جب میں اور ڈاکٹر عمر عادل ہنی ٹریپ ہوئے


”جانو! سارے انتظام مکمل تھے۔ میں رات بھر انتظار کرتی رہی۔ اب میں ناراض ہوں“ ۔
”سویٹی! آئی ایم سوری“ ۔
”تم کب تک ناراض رہو گے“ ۔
”آج رات تم نہ آئے تو میری موت کے ذمہ دار تم ہو گے“ ۔

ممکن ہے ایسا کوئی ایس ایم ایس آپ کو بھی کبھی کسی نامعلوم نمبر سے آیا ہو۔ یا فون کال پر کسی انجان لڑکی نے روتے ہوئے یا کھل کھلاتے اسی طرح کی کوئی بات کر کے آپ کے جذبات برانگیختہ کیے ہوں۔ جن ہیں سن کر آپ کا دل پسیج گیا ہو۔

اور اگر آپ نے جواب دے دیا۔ تو خود کو خوش قسمت سمجھیں اگر صرف ایزی لوڈ سے ہی آپ کی جان چھوٹ جائے۔ ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آج کے دور میں واٹس ایپ میسج اور کال کے بعد تو معاملات اور آگے جا ہی چکے ہیں۔ آن لائن جو چاہو سو دیکھو والی متعدد ویب سائٹس تو بذات خود، آبیل مجھے مار کی زندہ مثال ہیں۔ جہاں سے کسی بھی لمحے کسی عقل ”رشید“ کو ، رشد و ہدایت یا بدنامی ملتے دیر نہیں لگتی۔

ایسے ایس ایم ایس اور فون کال مجھے بھی، متعدد بار ملے۔ لیکن میری ایک عادت ہے کہ نامعلوم نمبر سے آنے والی کال پر کبھی بھی اپنا اصلی نام نہیں بتاتا۔ کسی دوست یا پڑوسی کا نام بتا دیتا ہوں اور اگر مخاطب کہے کہ آپ سے ہی بات کرنی ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ فراڈ ہے اور اب بات بڑھانا وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔ اور اگر جاننے والے نمبر سے بھی کال آئے لیکن آواز نئی یا تبدیل ہو تب بھی میں اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتا۔ کیوں کہ میرا پہلا سوال بعد سلام کے یہی ہوتا ہے کہ ”آپ کون ہو!“ ۔

پنڈی، اسلام آباد میں میرا ٹھکانہ 33 برس کو چھو رہا ہے جس میں محض چار سال مارگلہ سے دور رہا۔

آج جرائم کی دنیا میں مردوں کو لبھاتی یا کسی کو بھی کوئی لالچ والی بات کر کے کہیں بلانا اور پھر اس کو مال و متاع سے محروم کر دینا۔ ہنی ٹریپ کہلاتا ہے۔ اس میں سب سے مشہور تو سندھ پنجاب کے سرحدی اور دریائی جنگلات کے علاقوں (جن کو کچے کا علاقہ کہا جاتا ہے ) ، شکار کو بلایا جاتا ہے اور پھر وہ اغواء ہوجاتا ہے۔ اس سے پہلے کوئی لڑکی (یا اس کی آواز میں ) پنجاب سندھ اور پختون خوا کے مردوں کو فون پر دل لبھاتی باتوں سے ان کے جذبات کو کئی راتیں گرماتی ہے۔ اور پھر ایک دن جب اس لڑکی کا باپ یا بھائی زبردستی اس کی شادی کسی بڈھے کے ساتھ کرنے والے ہوتے ہیں تو وہ آپ کو کہے گی کہ میں جہیز کا سارا زیور اور رقم لے کر سکھر، راجن پور یا فلاں جگہ پہنچ جاؤں گی۔ تم فلاں وقت، فلاں بس اڈے یا ریلوے اسٹیشن پر پہنچ جانا۔ اس دن وہ آپ سے آپ کی لائیو لوکیشن بھی مانگتی رہے گی تاکہ تصدیق رہے کہ مرغا ذبح ہونے کے لئے چل پڑا ہے۔ ایک دفعہ آپ گھر سے نکل پڑے تو پھر اللہ ہی بچائے۔

متعدد مرد اور خواتین، اس ہنی ٹریپ کے مرحلے کے دوران اپنی نازیبا تصویر یا ویڈیو بھی شیئر کر دیتی یا دیتے ہیں۔ سچے پیار کی علامت کے طور پر ۔ جب کہ دوسری طرف سے بھی ایسی تصویر یا ویڈیو آ چکی ہوتی ہے۔ مگر بے وقوف بننے والی پارٹی سچے پیار کے جھانسے میں یہ جانے بغیر کہ دوسری پارٹی کی تصویر، ویڈیو یا لائیو ویڈیو اصلی ہے یا نقلی۔ بہرحال حماقت کرتے ہیں اور اپنی اصل نازیبا تصاویر یا ویڈیو بھیج کر پھنس جاتے ہیں۔

