وجاہت مسعود کا ادبی تحفہ اور ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد کا گناہِ پُرلذت


محترمی و مکرمی و معظمی وجاہت مسعود صاحب!

آپ نے اپنے ادبی محبت نامے کا آغاز ابن انشا کی ایک خوبصورت نظم سے کیا تو مجھے بھی ان کی ایک ‘نظم فرض کرو’ کے چند اشعار یاد آ گئے۔

فرض کرو ہم اہل وفا ہوں ’فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں
فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ہم نے ڈھونڈے بہانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو

ابن انشا کی نظم ہو یا نثر دونوں میں سادگی بھی ہے، پرکاری بھی، وارفتگی بھی ہے، بے ساختگی بھی کہتے ہیں

سچ اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا

قبلہ و کعبہ!

آپ نے ان خواتین لکھاریوں کا ذکر چھیڑا جو اپنے نفسیاتی مسائل میں الجھی رہیں اور ہم یہ سوچتے رہے کہ ان کے مسائل اس وجہ سے ہیں کہ وہ خواتین ہیں یا اس وجہ سے کہ وہ غیر روایتی سوچ اور طرز زندگی رکھتی ہیں۔ اگر مسئلہ صرف عورت ہونے کا ہوتا تو بہت سے مرد لکھاری اور فنکار اسی طرح کے نفسیاتی مسائل اور ذہنی بیماریوں کا شکار نہ ہوتے اور نہ ہی خود کشی کرتے۔

آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ چاہے وہ مغرب کے مرد لکھاری ہوں یا مشرق کے فنکار ان میں سے بہت سوں کو اپنی روایت کو چیلنج کرنے والی سوچ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مغرب میں ہمیں ارنسٹ ہیمنگ وے ملتے ہیں جنہوں نے اپنی کنپٹی پر بندوق رکھ کر خود کشی کر لی کیونکہ وہ بھی این سیکسٹن کی طرح بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار تھے۔ جہاں تک ونسنٹ وین گو کا تعلق ہے انہوں نے بھی اپنا ذہنی توازن کھو کر اپنا کان کاٹ لیا تھا اور اب نفسیات کا جو مریض اپنے جسم کا کوئی عضو کاٹتا ہے تو ہم کہتے ہیں یہ وین گو سنڈروم کا شکار ہے۔ مغرب کی تیسری مثال آسکر وائلڈ تھے جو اپنی ہم جنس پسندی کی وجہ سے جیل بھیج دیے گئے۔ مشرق میں بھی ہمیں مرد شاعروں ادیبوں اور دانشوروں میں نفسیاتی مسائل دکھائی دیتے ہیں۔

میر تقی میر نے جوانی میں ذہنی توازن کھو دیا۔ علی سردار جعفری فرماتے ہیں کہ میر چند ماہ کے لیے زندانی و زنجیری ہو گئے اور انہیں گھر میں زنجیر سے باندھ دیا گیا کیونکہ وہ گلی میں جاتے تو بچے پتھر مارتے۔ ان کا چاند میں کسی حسینہ کا عکس دیکھنا تو بہت مشہور ہوا۔

میر تقی میر کے علاوہ مصطفیٰ زیدی کا شہناز گل کے عشق میں گرفتار ہو کر یہ اشعار لکھنا۔

فنکار خود نہ تھی میرے فن کی شریک تھی
وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی
اس پہ کھلا تھا باب حیا کا ورق ورق
بستر کی ایک ایک شکن کی شریک تھی

اور جب وہ اس عشق میں کامیاب نہ ہوئے تو اقدام خودکشی کر لیا۔

میں تو سمجھتا ہوں کہ سعادت حسن منٹو کا جون ایلیا اور منیر نیازی کی طرح شراب میں اپنے غموں کو گھول کر پیتے رہنا CHRONIC SUICIDE کے ہی مترادف ہے۔

اس لیے عرض ہے کہ حساس ادیب اور فنکار چاہے مرد ہوں یا عورتیں وہ اپنی غیر روایتی اور تخلیقی زندگی کی بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنی صلیب اپنے کندھوں پہ لیے پھرتے رہتے ہیں۔

حضور والا!

