شاعروں کے تخیلات پر کچھ ادبی اجتہاد


بھلے عمل میں متحرک نہ سہی مگر شعراء معاشرے کے انتہائی ذہین لوگ ہوتے ہیں اور ان کی پر و ازِ تخیل، ماورائے ثریا ہوتی ہے۔ یہ بڑے بڑے انقلابوں، بلووں اور معاشقوں کے راہ ہموار کرتے ہیں۔ بس ذرا عائلی اور خاص کر مالی حالات ناگفتہ بہ رہتے ہیں۔ شعرا تعارف کے سوا ہر شے کے محتاج ضرور سہی مگر خودداری و وضع داری کے موجب اظہارِ احتیاج کے محتاج نہیں ہوتے۔ شیکسپئر نے تو مذاق میں کہا تھا کہ شاعر، عاشق اور پاگل کا تخیل ایک جیسا ہوتا ہے اور اسلام نے بھی بس مصلحتاَ شاعری کی حوصلہ شکنی کی مگر وہ شعرا اور علماء کے سوا کون ہیں جو ایک پھول کے عنوان کو سو رنگ سے باندھ سکیں۔ ادب سے شغف رکھنے والوں نے شاعروں کو خوب پڑھ رکھا ہے۔ پرانے شاعروں کے کئی تخیلات آج کے تقاضوں سے میل کھاتے نظر نہیں آتے۔ اس لیے راقم نے چند شعرا کے کچھ اشعار کو، مکافاتِ تخیلات، سے دوچار کرنے کی جسارت کی ہے۔ سبطِ حسن نے اپنی کسمپرسی کا رونا ایسے رویا۔

دیوار کیا گری میرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

مانا کہ پرانے شاعر پکے مکان بنانے کی استطاعت اور نیت نہیں رکھتے تھے مگر آج سوشل میڈیا کی بدولت ایک متشاعر بھی متمول ہے۔ لہٰذا ایسی ناشکری مناسب نہیں۔ اب اس تخیل کو کچھ ایسے بدلتے ہیں کہ،

دیوار کیوں گرے میرے پختہ مکان کی؟ کیوں لوگ میرے صحن سے رستے بنا سکیں؟
احمد فراز اگرچہ خاصے متمول تھے مگر شاعرانہ خصوصیات سے بھی مجبور تھے۔ ایک جگہ لکھا کہ
ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر

مگر اب شاعروں کے گھروں کی ایسی صورت حال نہیں دِکھتی۔ ویسے بھی شاعر بادل، بارش اور ساون کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ میں تو کہوں گا کہ

ان بارشوں سے دوستی جاری رکھو فراز پکا تیرا مکان ہے کچھ نہ ملال کر
میر تقی میر سے منسوب اس شعر میں بڑی دور کی پھینک گئی کہ ارشد ندیم بھی پیچھے رہ گئے۔
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

مگر آج موم بتی کی ضرورت نہیں رہی اس لیے ہمارے خیال میں اب مگس کو باغ میں جانے کی اجازت دے دینی چاہیے، کہ

مگس کو باغ میں اب جانے دیجو نہیں اب خون پروانے کا ہو گا

اقبال جیسے عظیم شاعر نے نرگس کو مایوس اور احساسِ کمتری کا شکار کر دیا کہ وہ ہزاروں سال روتی ہے تب کوئی اس کو چاہنے والا ملتا ہے۔ مگر ہم نرگس کو یہ کہہ کر موٹیویٹ کرتے ہیں، کہ

بڑی بے عقل ہو نرگس جو بے نوری پہ روتی ہو بَنا چینل تو ہوجائیں ہزاروں دیدہ ور پیدا

ایک اور جگہ اقبال نوجوانوں کو تعیشات سے بددل کر کے پہاڑوں پر رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن ہمارا مشورہ تو یہ ہو گا

بَنا اپنا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر نہ شاہیں بن کے دھکے کھا پہاڑوں کی چٹانوں پر

اسی لیے تو اقبال کے سارے شاہین اڑنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ پھر حضرت اقبال نے کسانوں کو فصل اچھی نہ ہونے کی صورت میں کھلیان ہی جلا دینے کا مشورہ دے ڈالا۔ ہم ان سے اتفاق نہیں کرتے، بلکہ ہمارے خیال میں،

جس کھیت سے دہقاں کو ملے سال کی روٹی کیوں اس کے ہر اک خوشہ گندم کو جلا دیں

ادھر امجد اسلام امجد کے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برسیں تو محبوب کو بھلا دینے پر آ گئے۔ پر ہم اس سلسلے میں کچھ جارحانہ خیالات رکھتے ہیں کہ

وہ تِرے نصیب کی بارشیں یہاں میری چھت پہ برس گئیں وہ تو کب کی تجھ کو بھلا چکی، میری بات سن تُو بھی بھول جا

جب، آتش، جوان تھے تو محبوب کو گُل کے روبرو کرنے کی حسرت رکھتے تھے۔ مگر ہم نے اپنے دور میں کچھ اور دیکھا اور چاہا جیسے

گزر گئی ہے سیاست پہ گفتگو کرتے بسر ہوئی ہے وطن کو بے آبرو کرتے

فراز اگرچہ جہاندیدہ اور زیرک شاعر تھے مگر سادگی دیکھئیے کہ تکلف کو اخلاص سمجھتے رہے، لیکن ہم تکلف کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ

ہم تکلف کو سراسر ہی سمجھتے ہیں فراڈ دوست کیوں ہو سکے ہر ہاتھ ملانے والا

شیخ سعدی جوانوں کو جوانی میں توبہ کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔ مگر جوان عین فطرت پر زندگی کرتے گئے۔ اسی لیے ہم حقیقت پسندانہ رائے رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ

وقتِ پیری توبہ اور غالب شیوۂ ہر آدمی در جوانی ہر کس و ناکس شوَد فتنہ شعار۔
ماضی میں جذباتِ ملیہ سے سرشار بزرگ دنیا سے جاتے وقت نئی نسل کو یوں کہہ کر رخصت ہوتے تھے،
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
مگر وطنِ عزیز میں ہم نے جو اپنی زندگی میں دیکھا، سمجھا اور جانا، فقط یہی تھا کہ
ہم تو چلے طوفان میں کشتی کو ڈال کے کوئی بھلا دکھائے بھنور سے نکال کے

میر تقی میر زندگی کی بے ثباتی سے خائف تھے اور آفاق کی منزل سے سامان لٹا کر گزرنے کے قائل تھے۔ پر آج کے طاغوتی دور میں لوگ ان باتوں سے نہیں ڈرتے۔ آج کا دور ساحلوں اور قمروں کا دور ہے اور اس شعر کو کسی نے خوب بدلا ہے کہ۔

طاغوت کی منزل سے گیا کون سلامت سامان لُٹا، رات، میں یاں ہر قمری کا

بہت سے شعراء اور ان کے تخیلات سے ہم نے اختلاف کیا مگر آخر میں آتش کے اس شعر سے اختلاف نہ کرنے کا اعلان کرتے ہیں جس میں وہ، عندلیب، کو مل بیٹھ کر آہ زاریاں کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ لمحہ موجود کی مہنگائی کے تناظر میں بس ایک لفظ کی تبدیلی سے ان کے تخیل سے اتفاق کرتے ہیں،

آ، عندلیب مل کے کریں آہ زاریاں تُو ہائے گُل پکار میں چلاؤں ہائے بِل

Facebook Comments HS