بعض شکار تو ان کی طرف سے بھیجی گئی ویڈیو یا لنک کے پروگرام کو بھی انسٹال کرنے کی حماقت کر ڈالتے ہیں۔ جس کے بعد ان کا موبائل ان کا نہیں رہتا۔ شکاری کا ہوجاتا ہے۔ آپ کی گیلری کی تمام تصاویر، کنٹیکٹ لسٹ، سارے ایس ایم ایس، لائیو کیمرا، مائیک اور بنک کی تفصیلات ہی نہیں ہر طرح کے پاس ورڈ بھی شکاری کے پاس چلے جاتے ہیں اور پھر شروع ہوتی ہے بلیک میلنگ کی داستان۔

اسلام آباد میں لوگ ہنی ٹریپ آج سے نہیں ہو رہے۔ ماضی میں کوئی دو دہائیوں سے شکار کو مختلف جگہ بلایا جاتا تھا۔ پمز کی پارکنگ (اب اس کو کسی بھی بہت بڑی اور سنسان پارکنگ سمجھ لیں ) ۔ بعض اوقات لڑکی رات کو بلاتی اور آپ کی گاڑی میں آنے کے بعد جب جذبات میں جوار بھاٹا آنا شروع ہوتا۔ اس کے ساتھی آ جاتے جو پولیس والے سے لے کر لڑکی کے بھائی یا عاشق کوئی بھی ہوسکتے تھے۔ ماضی میں دوسری جگہ موجودہ راول ڈیم کا علاقہ ہوتا تھا۔ بہت سارے لوگ فاطمہ جناح پارک میں بھی بلائے گئے یا چڑیا گھر سے مونال کے راستے کے درمیان، یا دامن کوہ میں چلتے پھرتے ٹریپ ہو گئے۔ ان میں ایک سابق اسپیکر قومی اسمبلی بھی شامل ہیں۔

خواتین کو بھی آج کل ہنی ٹریپ کیا جاتا ہے۔ بعض کو نوکری کا جھانسے دے کر اور بعض یونیورسٹی اور کالج کی بچیوں کو اسکالرشپ یا ورک ایٹ ہوم کام کے لئے ٹریننگ کے نام پر ۔ پھر ان بے چاریوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ خود سمجھ لیں۔

بہت ساری پڑھی لکھی اور امیر خواتین کو بھی بڑے سلیقے سے 50 پرسنٹ ڈسکاؤنٹ یا ایک خریدیں دوسرا مفت کے نام پر برانڈڈ کپڑوں کا لالچ دے کر بلایا جاتا ہے۔ کبھی کسی گھر پر جہاں سیل لگی ہوتی ہے یا کسی دکان / برانڈ کی مخصوص آؤٹ لیٹ میں۔ مگر وہاں ہنی ٹریپ بچھانے والوں نے مخصوص ٹرائل روم میں پہلے سے کیمرے نصب کیے ہوتے ہیں۔ جہاں جانے کا مطلب سادہ الفاظ میں زندگی تباہ ہونا ہوتا ہے۔ لالچ بہرحال یوں ہی بری بلا نہیں ہے۔ یاد رکھیں یہ سب لوگ جرم کی دنیا میں آپ کے باپ ہوتے ہیں اس لئے کسی بھی حالت میں خود کو ان سے اسمارٹ مت سمجھیں۔ بحث بھی مت کریں۔ بس ان سے بچیں۔

ایک زمانے میں لوگوں کی مہنگی گاڑی چوری ہونے کے بعد ، جب تھانے میں رپورٹ درج کر وادی جاتی تھی۔ تو کچھ دن بعد مالک کو افغانستان یا کسی دوسرے ملک کی سم یا پرائیویٹ نمبر سے فون آتا تھا کہ آپ کی ساٹھ لاکھ کی گاڑی ہم نے کل ہی بیس لاکھ میں خریدی ہے۔ ریکارڈ چیک کرایا تو ملکیت آپ کی معلوم ہوئی ہے۔ ہمیں افسوس ہے۔ لیکن اگر آپ پولیس یا فوج کو بتائے بغیر ہمارے بیس لاکھ واپس کر دیں تو آپ گاڑی واپس لے جا سکتے ہیں۔ ورنہ ہم کل گاڑی سمیت افغانستان چلے جائیں گے۔ بعض لوگوں کو تو گاڑی کی مع افغانی نمبر پلیٹ تصویر بھی بھیج دی جاتی ہے۔ اب یہ صاحب بیس لاکھ روپے جمع کر کے درہ آدم خیل یا میراں شاہ پہنچتے ہیں۔ جہاں جاکر پیسے بھی ضبط ہو جاتے ہیں ساتھ پتہ چلتا کہ گاڑی کے لالچ میں آنے والا بندہ بھی، خود اغوا ہو گیا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ شکاری کو شکار کا موبائل نمبر کیسا ملا؟

