شعیب بن عزیز بیا بیا


(شعیب بن عزیز صاحب کے اعزاز میں واشنگٹن میں منعقدہ ایک تقریب میں پڑھا گیا)

عزیز دوستو، ساتھیو، مہربانو، قدر دانو،

آپ سب کی خدمت میں ہمارا محبت بھرا سلام پہنچے۔ کیا عجب موقع ہے کہ آج یہاں، ایک شاعر، یعنی شعیب بن عزیز اور منکہ ’من آنم کہ من دانم‘ امریکہ میں ایک ہی سٹیج پر اکٹھے بیٹھے ہیں اور اپنے پاکستانی دوستوں کی محبتیں سمیٹ رہے ہیں۔ اے فلک صد رنگ و صبا رفتار، تو نے یہ کیا دن دکھایا، وہ مجھ سے ہوئے ہم نشیں، اللہ اللہ۔ ایسا عجوبہ اتفاق تو کبھی پاکستان میں بھی نہیں ہوا کہ ہم ایک ہی وقت میں ایک سٹیج پر براجمان ہوئے ہوں۔

اس اعزاز پر میں جتنا بھی فخر کروں کم ہے۔ امید ہے شعیب بھی یہ دیکھ کر خوش ہی ہوئے ہوں گے۔ کہ ہماری لاہورن بھی یہاں نظر آ رہی ہے۔ واشنگٹن یو ایس اے کے ادبی مرکز نے ہمیں بلایا تو ہم کھنچے چلے آئے، کہ جو کچھ بھی ہے محبت کے پھیلاؤ کے سوا اور کیا ہے۔ اس کے لیے ہم مونا شہاب اور محترم عارف صاحب کے انتہائی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں یہ اعزاز بخشا۔ میں تو خیر امریکہ یاترا کی عادی اور پرانی پاپی ہوں مگر شعیب صاحب اس قسم کے پاپ ذرا کم کم ہی کرتے ہیں، باقی پاپوں کا مجھے تو علم نہیں، اپ خود ہی ان سے پوچھ سکتے ہیں۔

سچ بات تو یہ ہے کہ امریکہ جیسے دور دراز ملک کے سفر کا قصد کرنا اور پھر واقعی یہاں آ بھی جانا شعیب صاحب جیسے نازک مزاج، شاہانہ افسرانہ زندگی گزارنے والے حضرت کے لیے کچھ اتنا اسان نہ رہا ہو گا۔ ہم یعنی ان کے قریبی دوست جانتے ہیں کہ حضور نے اپنی زندگی میں سوائے افسری اور شاعری کے کبھی کوئی نامناسب کام نہیں کیا۔ ان کی زندگی تقریباً صراط مستقیم پر ہی چلتی رہی ہے یعنی فٹ سکیل سے کھنچی ہوئی ایک لکیر پر گامزن رہے ہیں۔

یوں جیسے نیچے نیاگرا آبشار ہو، وہ ہاتھ میں ڈنڈا تھامے، ایک تنے ہوئے رسے پر، متوازن قدم رکھتے چلتے چلے جا رہے ہوں۔ اور سفر بخوبی طے ہوتا جا رہا ہو۔ ہم جیسے شتر بے مہار لوگوں کی طرح وہ گرد آلود صحراؤں میں ادھر ادھر بھٹکتے نہیں رہے۔ افسری اور شاعری کی گدی نشینی میں خوش رہے۔ نہ انہوں نے کبھی ہم جیسے کمی کمیوں کی طرح گاڑی چلائی،بازار سے ادرک دھنیا، دہی لانے کے کشت اٹھائے، لمبے لمبے سفروں کے لیے ایئر پورٹوں کی طویل راہداریوں میں بکسے گھسیٹے اور نہ ہی فلائٹیں پکڑنے کے لیے دوڑیں لگائیں، گویا راوی نے ان کے نصیب میں آرام ہی آرام لکھ دیا تھا۔

مگر اب کے برس انہوں نے امریکہ کا سہانا سفر طے کر ہی لیا جس پر میری کیفیت تو کچھ ایسی ہے کہ ’مگر یہ چشم حیراں جس کی حیرانی نہیں جاتی‘۔ کیونکہ یہ ہے کافی مشکل کام۔ ہم جیسے سینیئر سٹیزنز (اب امریکہ میں بوڑھے کو بوڑھا کہیں تو کچھ اچھا تو نہیں لگتا) کا 18۔20 گھنٹے مستقلاً ایک مستطیل لمبوترے ڈبے میں قفل بند ہو کر گھٹنے جوڑے رکھنا، پھیلے ہوئے گنبد ہائے شکم کا آہنی پیٹیوں میں جکڑے رہنا، دبائے گئے جذبات کی طرح تڑپنا، مچلنا، کسمسانا، کوئی مذاق نہیں ہوتا۔

