ہینگروں پہ لٹکے ہوئے جسم کی کتھا


صنوبر الطاف کی کتاب ”کائنات کہ بیک یارڈ سے“ کا جائزہ

”اتنی بڑی کائنات میں
میرے پاس ایک کمرا ہے
اور تم ہو ”

صنوبر الطاف کی نظم کا یہ مطلع اس کائنات کی وسعت کو تنگ بہی کیے دیتا ہے اور وسیع بھی۔ کھلتا ہوا شغف بہی ہے اور دبتا ہوا سایہ بھی۔ ایک دنیا جو کہ نامکمل ہے پہ مکمل ہوتے کا احساس جاوید کیے دیتی ہے۔ وجود کے تلخم میں اس کمرے کا مل جانا اور اس میں دنیا کی مصیبتوں اور بلاؤں سے چھپ جانا وہ نعمت ہے جو کے سب کچھ کھونے کہ بعد میسر ہوتی ہے۔ اور پہر وہ نعمت ہے اور آپ ہیں۔ ”آپ“ کوئی ہر لحظہ بدلتا ہوا آئینہ بن جاتا ہے۔

جس میں سسی اور پنہوں کا گمان کھو جاتا ہے۔ صنوبر کی نظموں کی کتاب ”کائنات کے بیک یارڈ سے“ ایک لاشعور اور شعور کا ایسا بیک یارڈ ہے جہان علامتوں، استعاروں، فکر و فن سے ابھرتی ہوئی کئی آوازیں ہیں جو کبھی نڈر ہیں تو کبھی سہمی ہوئی عورت کی آپ بیتی جو کہ پدرسری سماج میں دکھ بیتی بن جاتی ہے۔ جیسے ان کی اس نظم، ”بے جنم تعبیروں کا اسقاط“ ہی کو دیکھ لیجیے۔

عورتیں طلوع ہوتی ہیں
جکڑے جسموں کے ساتھ
گیلے بستروں سے
جب اُن کے پیروں میں
گڑی نوک دار کیلوں کی کھٹ کھٹ
اندھیرے کو بے آرام کر دیتی ہے
تو سورج کی روشنی چور کی طرح آتی ہے
مگر ان تک نہیں پہنچتی
کہ ان کی آنکھوں پر مکڑی کے جالے تنے ہیں
انھیں زندہ رہنے کے لیے تازہ ہوا کی بھی ضرورت نہیں
کہ ان کے سینوں میں جنگلی بوٹیاں اگتی ہیں
وہ اپنے مقبروں میں
سودا سلف کی پرچیوں پر اپنے کتبے لکھتے
چیونٹیوں کی طرح دن رات مصروف رہتی ہیں
ایک بے کار اور اذیت ناک مشقت میں
جب ان کے دن کو دیمک چاٹ جاتی ہے
وہ شام ہوتے ہی جوان ہونے لگتی ہیں
اور سورج ان کی کوکھ میں غروب ہوجاتا ہے
وہ سربسجود ہونے لگتی ہیں
طویل شب بیداری کے لیے
بے لذت عبادتوں کے لیے
اپنے خداؤں کے محرابوں میں۔

بات تو وہی ہے جو عورت کے پہلو سے باندھی گئی ہے لیکن انداز بیاں انتہائی ذاتی نوعیت کا ہے جو کے اس کلام کو منفرد اور زندہ کیے دیتا ہے۔ ان کی نظموں میں فیمنسٹ نیریٹو کا ٹھوس اظہارِ موجود ہے۔ صنوبر کی نظمیں جہان ”عورت واد و عورت زاد“ کا امتیاز ہیں وہیں خود کلامیت، تنہائی، وجود کے غبار اور اپنی ذات کی تلاش کی پیشگی ہے وہیں پر ان کا رخ انسانی ”پدری“ سماج کی ان باریک رسومات پر بہی فکر مند نظر آ رہا ہے۔ جیسے ان کی یہ نظم دیکھئے۔

بدھا! تمہارے جانے کے بعد
ہاں اس رات میری بھی نیند بے خواب تھی
جب تم نے مجھے سرہانے پر اکیلا چھوڑا
اور آہستگی سے دروازے کا پٹ ادھ کھلا چھوڑ کر نکل گئے تھے
تمہارے جانے کے بعد
بستر پر سوئیاں اگنے لگیں
اور ڈراؤنے خواب مجھے ستانے لگے
میں ادھ کھلے دروازے کے اس پار
تمہارے قدموں کی آواز سنتی رہی
میں نے سنا ہے
کہ تمہیں نروان مل چکا ہے
تم اب کہیں کے خدا ہو
یہ بھی سنا ہے کہ لوگ تمہارے پاس
سکون کی تلاش میں آتے ہیں
ایک لامحدود داخلی سکون
سدھارتھ! تم انہیں کون سا سکون دیتے ہو؟
وہی جو تم نے مجھ سے چھینا؟
میرے سدھارتھ!
میرے بدھا!
میرے خدا!

صنوبر نے اس نظم میں نہ صرف مردانگی ”masculinity“ کے روایتی قدر کو چھیڑا ہے پہ اس کے لبادے میں چھپی فہم پرستی اور صنفی ابتری کے تصورات کو بہی جھنجھوڑا ہے۔ مارکسی فیمینزم کہ نظریاتی فریم ورک جو کہ سرمایہ دارانہ سماج، پدر شاہی اور عورت زاد جبر کے درمیان باہمی تعلقات کا تجزیہ کرنے کے لیے مارکسی اور فیمنسٹ نقطہ نظر کو یکجا کرتا ہے۔ صنوبر کی بیشتر نظمیں مجھے اس تنوع سے کھلتی ہوئی نظر آئیں۔ اس فیمنسٹ فریم ورک میں خواتین کے بلامعاوضہ گھریلو مشقت جیسے بچوں کی پرورش، بزرگوں کی دیکھ بھال اور بیشتر روز مرہ کہ کاشت کاری کہ برتاؤ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس بلامعاوضہ مشقت جس کو سرمایہ دارانہ نظام اور مذہبی اقدار بنیاد سے کام ہی نہیں سمجھتے۔ عورتوں کو محکوم رکھنا اور ہونا سرمایہ دارانہ نظام کی طاقت کہ ساخت کو برقرار رکھنے کا کام کرتا ہے۔ کیوں کہ عورتوں کی مزدوری کو پدرشاہی ساخت اور ریاست کہ ذریعے کنٹرول اور استحصال کیا جاتا ہے۔ معاشی استحصالی ہی درا اصل استحصال کی ابدی صورت ہے۔ وگرنہ عورتوں کی پرورش و صحبت میں فروغ پاتا ہوا مرد کب بدھا بن اٹھے اور کب مسیحا بن اترے اس کا انتظار ہی جبر اور پدرسری نظام کی تقویت ہے۔

اس نظم کو ملاحظہ کیجئے۔
کتنا فرق ہو گا!
تم سہاگ کے بستر پر فتح مندی سے چور ہو جاؤ گے
اپنا جھنڈا گاڑو گے
بے خبر سو جاؤ گے
اور میں۔
میرے ہاتھ ٹھنڈے رہیں گے
اور دل کانپتا رہے گا
میں کبھی نادم ہوں گی اور کبھی خوف زدہ
میں صبح تک خود سے لڑتی رہوں گی
کیوں کہ میں۔
میں وہ ہوں
جس میں تم نو ماہ ٹھہرتے ہو
جس نے پہلے پہل تمھیں بیج بونا سکھایا
بے وقعت، بے مول
کچلی ہوئی پالک
لیکن اب وہ ہوں
جو تمہارے بچے کچھے حصوں سے بنی ہوں
میں ہوں۔
جو تمھیں ممنوعہ کی ترغیب دیتی ہوں
اسی لیے زنجیروں سے بندھی ہوں
میں نجس ہوں، گھٹیا ہوں، غلیظ ہوں۔
بے وقعت، بے مول، کچلی ہوئی
لیکن سرور و لطف کا کوئی بھی لمحہ میرے بنا ادھورا کیوں ہے؟
تم پیدائش کے لیے میرے محتاج کیوں ہو؟
تمہارے بنائے قید خانوں کی آشتی میرے بنا مکمل کیوں نہیں؟
تمہارے بچے میری ناپاک چھاتیوں کے لیے کیوں بلکتے ہیں؟
میرے بنا مصوروں کے رنگ
اور گیتوں کے انگ اتنے پھیکے کیوں ہیں؟!
تو پھر بتاؤ
سہاگ کی رات
تم فاتح اور میں مفتوح کیوں ہیں؟! ”

تو کیا اس نظم کو ”erotic“ کہا جاسکتا ہے۔ ایروٹک ”Erotic prose“ جس کو عام فہم میں شہوت انگیز کہا جاتا ہے دراصل اس سے متعدد مقاصد اخذ کیے جاتے ہیں۔ اس کی ”شہوانیت“ کا دائرہ بدل جاتا ہے گرچہ مصنف کی بیان، اسلوب اور جمالیات کی پیشگی شعور اور فکر سے برجستہ ہو پہر وہ جز ”شہوانیت“ نہیں رہ جاتی۔ اس کا لحظہ ”حقیقت نگاری“ سے جڑ جاتا ہے۔ شہوت انگیز شاعری مصنف اور قاری دونوں میں حسد اور خوشی کے احساسات پیدا کر سکتی ہے۔ کیوں کہ اس کا امتزاج قاری کے سماجی اور تنقیدی شعور پر مبنی ہوتا ہے۔ اس ٹیکنک سے مصنف جنسیت، صنفی تزاد، معاشرتی اصولوں اور روایات کو چیلنج کرتا ہے۔ جیسا کے اس سطر میں ہے۔

”تم فاتح اور میں مفتوح کیوں“ ؟

یہاں پر عورت کی اجرت اور اس کے کردار کی فکرمندی اور سماجی حیثیت کی نشاندہی کی ہے۔ عورت جو کہ سب کچھ ہار کے بہی مفتوح ہی رہ جاتی ہے۔ گرچہ یہ فاتح اور مفتوح کا کھیل دو جسموں تک ٹھہرتا تو بہی بہتر تھا۔ لیکن اس کی ٹھوس سماجی شکل مردانگی برتری ”masculinity supremacy“ نہ صرف موجود ہے پہ رائج بھی ہے۔ معروف صنفی اسکالر جوڈتھ بٹلر کا موقف ہے کہ ”صنف ایک کارکردگی ’performance‘ ہے نہ کہ فطری خصوصیات ’inherent trait‘ پر شاعری میں مردانہ شناخت ’masculine identity‘ اکثر زبان، تصور اور موضوعات کے ذریعے پیش کیے جاتے ہیں۔ لیکن شاعر روایتی مردانگی کے تصور اور تقویت کو توڑ سکتے ہیں۔ تو کیا یہ واقعی جسموں کی ہار و جیت کی شگاف ہے۔ محبت میں ہارتا کون ہے اور جیتتا کون! پس محبت اور لاگ نہ ہو تو فردی شناخت کی شاخیں نکال آتی ہیں۔ اور“ ایک بے کار اور اذیت ناک مشقت ”بن رہ جاتی ہے۔

صنوبر کی جمال و لطف کی حسناکی سے ملبوس اور بہی نظمیں ہیں جیسا کے ”ایک بے لباس خواہش کے لیے الوداعیہ، خانہ بدوش وقت سے آزاد ہیں، اور بہی لیکن میرا مزاج اور فکر بار بار انہی نظموں کہ دائرے میں گھوم رہا ہے۔ شاید اس لئے کہ میں بہی خود کو فیمنسٹ سمجھتا ہوں، میرے وجود میں آہ و گریہ کب سے مضمر ہے۔“ سندرتا اور کرودھ ”اس کی صورت ہے۔ اور زاہدہ خاتون شیروانی کی نظم کی جھنکار سنائی دیتی ہے۔ تاہم کہ اس میں اظہار و شدت انتہا پہ ہے اور صنوبر کہ ہاں وہی اظہار تخلیقی ہے۔ پس و پیش صورت عالم وہی ہے۔

”عورتوں کے حق میں ہر مذہب کا ہر ملت کا فرد،
جانور تھا، دیوتا، عفریت تھا، شیطان تھا
باپ ہو، بھائی ہو، شوہر ہو کہ ہو فرزند وہ،
مرد کل اشکال میں فرعون بے سامان تھا
مرد کی نا آشنا نظروں میں عورت کا وجود،
اک مورت ایک کھلونا ایک تن بے جان تھا ”
”ز خ ش“

سیمن دی بوائر نے اپنی تصنیف ”دی سیکنڈ سیکس“ میں کہا ہے کہ عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ جس سے ان کی وجودی اور شخصی محرکات کو جھنجھوڑا جاتا ہے۔ مارکسی نسوانی نقطہ نظر سے اس جبر کی جڑیں سرمایہ دارانہ پدرشاہی میں پیوست ہیں جہاں سرمایہ دارانہ نظام کو برقرار رکھتے ہوئے تولیدی اور گھریلو کام کہ لیے عورتوں کی مزدوری کا استحصال کیا جاتا ہے۔ جس کی ٹھوس شکل ”women labour“ کو مشقت و مزدوری ہی نہ سمجھنے پر متعین ہے۔ جیسا خود شاعرہ نے کہا ہے۔

”اب میں وہ ہوں جو تمہارے بچے کچھے حصوں سے بنی ہوں“
یا پہر۔

”تم سہاگ رات کے بستر پر فتح مندی سے چور ہو جاؤ گے اور میں کبھی نادم کبھی خوف زدہ، صبح تک خود سے لڑتی رہوں گی“

اس نظم میں اس عورت کی کتھا ہے جو کہ ہر روز اپنے ہی شوہر سے مفتوح ہو کر اپنے ہی وجود کو بے کار اور پر اذیت سمجھنے لگی ہے۔ اور اس کا وجود ہینگروں پہ لٹکا ہوا محض ایک دلکش جسم بن رہ جاتا ہے۔ یعنی ان کا وجود ”festishization“ کی شکل بن رہ جاتی ہے جہان عورتوں کے جسم کو ان کی اپنی ایجنسی اور خودمختاری کے بجائے تولیدی، جنسی مشقت اور سیکس کہ درجات کو اہمیت دی جاتی ہے۔

مجھے تو کہیں سے ”میرا جسم میری مرضی“ کی گونج بھی سنائی دینے لگی، ایسا لگا جیسے اپنی ہی گلی سے ریلی گزر رہی ہو۔ بالکنی میں جاکر دیکھا تو کوئی نہیں تھا! کچھ آوارہ لنڈے سگریٹ پھونک رہے تھے پہ آوازوں کا شور برپا تھا۔ کمرے میں واپس آتے ہی صنوبر کی کتاب ہاتھ میں لی اور سوچنے لگا کیا وہ واقعی فیمنسٹ ہیں یا یہ میرا ہی فکر و وہم ہے جو ان کی نظموں میں ”عورت واد“ ”نسائیت“ ٹھٹھول رہا ہے۔ میں نے سگریٹ سلگائی اور کہا، کہیں میرا تجزیہ پھیکا نہ پڑ جائے، ویسے بھی آج کل لوگ نظریات سے بہت خوف زدہ ہیں۔

پر خیر آج نہیں تو کل، کیا پتا وہ بھی ”عورت کی نوحہ گری“ کی نمائندہ راوی بن جائیں۔

 

Facebook Comments HS