باہمی تحریری تجربہ


تحریر ہماری ایکٹوٹی ہے، یا پھر کتھارسس یا تخلیق، کبھی ایسا سوچا ہے کہ ایک ہی تحریر دو مختلف الخیال افراد یا دو افراد کی مجموعی سوچ کی تخلیق ہو؟

کیا ایسا ممکن ہے کہ اک ایسی تحریر لکھی جائے، جس میں شراکت ہو اور اس شراکت کے باوجود اس تحریر کی انفرادیت کے فریم ورک کو توڑنا مشکل ہو جائے؟ یہ تحریر بیک وقت دو افراد کے خیالات جذبات و احساسات کی ترجمانی ہو؟

کسی بھی تحریر کا بنیادی قانون یا اصول رہے گا، کہ معاملہ محض خواہش یا فرد کی خصوصیت کا نہیں، بلکہ تحریری سرگرمی کی نوعیت اس انفرادیت کا تقاضا کرتی ہو، اور شرکت کی ممانعت کے حوالے سے اپنی معروضی شرط عائد رکھتی ہے۔ علم کے کسی بھی شعبے میں لکھاری، خواہ وہ تخیلاتی شعبوں (فکشن) میں ہو یا غیر تخلیقی شعبے (غیر افسانہ) میں، تخلیقی عناصر، ایک ذہنی نمونہ، اور عین مالیکیولر سطح پر اعصابی تعاملات کا نتیجہ ہوتا ہے، جس میں امکانی امکانات ہوتے ہیں۔ جو ان کے مماثل ہونے یا کسی دوسرے مصنف کی خصوصیات کے قریب ہونے کے امکان کو ناممکن بنا دیتا ہے۔ ذہنی خصوصیات کی یکسانیت میں اس ناممکن کو ترجمے کی صنف میں تحریری سرگرمی میں حصہ لینا بہرحال نہیں کہا جاسکتا ہے، یعنی کسی ایک ہی تخلیق کو کسی اور زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا بہرحال ایک علیحدہ صنف ہو جائے گا، مگر کوئی ایک ہی تحریری تجربے کو دو افراد تخلیق کریں۔ یہ علیحدہ بات ہے، بالکل ویسے ہی کتابوں کی تدوین کا تجربہ بھی حقیقی معنی میں شراکت تو نہیں ہے، یا کسی کتاب کا ایڈیٹر کسی کتاب کو ایڈٹ کرنے کا انتخاب کرتا تھا اور سب سے پہلے کتاب کے عمومی مضمون کے مخصوص حصے کے لیے کسی بھی بین الاقوامی شہرت کے حامل مصنف کے اقتباسات کا سہارا لیتا ہے، اسے آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک ترمیم شدہ چھوٹی کتاب ہے، جس میں کتاب کے مرکزی عنوان کے تناظر میں ذیلی عنوانات ہیں۔

ایسی کوئی خاص تحریر کیا آپ کی نظر سے کبھی گزری ہے، جس میں حقیقتاً دو افراد کا کلی اشتراک موجود ہو، ماضی میں ہم ایسی بہت ساری کتابوں کا حوالہ دے سکتے ہیں، جس کا آغاز کسی ایک فرد نے کیا اور بعد از موت کسی دوسرے فرد نے اس کو مکمل کیا، ایسے ہی معاملہ مذہبی یا سائنسی ریسرچ کا ہو سکتا ہے، جسے ایک سے زائد افراد مکمل کرتے ہیں، مسلم سماجیات کے حوالے سے میرے پاس بہت سارے نام ہیں، سر فہرست اس بات کو سمجھنے کے لیے سیرت النبی میں شبلی نعمانی کی موت کے بعد سلیمان ندوی نے ان کی سیرت کا کام مکمل کیا تھا۔ اب اسی طرح کے کوئی تحقیقی مقالات یا ریسرچ میں مغرب کے مصنفین کے بارے میں تو مجھے اتنا نہیں معلوم، مگر میں یہاں خصوصاً تخلیقی کام کی بات کر رہا ہوں۔

