گوجرانوالہ کے سکول میں کینٹین والے پر بچیوں کے ریپ کا الزام: ’بیٹی نے چیخ کر کہا کہ میرے قریب نہیں آنا مجھے ڈر لگتا ہے‘
- ’معجزوں‘ سے مریضوں کو صحتیاب کرنے والا پادری جو دنیا بھر سے آئی خواتین کا ہفتے میں کئی بار ریپ کرتا
- ایڈم برٹن: کتوں سے ’اذیت ناک سیکس‘ کرنے والا ’عفریت‘ جو سامنے رہ کر بھی نظروں سے اوجھل رہا
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟
گوجرانوالہ کے تھانہ صدر میں کمسن بچیوں کو ریپ کا نشانہ بنانے کے پانچ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
اگرچہ یہ پانچوں مقدمات الگ الگ افراد کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں لیکن ایف آئی ار کا متن تقریباً ایک جیسا ہے جس میں ملزم پر کمسن بچیوں کا ریپ کرنے اور ان کی مبینہ ویڈیوز بنانے کا الزام ہے۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر وقاص نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کے قبضے سے دو موبائل برآمد کیے گئے ہیں جس میں کمسن بچیوں کی نازیبا ویڈیوز موجود ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ملزم کے زیر استعمال موبائل کو فرانزک کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا گیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ملزم کو متعلقہ عدالت میں پیش کر کے اس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔
تفتیشی افسر کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے بتایا کہ ’ان کمسن بچیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے میں ان کی اہلیہ کا بھی ہاتھ ہے‘ تاہم تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ابھی تک ملزم کی اہلیہ کو حراست میں نہیں لیا گیا۔
’بچیاں ڈری ہوئی تھیں اور کوئی آواز نہیں اٹھا رہا تھا‘
مقامی صحافی راجہ حبیب بتاتے ہیں کہ ان کی معلومات کے مطابق یہ گذشتہ دو سے تین سال سے ملزم بچیوں کو ریپ کا نشانہ بنا رہا تھا لیکن بچیاں اس سے ڈری ہوئی تھیں اور کوئی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ چند دنوں میں اس سکول میں زیر تعلیم طالبات نے جرات کا مظاہرہ کیا اور والدین کو اس بارے میں آگاہ کیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے راجہ حبیب کا کہنا تھا کہ جس علاقے میں یہ وقوعہ ہوا وہاں کے کچھ مکینوں نے مقامی میڈیا کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ اس سکول میں کچھ مشکوک حرکتیں ہو رہی ہیں لیکن ناکافی ثبوتوں کے باعث کوئی کارروائی نہیں ہو پا رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سرکاری نہیں بلکہ نیم سرکاری سکول ہے اور یہ نان فارمل ایجوکیشن سسٹم کے تحت چلایا جا رہا ہے اور صوبائی یا ضلعی حکومت ایسے سکولوں کی کچھ مالی معاونت کرتی ہے۔
دوسری جانب چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے اعلی حکام کو متاثرہ بچیوں کے والدین سے رابطہ کرنے اور انھیں قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
گوجرانوالہ کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر فوزیہ زریں نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ پانچ بچیوں میں سے تین اس سکول میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ دو بچیوں کے بارے میں معلوم نہیں کیونکہ ان کی انرولمنٹ اس سکول میں نہیں ہوئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ نان فارمل ایجوکیشن سکول ایسی جگہوں پر کھولے جاتے ہیں جہاں پر محروم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اکثریت میں رہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سکول کو سلیم پورہ میں قائم ہوئے سات سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر فوزیہ زریں کا کہنا تھا کہ بچیوں کے ساتھ ریپ کا واقعہ سامنے آنے کے بعد محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ واقعے کے بعد اس سکول کی ایک خاتون ٹیچر کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا اور اس ٹیچر نے بتایا کہ بدھ کے روز سکول بند ہونے کے بعد وہ گھر گئی تھیں اور ان کی موجودگی میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔
- انصاف کے لیے 32 برس کا انتظار: ’ریپ کے بعد ان میں سے ایک نے مجھے لپ سٹک خریدنے کے لیے 200 روپے دیے‘
- ایڈم برٹن: کتوں سے ’اذیت ناک سیکس‘ کرنے والا ’عفریت‘ جو سامنے رہ کر بھی نظروں سے اوجھل رہا
- سیکس کے دوران ’جنسی تسکین کے لیے گلا دبانے‘ جیسے خطرناک عمل کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟
- میریٹل ریپ: ’وہ پورن فلمیں دیکھ کر وہی سب میرے ساتھ دہرانے کی کوشش کرتا‘
- ’معجزوں‘ سے مریضوں کو صحتیاب کرنے والا پادری جو دنیا بھر سے آئی خواتین کا ہفتے میں کئی بار ریپ کرتا
- ‘معلوم نہیں تھا کہ شوہر کا زبردستی سیکس کرنا میریٹل ریپ کہلاتا ہے‘

