ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیئشن کمیشن کا قیام
آپ غلطیاں کرتے ہیں اور پھر سیکھتے ہیں۔ خود سے نہ سیکھیں تو وقت سکھاتا ہے۔ سیاست دانوں کو وقت نے سکھایا۔ سیکھ کر میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔ میثاق جمہوریت در اصل کچھ غلطیوں کو نہ دہرانے کا سیاسی عزم تھا۔ مختلف اکائیوں کو ساتھ ملا کر آگے بڑھنے کا ارادہ تھا۔ طریقے سلیقے سے اپوزیشن کرنے کا جذبہ تھا۔ جنرل مشرف کی رخصتی کے بعد یہی میثاق در اصل ہمارے نئے سیاسی سفر کا نقطہ آغاز بنا۔
اس پورے عرصے میں اگرچہ ہواؤں نے بہت زور ڈال رکھا تھا، مگر چراغ نے بھی لو کو کافی حد تک سنبھال رکھا تھا۔ کبھی میمو گیٹ سکینڈل تھا، کبھی تیز تر عدالتی انصاف تھا۔ کبھی انتخابی اصلاحاتی بل کے نام پر احمدی ایشو تھا، کبھی پانامہ تھا۔ کبھی ہیٹ سے نکلتا ہوا کلبھوشن یادیو کا کبوتر تھا، کبھی ڈان لیکس تھا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ آوازیں تھیں کہ میثاق جمہوریت مک مکا ہے۔ پانچ سال پورے کرنے والا عزم محض باریاں لگانے کا ایک طریقہ ہے۔ سیاسی حدود اربعہ کے اندر رہتے ہوئے جو اپوزیشن ہو رہی ہے یہ در اصل چوروں اور ڈاکووں کا ایک دوسرے کو بچانے کا حربہ ہے۔
کچھ وقت کے لیے خاموش ہو جانے والے مذہبی نعرے پھر سے تازہ ہو گئے۔ حب الوطنی کے جذبے کو بارہ مصالحے لگ گئے۔ احتساب کی پرانی میزانیں پھر سے قائم ہو گئیں۔ جیلوں کے پھاٹک دوبارہ سے اٹھ گئے۔ انجام کار ہر سیاست دان کو اپنی دستار بچانے کی پڑ گئی۔ ایک ایک کر کے میثاق جمہوریت کے سارے پنے منہ زور سونامی میں بہہ گئے۔
اٹھارہ کے انتخابات کے نتیجے میں ریاستی طاقتوں نے جو تجربہ کرنے کی کوشش کی، وہ مقتدرہ کے حق میں کامیاب رہا، عوام کے حق میں صفر رہا۔ اس عرصے میں پاکستانی سیاست کے تار و پو بکھر گئے۔ سولو فلائٹ کا چلن عام ہو گیا۔ سیاست حق و باطل کا معرکہ بن گئی۔ مشاورت، شراکت اور شمولیت کے غنچے بن کھلے مرجھا گئے۔
اب حالات پہلے سے زیادہ کشیدہ ہیں۔ پارلیمنٹ کی گاڑی چڑھائی پر رکی ہوئی ہے اور دھکا لگانے والوں کا اپنا بی پی گرا ہوا ہے۔ قائد حزب اقتدار اور قائد حزب اختلاف دونوں کو ہی اپنے پرانے مینڈیٹ واپس چاہئیں۔ محکمہ دفاع کی داخلی الجھنیں اب چائے خانوں کا موضوع ہیں۔ عدالتیں تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ میڈیا ہاؤسز طاقتور حلقوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی فی سبیل اللہ میڈیا سیل بن چکی ہیں۔ الیکشن کمیشن میں فارم پینتالیس اور سینتالیس کی نہ ختم ہونے والی بحثیں ہے۔ مسجدیں اور خانقاہیں سیاسی مراکز بن چکی ہیں۔ سیاسی مراکز پر کسی زیر تعمیر مدرسے کا گمان گزرتا ہے۔
ایک نظر سیاسی حالات بھی دیکھ لیں۔ کراچی میں ایک سیاسی جماعت کالعدم ہے۔ اس جماعت کا خلا پر کرنے کے لیے جو ایک سو بیس تجربے کیے گئے، سب ناکام گئے۔ نتیجے میں کراچی کی سیاسی نمائندگی پارلیمنٹ میں صفر پہ جا چکی ہے۔ امید کی جانی چاہیے تھی کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی بیچ کی راہ نکالی جائے گی۔ اس مسئلے کا حل کیا نکلتا، تحریک انصاف جیسی مین سٹریم جماعت کو کالعدم قرار دینے کی آوازیں آ گئیں۔