چونکہ عورتیں کے مسائل اور ان کی جدوجہد آپ کے دل کے زیادہ قریب ہے اس لیے میں آپ کو ایک مشرقی لکھاری کی کہانی سناتا ہوں۔ امید ہے وہ کہانی آپ کے لیے اور "ہم سب” کے قارئین کے لیے بھی دلچسپی کا سامان لیے ہوئے ہوگی۔

ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد اور گناہِ پُرلذت

جب ایران میں امام خمینی کی اسلامی حکومت آئی تو فارسی کی مقبول شاعرہ فروغ فرخ زاد کی شاعری پر پابندی لگا دی گئی۔ امام خمینی کا خیال تھا کہ فروغ فرخ زاد کی نظمیں نوجوانوں کو اور خاص طور پر نوجوان لڑکیوں اور عورتوں کو گناہ کرنے کی تحریک و ترغیب دیتی ہیں۔

فروغ فرخ زاد دسمبر انیس سو چونتیس میں تہران میں پیدا ہوئی تھیں اور بتیس برس کی عمر میں فروری انیس سو سرسٹھ میں ایک کار کے حادثے میں ہلاک ہو گئیں۔

فروغ فرخ زاد کی سولہ برس کی عمر میں اکتیس برس کے پرویز شاپور سے شادی کر دی گئی۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ تہران سے اہواز چلی گئیں۔ ایک سال بعد ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام کامیار تھا۔

اٹھارہ برس کی عمر میں فروغ فرخ زاد نے نظمیں لکھنی شروع کیں۔ ان نظموں میں فروغ فرخ زاد نے عورتوں کے رومانوی و جنسی جذبات کا بے باکانہ اظہار کیا جس سے بہت سے روایتی لوگ بہت پریشان ہوئے۔ ان روایتی لوگوں میں ان کے شوہر بھی شامل تھے۔ انہوں نے ایک مشرقی اور روایتی شوہر بن کر فروغ فرخ زاد کو شاعری سے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن فروغ فرخ زاد نوجوانی سے ہی ایک آزاد و خود مختار عورت تھیں انہوں نے اپنی دلیرانہ شاعری کو جاری رکھا۔ فروغ فرخ زاد کے شوہر کو جب اندازہ ہوا کہ وہ انہیں شاعری کرنے سے نہیں روک سکتے تو انہوں نے فروغ فرخ زاد کو نہ صرف طلاق دے دی بلکہ ان سے ان کا اکلوتا بیٹا بھی چھین لیا۔ فروغ فرخ زاد بہت دکھی ہوئیں اور واپس اپنے والد کے پاس تہران چلی آئیں۔ تہران آنے کے بعد فروغ فرخ زاد نے اپنی غیر روایتی شاعری جاری رکھی۔
اٹھارہ برس سے بتیس برس تک فروغ فرخ زاد کے پانچ شعری مجموعے چھپے جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں
اسیر
دیوار
عصیاں
تولد دیگر
ایمان بر اوریم

فروغ فرخ زاد کی شاعری کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوئے۔ اردو میں ان کی نظموں کے ترجمے فہمیدہ ریاض نے کیے اور ‘کھلے دریچے’ کے نام سے انیس سو اٹھانوے میں چھپوائے۔ ’کھلے دریچے‘ نام رکھنے کا جواز فہمیدہ ریاض نے ایک انٹرویو سے لیا جس میں فروغ فرخ زاد فرماتی ہیں۔
’ شاعری میرے لیے ایک ایسا دریچہ ہے جس کی جانب جب میں جاتی ہوں
تو وہ خود بخود کھل جاتا ہے۔
میں اس دریچے میں بیٹھتی ہوں ’
گرد و پیش پر نظر ڈالتی ہوں ’
آواز دیتی ہوں ’
فریاد کرتی ہوں
آنسو بہاتی ہوں
اور درختوں کے عکس میں گھل مل جاتی ہوں
میں جانتی ہوں کہ دریچے کے اس پار بھی ایک فضا ہے
اور کوئی شخص ہے
جو میری بات سن رہا ہے
ایک شخص جو ممکن ہے
تین سو برس پہلے وجود رکھتا ہو یا
دو سو برس بعد پیدا ہوا ہو
اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔

تئیس برس کی عمر میں فروغ فرخ زاد کے دل میں فلم بنانے کا شوق پیدا ہوا۔ انہوں نے انگلستان جا کر فلم بنانے کی تربیت حاصل کی اور پھر جذامیوں پر ایک ڈاکومینٹری بھی بنائی۔ تبریز میں ڈاکومینٹری بناتے ہوئے انہوں نے ایک جذامی بچہ گود بھی لے لیا اور اسے اپنی والدہ کے پاس تہران لے آئیں۔ فلم بنانے کے دوران ان کی ملاقات ایک مشہور فلم ساز ابراہیم گولستان سے ہوئی۔ فروغ فرخ زاد نے گولستان کو اپنا شریک سفر چن لیا اور زندگی کے آخری چند سال ان کے ساتھ رہیں۔