جب سے نادرا میں وراثتی سرٹیفیکیٹ (جس میں مرنے والے کی جائیداد کی مکمل تفصیل موجود ہوتی ہے ) اور نادرا کے مطابق اس معلومات کو ایک اسٹمپ پیپر پر لکھوا کر اوتھ کمشنر سے تصدیق کرانے کا لازمی کام شروع ہوا ہے۔ اس معلومات کی بناء پر بھی لوگوں کو اغواء اور بلیک میلنگ کا سامنا ہونا شروع ہو گیا ہے ۔

اب آتے ہیں میرے قصے کی طرف، یہ 1982 کے آخر دنوں کا واقعہ ہے یعنی آج سے 42 سال پہلے کی بات۔

میرا داخلہ این ای ڈی یونیورسٹی میں تازہ تازہ ہوا تھا۔ اس وقت کراچی میں صرف دو جامعات تھیں۔ عمومی تعلیم کے لئے جامعہ کراچی اور فنی تعلیم کے لئے این ای ڈی۔

کراچی میں ڈاؤ میڈیکل اور سندھ میڈیکل کالج نام کے فقط دو طبی ادارے تھے۔ جن کو ڈگریاں بھی جامعہ کراچی جاری کرتی تھی۔ جب کہ داؤد انجینئرنگ کالج کو ڈگری این ای ڈی دیتی تھی۔ چند سال بعد آغا خان یونیورسٹی بھی وجود میں آ گئی۔

میرا داخلہ میرٹ پر ہو چکا تھا مگر کچھ ٹیکنیکل معاملات کی وجہ سے میٹرک کے کچھ کاغذات میں درستگی درکار تھی۔ جن کا تعلق سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن سے تھا۔ جس کا دفتر نیپا چورنگی پر واقع تھا۔ سیاسی تنظیم پاسبان کے روح رواں بھائی الطاف شکور، اس وقت این ای ڈی یونین کے صدر اور اب آسٹریلیا میں مقیم مصنوعی ذہانت کے ماہر ڈاکٹر مسعود محمود جنرل سیکریٹری تھے۔ ان دونوں نے ہی مجھے داخلے کے باوجود ان کاغذات کو درست کرانے کے لئے صلاح دی تھی۔

میرا تین 3 مرلے ( 80 گز) کا گھر ملیر کھوکھرا پار کے مضافات میں تھا۔ گھرانا سفید پوش کہلا سکتا تھا۔ کیوں کہ والد اور والدہ دونوں سرکاری ملازم تھے۔ میرے مسئلے کو حل کرانے کے لئے والد صاحب اپنے ایک عقیدت مند کے گھر لے گئے، جن کا کئی کنال پر محیط بنگلہ، اس وقت، پیر صاحب پگارا کی کارساز روڈ پر واقع رہائش، ”کنگری ہاؤس“ کے عقب میں، کے ڈی اے اسکیم ون اور شرف آباد کے علاقے میں واقع تھا۔

عقیدت مند کا نام تھا، ”ظفرالحق میمن“ ۔ پتہ چلا کہ ڈی آئی جی کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے جب کہ میں نے کبھی ان کا نام والد صاحب کے منہ سے نہیں سنا تھا اور نہ ان کی شکل دیکھی تھی۔ اس لئے میری حیرانی بجا تھی۔ جب کہ میاں بیوی دونوں ایسے بچھے جا رہے تھے جیسے میں ان کے کسی محسن کا بیٹا ہوں۔

انکل ظفر نے معاملے کو ہاتھ میں لیا اور والد صاحب کو کہا کہ آپ اب دفتر جائیں۔ اب یہ جانے اور میں۔ بعد میں انہوں نے مجھے بتایا کہ ریٹائر ہونے کے بعد جب ان کو گریجویٹی اور پنشن کے لئے اے جی پی آر کے لوگ فٹ بال کی طرح نچا رہے تھے۔ تو اس دوران، ان کی ملاقات گورنر سندھ ایس ایم عباسی سے ہوئی۔ جب ان ہوں نے ان کو اپنا دکھڑا سنایا تو بولے کہ ان کے بھی کسی عزیز کی پنشن پھنسی ہوئی تھی اور جب ان کے صوبائی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہونے کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوا، تب کسی نے انہیں ایک جعفری صاحب سے ملا دیا اور اس اللہ کے بندے نے ایک دو ہفتے میں میرے رشتے دار کے سارے معاملات حل کروا دیے۔ جنرل صاحب کے بقول میں نے گورنر ہوتے ہوئے ان صاحب کو بعد میں ڈیپوٹیشن پر سعودیہ بھیجنا چاہا تو انہوں نے منع کر دیا کہ اگر فیملی ساتھ نہیں جائے گی تو میں بھی نہیں جاؤں گا۔ بہرحال گورنر سندھ کی معرفت سابقہ ڈی آئی جی صاحب نے قبلہ والد صاحب المعروف جعفری صاحب سے رابطہ کیا اور یوں ان کا معاملہ بھی دھیلا خرچ کیے بغیر حل ہو گیا۔ بس جعفری صاحب کے ایک دو دشمن ضرور بڑھ گئے۔ اور اب میمن صاحب انہی جعفری صاحب کا احسان چکانے کا موقع مل نے پر خوش تھے۔