ایسی باہمی تحریری شراکت میں عرب کا ایک اہم تجربہ موجود ہے، جو عراق کے معروف آرکیٹکچر رفعت الجادرجی اور ان کی اہلیہ بلقیس شرارہ کا ہے، بلقیس شرارہ سنۂ 1933 میں نجف میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے سنۂ 1956 میں بغداد یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں بی اے کیا۔ ان کے شوہر رفعت الجادرجی سنۂ 1926 میں بغداد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فن تعمیر کی تعلیم لندن میں حاصل کی، اور عراق اور کچھ عرب ممالک میں اپنی فیلڈ میں بھرپور کام کیا، عراقی ریاست میں متعدد ملازمتیں کیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں بطور وزیٹنگ پروفیسر پڑھایا دونوں میاں بیوی کا تعلق لکھنے سے رہا، رفعت الجادر جی نے اپنے شعبے سے متعلقہ بہترین کتابیں لکھی لیکن جس کتاب کا میں ذکر کر رہا ہوں یہ ان دونوں میاں بیوی کی مشترکہ کتاب ”جدار بین ظلمتین“ جس کا انگریزی ترجمہ ”A Wall Between Two Darknesses“ ہے، یہ ان دونوں میاں بیوی کی مشترکہ کاوش ہے، یہ ایک مخصوص تخلیقی نقطہ نظر کے ساتھ دستاویزی تحریر ہے۔ یہ درجہ بندی میں عجیب سی ہو سکتی ہے کہ یہ ایک آرکیٹیکچرل کتاب ہے، یا یہ ایک اہم تاریخی دستاویز ہے۔ جس میں عراق کی تاریخ کا ایک خاص دور دکھایا گیا ہے کہ کس طرح لوگوں نے اپنی تمام تر تفصیلات اور احساسات کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی، اور کس طرح ایک ایسا معاشرہ جو جدیدیت کے سر پر تھا، لیکن تیسری دنیا کے تمام ممالک کے لیے نمونہ بن گیا ایک بڑی سوویت جیل جس میں ہر ایک پر الزام لگایا جانا آسان تھا۔

یہ رفعت الجادرجی کی قید کی خوفناک زندگی کے تقریباً دو سال تک کی داستان بھی ہے۔ اس کتاب کے ابواب کو باری باری ترتیب دیا گیا ہے، جس میں پہلے شوہر پھر بیوی نے مخصوص حصوں کے بارے میں لکھا ہے، اور اس ناول کو زندہ کر دیا۔ اس میں شراکت کی شرائط پوری موجود ہیں ایک جوڑا جو کئی دہائیوں سے خوشگوار زندگی گزار رہا تھا، اور وہ ایلیٹ کلاس کے عمومی معیار کے مطابق کامیاب پیشہ ورانہ حیثیت رکھتے تھے انہیں ایک ایسے وجودی تجربے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں ان کے ازدواجی تعلقات کے تسلسل کو خطرہ ہوتا ہے، شوہر جسمانی طور پر غائب ہے تحریری شراکت کے حصول کے لیے ایک مثالی تجربہ ہے، اس کتاب کا عنوان ”دو تاریکیوں کے درمیان ایک دیوار“ یہاں یہ دیوار جیل کی دیوار ہے جس نے میاں بیوی دونوں کی زندگیوں کو تاریکی کا طویل عرصہ دیا، اور اس بات کا اشارہ کہ انہیں ایک دوسرے سے کتنی محبت ہے۔ رفعت الجادرجی کے ابواب میں قید کے تجربے کی سختی کے باوجود یہ نہیں بھولے کہ وہ جیلوں کے اندر کے کشیدہ ماحول اور خوف کے باوجود جیل کی تفصیلات بیان کر رہے ہیں۔ سیلرز آرکیٹیکچرل اور کبھی کبھی طول و عرض کے ساتھ اس جگہ میں روشنی کے داخل ہونے کے بارے میں، اس جگہ کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کے لیے، اور کبھی کبھی یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ ایک قیدی ہیں، ان کے ابواب میں قید کی صعوبتوں کے ساتھ جیل کی فن تعمیر کے علوم بہتے ہیں۔ اور انتہائی مشکل اور تاریک ترین حالات میں بھی ان کے پیشہ ورانہ روئیے کا اظہار نظر آتا ہے۔

