ڈاکٹر خالد سہیل کے لئے ’فروغ گلشن و صوت ہزار‘ کا پیغام

برادر محترم ڈاکٹر خالد سہیل،
آپ کا شفقت نامہ ’ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد اور گناہِ پُرلذت‘ کے بامعنی عنوان سے یکم اگست کو موصول ہوا۔ مندرجات ایسے بصیرت افروز اور نکتہ آفریں تھے کہ فوراً قلم اٹھانے کر ’جواب دوست‘ رقم کرنے کا تقاضا کرتے تھے۔ آپ جیسے ہمہ وقت سرگرم عمل دوست سے اپنی مصروفیت کا ذکر چھیڑنا رفعت تخلیق کی نسیم سبک رو کے سامنے مکروہات دنیا کے کباڑ خانے کی نمائش کے مترادف ہے لیکن اے صاحب السیر، آپ دنیا کے اس منطقے میں بسیرا رکھتے ہیں جہاں ہر سانس گویا خوشبوئے خوش کناراں سے معمور ہے۔ ہمارے یہاں کی دنیا کے رنگ نرالے ہیں۔ تلاش نان جویں کے تقاضے الگ سے دامن گیر ہیں اور پھر طبیعت ایسی رہ پرخار پسند پائی ہے کہ ’جو غم دیے نہ گئے تھے، وہ میں نے جا کے لیے‘۔ ایک تحریر میں ضمناً مولوی شبیر احمد عثمانی کا ذکر چلا آیا جو مشفق و محترم مجیب الرحمن شامی پر گراں گزرا۔ تقدیس ایک خاص ذہنی کیفیت سے مملو نفسیات کا نام ہے۔ ہم علت و معلول کی زنجیر میں بندھے سگان دنیا ہر خاص و عام کے مساوی شخصی احترام کے پابند ضرور ہیں لیکن تقدیس کے بلوریں پیمانوں سے ہمیں کیا واسطہ۔ سو، دلیل اور شواہد کا پشتارہ کھل گیا۔
تاریخ کے دوسرے کنارے پر موجود احباب نے کہیں پیرائیہ تہذیب میں رہتے ہوئے گل پاشی کی تو کسی نے سنگ زنی پر کمر باندھی۔ دوریش نے حتی الامکان کوشش کی کہ اپنی معروضات کو دلیل اور واقعاتی شواہد تک محدود رکھا جائے۔ دل آزاری سے گریز کیا جائے۔ ایک برخود غلط صاحبزادے کو البتہ ہتھے پر ٹوک دیا کہ اس کندہ ناتراش کو مدت سے جانتا ہوں۔ ذری راستہ دیا ہوتا تو بدمزگی کا سامان لازم تھا۔ اب تک چودہ مکاتیب اس تبادلہ خیال میں سپرد قرطاس کر چکا۔ قرائن کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ قیامت کے دامن سے بندھا ہے۔ خامہ فرسائی کی یہ مشق دیر تک چلے گی۔ ’فسانہ آزاد‘ کے میاں خوجی اور نواب صاحب کے داروغہ جی میں وہ مکالمہ تو آپ کو یاد ہو گا، ’لاکھ سمجھاتا ہوں، وہ ہاری مانتے ہیں نہ جیتی۔ ‘ فائدہ اس میں یہ ضرور رہا کہ تاریخ کے اوراق میں جھانکنے کا موقع ملا، اصحاب اختلاف کی رائے سے آگہی ہوئی۔ ہماری تعلیم کا راستہ نکلا۔ زندہ معاشرے میں مکالمہ چشمہ آب کی روانی جیسا نافع مظہر ہے۔ تلچھٹ نیچے بیٹھ جاتی ہے اور بصیرت کا آئینہ شفاف ہو جاتا ہے۔ خود آپ کے اور اس طالب علم کے بیچ یہ مکالمہ بھی کچھ ایسی ہی مشق ہے۔ بنیادی اصولوں پر کوئی اختلاف نہیں۔ بات سے بات نکلتی ہے، زاویے سے زاویہ بیٹھتا ہے۔ آپ کو بات سمجھانے کا موقع ملتا ہے، درویش کے لئے کچھ نیا سیکھنے کی راہ سوجھتی ہے۔
حضرت یہ جو آپ نے ایران کی جوان مرگ شاعرہ فروغ فرخ زاد کا قصہ چھیڑا۔ اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے۔ کچھ عرض کرنے سے پہلے سترہویں صدی کے انگریز شاعر جون ڈن (John Donne) کا ڈیڑھ مصرع آپ کی نذر کرتا ہوں۔
I wonder, by my troth, what thou and I
Did, till we loved?