میں وہاں روزانہ ہفتے بھر تک جاتا رہا۔ بیگم ظفر یعنی آنٹی انتہائی محبت کرنے والی خاتون تھیں اور گھر میں یہی دونوں میاں بیوی ہوتے تھے (قسمت کی خوبی کہ میں کوئی بیس بائیس سال بعد ان کے بیٹے جواد ظفر پاشا کے ساتھ کام کر رہا تھا اور اس بات سے لاعلم تھا) ۔

میرا کام ظفر انکل سے براہ راست تعلق نہیں رکھتا تھا۔ کیوں کہ یہ سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن سے میرے کیے گئے میٹرک سے تعلق رکھتا تھا۔ لیکن انکل ظفر کے بھائی اسماعیل میمن ان دنوں، کراچی میٹرک بورڈ کے سربراہ تھے (بعد میں انٹر بورڈ کے سربراہ بھی بنے اور شاید بعد میں ایک ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن گئے تھے ) ۔ اللہ تعالی میرے والدین سمیت ان تمام بزرگوں کی مغفرت فرمائے۔

انکل اسماعیل سے بات ہو چکی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ میں آج کل بہت مصروف ہوں۔ لیکن جیسے ہی میٹنگز اور امتحانات سے وقت ملا۔ چند گھنٹوں میں کام ہو جائے گا۔ لیکن کام فون پر نہیں ہو پائے گا مجھے خود جانا ہو گا۔ سو میں روزانہ انکل ظفر کے گھر پہنچا ہوتا تھا۔

دو تین دن بعد ، دوپہر کا وقت تھا۔ انکل اسماعیل کے ملنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ میں شرف آباد کے بنگلے سے این ای ڈی جانے کے لئے نکلا جو ظاہر ہے ایک متمول علاقہ تھا۔

جینز شرٹ پہنے اور ہاتھ میں این ای ڈی کا فائل کور لئے میں سڑک کے کنارے کھڑے کسی منی بس کا انتظار کر رہا تھا۔ جو مجھے سوک سینٹر لے جا سکے جہاں سے این ای ڈی یا کراچی یونیورسٹی کے پوائنٹ سے میں اپنی منزل پر پہنچ جاتا۔ کارساز سے سوک سینٹر، براستہ نیشنل اسٹیڈیم جانے والی متعدد منی بسیں گزریں مگر کھچاکھچ بھری تھیں اس لئے میں انتظار کرتا رہا کیوں کہ مجھے کوئی جلدی نہیں تھی۔

اسی اثناء میں ایک کار میرے پاس آ کر رکی۔
شیشہ نیچے ہوا تو سولہ سال کے نئے نئے جوان ہوتے یعنی میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

ایک انتہائی خوب صورت لڑکی، نے اپنے گاگلز کو بڑے اسٹائل سے اوپر کیا۔ اور مجھ سے ”انگریزی“ میں مخاطب ہوئی۔

ایکسکیوز می۔ کیا آپ مجھے یہ پتہ بتا سکتے ہیں۔

ایک چٹ لئے تھوڑا وہ آگے ہوئی تھوڑا میں نے شیشہ سے منڈی اندر کی۔ ناک کے نتھنوں میں ایک مسحور کردینے والی پرفیوم کی خوش بو نے مجھ پر جادو سا کر دیا۔ چہرے سے نیچے نظر پڑی تو حیران رہ گیا۔ اس نے شرٹ پہن رکھی تھی۔ جس کے کھلے اوپری بٹن مجھے مزید پاگل کرنے لگے۔ انگریزی میں اسے پتہ سمجھایا تو اس نے پہلے راستہ دہرایا پھر خود ہی کنفیوز ہوتے ہوئے اب اردو میں بولی کہ مجھے پتہ دوبارہ سمجھاؤ گے۔

پتہ کیا تھا۔ سوک سینٹر سے چند منٹ کے فاصلے پر حسن اسکوائر کا کوئی بلاک تھا۔ راستہ پھر سمجھایا۔ تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے پریشان کہنے لگی کہ تم این ای ڈی میں ہو۔ کہا، ہاں، تو کہنے لگی۔ ابھی کہاں جا رہے ہو۔ بتایا سوک سینٹر: تو بولی۔ وہ تو شاید میری منزل کے پاس ہی ہے۔ میں نے ہاں کہا تو لجلجا کر ساتھ بڑے اٹھلاتے بولی۔ پلیز، اگر مائنڈ نہ کرو تو میرے ساتھ سوک سینٹر تک چلے چلو۔ اس کے بعد میں حسن اسکوائر چلی جاؤں گی۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ وہ بھی اس قتالہ کے قرب میں اور میں کسی تنویمی عمل کے زیر اثر کچھ دیر بعد اس کے پہلو میں پسنجر سیٹ پر بیٹھا تھا۔

