مائکرو فکشن – 3 مائکروف
1- زیرِ زمیں سے آتی آوازیں
ہم جانتے ہیں کہ وہ آج پھر آئے گا۔ اس بڑے نیم تاریک کمرے میں، جہاں صرف دو زرد بلب روشن ہوتے ہیں۔ جب ہمیں لایا جاتا ہے، کچھ دیر بعد وہ آ جاتا ہے۔
وہ ہم سے خطاب کرتا ہے لیکن اپنے خطاب کو گفتگو کہتا ہے۔ کرسی پر بیٹھتے ہی، جس کے سامنے ہم زمین پر بیٹھے ہوتے ہیں، وہ آغاز کر دیتا ہے۔ لہجے میں مصنوعی شیرینی گھول کر وہ ہمارا حال دریافت کرتا ہے۔ ہم چپ رہتے ہیں۔ وہ برانگیختہ نہیں ہوتا۔ بظاہر نرم لہجے میں، جس کے اندر پیشہ ورانہ سختی ہم محسوس کرتے ہیں، وہ باتیں کرتا ہے۔ لچھے دار باتیں۔ لیکن ان میں دوستانہ گرم جوشی نہیں ہوتی۔
شروع ہی میں ہمیں یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ لیکچر بازی یا برین واشنگ کے لیے نہیں آیا۔ وہ تو اپنے ہم وطنوں سے دل کی باتیں کرنا چاہتا ہے۔
پھر وہ حب الوطنی پر بات کرتا ہے۔ قانون اور اس کی پاسداری پر۔ سماجی رکھ رکھاؤ، حکومت اور ریاست کی وفاداری پر۔ وہ مدلل اور منطقی ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی اس کی ’گفتگو‘ میں شریک ہو جائیں۔ ہم نہیں ہوتے۔ وہ کوئی سوال کرتا ہے، ہم خاموش رہتے ہیں۔ وہ مایوس نہیں ہوتا۔ خود ہی اپنی مرضی کا جواب دے کر آگے چل پڑتا ہے۔
پھر وہ ہمارے گھروں کی بات کرتا ہے۔ ماں باپ، بیوی بچے، بہن بھائی، دوست۔ وہ ان سب کا تذکرہ چالاکی بھری ہمدردی سے کرتا ہے۔ ہمارے دل کانوں میں دھڑکنے لگتے ہیں۔ آنکھیں زیادہ ہی کھل جاتی ہیں۔ کہیں کچھ آنسو بھی ٹپک پڑتے ہیں۔ وہ انہیں نظر انداز کرتا ہے۔
ایک گھنٹہ، اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ۔ وہ خطاب کرتا ہے۔
پھر ہمیں کہتا ہے کوئی سوال پوچھو۔
ہم کوئی سوال نہیں پوچھتے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہمارے سوال بے فائدہ رہیں گے۔
ہم اُس سے کیا پوچھیں؟ یہ کہ ہماری مرضی کے بغیر ہمیں ریاستی بستر اور حکومتی خوراک کیوں دی جا رہی ہے؟
کیا ہم اس سے اغوا، قید اور تشدد کے بارے میں سوال کریں؟
کیا ہم اپنے پریشان حال پیاروں کے بارے میں پوچھیں جنہیں کوئی خبر نہیں کہ ہم کہاں اور کس حال میں ہیں؟
یا ہم غربت، بے انتہا غربت اور امارت، بے انتہا امارت کے بارے میں پوچھیں؟
زبان بندی اور استحصال کا پوچھیں یا پڑھے لکھے اشراف کی قانونی لوٹ مار کا؟
ہم کچھ نہیں پوچھتے۔
جلد ہی ہمیں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ انہی زیرِ زمین تنہا کمروں میں۔ جن کی چھت نیچی ہے اور جن میں روشنی بہت کم ہے۔
جہاں ایک زنجیر ہماری منتظر ہوتی ہے۔
2- قانون کے سامنے
”یہ سچائی اور اچھائی کی باتیں مجھ سے نہ کریں۔ میں ایک وکیل ہوں اور میرا کام قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنے موکل کو سزا سے بچانا ہے۔“
”آپ جانتے ہیں کہ قوانین اس لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کو حق و انصاف مل سکے۔“
”بے شک اسی لیے بنائے جاتے ہیں لیکن ۔ ۔ ۔“