اب اس گریز کی وجہ تسمیہ بیان کرتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ گزشتہ مکتوب میں آپ نے ورجینیا وولف، سلویا پلاتھ اور این سیکسٹن کا حوالہ دیا، درویش ہر تین شاعروں پر مدت سے فدا ہے۔ حالیہ الطاف نامے میں آپ نے فروغ فرخ زاد کی کہانی بیان کی۔ عجب اتفاق ہے کہ آپ کا بندہ بے دام قریب چار دہائیوں سے فروغ فرخ زاد کا قتیل چلا آ رہا ہے۔ ارے مولانا سہیل صاحب، یہ کیا ناز و نیاز کے راز ہیں۔ ذوق کی ایسی بے خراش ہم آہنگی جب کہ عمر میں درویش آپ کا خورد ہی شمار نہیں ہوتا، بلکہ ایک نسل کے فاصلے پر دنیائے رنگ و بو میں داخل ہوا۔ وہی سوال کرتا ہوں جو جون ڈن نے اپنی محبوبہ سے پوچھا تھا کہ دام محبت کی گرہ ریشم میں الجھنے سے پہلے آپ اور ہم ایک ہی راہ سے کیونکر گزرے۔ خیال رہے کہ ’دام محبت‘ کی نوعیت خالص علمی ہے۔ یہ وضاحت اس لئے ضروری ٹھہری کہ ایک تو ہم دونوں کے استدلال میں ادبدا کے ہم جنسیت کا ذکر ضرور چلا آتا ہے۔ اس پر قضا و قدر کے مشروع خدائی فوجدار کنوتیاں کھڑی کر لیتے ہیں۔ اب تو ہمارے محب گرامی سلیم ملک نے از رہ تفنن ہی سہی، ہم دونوں سے طبقہ اناث کے عدم التفات کا اعلان بھی فرما دیا ہے۔ میری حد تک تو برادر سلیم ملک درست فرماتے ہیں۔ یوں تو میں در عہد جوانی بھی کنعان کا شہزادہ نہیں تھا اور پھر کوئی دس برس گزرے، ایک ایسی قیامت سے گزرا کہ واللہ میری پارسائی بالارادہ پرہیز گاری نہیں، محض نارسائی کا عذاب ہے۔ آپ کے بارے میں البتہ زبان خلق کہے دیتی ہے کہ داستان حرم ہرگز سادہ نہیں، حسب سابق رنگین ہے۔ بلکہ ریش مبارک کی سپیدی بھی گویا مصحفی کے شعر کی شرح سمجھی جائے۔
بھیگے سے ترا رنگ حنا اور بھی چمکا
پانی میں نگاریں کفِ پا اور بھی چمکا
آپ کی اس رائے سے مجھے اتفاق ہے کہ تخلیق کار کی ذہنی پیچیدگیوں میں صنفی امتیاز واحد اور قطعی عامل (Factor) نہیں ہے۔ ابھی 2017ء میں Michael Symmons Roberts اور Paul Farley کی کتاب Deaths of the Poets آئی ہے۔ یہ دونوں مصنف خود بھی شاعر ہیں اور انہوں نے کئی صدیوں کی تاریخ کا جائزہ لے کر سوال اٹھایا ہے کہ کیا شعر کہنے کے عمل میں خود انہدامی کا ناگزیر امکان موجود ہوتا ہے۔ اس کتاب کے لکھنے والے مغربی روایت سے تعلق رکھتے ہیں چنانچہ انہوں نے جان کیٹس کے حوالے سے Smudge of arterial blood کا ذکر کیا ہے۔ مشرق کی شعری روایت سے آشنا ہوتے تو انہیں غالب کا مصرعہ یاد آیا ہوتا۔ ’اک لہو کی بوند کیوں ہنگامہ آرا دل میں ہے‘۔ اس کتاب میں بیان کردہ اس قضیے سے البتہ مجھے اتفاق نہیں کہ تخلیق اور آشفتگی میں انسلاک کا یہ امکان محض شاعری تک محدود ہے۔ ورجینیا وولف اور ارنسٹ ہیمنگ وے تو شاعر نہیں تھے۔ ونسٹ فان گاف (Vincent Van Gogh) تو مصور تھا۔ درجنوں موسیقار ایسے گنوائے جا سکتے ہیں جو ذہنی پیچیدگیوں سے دوچار رہے۔ تخلیقی سرگرمی کے اس پہلو میں عورت یا مرد ہونے کا کوئی امتیاز نہیں لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہزاروں برس سے مردانہ بالادستی پر قائم معاشرے میں خاتون تخلیق کار کو مردوں کے مقابلے میں تخلیقی، جسمانی اور معاشرتی سطح پر کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔
ڈیلن تھامس (Dylan Thomas) وہسکی کے یکے بعد دیگرے اٹھارہ گلاس لنڈھا کر موت کو گلے لگاتا ہے تو اس کے تعارف میں محض ایک سطر بڑھا دی جاتی ہے۔ مارلن منرو کے سرہانے رکھی خواب آور گولیوں کی خالی شیشی اس کی تخلیقی قدر پیمائی پر پرچھائیں کی طرح لرزتی رہتی ہے۔ گورو دت نے شراب کے گلاس میں نیند کی گولیاں ملا کر موت کو گلے لگایا لیکن گورودت کی ہدایت کاری پر لہلوٹ فلم بین گورودت کے غیر محتاط طرز زندگی پر سوال نہیں اٹھاتے۔ دوسری طرف گورودت کی بے اعتنائی سے زخم خوردہ گیتا دت کی موت کا کوئی تذکرہ اس نابغہ روزگار گلوکارہ کی مے نوشی کے تذکرے سے خالی نہیں ہوتا۔ پاکستان میں بھی تخلیق کار باقی دنیا سے الگ کسی جزیرے پر نہیں رہتے لیکن خواتین تخلیق کاروں اور فنکاروں کا نام آتے ہی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ پرفارمنگ آرٹس سے قطع نظر صرف شاعری ہی میں دیکھ لیا جائے کہ فیض، فراز، جون ایلیا اور حبیب جالب کا اکل و شرب محض ایک مطائبہ ہے لیکن کردار کشی مقصود ہو تو کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور سارہ شگفتہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہمارا یہ مکالمہ صنفی امتیاز اور فنون عالیہ کے مباحث تک محدود ہے ورنہ اہل سیاست ہمارے دائرہ بحث میں شامل ہوتے تو عورت اور مرد کے نجی معاملات پر معاشرتی ردعمل کا فرق کہیں زیادہ آسانی سے بیان کیا جا سکتا تھا۔
برادر عزیز! آپ کے مکتوب میں ایک سطر مجھے خاص طور پر کھٹکی۔ ذہنی عوارض کے ذکر میں آپ نے آسکروائلڈ کی ہم جنسیت کا ذکر جس انداز میں کیا اس سے یہ تاثر ملا کہ شاید ہم آج بھی ہم جنسیت کو اخلاقی کج روی اور ذہنی عارضہ سمجھتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ تحریر میں ہم نے الزبتھ بشپ کا ذکر کیا تھا کہ کس طرح انہیں اپنی خالص نجی ترجیحات پر ممکنہ ردعمل کے خوف سے جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ 1945ء میں ادب کا نوبل انعام جیتنے والی لاطینی امریکا کی شاعر گبریلا مسٹرل (Gabriela Mistral) کو بھی پیش آیا۔ چلی کا فوجی ڈکٹیٹر آگسٹ پنوشے گبریلا مسٹرل کو ان کی ’ناکتخدائی‘ کے حوالے سے ’سماجی روایات کی پاس داری‘کا نشان بنا کر پیش کرتا تھا۔ 2007ء میں گبریلا مسٹرل کے اپنی دوست ڈورس ڈانا اور متعدد دیگر خواتین کے نام خطوط دریافت ہوئے تو معلوم ہوا کہ گبریلا مسٹرل بھی دہائیوں تک محض سماجی دباﺅ کے تحت دوہری زندگی گزارتی رہی۔
