بدلاؤ


میں اس وقت کوٹ ادو میں جاب کرتی تھی۔
ہاسپیٹل کے کوریڈور میں ایک خاتون ملی اور میرے گرد بازو لپیٹ لیا۔
”چھومی۔“ اس نے والہانہ انداز میں کہا۔

میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ پہچان نہ سکی۔ مگر خوش دلی سے مسکرائی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے آفس میں لے آئی۔ میں مسلسل اس کے چہرے پر نظر رکھے، پہچاننے کی کوشش میں مصروف تھی۔ اور دل ہی دل میں نادم بھی کہ مجھے یاد ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ میری کوئی دوست ہے یا عزیزہ ہے۔

میں آفس میں آ بیٹھی۔ وہ بھی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
”پہچانا نہیں۔ ؟“ اس نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
”نہیں!“ میں نے شرمندگی سے سر نفی میں ہلایا۔
”میں۔ سہاگنڑ۔“ (سہاگن)
میں نے ایک یادوں سے بھرا کمنڈل اپنے اندر کے کھوہ (کنویں ) سے نکالا۔ ”میرے بچپن کی سہیلی۔ سہاگنڑ۔“
میں نے اٹھ کر دوبارہ اسے گلے لگا لیا۔
”کیسی ہو تم؟“
”بالکل ٹھیک۔ تم سناؤ۔ “ وہ خوش ہو گئی کہ وہ اب تک مجھے یاد تھی۔
”میں بس تمھارے سامنے ہی ہوں۔“ میں نے ہنس کر اس کا سخت اور کھردرا ہاتھ دبایا۔

میں پرائمری سکول میں پڑھتی تھی۔ یہ لوگ ہمارے ساتھ والے گھر میں آئے تھے۔ درمیان میں مشترکہ دیوار تھی۔ سہاگنڑ چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ دو بھائیوں سے چھوٹی تھی جو اس کے سگے بھائی تھے۔

ایک آدمی ہر وقت دھلے دھلائے صاف ستھرے کپڑے پہنے ان کے گھر بیٹھا رہتا۔ وہ کچھ بھی نہیں کرتا تھا۔ سہاگنڑ نے بتایا کہ وہ اس کا سوتیلا باپ ہے۔ اور کوئی کام نہیں کرتا۔ چھوٹے چاروں بھائی اسی کی اولاد تھے۔

اس کے دونوں بھائی بھی سارا دن گھر میں سوئے رہتے۔ شام کو اٹھتے، تیل کی تین چار شیشیاں کنٹر میں ڈالتے اور ”کھڑک۔ کھڑک“ کرتے مزدوری کے لئے نکل جاتے۔ وہ دونوں ’تیل مالش‘ کا کام کرتے تھے، دونوں رات گئے واپس آتے۔

یہ ساری باتیں مجھے سہاگنڑ بتاتی تھی جو عمر میں مجھ سے کچھ بڑی تھی۔

اس کے غریب بھائیوں کی محنت کی کمائی گھر کے نو افراد کے لئے ناکافی تھی کیونکہ گھر کا کرایہ بھی اسی میں سے دینا ہوتا تھا۔

سہاگنڑ اس آدمی کا ذکر شدید نفرت سے کرتی جو اپنے چار بچوں سمیت اس کے بھائیوں کا لہو چوس رہا تھا۔ نہ تو سہاگنڑ سکول جاتی تھی نہ ہی اس کے چھوٹے بھائی سکول جاتے۔

وہ اپنی ماں سے بھی نفرت و محبت کے رشتے میں بندھی تھی۔
جب میری امی تندور پر اپنی روٹیاں پکا لیتیں تو وہ شاید انتظار کر رہی ہوتی تھیں۔ فوراً آواز دیتیں۔

”بی بی۔ میں آ کے روٹیاں لاواں چا۔ سیک ہوسی تنور ءچ؟“ (بہن۔ میں آ کر روٹیاں تندور پر لگا لوں۔ تندور گرم ہے؟ )

میری امی وہیں سے آواز دیتیں۔
”جی۔ بی بی۔ آ ونج۔“ (ہاں بہن آ جائیں )
وہ فوراً خود آجاتی یا سہاگنڑ کو بھیج دیتی اور روٹیاں پکا لیتی۔ اگر سیک کم ہوتا تو میری اماں کہتیں

”اے چا گھن۔ ہک ڈو کاٹھیاں بیاں پا چا۔ اٹا نہ ونجا۔“ (یہ ایک دو لکڑیاں اور تندور میں ڈال دو، آٹا ضائع مت کرو۔ )

جب روٹیاں پک رہی ہوتیں تو سہاگنڑ کے چھوٹے بھائی انتظار کرتے۔ جیسے ہی روٹی تندور سے اترتی تو نیچے رکھی چنگیر میں جانے سے پہلے ہی وہ اسے اچک کر بھاگ جاتے۔ آخری چند روٹیاں وہ چنگیر میں لے کر گھر جاتی۔ سہاگنڑ خود بھی روٹی کے ٹکڑے توڑ توڑ کر منہ میں ڈالتی رہتی۔ میری اماں اس بات کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتیں۔

ایک دن ان کی دیکھا دیکھی میرے بھائی نے تازہ پکی ہوئی روٹی اٹھائی تو میری اماں نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔ بھائی نے روٹی وہیں رکھ دی۔ میری اماں روٹیاں پکا کر فارغ ہوتیں تو سب کو ساتھ بٹھا کر کھانا دیتیں۔

جب میں کچھ بڑی ہوئی تو ساحر لدھیانوی کی نظم کے مصرعے
میں جہاں ہوں وہاں تہذیب نہیں پل سکتی
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی۔
جب بھی پڑھتی۔ میری نظر میں سہاگنڑ اور اس کے بھائی آ جاتے۔

میں سوچتی پتا نہیں اب وہ کس حال میں ہوں گے۔ یہ بدلے ہوئے حالات۔ یہ آسودگیاں۔ وقت کی تبدیلی۔ ان کے گھر میں کتنا بدلاؤ آیا۔ ان کے حصے میں کتنی آسودگی آئی۔

ایک دن اس نے مجھے کہا۔

”چھومی۔ میں نے گھر سے بھاگ جانا ہے۔ سامنے ریلوے سٹیشن ہے۔ میں کسی دن کسی گاڑی میں بیٹھوں گی اور پھر وہ مجھے جہاں بھی پہنچا دے وہ جگہ اس گھر سے تو بہتر ہی ہو گی“

میں لرز کر رہ گئی۔ اور اپنی اماں کو یہ بات بتا دی۔ میری اماں نے تفکر سے مجھے دیکھا۔ پھر جب وہ آئی تو اسے اپنے پاس بٹھا کر سمجھایا۔ کہ دنیا اس کے گھر سے بہت زیادہ بری ہے۔ وہ اس جنگل میں اس طرح بالکل نہ نکلے۔ دنیا میں اسے بھائی اور ماں ہرگز نہ ملیں گے۔

اس دن کے بعد وہ جب بھی آتی۔ میری اماں اسے اپنے پاس بٹھا لیتیں اور اسے میرے پاس تنہا بیٹھنے ہی نہ دیتیں کیونکہ وہ جان چکی تھیں کہ سہاگنڑ اپنی عمر سے زیادہ بڑی ہو چکی ہے۔

ایک دن میری اماں نے سہاگنڑ سے پوچھا
”تمھاری اماں کسی کسی دن کہاں غائب ہو جاتی ہیں۔ سارا دن گھر سے اس کی آواز ہی نہیں آتی۔“

”ماسی۔ پتا نہیں اماں کہاں جاتی ہیں۔ بس جب واپس آتی ہیں تو ان کی مٹھی میں بہت سارے پیسے ہوتے ہیں۔ جس سے ہمارے کئی دن آرام سے گزر جاتے ہیں۔“

اس دن میری اماں اور ابا جی دیر تک کھسر پھسر کرتے رہے۔
میری اماں کی آواز مجھے سنائی دی۔
” چھومو کے ابا۔ آپ دادا سے بات کریں ناں۔ “
وہ مکان میرے والد کے دادا کا تھا جو ابھی حیات تھے۔ اور مکانوں کا کرایہ خود وصولتے تھے۔
اگلے مہینے وہ گھر خالی ہو گیا۔ اور ہر وقت میرے گھر آ جانے والی سہاگنڑ پھر مجھے کبھی نظر نہ آئی۔
آج کئی زمانوں کے بعد وہ میرے سامنے موجود تھی۔
میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔

سستا سا کاٹن کا جوڑا پہنے، جس کا رنگ دھل دھل کر بد رنگ ہو چکا تھا۔ سانولی رنگت پر سیاہ چھائیوں کے گہرے دھبے تھے۔ چہرے پر پاؤں میں ڈالی چپل سے زیادہ تھکن تھی۔

”چھومی۔ تو کتنی اچھی لگ رہی ہے۔“
اس نے پھر محبت سے میرا ہاتھ پکڑ لیا
”سہاگنڑ۔ تم کیسی ہو۔ شادی ہو گئی۔ خوش ہو ناں۔“
میں نے سوچا ہو سکتا ہے اس کا شوہر مزدور آدمی ہو۔ تن من کے سکھ مہنگے کپڑوں میں تو نہیں ہیں۔
وہ تلخ سی ہنسی۔ اس نے ایک حسرت بھری نگاہ مجھ پر ڈالی۔ ویسے۔ جیسے مجھے سکول جاتے ہوئے دیکھتی تھی۔
”ویسے ہی ہوں۔ جیسے پہلے تھی۔ قسمت نہیں بدلی۔“
”تمھارا شوہر کیا کرتا ہے؟“
میں نے پوچھا
”وہی جو میری ماں کا شوہر کرتا تھا۔ بس میں ہی کرتی رہتی ہوں کچھ نہ کچھ۔“
”کیا؟“ میری آواز جیسے کسی پاتال سے آئی۔

”بہت کچھ۔“ اس نے ایک لمبی سانس لی۔ ”اور وہ بھی جو میری ماں کرتی تھی۔ بدلاؤ تو آ گیا ہے بس اب اپنی ماں کی جگہ میں ہوں۔“

Facebook Comments HS

One thought on “بدلاؤ

  • 22/08/2024 at 9:58 شام
    Permalink

    چھومی۔۔ نک نیم ۔۔ بہت عمدہ۔🌺

Comments are closed.