٭٭٭
ارے، میری کہانی سے پہلے ایک اور ہنی ٹریپ کی کہانی سنیں۔

اس کے راوی میرے لاہوری دوست، اور آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر عمر عادل ہیں۔ جی وہی جو چند ہفتوں پہلے غریدہ فاروقی اور عائشہ جہاں زیب کے بارے میں کسی پوڈ کاسٹ میں کی گئی بات پر زیر عتاب تھے۔ اور اب لوگوں کو یاد بھی نہیں۔ اور آج کل اداکارہ ریشم کے زیرعتاب ہیں۔

ڈاکٹر عمر کے مطابق کچھ عرصے پہلے، لگ بھگ رات ایک بجے ان کے موبائل پر واٹس ایپ میں کال کی گھنٹی بجی۔ نامعلوم نمبر، برطانیہ کا تھا۔ کہنے لگے میں نے کال اٹینڈ کرلی یہی سمجھتے ہوئے کہ کوئی برطانیہ سے چاہنے والا ہو گا۔ جہاں اس وقت رات 8 بجے ہوں گے۔

دوسری طرف انگریزی میں بات کرتی ایک خاتون تھیں جو انتہائی پریشان تھیں لیکن ان کی آواز کسی کو بھی اپنے سحر میں جکڑنے کے لئے کافی تھی۔ کہنے لگیں۔ ڈاکٹر صاحب میں آج ہی لندن سے لاہور آئی ہوں۔ یہاں آ کر میری والدہ باتھ روم میں سلپ ہو گئی ہیں۔ اور میرا اندازہ ہے کہ ان کی کوئی ہڈی فریکچر ہو گئی ہے۔ میں نے گوگل سرچ کیا کہ تو لاہور میں اچھے آرتھوپیڈک میں آپ کا نام سب سے اوپر آیا۔ اس لئے آپ کو کال کر رہی ہوں۔

یہ بولے۔ شکریہ محترمہ لیکن میں کیا کر سکتا ہوں۔

کہنے لگیں میں آپ کو اپنی لوکیشن کی پن بھیج رہی ہوں اگر آپ پلیز اس وقت آ سکیں۔ کہنے لگے، میں پریشان آواز پر نکلنے ہی لگا تھا کہ ”عقل جذبات پر حاوی ہو گئی“ ۔

میں نے پوچھا کہاں آنا ہے تو اس نے ڈیفنس کے ایک بلاک کا پتہ بتایا۔ میں نے کہا کہ میڈم بہتر نہ ہو گا کہ آپ 911 یا کسی ہسپتال یا اس کی ایمرجنسی کو کال کریں۔ کیوں کہ میرے آنے سے بھی کیا فرق پڑے گا۔ وہ بولی لیکن میں آج ہی آئی ہوں اور میرے موبائل میں مقامی نمبر ڈائل کرنے کی سہولت نہیں اسی لئے آپ کو واٹس ایپ پر کال کی ہے۔

عمر عادل کے کان کھڑے ہو گئے۔

کہنے لگے۔ ٹھیک ہے مس، میں آ جاتا ہوں لیکن کیا آپ کے علم میں ہے کہ میری گھر پر وزٹ کرنے کی فیس بیس ہزار روپے ہے۔ وہ بولی، ”اِٹس اوکے، آئی ول پے یو ہنڈریڈ ڈالرز“ ۔

کہا۔ مس میں آپ کو اپنا ایڈوانس بل بھیج رہا ہوں اور ساتھ اپنا بنک اکاؤنٹ نمبر بھی۔ آپ میری فیس ٹرانسفر کر دیں میں جب تک اپنی ایمرجنسی میڈیکل کٹ تیار کرتا ہوں اور کسی ہسپتال کی ایمبولینس کو بھی مفت ساتھ لے آؤں گا۔ آپ پیسے ٹرانسفر کر دیں۔ کیوں کہ میں سفر پیسے وصول ہونے کے بعد ہی شروع کروں گا۔

وہ خاتون جو ، اب تک :

”جانو! سارے انتظام مکمل ہیں۔ میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔ نہ آئے تو ناراض ہو جاؤں گی“ ، کا پرچم بلند کیے ہوئے تھی۔ اس نے جھلاتے ہوئے صرف ایک لفظ کہا۔ باسٹرڈ۔

