پاکستان میں امریکہ اور چین کے امکانی مشترکہ مفادات


میں اپنی گزارشات عرض کرنے سے قبل ووڈرو ولسن انٹرنیشنل سنٹر فار سکالرز واشنگٹن کے ایشیاء پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین، چائنہ رینمن یونیورسٹی کے پروفیسر جو، پاکستان سٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد مگسی، یو سی پی کے شعبہ سیاسیات کے سربراہ ڈاکٹر وحید خان، فاسٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹر رضا زیدی، خضر گوندل، امجد محمود، گوہر بٹ، جاوید فاروقی، خاور عباس، گوہر علی، کنسلٹنٹ ایسٹ ویسٹ انسٹیٹیوٹ برسلز ظفر مہدی، سی پیک اسکالر اقرا فضل اور دیگر تمام شرکا کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری دعوت پر آج کے سیمینار میں شرکت کی۔

پاکستان کے حوالے سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان دنیا کے لئے دو جہتوں سے اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی اقتصادی اہمیت بھی مسلمہ ہے جبکہ خطے کی سلامتی بھی اس سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر پاکستان کی موجودہ کمزور اقتصادیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وطن عزیز کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو پاکستان بھی مجبور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی تزویراتی ضروریات کے حصول کی غرض سے کسی دفاعی معاہدے میں شمولیت اختیار کر لے۔ یقینی طور پر یہ کوئی خوش کن کیفیت نہیں ہوگی مگر قومی سلامتی کی بقا کی خاطر کڑوا گھونٹ نصیب بن جاتا ہے۔ تمام علاقائی بین الاقوامی قوتوں کے ذہن میں یہ نقش ہونا چاہیے کہ پاکستان کو مجبور کرنے سے جہاں وطن عزیز پر اثرات مرتب ہوں گے وہیں پر دیگر متاثرین بھی ضرور ہوں گے ۔ جب سابقہ سوویت یونین نے انیس سو اکہتر کی جنگ سے قبل انڈیا سے دفاعی معاہدہ کیا اور عالمی اخلاقیات کو پامال کرتے ہوئے ڈھٹائی سے پاکستان کو دولخت کرنے میں انڈیا کا مائی باپ بن گیا تو پاکستان اس پر بے بسی سے خون کے گھونٹ پینے کے علاوہ اور کچھ نہ کر سکا مگر دل میں داغ رہ گیا۔ پھر جب سابقہ سوویت یونین افغانستان میں کمیونسٹ ذہن کے حامل حکمران ٹولے کی حفاظت کے لئے طورخم تک آ پہنچا تو اس وقت پاکستان کے پاس سوویت یونین مخالف ریاستوں کا ساتھ دینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

یقینی طور پر سوویت یونین کے سابقہ ہونے میں تنہا صرف پاکستان کا ہی کردار نہیں تھا لیکن اس حقیقت سے انکار در حقیقت، حقیقت کا منہ چڑانا ہو گا کہ پاکستان کا اس میں اہم کردار نہیں تھا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ افغان جنگ کے بعد امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا اور یہ دونوں زخموں کو مندمل کرنے کی اپنے تئیں کوشش کرتے رہے۔ مگر اس تنہا چھوڑنے کے بعد بلکہ اس کی وجہ سے ہی افغانستان کے حالات نے نائن الیون جیسے سانحہ کو جنم دیا۔

اس لئے دور حاضر میں بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان پاکستان ہے اور اس کو دیوار سے لگانے کی حکمت عملی سے مکمل طور پر گریز کرنا چاہیے یہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہو گا۔