”اور آپ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کے موکل نے، بغیر شک و شبہے کے، یہ جرم کیا ہے۔“
”دیکھیں، یہ میری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ اُسے سزا سے بچاؤں۔ میں و کیلِ صفائی ہوں۔ مقدمے کے ہر سقم کا فائدہ اپنے مؤکل کو پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ اسی کام کی میں نے فیس لی ہے۔“
”جانتے بوجھتے سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرنا پیشہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ہر انسان کا ایک ضمیر بھی تو۔ ۔ ۔“
”آپ پھر ضمیر، سچائی، اچھائی کی بات کر رہے ہیں۔ میری اچھائی یہ ہے کہ محنت کروں۔ جس کام کی فیس وصول کی ہے اسے دیانت داری سے انجام دوں اور میں آپ کو بتا دوں کہ میں اپنے بچوں کو رزقِ حلال کھلاتا ہوں۔“
”اور جو ظلم مجھ پر ہوا اس کی کوئی پروا نہیں؟ کیا آپ اس ظلم میں شریک نہیں ہو رہے؟“
”آپ کی پروا ہوتی اگر میں آپ کا وکیل ہوتا۔ اس وقت مجھے ملزم کی پروا ہے کیونکہ میں اس کا وکیل ہوں۔“
اور وہ اچھائی، سچائی، ضمیر؟
3- گہری وادی کا بوڑھا
وادی گہری گلی کی طرح تھی۔ شمال و جنوب کے رُخ پر دو فلک بوس پہاڑ بلند دیواروں کے طرح کھنچے ہوئے تھے۔ ان کے بیچ تنگ سی لمبوتری جگہ تھی جس کی چوڑائی بمشکل ایک کلومیٹر اور لمبائی کئی کلومیٹر۔ یہی وادی تھی جس کی بناوٹ دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔
دوپہر سے ذرا پہلے وہاں صبح ہوتی تھی۔ یعنی سورج ایک پہاڑ کی اوٹ سے نکلتا۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کر کے پھر دوسرے پہاڑ کے پیچھے چھپ جاتا یعنی شام ہو جاتی۔ وہاں لگ بھگ ایک سا موسم رہتا، یعنی خون جما دینے والی سردی۔ وادی میں دن بھر سایہ رہتا اور دھوپ تھوڑی دیر کو آتی۔ اس لیے برف پگھلنے کی رفتار سست تھی۔ سال میں آٹھ مہینے برف نظر آتی اور چار مہینے زمین۔ انہی چار ماہ میں آلو اور گندم کاشت کر کے برداشت بھی کر لیے جاتے۔ وہاں حرارت بہت بڑی نعمت اور سردی سب سے بڑا عذاب تھی۔
اسی وادی میں مجھے ایک بوڑھا ملا۔ عمر ستّر سال سے زیادہ لیکن صحت کافی اچھی۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد تو کجا، اس نے سکردو اور گلگت بھی نہیں دیکھا تھا۔
اس نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی سے بہت خوش ہے۔
میں نے مترجم کی مدد سے اس کا مذہب پوچھا، اس نے کلمہ طیبہ سنا دیا جو میں لہجے کے فرق کی وجہ سے ذرا مشکل سے سمجھ پایا۔
”بابا جی، آپ کے خیال میں دوزخ کیسی ہو گی؟“
”وہاں لوگ سردی سے ٹھٹھر ٹھٹھر کر مر رہے ہوں گے۔ برفانی طوفان کے جھکّڑ گناہگاروں کو برف میں دفن کر رہے ہوں گے۔“
”اور جنت؟“
”جنت میں ہر طرف آگ جل رہی ہو گی، نیک لوگ خوش باش آگ سینکتے ہوئے نرم گدوں سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے اور وہاں مزے کی گرم ہوائیں چل رہی ہوں گی۔“
یہ سن کر میں سُن ہو گیا۔
یعنی ہمارا تخیل بھی ماحول کے مطابق ترتیب پاتا ہے۔


