پیاری بیٹی! ایک باپ تجھ سے معافی کا طلبگار ہے


پیاری بیٹی! میں تمہارا خطا وار ہوں، میرے چند شبدوں کی وجہ سے تمہارے ننھے سے دل کو ٹھیس پہنچی اور تم چپکے چپکے روتی ہوئی خاموشی سے سو گئی۔

وہ تو صبح سویرے جب تم بیدار ہوئی تو تمہاری مما نے تمہارا چہرہ دیکھا تو انہیں تمہاری آنکھوں کے گرد سوزش سی محسوس ہوئی۔ ماں تو آ خر ماں ہوتی ہے نا! متفکرانہ انداز سے پوچھنے لگی بیٹی تم رات روتے ہوئے سوئی تھی کیا؟

پہلے تو تم نے کچھ نہیں بتایا پھر اچانک سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور تم نے اپنی مما کے گلے لگ کر بتایا کہ مجھے رات پاپا کی ایک بات بہت بری لگی تھی۔

تمہاری مما نے پیار کرتے ہوئے کہا بیٹی! تم اسی وقت اپنی خفگی کا اظہار کر دیتی تاکہ آپ کے پاپا کو آپ کی ناراضی کا علم ہو جاتا اور وہ آپ کو فوری منا لیتے، اب اگر آپ کے پاپا کو پتا چلے گا کہ ان کی لاڈلی ڈانٹ کی وجہ سے بنا کوئی اظہار کیے روتے ہوئے چپکے سے سو گئی تھی تو انہیں کتنا برا لگے گا۔

بس مما مجھے غصہ آ گیا تھا اور میں ناراضگی کو اوڑھ کر چپکے سے سو گئی، پاپا کو بھی تو اس طرح سے نہیں کہنا چاہیے تھا نا!

مجھے پتا ہے وہ مجھ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور اگر انہیں ذرا سی بھنک بھی لگ جاتی کہ ان کی گڑیا رانی ان سے خفا ہے تو وہ مجھے کبھی بھی ناراضی کے ساتھ سونے نہیں دیتے، لیکن مما لفظوں کا چناؤ مختلف بھی تو ہو سکتا تھا نا!

اپنی بات دوسرے تک پہنچانے کے مختلف انداز اور طریقے ہوتے ہیں، بس مجھے پاپا کا انداز پسند نہیں آیا۔

مما پلیز اب آپ پاپا سے کچھ مت کہنا، انہیں میری باتوں کا تو برا نہیں لگے گا لیکن جب انہیں یہ پتا چلے گا کہ ان کی لاڈلی ان کی ڈانٹ کو دل سے لگا کر رات روتے ہوئے سو گئی تھی تو وہ خود بھی رونے لگ پڑیں گے جو مجھ سے برداشت نہیں ہو گا۔

میں ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتی۔
”خطاوار باپ کا ردعمل“

پیاری بیٹی! مجھے تمہاری مما نے جب یہ سب مجھے بتایا اور تمہاری ناراضی میں ملفوف الفاظ مجھ تک پہنچے تو یقین مانو میری آنکھیں بھر آئیں تھیں، مجھے تمہاری بے باک سی باتوں پر بہت پیار آ یا اور فخر بھی محسوس ہوا لیکن زیادہ فخر مجھے اس وقت محسوس ہوتا جب میری بیٹی سسکنے کی بجائے اپنے پاپا سے ڈائیلاگ کرتی اور بغیر کسی رکھ رکھاؤ کے میرے سامنے کھل کر بات کرتی۔

میری پیاری بیٹی! سب باتیں ایک طرف رکھتے ہوئے ایک باپ اپنی غلطی کا دل سے اعتراف کرتا ہے اور بغیر کوئی بحث یا چون و چرا کیے اپنی بیٹی سے معافی کا طلبگار ہے۔

تم نے درست کہا کہ مجھے اپنی بات کہنے کے لیے موزوں الفاظ کا چناؤ کرنا چاہیے تھا جو کہ میں نہ کر پایا اور تم مجھے بنا بتائے خفا ہو گئی۔

پیاری بیٹی میں تمہیں دوست کی حیثیت ایک انفرادی نظر سے دیکھتا ہوں جو عمر میں تو چھوٹی ہے لیکن اپنی ذات کے اعتبار سے ایک انفرادی شخصیت کی مالک ہے، جس کی رائے، خواہش اور مرضی کا احترام مجھ پر لازم ہے اور تمہاری انفرادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تم پر اپنے فیصلے تھوپنے کا مجھے قطعاً کوئی حق نہیں ہے۔

تمہیں میرے فیصلوں سے اختلاف کرنے کا پورا حق ہے اور کچھ بھی تمہاری رضامندی اور خود کی آزادانہ رائے سے اوپر نہیں ہو سکتا۔

بیٹی! مجھے پڑھتے پڑھاتے کم و بیش 17 سال بیت چکے ہیں اور میرے مشاہدے کے مطابق بچیاں سب سے زیادہ مجبور و بے بس ہوتی ہیں، معاشرہ ان کی ہر چھوٹی سے چھوٹی سرگرمی پر نظر رکھے ہوتا ہے، گھر سے نکلتے ہی انہیں پھونک پھونک کر قدم اٹھانا پڑتا ہے کہ کہیں ان کی ذرا سی خلش یا ٹھوکر سے ماں باپ کی عزت پر کوئی حرف نہ آ جائے۔

میں نے پڑھاتے وقت بچیوں کی آنکھوں میں بے بسی کے سائے دیکھے ہیں، ان کی گفتگو میں خوف اور دہشت کے گہرے اثرات دیکھے ہیں اور ان کے ذہنوں میں ایک انجانی سی وحشت محسوس کی ہے۔ پیاری بیٹی تمہیں میں ان سب وحشتوں، پابندیوں اور انجانے سے خوف کے سایوں سے دور رکھنا چاہتا ہوں، تمہارے پروں کو روایتی جکڑ بندیوں سے آ زاد کرنا چاہتا ہوں، تمہیں اپنی پرواز کے ساتھ کھلی فضا میں پرواز کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔

تمہیں ڈائیلاگ کرتے اوردلیل دیتے دیکھنا چاہتا ہوں، سماج کے سامنے اپنی رائے کا بلا خوف و خطر اظہار کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔

بس اپنے پاپا کی ایک بات ذہن میں رکھنا کہ کبھی مجھ سے ناراض مت ہونا، بات کرنا، لڑنا جیسے چاہو کرنا لیکن کبھی آنسو مت بہانا۔

Facebook Comments HS