بلقیس شرارہ کے لکھے ہوئے ابواب میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت، احساسات اور جذبات کا اظہار ہے، بلقیس شرارہ پر ایک اعلیٰ ادبی اسلوب غالب ہے، شاید وہ فنون کی فیکلٹی سے فارغ التحصیل ہونے کی وجہ سے اور ادب سے سیراب ہونے کی وجہ سے محسوس ایسا کرتی ہے، کتاب کے کردار خیالی ہیں، گویا یہ ایک جاسوسی کہانی ہے، جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ملک کو سنبھالے والے افراد رعایا کی ہر چیز کو کنٹرول کرتے ہیں، ان کے ہونٹوں سے مسکراہٹ بھی چھین لیتے ہیں، ان حالات میں ان کے لئے سب کچھ کیسے بدل گیا ہے، ادبی اور ثقافتی محفلیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ وہم کی ایک بڑی اسٹیج پر محض کٹھ پتلی بن چکے ہیں، یہ کتاب خاندان، بیوی اور دوستوں کے دکھوں اور دیواروں کے پیچھے سوچنے والے کی تکلیف کو بیان کرنے کے لیے مختلف قسم کے اذیتوں اور نفسیاتی جنگوں اور کسی شخص کی شناخت اور وجود کو مٹانے کی کوشش دکھاتی ہے، جہاں سانس اور سورج کی روشنی کو بھی صرف عراق جیسے ملک میں رہنے کی اجازت دینا ایک تحفہ ہے، جس کے لیے آپ کو شکر گزار ہونا چاہیے۔ دونوں مصنفین اس کتاب کے ذریعے ہمیں ایک ایسے دور کے سفر پر لے جاتے ہیں، جسے بہت سے عراقی ثقافت، ادب اور سائنس کے لیے سنہری دور سمجھتے ہیں، جو ستر کی دہائی کے آخر اور اسی کی دہائی کے آغاز کا دور ہے۔ اس دور میں حکومت ایک پولیس اور سیکیورٹی سٹیٹ کا مرکز تھی۔ یہ کتاب ایک خوبصورت اور دلچسپ انداز میں موضوع کو پیش کر رہی ہے، گرچہ اسے لکھنے میں دو افراد نے حصہ لیا، گویا آپ ایک ہی وقت میں دو مختلف زاویوں سے چیزوں کو دیکھ رہے ہیں۔ دونوں مصنفین نے ایک ساتھ اپنے ساتھ پیش آنے والے تجربے کے بارے میں لکھنے کا فیصلہ کیا، یہ ایک بہترین سائنسی، ادبی اور تاریخی دستاویزی ناول سمجھا جاسکتا ہے۔

ایسا ہی ایک اور باہمی تحریری تجربہ، مغربی دنیا سے بھی ہے، یہ کتاب معروف ماہر نفسیات ارون ڈی یالوم اور ان کی مصنفہ بیوی مارلن یالوم (حقوق نسواں پر ان کا کام موجود ہے ) کا ان کی ٹرمینل تشخیص کے بعد ایک سال کا طویل سفر ہے جس میں وہ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ کس طرح محبت کی جائے اور بغیر افسوس کے زندگی کو جینا ہے۔ پروفیسر ارون ڈی یالوم اور ان کی بیوی مارلن یالوم نے ”A Matter of Death and Life“ یہ کتاب مل کر لکھی، ڈاکٹر یالوم نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر کے طور پر نصف صدی سے زیادہ کام کیا، اور اپنے تعلیمی کام کے دوران ان کے پاس ایک نفسیاتی کلینک تھا، جس نے انہیں زرخیز مواد فراہم کیا جسے انہوں نے اپنی بہت سی کتابوں میں لکھا، مارلن یالوم اور ان کی بیوی کا ساتھ چھ دہائیوں سے زیادہ رہا، مارلن بھی اسی یونیورسٹی میں جرمن اور فرانسیسی ادب کی پروفیسر تھیں جہاں ان کے شوہر کام کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں اپنے اپنے تعلیمی میدان میں عالمی رہنما تھے۔

