۔ ملکہ روایات کی پابند تھیں اور اس بات کا خیال رکھتی تھیں کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جو خاندان اور ملک کے احترام کے منافی ہو۔ ان کے تعلقات میں سب سے بڑا داغ شاہ کا دوسری عورتوں کے ساتھ تواتر سے تعلق بنانا تھا۔ امریکی صدر جان کینیڈی کی طرح جسے وہ سخت ناپسند کرتے تھے فرانس کی شہرہ آفاق مادام کلآؤڈ آف پیرس جو دنیا کا سب سے خاص ’جینٹل مین کلب‘ چلاتی تھیں وہ بھی اس کلب کے کلائنٹ رہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مادام کے کلب کے کلائنٹس میں جنرل ڈیگال، اٹلی کے جیانی اگنیلی، یونان کے اریسٹوٹل اوناسیس اور اداکار مارلن برانڈو شامل تھے۔ مادام کے کلب سے چند خاص نوجوان خواتین ایر فرانس طیارے سے پابندی کے ساتھ جمعے کے دن تہران جاتیں۔ شاہ سے ان کے تعلقات رومانٹک نہیں تھے۔ افخمی لکھتے ہیں ”اکثر کچھ بات چیت، ایک رقص یا ایک ڈرنک کافی ہوتا۔ لیکن یہ میل ملاپ شاہ کے لیے آرام بخش ہوتا۔ وہ اسے ’گردش‘ کہتے تھے۔“ اس کی انہیں ضرورت بھی تھی۔ شاہ نے درباری وزیر علم کو بتایا ”اگر ہفتے میں ایک دو بار یہ تفریح نہ ہو تو میں دفتر کے کاموں کا اتنا بوجھ اٹھا ہی نہیں سکتا“

ہر چند کہ شاہ کے یہ ایڈونچرز فرح کو دکھ دے رہے تھے لیکن فرح کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اس سے آنکھیں چرا لیں۔ افخمی اس بارے میں لکھتے ہیں۔ ”وہ کبھی اس پر شاکی نظر آتیں کبھی روتیں اور ایک آدھ بار خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکی بھی دی۔“ سب سے بڑا کرائسس 1973 کے موسم گرما میں ہوا اور اس کے قصوروار خود شاہ تھے۔ ان کی ایک نوعمر سنہری بالوں والی محبوبہ گیرڈا نے شاہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہ اسے اپنی دوسری بیوی بنانا چاہتے ہیں ”۔ یہ باتیں فرح کی والدہ کے کانوں تک بھی پہنچیں اور مادام دیبا نے وزیر دربار علم سے شکایت کی اور مطالبہ کیا“ یہ شرمناک حرکات ختم کی جائیں۔ ورنہ ”۔ فرح کی ماں کی جانب سے یہ دھمکی کھوکھلی نہیں تھی۔“ فرح نے بہت برداشت کیا اور اب حد ہو چکی ہے اگر یہ باعث شرم کام جاری رہا تو وہ اپنے شوہر کو چھوڑ دے گی ”۔ شاہ بپھر گئے اور کہا کہ وہ بھی طلاق کا خیرمقدم کریں گے ْ۔ ایک بار پھر دربار کے وزیر علم نے معاملے کو سلجھا دیا۔ گیرڈا کو اب شاہ کے بہنوئی جنرل خاتمی کے حوالے کر دیا گیا۔

گو کہ مسئلہ ٹھنڈا پڑ گیا اور بلا ٹل گئی لیکن ان کی شادی میں ایک دراڑ ضرور پڑ گئی۔ فرح نے خود کو سماجی کاموں میں مصروف کر لیا۔ عورتوں کے حقوق کے لیے بطور خاص کام کیا جس میں طلاق کے بعد حق مہر کا مسئلہ بھی شامل تھا۔ ملکہ کا خیال تھا کہ عورتوں کو طلاق کی صورت میں کچھ سیکیورٹی ملنی چاہیے۔ ممکن ہے کہ شاہ کو اپنی بیوی کے یہ اقدامات اور اثر رسوخ ناپسند ہوں لیکن انہوں نے کبھی کوئی قدغن نہیں لگائی۔ بلکہ فرح کو چین کے دورے پر بھیجا تاکہ چین سے نارمل ڈپلومیٹک تعلقات بڑھائے جا سکیں۔ یہ دورہ بہت کامیاب رہا۔ فرح جلد ہی ایک پسندیدہ ڈپلومیٹ بن کر سامنے آئیں۔ اپنے ملک میں فرح نے روایتی ملکہ بنے رہنے کے بجائے رفاہی کام شروع کیے۔ آرٹ اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے پراجیکٹس تشکیل دیے۔

جنوری 1974 میں شاہ اور ان کا خاندان معمول کی چھٹیوں پر سویٹزرلینڈ اسکینگ کے لیے گئے۔ وہاں سے شاہ بذریعہ ہیلی کاپٹر ہمسائے ملک آسٹریا اپنے سالانہ میڈیکل چیک اپ کے لیے چلے گئے۔ کئی ہفتے پہلے انہیں اپنے پیٹ کے نچلے حصہ پر سوجن محسوس ہوئی تھی اور خود ہی تشخیص کردی کہ ان کہ تلی بڑھ گئی۔ ہمیشہ کی طرح یہ بات بھی انہوں نے اپنے تک رکھی۔ ڈاکٹر کارل فلینگر معروف ڈاکٹر تھے جنہیں ’شاہوں کا ڈاکٹر‘ کہا جاتا تھا۔ ان کے مریضوں میں صرف ایران کے شاہ ہی نہیں تھے اردن، سعودی عرب اور مراکو کے بادشاہ بھی شامل تھے۔

ویانا میں ڈاکٹر فلینگر نے شاہ کا معائنہ کیا خون کا ٹیسٹ لیا اور ایک دل دہلا دینے والی خبر دی۔ شاہ کے ذاتی معالج جنرل آیادی ساتھ تھے انہیں بتایا کہ شاہ لمف کینسر میں مبتلا ہیں جو لاعلاج ہے۔ مریض کے لیے یہ خبر چونکا دینے والی نہیں تھی، شاہ کی خاندانی ہسٹری میں اس بیماری کے کئی شکار تھے۔ شاہ کے والد کی وفات پیٹ کے سرطان سے ہوئی۔ مادر ملکہ تاج الملوک بھی لمف کینسر میں مبتلا تھیں اور ان کا علاج ہو رہا تھا۔ اور اب ان کا بیٹا بھی اسی موذی مرض کا شکار تھا۔ ”مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ قابل علاج ہے“ شاہ نے کہا۔ ڈاکٹر فلینگر نے انہیں متنبہ کیا کہ مرض تیزی سے بڑھ جائے گا اگر انہوں نے مصروفیات کا دباؤ کم نہ کیا۔ ایک ایسا ملک جہاں شورشیں، بغاوت، حملے، استعمار اور سیاسی بے چینی ہو اس ملک کے حکمران کی زندگی دباؤ کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ ڈاکٹر کی تنبیہ شاید دباؤ میں اضافہ کا باعث تھی۔ (جاری ہے)

Facebook Comments HS