میں صرف کسی تنہائی کے نتیجے کے طور پر بد امنی کی ہی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ اس کے زبردست معاشی نتائج بھی برامد ہوں گے ۔ یہ اقوام عالم کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ افغانستان اس وقت بھی غیر مستحکم ہے  اور وہاں کی حکومتی گرفت پر سوالیہ نشانات موجود ہیں۔ وہاں سے دہشت گردی کا ناگ صرف ہمارے لئے ہی پھن پھیلائے کنڈلی مار کے نہیں بیٹھا ہے ہے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی اس پر شکایت کنندہ بن رہے ہیں۔ چین کے لئے سنکیانگ کا مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے اہداف صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ افغانستان سے نکل کر پاکستان، چین اور خطے کے دیگر ممالک کو غیر مستحکم کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔ پاکستان کی تزویراتی اہمیت ایران سے لے کر پورے عرب خطے میں موجود ہے

پاکستان وہ عجمی ملک ہے کہ جس پر عرب دنیا اعتماد کرتی ہے اور ہمارے ان سے تصفیہ طلب مسائل موجود نہیں ہیں۔ پاکستان کی فوجی طاقت بھی مسلمہ ہے۔ پاکستان اور انڈیا دونوں نیوکلیئر طاقتیں ہیں اور ان کا آپس میں گتھم گتھا رہنا نہ صرف کے ان دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی تزویراتی امور کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی تجارت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر کشمیر کا مسئلہ حل کیا جائے تو اس سے صرف دونوں ممالک کے عوام کو ہی سکون کا سانس نصیب نہیں ہو گا بلکہ پاکستان اور انڈیا کے ساتھ ساتھ دنیا اس سے مستفید ہوگی۔ اگر چین اور امریکہ پاکستان اور انڈیا کے باہمی تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تو عالمی تجارت کو نفع ہی نفع حاصل ہو گا۔ مثال کے طور پر امریکہ کی سرپرستی میں انڈیا سے تجارتی راہداری قائم کی جا رہی ہے۔ جو کہ بھارت سے اسرائیل اور اسرائیل سے یورپ تک سامان تجارت کا راستہ ہو گا۔ اس راہداری کی گزرگاہ پاکستان کی سمندری حدود کے بالکل سامنے ہے اور پاکستان سے مخاصمت کی صورت میں یہ راہداری ہر وقت غیر محفوظ رہے گی۔ بالکل اسی طرح بی آر آئی کا پائلٹ پروجیکٹ سی پیک ہے جو کہ چینی مصنوعات سینٹرل ایشیا سے یورپ، افریقہ تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ چین اور بھارت ایرانی تیل، گیس کا حصول چاہتے ہیں مختصر ترین راستہ صرف پاکستان بنتا ہے، انڈیا سینٹرل ایشیا اور یورپ کی منڈیوں تک رسائی چاہتا ہے۔ پاکستان سے کم سفر کہی اور سے ممکن ہی نہیں ہے۔ پاکستان کی سب سے زیادہ ایکسپورٹس امریکا کو ہی کی جاتی ہے۔ غیر ملکی زر مبادلہ کمانے میں امریکہ کا اور اس کے اتحادی ممالک کا اہم ترین کردار ہے۔ بالکل اسی طرح سے چین کی اہمیت پاکستان کی معیشت میں مسلمہ ہو چکی ہے۔ جب پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا تھا تو اس وقت چین نے ہی آگے بڑھ کر سرمایہ کاری کی تھی۔ چینی سرمایہ کاری کو پاکستان درست انداز میں سنبھال نہیں سکا ہے اور غیر ضروری طور پر مغربی روٹ تیار کر کے قرضوں کا بوجھ ہم نے اپنے اوپر خود بڑھا لیا ہے۔ لیکن اگر ابھی بھی سمجھ داری سے چین سے معاملات کیے جائیں تو ان قرضوں کے معاملات کو بھی حل کیا جا سکتا ہے۔ اگر سفارت کاری میں سمجھ بوجھ دکھائی جائیں تو پاکستان ان دونوں ممالک کو ایک ساتھ لے کر چل سکتا ہے جو ان دونوں کی بھی ضرورت ہے۔

( یہ تقریر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کے زیر اہتمام ”پاکستان میں امریکہ اور چین کے امکانی مشترکہ مفادات“ کے موضوع پر کی گئی ”

Facebook Comments HS