پھر وقفہ وقفہ سے، نیم وا انکھوں سے جہاز کے اندر کے ملگجے اندھیرے میں فوڈ ٹرالیوں کا انتظار کرنا، منجمد کھانوں کو از سر نو زندگی عطا ہو جانے پر واصل شکم کرنا گجب بھیو راما جلم بھیو رے۔ شب ہجراں جیسی امریکہ کی طویل فلائٹ کو صبر سے جھیلنا اور پھر خوفزدہ بھی نہ ہونا میرے نزدیک تو سچ میں ایک بہت مشکل کام ہے۔ مجھ جیسی کمزور دل اور کم ذہن عورت کو تو یہ تصور بھی چین سے سیٹ پر بیٹھنے نہیں دیتا کہ ہمارا جہاز ایک وسیع و عریض بحر اوقیانوس پر، جس کا نام لینے سے بھی زبان تڑ مڑ جاتی ہے، مسلسل کئی گھنٹوں سے پرواز کیے جا رہا ہے، ہمارے نیچے دل دریا سے بھی ڈونگا سمندر بچھا ہوا ہے جس میں لاتعداد شارکس اور مگر مچھ اپنے بھوکے جبڑے کھولے اسمان کو تک رہے ہیں کہ پھر کوئی آیا دل زار، نہیں کوئی نہیں۔

یہ منظر کچھ ایسا دل فریب تو نہیں مگر چونکہ مجھے ایسے ہی اوٹ پٹانگ خیالات آتے ہیں تو میں نے سوچا شاید شعیب صاحب بھی دوران پرواز میری طرح یہی سوچ کر ڈرتے رہے ہوں گے۔ وجہ تسمیہ اس بات کی کچھ یوں ہے کہ میں جانتی ہوں وہ بھی خاصے ڈرپوک آدمی واقع ہوئے ہیں۔ میں حلفیہ کہہ سکتی ہوں اور مجھے پکا پتہ ہے کہ اگر کوئی خاتون مداح مہربان قدردان اٹھ کر اچانک ان کے کچھ قریب آ جائے تو وہ گھبرا کے زور سے یوں چیخ مارتے ہیں جیسے انہیں کوئی بلا دکھائی دے گئی ہو۔

اگر یقین نہ آئے تو اپ ان سے اس بات کی تصدیق کروا سکتے ہیں۔ یہ راز کی بات اس لیے اپ کو بتانا پڑ رہی ہے کہ وہ جو امریکہ آئے ہیں تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کے آئے ہیں اور اس کارن ہم ان کے از حد شکر گزار ہیں۔ ویسے وہ حفظ ما تقدم کے طور پر اپنی ذاتی بیگم صاحبہ کو ہمراہ لے آئے ہیں کہ ایسا عمل کمزور دل شوہر حضرات کے جذبہ ایمانی کو تقویت دینے میں بہت کارگر ثابت ہوتا ہے۔ ایسی ہم سفری کے اپنے ہی فوائد اور نقصانات تو ہوتے ہیں لیکن خیر ہمیں ان سے کیا سروکار؟

وہ سات سمندر پار آئے، شاندار ہوٹلوں میں ٹھہرے، بیگم صاحبہ نے ہم سفری میں ساتھ دیا اور بیچاری شارکس سمندر میں منہ اٹھائے آسمانوں میں اڑتے جہازوں کو حسرت سے دیکھتی ہی رہ گئیں۔ گھبرائیں مت شعیب صاحب کا اور ہمارا آپس میں ہنسی مذاق چلتا رہتا ہے۔ وہ بھی میری بدحواسیوں، بونگیوں، بے وقوفیوں ،بے تکی حرکتوں پر اکثر تبصرے کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں۔ ”آپ بہت سادہ ہیں‘‘ جس کا مطلب کچھ یوں ہوتا ہے کہ تم سے زیادہ احمق بے وقوف انسان میں نے کبھی زندگی میں نہیں دیکھا۔ سنا ہے پاکستان میں جبری صحافت کے محسن لیفٹنٹ جنرل مجیب الرحمن کسی صحافی کو ’راندہ درگاہ‘ کا درجہ بخشتے ہوئے فرماتے تھے، ’معصوم آدمی ہے‘۔ ’معصومیت‘ کی اس مہر میں آمریت کی ’معصیت‘ کے جملہ حروف شامل ہوتے تھے۔

شعیب صاحب کسی ترنگ میں ہوں تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ”یہ افسانے آخر آپ کس سے لکھواتی ہیں“ میں سب سمجھ جاتی ہوں کیونکہ اندر سے میں بھی ہوں تو بڑی چالاک۔ اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ’’تم جیسی نالائق بدھو عورت اور ایسے ویسے، یعنی کہ اچھے افسانے (یہ نتیجہ بھی میں نے خود ہی اخذ کر رکھا ہے) کیسے لکھ سکتی ہے‘‘۔ تو بات تو سمجھ میں آ جاتی ہے سو آج میں بھی شعیب صاحب سے اپنا حساب بے باق کرنے کی کوشش کر رہی ہوں، ایسے تو پھر ایسے سہی۔