ڈاکٹر عمر کے بقول میں آج تک پیسے ٹرانسفر ہونے کا انتظار کر رہا ہوں۔
٭٭٭

کارساز اور نیشنل اسٹیڈیم کے عین وسط میں، (لگ بھگ اس مقام کے سامنے جہاں آج نیوی کا میری ٹائم میوزیم واقع ہے ) ، وہ قتالہ بڑے اٹھلاتے مجھ سے بولی۔ پلیز، اگر مائنڈ نہ کرو تو میرے ساتھ سوک سینٹر تک چلے چلو۔ اس کے بعد میں حسن اسکوائر چلی جاؤں گی۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ وہ بھی اس اپسرا کے قرب میں اور میں کسی تنویمی عمل کے زیر اثر گاڑی میں بیٹھا تھا۔

کار چلی اور سفر جس نے بمشکل چار سے پانچ منٹ میں مکمل ہوجانا تھا۔ میرے دل سے دعا نکلی کہ کاش یہ سفر کبھی ختم نہ ہو۔ اس حسینہ دل ربا کو بھی میری خواہش کا علم ہو چکا تھا۔ اور واقعتاً ہم بس باتیں اور مزید باتیں کر رہے تھے۔ میں جس کو اپنی ہم عمر لڑکی سمجھتے ہوئے۔ دل و جان سے لٹو ہو چکا تھا۔ اس خوب صورت لڑکی کا نام ”مارگریٹ“ تھا۔ کم از کم تئیس چوبیس سال کی تھی اور کسی عامل کی طرح مجھ سے پوچھ رہی تھی اور میں معمول کی طرح اس کے حسن کے زیراثر جواب دے رہا تھا۔

مجھ میں اتنی عقل پھر بھی تھی کہ میں نے اسے اپنی نام نہاد امارت سے مرعوب کرنے کے لئے اپنا تعارف اس طرح کروایا تھا کہ میرا تعلق پنجاب کے ایک زمیندار گھرانے سے ہے اور این ای ڈی میں داخلہ مل نے کے بعد یہیں اپنے چچا کے گھر رہتا ہوں۔ ریڈیو اور ٹی وی پر کام کرنے کے بارے میں بھی میں نے خوب گپیں ماری تھیں۔

حیرت کی بات کی تھی کہ خالی سڑک ہونے کے باوجود چار پانچ منٹ کا فاصلہ مکمل ہونے میں شاید بیس منٹ لگ گئے ہوں گے۔ کار چل نہیں رہی تھی بلکہ رینگ رہی تھی۔ اور مارگریٹ بات کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً ایک عجیب طریقے سے میری طرف جھک جاتی تھی۔ ایک آدھ بار گیئر تبدیل کرتے ہوئے اس کا ہاتھ بھی میری ران سے چھوا۔ جس سے جسم میں ایک عجیب سا کرنٹ دوڑ جاتا۔ میں کبھی کبھار اسے راستہ بتا بھی دیتا تھا، جب کہ درحقیقت بتانے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔

ہم دونوں دنیا بھر کی باتیں ایسے کر رہے تھے جیسے بچپن کے ساتھی ہیں جو کمبھ کے میلے میں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے۔ پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا یعنی ہم حسن اسکوائر کے اس بلاک کے سامنے کھڑے تھے۔ جہاں اس دل ربا کی منزل تھی۔ وہ آخری بار بولی۔ ڈیئر، مجھے خوشی ہوگی اور اگر تمہیں دیر نہ ہو رہی ہو تو ایک کپ کافی ہو جائے۔ میری ماما تم سے مل کر بہت خوش ہوں گی۔ اور میرے کانوں میں انہی دنوں ریڈیو سیلون سے بناکا گیت مالا میں نشر ہونے والا لتا دیدی کا تازہ ترین گانا گونجنے لگا۔

”شاید میری شادی کا خیال دل میں آیا ہے۔ اسی لئے ممی نے میری تمہیں چائے پہ بلایا ہے“ ۔
مارگریٹ کی طرف سے ایک ایسی دعوت جو شاید جنت کے بدلے بھی ملتی تو میں ہاں کر دیتا۔ تو ”نہ“ کون کرتا۔

گاڑی سے نکل کر ہم فلیٹس کی طرف چلے تو وہ کسی پائیڈ پائپر کی طرح میرے آگے چل رہی تھی۔ یکایک میرے ذہن میں ایک جھماکا ہوا۔

سارے راستے میں نے جو کچھ اپنے بارے میں بکواس کی تھی وہ ایک طرف۔ ٹرانس سے نکلتے، اب مجھے اس ساحرہ مارگریٹ کی کچھ باتیں یاد آنا شروع ہو گئیں۔ جو میں اب تک سنی ان سنی کرتا رہا تھا۔ اس نے راستے میں دوران گفتگو مجھے بتایا تھا کہ وہ پی آئی اے میں ائر ہوسٹس ہے۔ اور پچھلے تین سال سے کراچی میں رہ رہی تھی!

