جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کا عالمی دن


Sohail Ahmad usa

ہمارے ہاں اکثر لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ سمجھنے کی ضرورت یہ ہے کہ لازمی نہیں ہے کہ ہر لاپتہ فرد جبری گمشدگی کا شکار بھی ہو۔ بنیادی طور پر جبری گمشدگی کا شکار وہ لوگ ہیں جنہیں ریاستی سطح پر جبری طور پر غائب کیا جاتا ہے اور کوئی بھی ریاستی ادارہ کسی بھی سطح پر اس فرد کی اپنے پاس موجودگی کو قبول نہیں کرتا۔ یہ افراد اس وقت لاپتہ ہو جاتے ہیں جب ریاستی اہلکار (یا ریاست کی رضامندی سے کام کرنے والا کوئی شخص) کہیں باہر راستے سے یا اپنے گھروں سے حراست میں لیے جاتے ہیں اور پھر وہ اول تو ان کی گرفتاری سے انکار کرتے ہیں، یا یہ بتانے سے انکار کرتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

بعض اوقات مسلح غیر ریاستی عناصر، مسلح اپوزیشن گروپوں کی جانب سے بھی اپنے مخالفین کو اٹھا لیا جاتا ہے اور انہیں یا تو قتل کر دیا جاتا ہے یا پھر کہیں قیدی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کے تحت جرم قرار دی گئی ہے۔ یہ لوگ اکثر کبھی رہا نہیں ہوتے ہمیشہ لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل رہتے ہیں۔ متاثرین کو اکثر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بہت سے لوگ مارے جاتے ہیں، یا مارے جانے کے خوف میں رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے اہل خانہ کو اس بات کا کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں اور اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ کوئی ان کی مدد کے لیے آئے گا۔ یہاں تک کہ اگر کہیں بہت زیادہ عوامی اور بین الاقوامی دباؤ کے باعث وہ موت سے بچ جائیں اور آخر کار رہا ہو جائیں تو بھی جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے نشانات ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے ہیں۔

2006 میں جنرل اسمبلی کے ذریعے منظور کیے گئے کنونشن کے مطابق جبری گمشدگی کی تعریف یہ ہے کہ ”ریاست کے اہلکاروں یا اجازت کے ساتھ کام کرنے والے افراد یا افراد کے گروہوں کے ذریعہ گرفتاری، حراست، اغوا یا آزادی سے محرومی کی کوئی اور قسم ریاست کی حمایت یا رضامندی سے جس کے بعد آزادی کی محرومی کو تسلیم کرنے سے انکار یا گمشدہ شخص کی قسمت یا ٹھکانے کو چھپانے سے، جو ایسے شخص کو قانون کے تحفظ سے باہر رکھتا ہے۔“

بنیادی طور پر جبری گمشدگی کو اکثر معاشرے میں دہشت پھیلانے کی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس طرز عمل سے پیدا ہونے والے عدم تحفظ کا احساس صرف گمشدہ افراد کے قریبی رشتہ داروں تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا اثر ان کی برادریوں اور مجموعی طور پر معاشرہ پر بھی پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کے کم از کم 85 ممالک میں مرکز اور ریاستی اکائیوں کے درمیان میں تنازعات یا جبر کے ادوار کے دوران لاکھوں افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ عدم تحفظ کے اس احساس اور اس سے پیدا ہونے والا خوف مجموعی طور پر تمام ریاستی کمیونٹیز اور معاشرے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ماضی میں بڑے پیمانے پر فوجی آمریتوں کے ادوار میں اسے ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، تاہم اب یہ گمشدگیاں دنیا کے ہر خطے میں اور ایک وسیع رینج میں ہوتی ہیں۔ خاص طور پر سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش کرنے والی حکومتیں سرکاری اہلکاروں کی مدد سے یہ کام انجام دیتی ہیں یا پھر مسلح گروپوں کے ذریعے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے تیس اگست کو دنیا بھر میں جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

بلاشبہ اس وقت جبری گمشدگی دنیا کے تمام خطوں میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ میکسیکو سے شام، بنگلہ دیش سے لاؤس اور بوسنیا اور ہرزیگووینا سے اسپین تک ہر جگہ یہ مسئلہ اپنی پوری شدت اور مابعد اثرات کے ساتھ موجود ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک دستاویز میں کچھ ممالک میں جبری گمشدگیوں کی بدترین صورتحال کی رپورٹ پیش کی ہے جس سے اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک فرد اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ ہے۔

آج کی تاریخ میں بنگلادیش میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج معین الاسلام چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن بنا دیا گیا ہے۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق کمیشن سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے دور میں انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لاپتا کیے گئے افراد سے متعلق تحقیقات کرے گا۔ کمیشن یکم جنوری 2010 سے 5 اگست 2024 کے درمیان لاپتا افراد سے متعلق تحقیقات کرے گا، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس عرصے میں 7 سو سے زیادہ افراد جبری طور پر گمشدہ کیے گئے۔ پانچ رکنی کمیشن 45 دنوں میں اپنی رپورٹ مکمل کر کے عبوری حکومت کو پیش کرے گا۔

