(PTSD) پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر


احسن کو اپنے والد سے بہت محبت تھی۔ ان کی وفات کے بعد احسن کو بہت سے جسمانی، ذہنی اور جذباتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ بیٹھے بٹھائے احسن کو پسینہ آنا شروع ہو جاتا تھا، بعض اوقات کپکپی لگنے کا احساس ہوتا تھا۔ رات کو نیند نہیں اتی تھی اور اگر سو جاتا تو خواب میں ڈر کے اٹھ جاتا تھا۔ ہر وقت ایک عجیب بے چینی اور بے سکونی کا احساس رہتا تھا۔ اکثر اوقات اس کو اپنی صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مثلاً کبھی بخار ہو جاتا تھا یا کبھی متلی اور قے کی کیفیت ہوتی تھی۔ کبھی پیٹ میں بہت زیادہ درد ہوتا تھا جیسے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہوں۔ کھانا ہضم کرنے میں بھی اس کو مسائل کا سامنا تھا۔

احسن کو بار بار فلیش بیک آتے تھے یعنی بار بار ماضی کی ریل انکھوں کے سامنے چلتی تھی۔ بہت تسلسل سے منفی خیالات آتے تھے۔ تنہائی کا بہت شدت سے احساس ہوتا تھا۔

مزاج میں بہت چڑچڑا پن اور ہر وقت اداسی کا احساس رہتا تھا۔ کسی قسم کی تفریحی سرگرمی کا شوق نہیں رہا تھا۔

اگر آپ اپنے کسی قریبی دوست یا عزیز میں یہ علامات ایک ماہ سے زیادہ دیکھیں تو چوکنے ہو جائیں کیونکہ یہ تمام علامات Post۔ Traumatic Stress Disorder کی ہو سکتی ہیں۔

علامات/Symptoms

یہ علامات عموماً کسی بھی حادثے کے ایک دو یا تین دن کے بعد ظاہر ہوتی ہیں ( لیکن کچھ کیسز میں کافی عرصے بعد بھی اس کے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں )

یہ علامات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں :
* خودکار خیالات کا بار بار آنا
* ڈراؤنے یا برے خواب مسلسل آنا
* بے حد بے سکونی اور بے چینی کا محسوس کرنا
* جسمانی صحت کے مسائل کا مسلسل سامنا
* بیٹھے بٹھائے بہت زیادہ پسینہ آ جانا
* کپکپی طاری ہو جانا
* متلی یا قے کی کیفیت کا محسوس ہونا
* معدے میں درد، السر یا زخم کا احساس ہونا
* ماضی کے کچھ تصاویر یا scenes کا بار بار فلیش بیک کی طرح سامنے آنا
* جذبات میں اوور ویلمنگ over۔ whelming ہونا
* ماضی کی کچھ تصویروں کو یا ویڈیوز کو نظر انداز avoid کرنا
* یاداشت کا کمزور ہو جانا
* بار بار منفی خیالات آنا
* بہت زیادہ تنہائی پسند ہو جانا
* بہت زیادہ غصہ آنا
* مزاج میں بہت زیادہ چڑچڑا پن آ جانا
* تفریحی سرگرمیوں میں دلچسپی کا نہ ہونا
وجوہات/Reasons

اگر ہم دیکھیں تو PTSD کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سے American Psychiatric Association (APA) کے مطابق کچھ یہ ہیں :

* شدید جسمانی تشدد
* جنسی تشدد
* کسی بہت عزیز ہستی کی موت
* کسی عزیز ہستی کا کھو جانا
* دہشت گردی کے واقعے کا عینی شاہد ہونا
* کسی زمینی آفت کا شکار ہونا مثلاً زلزلہ، سیلاب، طوفان، آتش فشاں

* کسی بہت بڑے حادثے کا شکار ہونا مثلاً آتش زدگی کا واقعہ، ٹریفک کا حادثہ، ڈوبنے کا حادثہ، تیزاب گردی وغیرہ

* گھر میں چور یا ڈاکوؤں کا داخل ہونا جو کہ شدید خوف کا باعث بنے
* کسی قتل کے واقعے کا عینی شاہد ہونا
* جنگ یا جنگی حالات کا سامنا کرنا
* باڈی شیمنگBody۔ shaming کا شکار ہونا
* بہت زیادہ حساسیت
* دوسروں کے ہاتھوں bully ہونا
* شدید احساس کمتری کا شکار ہونا
* گھریلو تشدد domestic violence کا شکار ہونا
بیماری کا پھیلاؤ/Prevalence Rate

سالانہ تین سے چار فیصد لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں۔ جن میں بڑے 3.5 فیصد اور اور نوجوان جن کی عمر 13 سے 18 سال ہے ان کا 8 فیصد ہے۔

علاج اور پرہیز/Management

حادثات تو ہر انسان کی زندگی میں رونما ہوتے رہتے ہیں، اور اس دنیا میں ہر شخص کو ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تا ہم PTSD سے بچنے کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ان کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS