شادی رجسٹر نہیں، بچوں کا اندراج کیسے
”میری والدہ ترن کور، میرے والد سردار ایشر سنگھ کی پنشن کے فوائد نہیں حاصل کر سکیں کیونکہ ان کی شادی رجسٹر نہیں تھی۔ میرے والد ننکانہ صاحب میں ایک سیوا دار تھے۔ وہ حکومت کے ملازم تھے اور انھوں نے اپنی مدتِ ملازمت پوری ہونے تک کام کیا۔ ان کی وفات کے بعد میری والدہ ہر طرح سے ان کی پنشن کی حقدار تھیں لیکن کیونکہ میرے والدین کی شادی کا اندراج سرکاری سطح پر نہیں ہوا تھا اس لئے وہ ان کی پنشن سے مستفید نہ ہو سکیں“ ۔ ڈاکٹر کلیان سنگھ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے پروفیسر صاحب نے بتایا۔
25 مئی 2024 تک پاکستان میں بسنے والی سکھ برادری کے پاس اپنے مذہب کے مطابق اپنی شادی کی رجسٹریشن کرانے کے لئے ملک میں کوئی قانون نہیں تھا۔ شادی کے اندراج کے قانون کی عدم موجودگی میں وراثت میں ملنے والے اثاثوں سمیت کئی مسائل پیدا ہو رہے تھے۔ جب شادی رجسٹر نہیں ہوتی تھی تو بچوں کی پیدائش کا اندراج نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نکاح نامہ کا مطالبہ کرتی تھی۔ بچوں کا ب فارم حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا اور ان کے بالغ ہونے پر ان کا شناختی کارڈ نہیں بنتا تھا۔ جس کے نتیجے میں وہ اکثر سرکاری اور نجی شعبے میں اپنے حقوق، مراعات اور روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں ناکام رہتے۔ اگر کوئی جوڑا ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرتا تو اس کا بھی کوئی قانونی طریقہ نہیں تھا۔ یقیناً وہ طلاق فائل نہیں کر سکتے تھے جب ان کی شادی ہی رجسٹر نہیں ہوتی تھی۔
تاریخی طور پر 1909 میں برصغیر پاک و ہند میں آنند میرج ایکٹ جاری ہوا۔ اس کے بعد سے سکھ گرو گرنتھ صاحب کے گرد چار پھیرے لے کر شادی کرتے تھے۔ 2012 میں بھارت نے آنند کارج (ترمیمی) بل پاس کیا۔ جس کے بعد سکھ اپنی شادیوں کو اس بل کے تحت رجسٹر کرا سکتے تھے۔ البتہ پاکستان کی سکھ برادری آنند میرج ایکٹ 1909 پر ہی عمل پیرا تھی۔ تاہم یہ قوانین سکھ مذہب کو علیحدہ مذہب نہیں مانتے بلکہ بنیادی طور پر یہ ہندو مذہب کے لئے ہی ہیں۔
25 مئی کو پنجاب کابینہ نے وزیرِ اعلیٰ، مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں پنجاب سکھ آنند کارج میرج رجسٹرار اور میرج رولز 2024 کو پنجاب سکھ آنند کارج میرج ایکٹ 2018 کے لئے منظور کیا۔ ایکٹ پاس ہونے کے چھ سال بعد اس کے رولز پاس ہو نا ایک طرف تو لمحہٗ فکریہ ہے اور دوسری طرف پیغامِ خوشی۔ انسانی حقوق اور اقلیتی امور کے وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑا نے اسے سکھوں کے لئے ایک تاریخی دن قرار دیا اور کابینہ میں تبصرہ کیا، ”پنجاب دنیا میں پہلا صوبہ بن گیا ہے جس میں سکھ میرج ایکٹ نافذ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ بھارت میں بھی سکھوں کو اپنی شادیاں ہندو میرج ایکٹ کے تحت درج کروانا پڑتی ہیں“ ۔
پاکستانی پنجاب کے سکھ ایک عرصے سے شادی کے قانون کے لئے کوشاں تھے۔ 2018 میں پنجاب اسمبلی نے پنجاب سکھ آنند کارج میرج ایکٹ 2018 منظور کیا جسے اس وقت کے رکن اسمبلی سردار رمیش سنگھ اروڑا نے 2017 میں پیش کیا تھا۔ ایکٹ کے سیکشن 7 کے تحت حکومت کو ایکٹ کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے رولز بنانے تھے۔ تاہم سیاسی عدم استحکام، افسر شاہی کے مسئلے اور متعلقہ وزارتوں کی جانب سے عزم کی کمی اس راہ میں بڑی رکاوٹیں تھیں۔ نتیجتاً ایکٹ کو لاگو کرنے کے لئے قواعد کی تشکیل چھ سال سے معدوم تھی اور سکھ برادری 2018 سے ایکٹ کے نفاذ کا انتظار کر رہی تھی۔
آخرکار سکھ اب پنجاب سکھ آنند کارج میرج ایکٹ 2018 کے تحت شادیاں رجسٹر کروا سکتے ہیں جس سے انھیں اپنے مذہبی حقوق پر عمل پیرا ہونے کی آزادی مل گئی ہے۔ انھیں ایک علیحدہ مذہب کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ پانچ رکنی کمیٹی (سنگت) دلہا اور دلہن کے درمیان معاملات پر سفارشات پیش کر سکتی ہے۔ حکومت کی طرف سے مجاز آنند کارج میرج رجسٹرار اور چیئرمین کی منظوری سے یونین کونسل یا میونسپل کمیٹی میں شادی کی رجسٹریشن کے بعد جوڑے کو آنند کارج میرج سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔
ایکٹ کے سیکشن 6 کے مطابق طلاق کا خواہاں کوئی بھی فریق یونین کونسل کے چیئرمین کو قانونی نوٹس دینے اور دوسرے فریق کو اس کی کاپی بھیجنے کا پابند ہو گا۔ چیئرمین فریقین کے درمیان مفاہمت کے لئے ایک مصالحتی کمیٹی تشکیل دے گا۔ اگر نوٹس کی تاریخ سے نوے دنوں کے اندر صلح نہیں ہو پاتی تو چیئرمین شادی کے ختم ہونے کا اعلان کرے گا اور طے شدہ طریقے سے نکاح کی تحلیل کا سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔
پنجاب سکھ آنند کارج میرج ایکٹ 2018 کے سیکشن 8 کے مطابق یہ پنجاب میں کسی دوسرے متعلقہ قانون کو سپرسیڈ (Override) کرتا ہے، اس لئے پنجاب میرج ریسٹرینٹ (ترمیمی) ایکٹ 2015 میں پنجاب میں لڑکیوں کی شادی کی سولہ سال عمر سکھ لڑکیوں پر لاگو نہیں ہوتی۔ ایکٹ کا سیکشن 3 ( 1 ) دونوں فریقین کی شادی کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زائد مقرر کرتا ہے۔ جو ملک میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کی طرف ایک قدم ہے۔
سردار رمیش سنگھ اروڑا نے بیان دیا ہے کہ دوسرے صوبوں اور ملکوں سے سکھ اپنی شادی رجسٹر کروانے کے لیئے پاکستان آسکتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ غیر ملکی اپنی شادی کو پنجاب، پاکستان میں کیسے رجسٹر کروا سکتے ہیں۔ کسی مخصوص علاقے کے قوانین اس علاقے کے شہریوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ قانون میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ چیئرمین دلہن کی یونین کونسل سے ہو گا۔ بنائے گئے رولز ان سوالوں کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے۔ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ کئی دیگر قوانین کی طرح پنجاب سکھ آنند کارج میرج ایکٹ 2018 اور اس کے قواعد میں استعمال کی گئی زبان جامع یا صنفی طور پر غیر جانبدار نہیں ہے۔ مثلاً یونین کونسل کے چیئرپرسن کی بجائے چیئرمین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
پرشانت سنگھ، اسسٹنٹ کنٹرولر پنجاب یونیورسٹی کے مطابق، ”اگرچہ پاکستان میں بسنے والے زیادہ تر سکھوں کی آبادی پنجاب میں رہائش پذیر ہے۔ تاہم سندھ اور بلوچستان میں بسنے والے سکھوں کے لئے شادی کرنے اور اس کی رجسٹریشن کے لئے قانون کا نہ ہونا سکھوں کی جداگانہ مذہبی شناخت کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ جسے آئین پاکستان کے آرٹیکل 36 کے مطابق تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور، شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی میثاق، اور اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی میثاق کا فریق ہونے کے ناتے، پاکستان کے تمام علاقوں کو سکھ برادری کے لئے ان کے بنیادی حقوق کی پاسداری کے لئے شادی کے قوانین کو نافذ کرنا چاہیے“ ۔
قانون کے نفاذ کے لئے انتظامی اقدامات کے ایک جامع سیٹ کی ضرورت ہے۔ شادی کی رجسٹریشن کے لئے آنند کارج میرج رجسٹرار اور سنگت کے لئے مقامی حکومتوں کا ایک متحرک نظام ہونا چاہیے۔ اگر یہ نہیں ہوا تو چیئرمین کا فرض کیسے سر انجام دیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ نظام کسی بھی شریکِ حیات کی طرف سے طلاق درج کروانے اور مصالحتی کمیٹی بنانے کے لئے بھی ضروری ہے۔ مزید برآں حکومتِ پنجاب مختلف یونین کونسلوں میں سکھ مذہب کے پیروکار اہل افراد کو آنند کارج رجسٹرار بننے کے لئے مقرر کردہ طریقے سے فی الفور لائسنس جاری کرے۔



It was sad on part of the reps of Sikh community not to get this issue resolved in 77 years
Honestly I formulated a one page new Marriage rules for all Pakistani citizens (all religion) which will help both parties now and future also that include reducing chances of forced conversion to frauds (various types) and assistance to brides while getting Divorce / separation and avoiding chances of cases like marriage in Iddat or issues like nikah on nikah from ex husbands
I may share same some day on these papers