کاروبار حکومت میں ہر چیز غالب کا مصرعہ بنی ہوئی ہے۔ ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی پارلیمان میں موجود ہے مگر نہیں ہے۔ کیونکہ وہاں اس کا نام سنی اتحاد کاونسل ہے۔ مسلم لیگ حکومت میں ہے، مگر نہیں ہے۔ کیونکہ نواز شریف اینڈ کمپنی اس سے لاتعلق ہیں۔ حکومت میں پیپلز پارٹی بھی ہے، مگر نہیں ہے۔ کیونکہ وزارت کا قلم دان ان کے پاس نہیں ہے۔ پنجاب میں وزارت اعلی کا منصب مریم نواز کے پاس ہے، مگر نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں سارے فیصلے میاں نواز شریف کر رہے ہیں۔ پختونخوا میں امین گنڈا پور وزیر اعلی ہیں، مگر نہیں ہیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی کے سنجیدہ ورکر انہیں دیکھ کر اکثر سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ یہ ہم ہی ہیں یا کوئی اور ہے۔ بلوچستان اور پختونخوا کے لوگ سڑکوں پر ہیں، مگر نہیں ہیں۔ کیونکہ میڈیا انہیں نہیں دکھا رہا۔ اس وقت صراط مستقیم پر صرف حافظ نعیم الرحمن ہیں، مگر نہیں ہیں۔ کیونکہ میڈیا اشتہارات کے بعد سب سے زیادہ انہی کو دکھا رہا ہے۔
مزید آگے چلیں! باپ پارٹی ماڈل بلوچستان میں کامیابی سے لاگو کیا جا چکا ہے اور پختونخوا میں کامیابی کے ساتھ انسٹال ہو رہا ہے۔ دونوں ہی صوبوں میں سیاسی قوتوں کو پس منظر میں دھکیلا جا چکا ہے۔ نتیجے میں مسائل بڑھ گئے ہیں اور مسائل کا حل دینے والا کوئی نہیں رہا۔ بڑھتے ہوئے سیاسی خلا کو زمین کے بیٹے خود آگے بڑھ کر پر کر رہے ہیں۔ ہمیں اگر بلوچ عورتوں کی قیادت میں نکلا ہوا بلوچستان کا شعور عام نظر نہیں آ رہا تو ہمیں اپنی یہ اعزازی آنکھیں نابینا افراد کے لیے جیتے جی دان کر دینی چاہئیں۔
پڑوسی ممالک میں ایک نہیں جو ہم سے خوش ہو۔ ملک کے اندر ایک بھی طبقہ ایسا نہیں جو خود اپنے سفر سے بھی مطمئن ہو۔ سب تباہ ہو گیا ہے اور سب کو شکایتیں ہیں۔ سارے مسائل اور ساری شکایتوں کو نچوڑا جائے تو ایک انگلی بنتی ہے اور وہ انگلی بات بات پہ راولپنڈی سکیم تھری کی طرف اٹھ جاتی ہے۔ اور کیوں نہ اٹھے!
اب بات ہونی چاہیے۔ سوال مگر یہ ہے کہ بات کہاں سے شروع کریں۔ تحریک انصاف کہتی ہے تحریک عدم اعتماد والے دن سے بات شروع ہونی چاہیے۔ مسلم لیگ کہتی ہے کہ سال 2013 سے بات شروع کرنی پڑے گی۔ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ اگر کرنی ہی ہے تو پھر بھٹو کی پھانسی سے کیوں نہ شروع کریں۔ اگر اتنا دور نہیں جانا تو پھر 1988 یا 93 سے شروع کر لیتے ہیں۔
سب کا سوال اپنے اپنے پس منظر میں مقتدرہ سے ہے اور مقتدرہ نے جنرل فیض حمید کو گرفتار کر کے مزے کی ایک دھول اڑا دی ہے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی کچھ سیاسی ذہنوں کو لگ رہا ہے کہ یہ کسی بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔ تبدیلی کے ایسے اشارے ہماری سیاسی زندگی میں ہر پندرہ سال بعد آتے ہیں۔ اگلے پندرہ سال اسی اشارے کے پیچھے بھاگتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ تھک ہار کے رکتے ہیں تو اشارہ بہت تیزی سے نکل کر آگے کہیں بجھ جاتا ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو ٹرک کی بتی تھی۔ اگلے پندرہ سالوں کے لیے فیض حمید والی بتی ٹرک کے پیچھے فٹ کر دی گئی ہے۔ یہ بتی دیکھتے ہی ہم سارے دکھ درد بھول گئے۔ یہ بھی بھول گئے کہ جنرل فیض حمید کی پکڑ کسی آئینی، قانونی یا سیاسی خلاف ورزی پر نہیں ہوئی ہے۔ یہ پکڑ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ہوئی ہے۔ ہم نے کہا تھا پارلیمان، عدالت، الیکشن کمیشن، سینیٹ اور میڈیا پر قبضہ کرو تم نے ہاؤسنگ سوسائٹی پر بھی قبضہ کر لیا؟ غلط بات! سزا ملے گی، برابر ملے گی۔
اب راستہ ایک ہی ہے۔ سیاسی جماعتیں پھر سے کسی میثاق سے پر دستخط کریں۔ مگر یہ ہو نہیں پائے گا۔ مقتدرہ خان صاحب کو معافی دینے سے انکاری ہے اور خان صاحب سیاسی قبیلے کی طرف آنے سے انکاری ہیں۔ خان صاحب جب تک سیاسی دھڑے سے رجوع نہ کرلیتے تب تک میثاق کی کوئی بھی کوشش بے معنی ہوگی۔
چلیے فرض کریں کہ خان صاحب نے رجوع کر لیا ہے، تو پھر؟ خان صاحب اگر سیاسی قبیلے کی طرف آ جاتے ہیں تو بھی سائن ہونے والے میثاق جمہوریت کو خطرات لاحق رہیں گے۔ کیا پتہ اگلے منظر نامے میں شاہد خاقان عباسی، شاہد آفریدی، اقرار الحسن اور شیر افضل مروت نئی قیادت بن کر آئیں اور سب بہا کر لے جائیں؟ تب تو بہت ہی مشکل ہو جائے گی جب اس نئی قیادت کے ساتھ ویلفیئر ادارے چلانے والی وہ ساری سماجی شخصیات بھی چلی آ رہی ہوں جن کے ایک ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم ہے دوسرے ہاتھ میں ستارہ امتیاز ہے۔
اب کیا کیا جائے؟
حالات اب میثاق جمہوریت والی ضرورت سے بہت آگے نکل گئے ہیں۔ میثاق جمہوریت والے مقاصد حاصل کرنے کے لیے اب بہت ضروری ہے کہ ریاستی اداروں کے بیچ کسی مضبوط اور مربوط میثاق کی راہ نکالی جائے۔ یہ محنت طلب کام ہے۔ اس کے لیے ریاستی اداروں کے بیچ ایک بامقصد ڈائیلاگ کا آغاز کرنا پڑے گا۔ یہ وہ بات ہے جو رضا ربانی صاحب نے تب کہی تھی جب وہ چیئرمین سینیٹ ہوا کرتے تھے۔ اس آواز پر مسلم لیگ نون نے لبیک بھی کہا تھا۔
مگر رک جائیے! اب اس ڈائیلاگ کا وقت بھی گزر چکا ہے جس کی بات رضا ربانی یا کچھ سیاسی حلقے کرتے تھے۔ اگر ڈائیلاگ ہوتا ہے تو اس بات کا بہت امکان ہے کہ ریاستی طاقتیں جنرل فیض حمید جیسا لالی پاپ پکڑا کر سیاسی طاقتوں کو چلتا کر دیں۔ سو، اب وقت ہے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیئشن کمیشن قائم کرنے کا۔ یہ وہ آواز ہے جو ہماری سیاست میں بے نظیر بھٹو لگایا کرتی تھیں۔ آج ملک کے حالات صبح شام یہی آواز لگا رہے ہیں۔
یہ کمیشن پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے سانحے کی کمیشن رپورٹ کو کھول کر میز پر رکھے۔ مسلسل آئین شکنیوں پر الفاظ چبائے بغیر بات کرے۔ سیاسی جماعتوں کی توڑ پھوڑ، فلور کراسنگ، ہارس ٹریڈنگ اور فارورڈ بلاک والی سیاست کا حساب کرے۔ ہماری ریاست اور سیاست میں قائم عدالتی تجاوزات کا جائزہ لے۔ کرپشن، بدعنوانیوں اور بد انتظامیوں کا تخمینہ لگائے۔ ذمہ دار کون تھے اور آلہ کار کون تھے، واضح کرے۔ غلطیاں کون سی تھیں اور جرائم کون سے تھے، اسے الم نشرح کرے۔ مقدمے بازیوں، احتسابوں، جیلوں، پھانسیوں اور جلا وطنیوں کا ذکر بھی چھیڑے۔ کہاں کون کیسے ملوث تھا، نشاندہی کرے۔ کتنی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، تعین کرے۔ یہ سب ہو جائے تو سبھی نمائندے اپنے اپنے حصے کی غلطیوں اور جرائم کا اعتراف کریں۔ علامتی سزاؤں کا بندوبست کریں۔ کم از کم بھی اپنے کیے کرائے پر توبہ کریں اور ایک نئے عمرانی معاہدے کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم کریں۔
یہ ممکن ہو گا کیسے؟
یہ تب ممکن ہو گا جب کوئی سیاسی جماعت اٹھے اور ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیئشن کمیشن کی بات اونچے سروں میں کرے۔ اس بات کو وہ صبح شام کا ایسا وظیفہ بنا لے کہ یہ قومی مباحثوں کا ایک نمایاں حصہ بن جائے۔ اس کے لیے کسی ایسی جماعت کو آگے آنا پڑے گا جو بات 1948 سے شروع کرنا چاہتی ہو۔ بستی میں بہت اندھیرا ہے۔ ہے کوئی جماعت جو روشنی کو اپنا دل جلا دے؟