فروغ فرخ زاد کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے نوجوانی میں ہی ان گنت روایات کو چیلنج کیا۔ انہیں بہت جلد یہ احساس ہو گیا تھا کہ وہ جس ماحول میں پلی بڑھی ہیں وہاں عورتوں پر بے شمار پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور انہیں اپنے جذبات کے اظہار کا خاص طور پر رومانوی اور جنسی جذبات کے اظہار کا موقع نہیں ملتا۔

فروغ فرخ زاد پر ایک شاعرہ ہونے کے ناتے یہ بھی منکشف ہوا کہ عورتوں کو مرد گناہ و ثواب کے جال میں پھنسا کر اور ایک نیک پارسا عورت بنانے کے تصور سے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے جب عورتیں اپنے محبت بھرے رومانوی جذبات کا اظہار کرتی ہیں تو احساس معصیت، احساس ندامت اور احساس خجالت کا شکار ہو جاتی ہیں۔

فروغ فرخ زاد ایک بہادر، نڈر اور دلیر خاتون تھیں۔ انہوں نے اپنے جذبات کا بے باکانہ اظہار کیا اور گناہ و ثواب کے تصورات سے بالا تر ہو کر شاعری کی۔ چونکہ انہوں نے اپنے معاشرے کے مذہب کی آمرانہ‘ جابرانہ اور غیر منصفانہ روایات کو چیلنج کیا اسی لیے ان کی نظموں پر امام خمینی نے پابندی عاید کی۔

فروغ فرخ زاد کی شاعری میں، محبت، چاہت، اپنائیت، رومانوی قربت اور مباشرت کے موضوعات پر نظمیں ملتی ہیں جو پچاس سال پیشتر مشرقی شاعری کی روایت میں کمیاب ہی نہیں بلکہ نایاب تھیں۔

فروغ فرخ زاد عورتوں کو بتانا چاہتی ہیں کہ وہ اپنے جسم، اپنے دل، اپنے ذہن اور اپنی محبت کی خود مالک ہیں انہیں اپنے جذبات کے اظہار کے لیے کسی مرد کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ چاہے وہ باپ ہو یا بھائی شوہر ہو یا بیٹا۔

وہ اپنی نظم دو لبوں کے درمیاں میں رقم طراز ہیں

شب کی اس رازدار خلوت میں
ایک سائے پہ خم ہوا سایہ
سانس لرزی کسی کے چہرے پر
دو لبوں میں بھڑک اٹھا بوسہ

فروغ فرخ زاد اپنے قارئین کو بتانا چاہتی ہیں کہ انسان کوئی فرشتہ نہیں وہ خطا کا پتلا ہے وہ گناہ بھی کرتا ہے اور اگر وہ گناہ کرتا ہے تو اسے اپنے گناہ پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ گناہ بھی اس کی ذات کا حصہ ہے جو اس کی شخصیت میں توانائی پیدا کرتا ہے۔ فروغ فرخ زاد کہتی ہیں کہ گناہ کو چھپانے کی بجائے اسے گلے سے لگانا چاہیے۔ ان کی مشہور نظم گناہ کیا میں نے کا فہمیدہ ریاض نے ان الفاظ میں ترجمہ کیا ہے۔

گناہ کیا میں نے
گناہ پر لذت
اک اس کنار میں جو گرم و آتشیں تھی بہت
اور ایسے بازوؤں میں
سلگ رہے تھے جو ’ظالم تھے‘ آہنی تھے بہت
اندھیری خلوت میں
اندھیری اور خموش
نظر ملی اس سے
نگاہ راز سے پر
عجب نیاز سے پر
اور ایسی خواہش سے
کہ بے قراری سے سینے میں دل مرا لرزا
میں اس کے پہلو میں بیٹھی رہی پریشان سی
لبوں نے اس کے لبوں پر مرے
ہوس چھڑکی
تو کیا ہوا مجھ کو
کہ میرے دل سے پریشانی زمانہ گئی
نہایت آہستہ
میں اس کے کان میں کہنے لگی فسانہ عشق
تری تمنا ہے جاناں، تری تمنا ہے
تری تمنا ہے، آغوش جاں فزا تیری
تری تمنا ہے
اے مرے دیوانہ عشق
ہوس سے اس کی نظر میں بھڑک اٹھے شعلے
شراب سرخ پیالوں میں رقص کرنے لگی
تھا نرم اک بستر
اور اس کے سینے پر
انوکھی مستی سے میرا بدن لرزتا رہا
گناہ کیا میں نے
گناہ پر لذت
کنار پیکر لرزاں
پیکر مدہوش
مرے خدا! مجھے کیا علم کیا کیا میں نے
اندھیری خلوت میں
اندھیری اور خاموش