آئیے اس مکالمے کو شخصیات کے دائرے سے نکال کر فکری زاویے سے دیکھتے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ 1936ء میں سٹالن سوویت یونین کا نیا آئین مرتب کرتا ہے تو اس میں عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور محکومی کے درجے کو خاص جگہ دیتا ہے۔ اس ضمن میں درجنوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکنWendy Z. Goldman کی کتاب Women, the State and Revolution دیکھ لینا کافی ہو گا۔ نازی جرمنی میں عورتوں کے حقوق نیز پدرسری خاندانی معاشرے کی سرپرستی کے نتائج دیکھنا ہوں تو Claudia Koonz کی کتاب Mothers in the Fatherland دیکھئے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ سعودی عرب، ایران اور حالیہ افغانستان میں عورتوں کی روزمرہ زندگی کسی جہنم سے کم نہیں۔ خود پاکستان میں ضیاالحق کا عہد عورتوں کے لیے ایسی معاشرتی اور قانونی تبدیلیاں لے کر آیا جن کے نتیجے میں پاکستان تمدنی پسماندگی کا شکار ہو گیا۔ سادہ بات یہ ہے کہ تحکمانہ معاشرے میں طاقت کے اصول کو زندگی کے ہر شعبے میں رائج کرنے کا آسان ترین نسخہ عورتوں کو دوسرے درجے کی مخلوق قرار دینا ہے۔
میکسم گورکی نے lower Depths میں لکھا تھا کہ دنیا میں جو اچھا ہے وہ انسان کے ذہن اور ہاتھ کا کرشمہ ہے۔ میں اس میں صرف یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ تاریخ میں انسان نے جو بھی اچھا کیا، اس میں زراعت سے لے کر اخلاقیات کے ارتقا تک عورتوں نے مردوں سے کہیں زیادہ اور بہتر کردار ادا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کے انسانی معاشرے میں جنگ، تفرقے اور بھوک جیسی خرابیاں فیصلہ سازی پر مردانہ بالادستی کا نتیجہ ہیں۔ عورتوں کے لیے مساوی مواقع اور یکساں آزادیاں دراصل معاشرت کے اس نمونے کی طرف واپس لوٹنے کی کوشش ہے جس کی بنیاد عورتوں نے رکھی تھی اور مردوں نے جسمانی طاقت کو فیصلہ کن اصول کے طور پر اپنا کر تباہ کیا ہے۔ عورت کی آزادی، مساوات اور فیصلہ سازی میں بلاامتیاز شرکت کے بغیر دنیا میں امن، انصاف اور رواداری کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد مذہبی پیشواﺅں کی حکومت میں عورتوں کی تذلیل سامنے کا معاملہ ہے لیکن 1941ء سے 1979ء تک برسراقتدار رہنے والے محمد رضا پہلوی کی بادشاہت میں عورتوں کی آزادی بھی محض ریاستی فریب تھا۔ کیا یہ درست نہیں کہ رضا شاہ نے یکے بعد دیگرے دو عورتوں کو بیٹا پیدا نہ کرنے کی پاداش میں طلاق دی۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں فرانس کی مادام کلاڈیا کے قحبہ خانے سے رضا شاہ کا تعلق تاریخ کا حصہ ہے۔ کیا فرح دیبا کو بھی یہ آزادی حاصل تھی؟ آمریت عورتوں کی آزادی اور مساوات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دوسری طرف تخلیق کار آمریت سے سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔
عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ بتیس سالہ فروغ فرخ زاد فروری 1967ء میں سڑک کے ایک حادثے میں موت کا شکار ہوئی تھی۔ اس کی موت کے پچاس برس بعد فروغ فرخ زاد کے قریبی دوست ابراہیم گولستان نے فرخ زاد کی موت کے بارے میں بہت سے انکشافات کیے تھے۔ یہ بات عام طور پر معلوم ہے کہ بہت سی آمرانہ حکومتوں کی طرح شاہ ایران کی خفیہ ایجنسی ’ساواک‘ بھی حکومت کے ناپسندیدہ لوگوں کو سڑک کے ’حادثوں‘ میں ہلاک کر دیتی تھی۔ فروغ فرخ زاد تخلیقی بالغ نظری کے اس مقام پر تھی جہاں وہ خود کو ایک عورت یا مرد کی بجائے ایک انسان کے طور پر دیکھتی تھی۔ اس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میں ایک عورت ہوں چنانچہ میرے تخلیقی کام میں میرے جذبات اور احساسات وہی ہوں گے جو حقیقی زندگی میں ایک عورت کے ہو سکتے ہیں لیکن اگر مجھے شعر لکھنے سے پہلے خود کو بتانا پڑے کہ میں ایک عورت ہوں اور مجھے نسوانی شناخت کے ساتھ شعر کہنا ہے تو میں اپنے فن کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتی‘۔ دوسرے لفظوں میں فروغ فرخ زاد کو اپنے عورت ہونے پر شرمساری تھی اور نہ فخر۔ وہ اول و آخر ایک شاعرہ تھی۔ ساٹھ کی دہائی کے ایران میں ایسے آزاد ذہن کو ریاست کے لیے خطرناک سمجھا جاتا تھا۔
برادر محترم۔ آپ نے اپنے مکتوب میں فروغ فرخ زاد کے شعری تصورات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے اور پھر اس پر مزید عنایت یہ کی کہ فروغ فرخ زاد کی ایک نہایت معروف اور خوبصورت نظم ’گناہ‘ کا نہایت شاندار اردو ترجمہ فہمیدہ ریاض کے قلم سے عطا کیا۔ یہ نظم درویش کو ہمیشہ سے پسند رہی ہے اور ایک مرتبہ اس کا ترجمہ کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اس نظم کی خوبصورتی کے سامنے اپنی کوتاہ قلمی کا اعتراف یوں کیا کہ نظم کا فارسی متن اور انگریزی ترجمہ پڑھا اور پھر اپنے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں ایک نظم نما تحریر لکھی جسے فروغ فرخ زاد سے معنون کیا۔ فروغ فرخ زاد کے لیے اس اظہار عقیدت پریہ مکتوب ختم کرتا ہوں۔
گناہ کی تقریظ
(فروغ فرخ زاد کے نام)
دیوی، دیکھو !
یہ میں ہوں، ہماچل کی ترائی میں بھٹکتا
وارفتہ اور آشفتہ
خواہش میری آنکھ میں نرت کرتی ہے
بھوگ مری انگلیوں میں
برجو مہاراج جیسا ناچتا ہے
اندرانی رحمن جیسی سجل کاٹ ہے
کامنا کی چھاتیوں میں
میں نے گناہ کو تکریم دی
اور اعلان کیا
گناہ شعور سے کیا گیا فیصلہ ہے
پرکھوں کی خجالت سے انکار کرتے ہوئے
کائی لگی راہوں سے گریز کرتے ہوئے
معبدوں کے دھندلکوں سے پرے
گناہ کھلی آنکھ کی دہلیز پر
اتاری ہوئی آرتی ہے
صندل اور کافور کی خوشبو میں
غنودگی چھانے لگتی ہے
اور گناہ
جنگلی گھاس کی بدمست مہک
اور دیرینہ خواہش سے چرائی ہوئی
نفاست ہے
گناہ کھوج کی سہائتا ہے
گناہ نروان ہے
میں ہوس پہ شرمندہ نہیں
لہو میں سنسناہٹ
ان دیکھے راستوں کی اور بلاتی ہے
مجھے کام جیوتی کے دھندلے میں
کرما کے گھاٹ اترنا ہے
گناہ مرا زاد راہ ہے
لوبھ گیان کی کنجی ہے
میں رسم کا روگ نہیں پالتا
گناہ میرا ہنر ہے
مجھے مکتی کا دعویٰ نہیں
میں کلا مہنت ہوں
میرے سینے پہ سفید ہوتے بالوں کی دیانت سوالی ہے
مرے ساتھ جاگتی رہنا
میری آنکھوں میں ٹھہری حیرانی دیکھو
میں نے گناہ کی چھاتی چیر کے
شرم کی خجالت نکال پھینکی
میں نے ننگ کو چھوا، محسوس کیا اور چوما
میں نے سندرتا کی دھار پہ زباں رکھ دی
میں نے بھیتر کی وشالتا پہ داﺅ لگایا
میں نے ساگر کی سمے سمان شانتا سے
مٹھی بھر جل مانگا
اور ہمال کی چوٹیوں پہ پاﺅں دھرا
میں واپس نہیں آﺅں گا