میں نے ایک جھرجھری بھری اور عقل نے کہا کہ قبلہ جو لڑکی تین سال سے یہاں رہ رہی ہے، گاڑی چلاتی ہے اور دنیا بھر میں سفر کرتی ہے وہ کیوں اپنے ہی گھر کا پتہ مجھ سے پوچھ رہی تھی۔

دماغ نے کہا۔ بیٹا بھاگ لے۔

میرا دل یکایک بہت زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ لمحے بعد وہ سینہ توڑ کر باہر مارگریٹ کے سامنے پڑا ہو گا۔ خود کو قابو رکھتے، میں نے اس سے کہا۔ فلیٹ کا کون سا نمبر ہے۔ کہنے لگی۔ تیسری منزل پر پہلا۔ میں نے اپنے سے کئی سال بڑی مارگریٹ سے بڑے پیار سے کہا۔

بے بی، تم چلو، میرا بٹوا اور یونیورسٹی کے ہاسٹل کی چابی گاڑی میں رہ گئی ہے۔ مجھے ذرا گاڑی کی چابی دو تاکہ میں ابھی گاڑی سے نکال لوں کیوں کہ ممکن ہے کہ واپسی میں بھول نہ جاؤں۔ اس نے بے بی کہنے پر ناراض ہوئے بغیر کہا۔ بعد میں لے لینا۔

میں نے کہا، نہیں واپسی پر تمہیں خوامخواہ نیچے آنا پڑے گا۔ میں یہ چیزیں نکال کر ابھی واپس آتا ہوں۔ وہ بولی۔ پکا۔ میں نے مسکراتے کہا۔ تمہاری قسم۔

تڑکا لگایا کہ بلکہ میں سامنے والے میڈیکل اسٹور سے ایک ”میڈیسن“ بھی لے آؤں۔ ساتھ ایک مسکراہٹ بھی اس کی طرف اچھال دی۔ اس نے جو اباً مسکراہٹ کا ایک سیلاب بصورت ہوائی بوسہ میری طرف اچھال دیا۔

میں نے چابی لی۔ گاڑی کا دروازہ کھولا۔ وہ زینوں سے اوپر جا رہی تھی۔ میں نے چپ چاپ چابی گاڑی میں چھوڑی۔ شیشہ تھوڑا سا نیچے کیا۔ اور واپس آتے ہوئے، پہلے نزدیکی میڈیکل اسٹور کے پاس پہنچا اور پھر اپنی سمت ایک دوسری محفوظ جگہ کی طرف کی اور تیز چلتے ہوئے، علاقہ چھوڑ دیا۔

کون سی این ای ڈی۔ میں نے چپ چاپ اپنے گھر کی راہ لی۔ کیوں کہ میں ابھی ابھی ایک خوب صورت چڑیل سے مل کر آ رہا تھا۔

گھر آ کر کسی کو اس واقعہ کے بارے میں بتانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کیوں کہ اب تک سبھی اچھا تھا۔

اگلے دن، انکل ظفر کے گھر علی الصبح پہنچا کہ اسماعیل صاحب کبھی بھی پہنچنے کا کہہ سکتے تھے۔ انکل ظفر نے کچھ کاغذات لکھ رکھے تھے۔ کچھ دیر بعد میں نے، ان کا اولمپیا کا ٹائپ رائٹر سنبھال رکھا تھا۔ اور ایسی تیزی سے ٹائپنگ کر رہا تھا۔ جیسے ہاون دستے میں مصالحہ کوٹ رہا ہوں۔

بات چیت کے دوران، ”پولیس والے بابا“ ، کو جانے کیسے اور کب شک ہوا۔ کہنے لگے۔ تم کچھ پریشان لگتے ہو۔ یہ سچ بھی تھا کیوں کہ میرا خیال تھا کہ وہ مارگریٹ شاید اب بھی یہیں کہیں گھوم رہی یا موجود ہوگی اور جب میں سڑک پر جاؤں گا تو مجھے پکڑ سکتی تھی۔ اس لئے کہ میری دانست میں، فدوی اس کا دل توڑ کر بھاگ آیا تھا۔

میں نے ناپ تول کر ، اپنی اسٹوری تبدیل کرتے ہوئے۔ انکل کو مارگریٹ کا واقعہ سنایا۔ ساتھ اپنے بھاگنے کی کہانی۔

وہ مجھے غور سے گھورتے رہے۔ اور مزید گھورتے رہے۔

کہنے لگے گاڑی کا نمبر یاد ہے۔ میں نے کہا۔ آپ کو تو پتہ ہے فوٹوگرافک میموری ہے۔ سو تین ہندسوں کا نمبر انہیں گاڑی کے رنگ سمیت بتا دیا۔ سوچتے رہے۔ کہنے لگے۔ ایسا کرو یا تو آج رات یہیں رک جاؤ یا کل صبح چھ سات بجے تک یہاں آ جاؤ۔ میں نے کہا۔ میں رات کو رک جاتا ہوں۔ کہنے لگے یہ زیادہ بہتر ہے۔