فروغ فرخ زاد کی اس نظم کو پڑھ کر مجھے اپنا ایک قطعہ یاد آ گیا۔ آپ بھی سن لیں۔

گناہ
اسے نے چہرے کو تنویر میرے بخشی ہے
اسی نے چاند مری روح میں اتارا ہے
میں اعتماد کا پیکر بنا تو جان گیا
مرے گناہ نے کتنا مجھے سنوارا ہے

فروغ فرخ زاد اور ان کی غیر روایتی اور بے باک شاعری کو ساری دنیا کی فیمنسٹ عورتوں نے بہت سراہا لیکن جب ان سے عورتوں کے مسائل کے حوالے سے کی گئی ان کی شاعری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ شاعری کو فن اور زندگی کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔ کہنے لگیں میں شاعری کو مردانہ اور زنانہ خانوں میں بند کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔

’ میں جب شاعری کرتی ہوں تو یہ سوچ کر نہیں کرتی کہ میں ایک عورت ہوں اور مجھے عورتوں کے مسائل کے بارے میں لکھنا چاہیے۔ میں ایک انسان کے حوالے سے لکھتی ہوں یہ علیحدہ بات کہ میں انسان ہی نہیں، ایک عورت بھی ہوں اس لیے میرے انسانی جذبات میں عورت ہونے کے جذبات بھی شامل ہیں۔ جو شاعر ادب عالیہ تخلیق کرتے ہیں وہ مرد اور عورت ہونے سے بالاتر ہو کر اور انسان بن کر دوسرے انسانوں سے مخاطب ہوتے ہیں۔ یہی فن کی معراج اور شاعری کا کمال ہے۔‘

فروغ فرخ زاد نے اپنی شاعری سے ثابت کیا کہ عورتیں بھی انسان ہیں اور دوسرے مردوں اور عورتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی عورتوں کو انسان سمجھیں اور ان کی عزت و احترام کریں۔

فروغ فرخ زاد نے فارسی شاعری میں ایک انقلاب برپا کیا۔ ان کی نظمیں جدید فارسی شاعری کا ایک درخشاں باب ہیں اور مشرقی عورتوں کے لیے لمحہ فکریہ۔

فروغ فرخ زاد نے ساری دنیا کی عورتوں کو ہمت دی ’خود اعتمادی دی اور انہیں سر اونچا کر کے چلنے کا حوصلہ دیا۔

فروغ فرخ زاد کو اپنی آزادی فکر کی وجہ سے جو قربانیاں دینی پڑیں ان قربانیوں میں

ازدواجی قربانیاں بھی شامل تھیں اور خاندانی قربانیاں بھی
سماجی قربانیاں بھی شامل تھیں اور سیاسی قربانیاں بھی
مذہبی قربانیاں بھی شامل تھیں اور معاشی قربانیاں بھی

فروغ فرخ زاد نے شاعروں، دانشوروں، ادیبوں اور عورتوں پر اپنی زندگی اور اپنی شاعری سے یہ راز منکشف کیا کہ اگر آپ ایک آزاد و خود مختار زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اپنی آزادی کے لیے اپنے معاشرے کی پابندیوں کو چیلنج کرنے اور قربانیاں دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔

فروغ فرخ زاد نے اپنی آزادی کے لیے جو قربانیاں دیں ان میں سے ایک اہم قربانی یہ تھی کہ ایک محبت کرنے والی ماں ہونے کے باوجود ان سے نہ صرف ان کا بچہ زبردستی چھین لیا گیا بلکہ ان پر بے راہ روی کے الزام بھی لگائے گئے اور ان کے بیٹے کو یہ جھوٹ بھی بتایا گیا کہ تمہاری ماں تمہیں چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ اس دکھ کا عکس ان کی نظم چھوٹا سا گھر میں دکھائی دیتا ہے جس میں وہ فرماتی ہیں

جانتی ہوں کہ دور اک گھر سے
زندگی کی خوشی جا چکی ہے
رو رہا ہے وہاں کوئی بچہ
جس کی ماں چھوڑ کر جا چکی ہے
آہ میں خستہ جان و پریشاں
اپنی دھن میں چلی جا رہی ہوں
یار من شعر و دلدار من شعر
جا رہی ہوں کہ بس اس کو پا لوں

حضور والا!

پچھلے ادبی محبت نامے میں آپ نے اپنی پسندیدہ مغربی خواتین لکھاریوں کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کیے تھے اب میں آپ سے آپ کی مشرقی پسندیدہ خواتین لکھاریوں اور فنکاروں کے بارے میں کچھ جاننا چاہوں گا تا کہ خطوط کا یہ سلسلہ جاری رہے اور ہمارے مشترکہ قارئین یہ سوچتے رہیں کہ ہم ایک دوسرے سے اتفاق زیادہ کرتے ہیں یا اختلاف؟

آپ کی انشا پردازی کا مداح
خالد سہیل

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail