بلوچستان اور امن۔ جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو


بلوچ عوام کی اکثریت غریب اور شرحِ خواندگی میں سب سے پیچھے ہے۔ ان کے مسائل کا کسی سطح پر بھی سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا جاتا۔ بلوچستان کے مسائل کا ہمیشہ ادھورا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ جب تک زمینی حقائق اور سماجی احوال پر دسترس نہ ہو اس وقت تک مسائل کی حقیقی نوعیت سے آگہی ہو سکتی ہے اور نہ ہی علاج ممکن ہے۔ عام بلوچ آج بھی قبائلی نظام کے اندر زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنے سردار کی مرضی کے خلاف عموماً کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔

سربراہ قبیلہ کا فیصلہ آخری ہوتا ہے۔ رعایا نواب کے حکم پر مرنے کے لئے تیار رہتی ہے۔ اگست 1947 ءکو پاکستان بنا تو بلوچستان صوبہ نہ تھا۔ 29 جون 1947 ءکو بلوچستان شاہی جرگے کے 62 ممبران میں سے 54 اور میونسپل کمیٹی کے ممبران نے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔ نواب جوگیزئی اور میر جعفر خان جمالی کی کوششوں سے جرگے نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیے۔ 15

بلوچستان کے اندر چار ریاستیں تھیں۔ مکران ’لسبیلہ‘ خاران اور ریاست قلات ’3 جون 1947 ءکے تقسیم ہند کے فارمولا کے تحت مکران‘ خاران اور ریاست لسبیلہ پاکستان میں شامل ہو گئیں۔ ریاست قلات کے نواب احمد یار خان نے 28 جون 1948 کو پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔ لیکن شہزادہ عبدالکریم 700 گوریلوں کے ساتھ پاکستان میں ریاست قلات کی شمولیت کی مخالفت میں ڈٹ گئے۔ شہزادہ عبدالکریم کی وجہ سے نواب نوروز خان نے بھی پاکستان کے خلاف بغاوت کی راہ اپنائی۔ نواب نوروز کے بیٹے کی 1960 ءمیں پھانسی نے قبائل میں غصہ کی لہر دوڑا دی۔ نوروز کی 1962 ء میں جیل میں وفات سے مسئلہ مزید گمبھیر ہو گیا اور بغاوت کی لہر پھیلتی چلی گئی۔ 27

بلوچستان میں 1972 ءمیں عطاءاللہ مینگل حکومت منتخب ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 ءکا آئین متفقہ طور پر منظور کرایا۔ لیکن جلد ہی منتخب حکومت کو ختم کر دیا۔ قبائل نے ردعمل میں آرمی کے خِلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ بھٹو کے حکم پر مزید فوج روانہ کی گئی۔ 1974 ءمیں بلوچ قبائل کو بیرونی فوجی امداد ملنے لگی اور جنگجو 50,000 تک پہنچ گئے۔ 1976 ءمیں بلوچ سرداروں نے بلوچستان پیپلز لبریشن فرنٹ (BLF) قائم کی۔ سردار میر ہزار خان مری اس کے سربراہ بن گئے۔

جنرل ضیاءالحق نے بھٹو حکومت ختم کر کے مارشل لاء لگا نے کے بعد بلوچستان میں جنرل رحیم الدین کو ملٹری گورنر لگا دیا۔ 1978 ءمیں آرمی ایکشن روک دیا گیا۔ جنرل رحیم نے اپنی حکمت ’دانائی اور ہوشمندی سے بلوچستان میں بے چینی‘ اضطراب اور محرومی کے سیلاب کے آگے بند باندھا، بدامنی اور انتشار ’کے چیلنج پر اس طرح قابو پایا کہ سب دنگ رہ گئے۔ وہ 1978 ء سے 1984 ء تک بلوچستان کے طویل ترین عرصہ گورنر رہے۔ انہوں نے شورش ختم کرنے کے لیے بلوچستان میں عام معافی کا اعلان کر کے تمام آپریشن بند کیے ۔

فراری باغیوں کے پاس جاکر متاثرین کے لئے معاوضوں کا اعلان کیا۔ 1980 ء تک وہ بغاوت کو فرو کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ افغانستان میں سوویت یونین کی جنگ میں انہوں نے افغان فائٹرز کو بلوچستان میں ٹھہرانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ وفاق کی مزاحمت کے باوجود بلوچستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا۔

اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کہ جنرل ضیاء کے دور میں بلوچستان خوشحالی اور امن و سلامتی کا گہوارہ بن گیا تھا۔ جنرل رحیم الدین کے دور کو صوبے کا ایک سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔ گورنر رحیم الدین کے کیے گئے اقدامات اس سہ نکاتی ایجنڈے کے گرد گھومتے تھے۔

1۔ لاء اینڈ آرڈر اور قانون کی عملداری کو یقینی بنایا۔ مجرم کو سارے قانونی تقاضے پورے کر کے سزائیں دیں۔ 2۔ گڈ گورننس حقیقی معنوں میں قائم کی۔ عوامی فلاح و بہبود اور تعلیمی و طبی خدمات فراہم کرنے پر خطیر رقوم صرف کی گئیں۔ اور ایک پیسے کی بھی کرپشن نہیں ہونے دی۔ جنرل رحیم الدین کے زمانے میں ہر امیر غریب کو انصاف میسر تھا۔ میرٹ پر تقرریاں ہوتیں اور میرٹ پر کسی غریب یا امیر کا کوئی کام نہیں رُکتا تھا 3۔ سرداروں کا مکمل احترام ملحوظ خاطر رکھا۔

صوبے میں یہ چھ سال امن و امان اور حسنِ انتظام کے اعتبار سے مثالی سمجھے جاتے ہیں۔ اس زمانے میں بھی ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی دھماکا ہوتا تھا ’تاہم جلد ہی جنرل رحیم الدین کے بارے میں یہ شہرت عام ہو گئی کہ وہ ایک سخت گیر اور دیانت دار منتظم ہیں‘ وہ سختی سے کام لیتے اور اس میں کوئی رو رعایت نہ کرتے۔ وہ اس کا پورا پورا انتظام کرتے کہ سول بیورو کریسی اور پولیس افسران کو خالصتاً میرٹ پر لگایا جائے۔ رفتہ رفتہ وہ وقت آیا کہ سیکورٹی اہلکار عام گاڑیوں میں پھرتے اور کوئی خطرہ محسوس نہ کرتے تھے۔ اس دور میں سول اور پولیس افسران صوبے میں قیامِ امن اور خدمتِ عوام کو باعث فخر سمجھتے تھے۔ موجودہ شورش کو جنرل پرویز مشرف کے نواب اکبر بگٹی کو قتل کرانے کے بعد مہمیز ملی۔

بلوچستان اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے ان میں حکومتی رٹ کی کمزوری بھی شامل ہے۔ حالیہ بدامنی سے دوسرے صوبوں کے لوگوں کے لئے بلوچستان میں رہنا اور نوکری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ان لوگوں کو پنجابی کہا جاتا ہے، وہ جان کے خطرہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

جنرل رحیم کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ اختیار اور اقتدار کے باوجود تکبر کا شکار نہ ہوئے۔ ایک کیڈٹ سے جنرل تک کے سفر میں اپنی پروفیشنل کریڈیبلٹی پر کوئی حرف نہیں آنے دیا۔ جنرل رحیم الدین مختصر عرصے کے لیے سندھ کے بھی گورنر رہے۔ ایک بار حیدر آباد میں عمائدین سے ملاقات کا سیشن رکھا گیا۔ پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ گورنر کو کھانے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے کہا کہ آپ نے جو تکلف کیا وہ آئندہ نہ کیجئے گا میں اپنا کھانا گھر سے لے کر چلتا ہوں۔

پھر ان کا ڈرائیور ایک ٹفن لے آیا۔ انہوں نے اخلاقی طور پر لوگوں کے ساتھ کھانا کھایا ’لیکن وہی کھانا جو وہ لے کر آئے تھے۔ جب بھی میٹنگ کال کرتے تو ہر کوئی اسی خوف اور مخمصے کا شکار رہتا کہ وہ کب کس سے کیا پوچھ لیں۔ جس وزیر یا بیورو کریٹ کو وہ زیادہ غور سے دیکھ لیتے۔ وہ کئی دن اس خوف میں مبتلا رہتا کہ شاید اس کی شامت آنے والی ہے۔ 98

وہ ایک ویژنری انسان تھے۔ وہ پاکستانی فوج کے پہلے کیڈٹ تھے جو فوج میں اعلیٰ ترین منصب تک پہنچے۔ جنرل صاحب کو پہلا کیڈٹ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے بلوچ رجمنٹ کے انفنٹری افسر کی حیثیت سے پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ معروف صحافی نسیم زہرہ اپنی کتاب میں رقمطراز ہیں کہ جنرل رحیم نے کارگل پلان کو مسترد کر دیا تھا۔ اس کے 15 سال بعد جنرل پرویز مشرف نے اس پلان پر عملدرآمد کیا۔ جس کے انتہائی برے نتائج مرتب ہوئے۔ وہ پروفیشنلزم پر یقین رکھنے والے افسر تھے اور سروسز میں توسیع کے حامی نہیں تھے۔ انہوں نے خود جنرل ضیا کی طرف سے اپنی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع ٹھکرا دی تھی۔ وہ 1987 ء میں فوج سے ریٹائرڈ ہوئے۔

پاکستان میں ہر مقتدر بلوچستان کے معدنی وسائل کا ذکر کرتا اور عوام کی زندگی بدلنے کی خوشخبری سناتا ہے مگر عملاً کوئی قابلِ قدر کارکردگی سامنے نہیں آتی سوائے اکا دکا اقدامات کے۔ بلوچستان میں تین فوجی آپریشن ہوئے ’ان میں سے ایک پختون ایوب خان نے کیا۔ دوسرا آپریشن ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا جو سندھی تھے اور تیسرا آپریشن جنرل پرویز مشرف نے کیا جو اردو سپیکنگ تھے۔ غصہ بے چارے پنجابی مسافروں پر نکالا جاتا ہے۔

بلوچستان میں فرائض انجام دینے والے افسران کہتے ہیں کہ بلوچ کو عزت دو اور پختون پر اعتماد کرو تو وہ کبھی آپ کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپیں گے۔ حکومت اور ریاست ماہ رنگ بلوچ اور مولانا ہدایت الرحمن جیسے بلوچوں کے مطالبات اور خصوصاً مسنگ پرسنز کے متعلق ان کے تحفظات پر توجہ دیں اور ان پر دستِ شفقت رکھیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جنرل رحیم الدین مرحوم کی قیام امن کے لیے سہ نکاتی پالیسی بروئے کار لائیں۔ اور میرٹ پر سول اور پولیس افسران کو مکمل اختیارات کے ساتھ ذمہ داری سونپیں۔ گڈ گورننس کو رواج دیں تو اب بھی بلوچستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ بقول فیض:

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا

Facebook Comments HS