اس رات کو کوئی گیارہ بارہ بجے کے قریب، ہم گھر سے نکلے تو ایک پرانی سی کار میں کچھ لوگ پہلے سے موجود تھے۔ میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا تو ایک آدمی نے لڑکیوں کی سنہری وگ میرے سر پر سجا دی۔ ساتھ میرے کلین شیو چہرے پر ہلکی سی لپ اسٹک اور بلش آن مارا۔ ایک دوپٹہ بھی میرے گلے میں ڈال دیا۔ کچھ دیر بعد بڑی بڑی پلکیں بھی میری آنکھوں پر لگی تھیں۔

میں نے بیک ویو مرر میں دیکھا تو پینٹ شرٹ پہنے پیاری سی ماڈرن لڑکی نظر آ رہی تھی۔

ہم رات کے اس پہر مارگریٹ کے ٹھکانے پر پہنچے۔ اس کی کار کچھ فاصلے پر کھڑی ہوئی تھی۔ جس کا مطلب تھا کہ وہ گھر پر ہی ہوگی۔ آنے والے شخص نے اپنا تعارف سی آئی ڈی کے افسر کے طور پر کرایا تھا۔ پوچھا، کیا تم لڑکیوں کی طرح بول سکتے ہو۔ میں نے لڑکی کی آواز میں ہی کہا۔ ہاں۔ تو زور زور سے ہنسنے لگا۔ کہنے لگا میں تم سے پہلے جاکر چوتھی منزل پر انتظار کروں گا۔ میرا ساتھی دوسری منزل پر ہو گا۔ تم نے مارگریٹ کے فلیٹ پر جاکر، اسے باہر بلانا ہے اور صرف اس کو پہچاننا ہے۔ اگر وہ نہ نکلے تو باہر آنے والے سے پوچھنا کہ فلاں نمبر کی گاڑی آپ کے گھر کی ہے۔ ہاں کی صورت میں کہنا کہ اس گاڑی نے ہماری گاڑی کا راستہ روکا ہوا ہے۔ کوئی آئے یا بحث کرے تو کہنا ٹھیک ہے ہم اپنی گاڑی نکال لیتے ہیں اور آپ کی گاڑی کو نقصان پہنچا تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے ۔ ساتھ کہنے لگا کہ ہم اپنی گاڑی کو جب تک اس کی گاڑی کے ساتھ پھنسا دیتے ہیں۔ میں تیسری کی بجائے پہلے چوتھی منزل پر گیا اور وہاں کے فلیٹس پر سے ایک صاحب کا نام پڑھا۔

میرا خون جوش مار رہا تھا۔

گھنٹی پر خوابیدہ مارگریٹ خود ہی باہر آئی۔ اس نے ایک گاؤن یا نائٹی پہنی ہوئی تھی۔ میں سوری کر کے ”بولی“ کہ یہ ”شاہد صاحب“ کا گھر ہے۔ بولی۔ نو وے۔ میں نے کہا۔ فورتھ فلور فلیٹ ون۔ وہ اوپر اشارہ کر کے بولی وہاں ہے۔ میں سوری بول کر اوپر چلی گئی جہاں وہی افسر بدستور انتظار کر رہا تھا۔ میں نے اس کے کان میں بات کی۔ اس نے حجت پوری کرنے کے لئے شاہد صاحب کے گھر کی گھنٹی بجائی۔ اور ان سے کچھ بات کر کے ہم دونوں کچھ دیر بعد نیچے آ گئے۔

گاڑی میں بیٹھے تو مین روڈ پر آ کر ان لوگوں نے مجھ سے پوچھا۔ حلیہ درست کرنا ہے یا ایسے ہی چلے گا؟ میرا حلیہ درست کرنے کے بعد انہوں نے مجھے میرے گھر کی منی بس میں بٹھا دیا۔ اس کے بعد کیا ہوا، اس کا علم مجھے ظفر انکل سے نہیں بلکہ کچھ دن بعد ان کے گھر آئے اخبار سے ہوا، جو انکل نے خصوصی طور پر میری طرف ہنستے ہوئے اچھالا تھا۔

اس زمانے یعنی 1982 میں مارگریٹ اور اس کے ساتھی، متمول خاندان کے لڑکوں کو بہلا پھسلا کر وہاں لاتے تھے، پھر ان لڑکوں کی کپڑوں کے بغیر تصاویر اور ویڈیوز بنالی جاتی تھیں۔ یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ اس دن شرف آباد سے مارگریٹ نے جس شریف لڑکے کو اٹھایا وہ نہ صرف کنگلا بلکہ واقعی شریف تھا۔ مارگریٹ ائر ہوسٹس ضرور تھی۔ مگراس کا نام اصلی تھا یا فرضی یہ میں نہ جان سکا۔

ہوشیار۔ کیوں کہ سامنے رکنے والی کار کی خاتون ڈرائیور آپ کو بلا رہی ہے۔ شاید اسے بھی کسی کا پتہ پوچھنا ہے۔

Facebook Comments HS