مگر یہ بتائیے حضرت کہ آپ کو دنیا ایک بڑا اعلیٰ اور عظیم شاعر کیسے اور کیوں کر مان لیتی ہے۔ کتاب تو آپ کی اب تک ایک بھی نہیں چھپی؟ تو آپ کہاں سے بڑے شاعر ہو گئے جی؟ اپ کو شاید پتہ نہیں کہ بڑا شاعر کون ہوتا ہے؟ بڑا شاعر وہ ہوتا ہے جس کی کم از کم بیس یا تیس کلو کتابیں شائع ہو چکی ہوں۔ جن کے نام پر مشاعروں کی ٹکٹیں بلیک ہوتی ہوں، ان کے شعر سن کر لڑکیاں سٹیج کے سامنے بیٹھ کر فرط جذبات سے بے ہوش ہو ہو جاتی ہوں۔

پوچھنے پر کتاب نہ چھپوانے کا سبب وہ کچھ یوں بتاتے ہیں کہ بھائی مجھے کتاب چھپوانے کا شوق اور حکم ہی نہیں ہے۔ اب یہ حکم پتہ نہیں حکم الہی ہے یا کسی مخفی پراسرار ہستی کا ڈراوا ہے۔ خدا ہی جانے پھر وہ بے اعتنائی سے یہ بھی فرماتے ہیں کہ میرا کلام، میری شاعری تو آئندہ زمانوں میں سینہ بہ سینہ چلے گی، وہ چونکہ ایک مستند باعزت شریف آدمی ہیں تو ہمیں اس سے زیادہ سوچنے کی بھلا کیا ضرورت ہے کہ ان کی مراد کن سینوں سے ہے۔

آج یہ بھی بتاتے دیتی ہوں کہ جان لیجیے کہ شعیب صاحب کو سب سے زیادہ بھلا کس چیز سے محبت ہے؟ ایک پرفیکٹ چائے کا کپ ان کی سب سے بڑی کمزوری اور محبت ہے۔ چائے کی ایک ایسی ہی پیالی ان کے من کو بھاتی ہے جو خوشبو رنگ ذائقے اور تاثیر میں مکمل اور لاثانی ہو، اس پیالی میں طوفان اٹھے نہ اٹھے، وہ ان کے تن بدن کو ایسی راحت پہنچاتی ہے کہ وہ جھوم اٹھتے ہیں۔ اور ہزار منتیں کروانے کے بعد محفل میں اپنے شعر سنانے پر بالآخر راضی ہو ہی جاتے ہیں۔

سو نیک بیبیو، حوری بہنو، زیب النسا عہد کی نشانیو، اگر ایک بڑے اور خاص شاعر کی واقعی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہو تو بس ایک اچھی چائے کی پیالی بنانا سیکھ لو۔ اگے تیرے بھاگ لچھیے۔ شعیب بن عزیز صاحب کو سردیوں کی شاموں والا شعر نصیب ہوا تو بہت سے لوگوں کا بھلا ہو گیا۔ بہت سوں نے اسے جا بجا جائز اور ناجائز مقامات پر استعمال بھی کیا۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں اور اب تو بہت سے حکیم حضرات بھی اس کو اشتہاری سلوگن بنا کر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مگر حضور ہم آپ کو تب ہی شاعر مانیں گے جب آپ اپنا چند کلو کلام چھپوائیں گے، کم از کم چند مزید ایسے سینوں میں آگ دہکائیں گے جن کے بارے میں ایک پرانے شاعر نے بتا رکھا ہے ’ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں‘۔ ہم انتظار کریں گے۔ امید ہے آپ ہمیں جلد ہی خوشخبری سنائیں گے۔ ایک ایسے عظیم شاعرِ کا طبع شدہ کلام جس نے ایک شعر میں اپنے وطن کی کیفیت یوں بیان کر رکھی ہے

بہت سی سرخ آنکھیں شہر میں اچھی نہیں لگتیں
ترے جاگے ہوئوں کا دیر تک سونا ضروری ہے

Facebook Comments HS

One thought on “شعیب بن عزیز بیا بیا

  • 17/08/2024 at 8:41 صبح
    Permalink

    اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

    اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

    اب تو اس کی آنکھوں کے مے کدے میسر ہیں

    پھر سکون ڈھونڈوگے ساغروں میں جاموں میں

    دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب

    میں ترے فقیروں میں میں ترے غلاموں میں

    زندگی بکھرتی ہے شاعری نکھرتی ہے

    دلبروں کی گلیوں میں دل لگی کے کاموں میں

    جس طرح شعیبؔ اس کا نام چن لیا تم نے

    اس نے بھی ہے چن رکھا ایک نام ناموں میں

Comments are closed.