ان کی اس کتاب کے تعریفی باب سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے، کہ یہ ایک باہمی شراکتی تحریر کی شرائط پوری کرتی ہے، ایک محبت کرنے والا جوڑا کئی دہائیوں تک ہر سطح پر علمی فضیلت اور خاندانی خوشیوں میں گھرا رہا، پھر، اسّی سال کی عمر کے بعد ، بیوی خون کے کینسر ”پلازما سیل“ میں مبتلا ہو گئی، اس بیماری نے اس کے شوہر کو (جو خود بھی مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا تھا) اپنی بیوی کے لئے جس سے وہ محبت کرتا تھا، اس کی موت کے بارے میں فکر مند کر دیا۔ یہاں سے معاملہ شروع ہوتا ہے کہ اب اس پریشانی سے کیسے نمٹتے ہیں وہ اپنی بیمار بیوی کے مشورے کے ساتھ اپنے تمام انفرادی تحریری منصوبے ملتوی کرتا ہے، اور اپنی اہلیہ کی شراکت کے ساتھ ایک کتاب لکھنے کا فیصلہ کرتا ہے، اس کتاب کے بارے میں خوبصورت بات یہ ہے کہ یالوم اور ان کی اہلیہ نے اپنی مشترکہ کتاب کے موضوعات کی انجینئرنگ کے لیے پہلے ایک ابتدائی منصوبہ تیار کیا، انہوں نے تحریر کو صرف جذبات تک نہیں رکھا، بلکہ اس میں طبی قدروں پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ اس تحریر کاسنجیدہ نتیجہ سامنے آ سکے۔

یہ کتاب اداسی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ جو کہ یقینی اور قابل فہم بھی ہے، اور وجودی حقائق (مثال کے طور پر موت) سے نمٹنے میں مغربی عقلیت کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ رونے والی کیفیت میں نہیں ہے۔ یہاں ایک ایسے وقت کا سامنا ہے جس میں ایک جوڑے نے اپنے دلوں میں زندگی کی پوری توانائی اور جوش ڈال دیا ہے، یہاں تک کہ جب موت ان کے سروں پر منڈلا رہی تھی، اس جوڑے نے کتاب کے اوپری حصے میں ایک شاندار فقرے میں اس کو یوں لکھا کہ

”اداسی وہ قیمت جو ہم دوسروں سے محبت کرنے کی اپنی ہمت کے لیے ادا کرتے ہیں۔“

میاں بیوی کے لیے جذباتی ہمدردی کی کیفیت کے علاوہ، جو کہ ایک فطری اور متوقع انسانی حالت ہے، یہ کتاب بہت سی اور تفصیلات زندگی کی وضاحتوں اور تبصروں سے بھرپور ہے، جن میں سے کچھ علمی ہیں اور کچھ اس میں انسانی جذبات کا احساس ہیں۔ یالوم میاں بیوی کے ساتھ رہنے اور ایسے اشتراکی تحریر کے تجربے سے عمومی فکری صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اچھی زندگی کے تقاضوں کی رہنمائی بھی نظر آتی ہے۔ ارون یالوم نے اپنی شاندار یادوں کا تذکرہ ایک اقتباس میں یوں لکھا کہ

مارلن نے میرا ہاتھ دبایا اور کہا ارون، آپ کے ساتھ میری زندگی میں کچھ بھی ایسا برا نہیں ہے جسے میں بدلنا چاہوں گی۔“

ارون کا اظہار ایسا ہے کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں سے اس سے متفق ہے کہ ان دونوں میاں بیوی کو ایسا لگتا ہے جیسے ”ہم نے اپنی زندگی پوری طرح گزاری ہے۔ ارون کہتا ہے کہ“ میں موت سے ڈرنے والے مریضوں کو تسلی دینے کے لیے جتنے بھی آئیڈیاز استعمال کرتا تھا، ان میں سے کوئی بھی ندامت سے خالی زندگی گزارنے کے خیال سے زیادہ طاقتور نہیں تھا، اور میری اور مارلن کی زندگی میں ندامت کا کوئی احساس نہیں ہے۔ ہم نے ایک بھرپور اور ہمت والی زندگی گزاری ”۔

یہاں صرف ارون ہی نہیں اس کی بیوی مارلن بھی اپنی طرف سے، مہلک کینسر کے ساتھ جدوجہد کے دوران، اپنے شوہر کی زندگی کے بارے میں سوچنا نہیں بھولی:

”میں اس کی صحت کے بارے میں بھی فکر مند ہوں، خاص طور پر اس کے بغیر سہارے کھڑے ہونے میں، وہ توازن برقرار نہیں رکھ سکتا، اس لیے وہ مجبور ہے، گھر میں بیساکھی اور گھر سے باہر واکر۔ بس یہ خیال مجھے ڈراتا ہے کہ وہ گر کر شدید زخمی ہو سکتا ہے۔“