کمیشن بنگلا دیشی بارڈر فورس، ریپڈ ایکشن بٹالین اور دیگر نیم فوجی یونٹوں کی تحقیقات کرے گا۔ یاد رہے کہ جبری گمشدگیوں کے معاملے پر امریکہ بنگلادیش کی ریپڈ ایکشن بٹالین پر پابندیاں بھی لگا چکا ہے۔

شام میں 2011 سے اب تک تقریباً 82,000 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر حکومتی حراستی مراکز کے نیٹ ورک میں غائب ہو چکے ہیں، لیکن 2,000 سے زیادہ افراد مسلح اپوزیشن گروپوں اور مسلح گروپوں کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے کے بعد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جسے بین الاقوامی سطح پر بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا ہے۔ ہزاروں خاندان اپنے لاپتہ رشتہ داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جولائی 2018 میں، شامی حکومت نے کم از کم 161 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

سری لنکا کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد شہریوں کو جبری گمشدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں 1980 کی دہائی کے آخر سے اب تک 60,000 سے 100,000 کے درمیان لوگ لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ارجنٹائن شاید 20 ویں صدی میں بڑے پیمانے پر جبری گمشدگیوں کا سب سے بڑا مرکز بنا۔ 1976۔ 1983 کے درمیان جنوبی امریکی ملک میں فوجی حکمرانی کے دوران، سیکورٹی فورسز نے تقریباً 30,000 افراد کو اغوا کیا، جن میں سے اکثر ابھی تک لاپتہ ہیں۔ وسیع پیمانے پر اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں، بڑے پیمانے پر تشدد اور ماورائے عدالت پھانسیوں کے ساتھ، بشمول بدنام زمانہ ”موت کی پروازیں“ جس میں متاثرین کو فوجی طیاروں یا ہیلی کاپٹروں سے زمین پر پھینک کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے طویل عرصے سے متاثرین کے لیے انصاف اور مجرمانہ ذمہ داری کے شبہ میں فوجی حکام اور حکومتی شخصیات کو سزا دینے کے لیے مہم چلائی۔ جن میں سے اکثر کو حالیہ برسوں میں عام سویلین عدالتوں کے سامنے انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا ہے۔

زمبابوے میں بھی ہر دوسرے شہری کو جبری گمشدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں انسانی حقوق کو درپیش سنگین ترین چیلنجز میں سے ایک جبری گمشدگیوں کا بھی ہے۔ کمیشن اور کمیٹیاں بنیں مگر ماؤں کے جگر گوشے نہ لوٹ سکے۔ جبری گمشدگیوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا ریاست کا آغاز اور ارتقائی مراحل۔ پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے دعویٰ کے مطابق کمیشن نے 31 اگست تک پاکستان بھر میں لاپتہ افراد کے 9967 کیسز ریکارڈ کیے ہیں جن میں سے 2253 ابھی تک زیر التواء ہیں جبکہ پاکستان کے اپنے کمیشن آف انفورسڈ ڈس اپیئرنسز پر بلوچستان سے 31 اگست 2023 تک 2,708 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ جبری گمشدگیوں کا سامنا بلوچستان کے شہریوں کو کرنا پڑا ہے۔

کمیشن کا دعویٰ ہے کہ اس نے آج تک ان میں سے 2257 مقدمات نمٹا دیے ہیں، جن میں کچھ متاثرین کے گھر واپس آنے، دیگر کے حراستی مراکز یا جیلوں وغیرہ میں ہونے کی وجہ سے صوبے میں 451 مقدمات زیر التواء رہ گئے ہیں۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے فوجی دور میں ( 1999 سے 2008 ) کے دوران یہ کام کھل کھلا کیا گیا اور ناپسندیدہ ریاستی شخصیات سمیت عام پاکستانیوں کو بھی جو کسی نہ کسی حوالے سے کہیں نہ کہیں کسی معاملے میں مطلوب تھے انہیں قانون کے شکنجے میں لائے بغیر اٹھا لیا جاتا اور پھر ریاست اس حوالے سے مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کرتی۔

بدقسمتی کہ یہ سلسلہ بعد کی حکومتیں بھی تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب اگرچہ سوشل میڈیا بہت طاقتور میڈیم اختیار کر چکا ہے اور کسی بھی عام و خاص شہری کو اپنی پسند اور نا پسند کا اظہار کرنے کی کھلی آزادی ہے تو اب بھی انہی سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر بھی لوگ غائب کر دیے جاتے ہیں لیکن آوازیں بلند ہونے کے بعد ان کی واپسی بھی ہو جاتی ہے۔ یعنی جیسے جیسے جدیدیت بڑھ رہی ہے ریاستی معاملات چلانے والوں میں عدم برداشت بھی بڑھ رہی ہے، اس لیے حکومتیں ایسے طریقے اختیار کرتی ہیں جن سے باقی لوگ بھی روکے جا سکیں۔

Facebook Comments HS