یعنی اگر شوہر اس لیے پریشان ہے کہ اس کی بیوی کو خون کا کینسر ہے تو دوسری جانب بیوی بھی اس لیے پریشان ہے کہ میرا شوہر دل کے عارضے کا مریض ہے اور صحیح طرح سے بغیر سہارے کے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اس کتاب کو اس کی طوالت کے اعتبار سے 35 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں دونوں میاں بیوی کی تحریر موجود ہے، اور پھر مارلنگ کے انتقال کے بعد ارون نے خود کو آخری حصوں کے لیے وقف کر دیا، جو کہ بہت محدود سا ہے، گویا وہ کہنا چاہتا ہے کہ میں مارلن کی موت کے بعد اپ کی تحریر منصوبے کو جاری نہیں رکھنا چاہتا، اس کتاب میں بھی ارون کی اہلیہ مارلین کے تحریری ابواب کی نوعیت مخلصانہ احساسات اور فلسفیانہ بصیرت سے بر انکشافات کے درمیان ملتی ہے، جو متوقع وجودی بحرانوں کے عروج پر بھی اچھی طرح سے زندگی گزارنے میں مدد کرتی ہے، شاید کتاب کے کچھ ابواب کے درج ذیل عنوانات اس کے مندرجات کے معنوی مواد کو ظاہر کرتے ہیں، جیسے مار رہے ہیں لکھ دیا کہ وہ معذور ہو گئی اسے موت کا احساس ہے، اپنی ریٹائرمنٹ کے فیصلے کا لمحہ ناکامیاں اور نئی امیدیں، اپنے وجود کے اختتام کا سامنا، گھر میں تنہائی وغیرہ، ارون نے کتاب کا اختتام دو اہم ابواب کے ساتھ کیا ہے، میری تعلیم جاری ہے ”جو کہ ایک عزم کے ساتھ زندگی گزارنے کا ایک جرات مندانہ حوالہ ہے، جو علم میں اضافے کو ایک اخلاقی فرض کے طور پر دیکھتا ہے۔ جو ہمارے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ ہم جن سے پیار کرتے ہیں ان کی عدم موجودگی کے بعد پوری طاقت اور جوش و خروش کے ساتھ موجودہ زندگی گزارنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم جن سے محبت کرتے ہیں انہیں بھول جانا۔ یہ کتاب A Matter of Death and Life ایک زندہ اور انتہائی قابل اطلاق باہمی اشتراکی تحریر کا تجربہ ہے کہ شادی شدہ ایسی زندگی کیسے گزاری جائے جو تمام وقار، عظمت اور وقار کے ساتھ اپنے آخری انجام تک پہنچنے کے قابل ہو۔ جہاں سیلف ڈویلپمنٹ“ ہو تاکہ ہنگامہ خیز دنیا کی بھول بھلیوں میں رہنے کی تلخی کا شکار نہ ہوں۔

نوٹ :

1۔ یہ تحریر شاید کچھ الگ تو ہو سکتی ہے، یعنی اپنے موضوع کے اعتبار سے ٹھیک کوئی ایسی کتاب اسے دو افراد ایک ساتھ لکھیں، لیکن اس تحریر کی دوسری کتاب کی مثال میرے لیے بہت زیادہ متاثر کن رہی، جب دو میاں بیوی محبت کرنے والے اور ان میں سے ایک ایسے موذی مرض سے گزرے۔ یہ احساسات جذبات اور تعلق کا ایک عجیب دور ہوتا ہے جیسے میں گزر چکا یا گزر رہا ہوں۔

2۔ دوسری کتاب کے مصنف ارون ڈی یالوم ، اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں نفسیات کے ایمریٹس پروفیسر، بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں

Love ’s Executioner،
The Gift of Therapy، Becoming Myself،
When Nietzsche Wept
Existential Psychotherapy

شامل ہیں۔ مارلن یالوم کی کتابوں میں ثقافتی تاریخ کی کلاسیکی چیزیں شامل ہیں جیسے اے ہسٹری آف دی وائف، برتھ آف دی چیس کوئین، اور ہاؤ دی فرانسیسی انوینٹڈ لو، نیز ان کی آخری کتاب بعد از مرگ ریلیز ہوئی،

Innocent Witnesses: Childhood Memories of World War II۔

3۔ ایسا تحریری باہمی اشتراک شاید دو محبت کرنے والے میاں بیوی ہی لکھ سکتے ہیں۔ مجھے کم ازکم ان کتابوں نے بہت متاثر کیا ہے۔

Facebook Comments HS