شانگلہ کے بچے اور امیر شہر


پچھلے سال جون کے مہینے میں گھر اور گرمی دونوں جنجالوں سے نجات پا کر، وادی سوات کے شمال میں واقع خوبصورت علاقہ شانگلہ کے لیئے رختِ سفر باندھا۔ شانگلہ ٹاپ سے آگے الپوری ٹاؤن کے گرد و نواح میں ایک چھپر ہوٹل میں سستانے کے لئے بیٹھ گئے۔ آس پاس مسحور کن نظاروں سے نظریں مسرور کرتے ہوئے یکایک تین بچوں کی طرف دھیان گیا جو سڑک کنارے پڑے ایک پتھر پر بیٹھے کن اَکھیوں سے ہماری طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ گھسے پھٹے واجبی اسکول یونیفارم میں ملبوس، اسکول بستے کندھوں سے لٹکے، اُن کے انگ انگ سے محرومی اور پسماندگی چھلک رہی تھی۔ ہم بھی ویلے ہی بیٹھے تھے، کھانے کے انتظار میں۔ آواز دے کر انہیں بلایا، ساتھ بٹھایا اور حال احوال پوچھا۔ چوتھی کلاس کے یہ بچے چھٹی کے بعد گھر جاتے ہوئے اپنے دیگر ساتھیوں کے آنے کے انتظار میں یہاں بیٹھے تھے۔ جس باتونی بچے سے ہماری ”غیر رسمی“ گفتگو ہوئی، اس کا نام نواب خان تھا یعنی وہ نام کے لحاظ سے نواب بھی تھا اور خان بھی۔ نام میں رکھا ہی کیا ہے؟ نواب آف کالا باغ بھی ہوتا اس کا نام، تو کیا ہوتا؟ خیر، باتوں باتوں میں اُن کے روزمرہ معمولات کا علم ہوا۔ وہ سویرے اٹھتے ہیں، پانی کے چند چھینٹے منہ پر مار کر اپنے دامنِ تار تار سے پونچھتے ہیں۔ ناشتے کے نام پر شام کی بچی ہوئی سُکڑک (مکئی کی روٹی) چائے کے ساتھ نوشِ جاں کرتے ہیں۔ اِس چائے میں چائے کم اور چائے کا تصَوّر زیادہ ہوتا ہے۔

اس کے بعد یہ بچے اسکول جانے کی تیاری کرتے ہیں۔ گھسے پھٹے یونیفارم کے ساتھ پلاسٹک کے گھسے چپل پہنتے ہیں، انگلیوں سے بالوں کی اصلاح کرتے ہوئے اس کی مانگ سنوارتے ہیں اور بسم اللہ پڑھ کر گھروں سے نکلتے ہیں۔ بیک وقت، ان کے والدین بھی درانتیاں لے کر کھیتوں میں فصلوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، چارہ وغیرہ کاٹتے ہیں جس میں شفتل اور سرسوں وغیرہ کا ساگ بھی ہوتا ہے۔ یہ ساگ کچا ہو تو مویشیوں کی خوراک ہوتا ہے، پکا ہو تو ساگ کے نام پر اشراف کی خوراک کا سٹیٹس حاصل کرتا ہے۔ ساگ ہذا کا ’را میٹیریل‘ یعنی خام مال سال بھر تسلسل کے ساتھ کھیتوں میں دستیاب نہیں ہوتا، اس لیے چارے کی وافر مقدار کو اَپ گریڈ کر کے ساگ کے مقام پر سرفراز کیا جاتا ہے ۔ اسے صاف کر کے گھر کی چھت پر کسی بوسیدہ کپڑے پر پھیلا کر سکھایا جاتا ہے اور ’رینی ڈیز‘ میں پکانے کے لیے ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ اسی ساگ کا شوربا ہی ان کا مستعمل سالن ہوتا ہے، جو ایک بار پکا کر ہفتہ بھر کھینچا جاتا ہے۔ کبھی کبھار ذائقہ بدلنے کے لیے ہمسائے ایکسچینج آف ساگ ’یعنی ساگ کا تبادلہ بھی کرتے ہیں، آپس میں۔ ساگ پکانے کا مستعمل طریقہ یہ ہے کہ ساگ کو درانتی سے کاٹ کوٹ کر کسی ضعیف العمر چھلنے میں ڈالا جاتا ہے، ڈاکٹری اصولوں کے عین مطابق، اس میں آدھا گرم پانی ڈال کر کئی بار‘ سٹیرلائز ’کیا جاتا ہے۔ پھر ایک بزرگ سی ہانڈی میں اُسے چھوٹے گوشت کی مانند طریقے سے سمو کر اوپر پانی کی بھرمار کی جاتی ہے۔ نمک مرچ کا بگھار تو دیا ہی جاتا ہے ، بہتات کا دامن پکڑ کر ۔ محلہ داروں سے ایک آدھ گھسا پھٹا ٹماٹر‘ یہ مُنہ اور مسور کی دال ’ودیعت ہو جائے تو خوشی سے چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔ ٹماٹر کو بڑے ادب سے ہانڈی میں مرکزی حیثیت دی جاتی ہے، ساگ کو تا حیات حالتِ اُبال میں رکھا جاتا ہے، یہ جوں جوں اُبلتا جاتا ہے توں توں ذائقے کی بلندی پر پہنچتا جاتا ہے۔ اِس میں شوربے کا اتنا ذخیرہ رکھا جاتا ہے کہ چاہے لکڑی کی ڈوئی سے انڈیل کر دامنِ معدہ بھرا جائے‘ سوپ جان کر ’، یا سالن سمجھ کر روٹی کو اس میں ڈبو کر کھایا جائے۔

ساگ کی لسی اور دہی کے ساتھ مدبھیڑ کروا کر بوفے بھی بنایا جاتا ہے۔ توے پر ساگ کو ’ٹی سپون‘ برابر گھی میں فرائی کر کے کھانا بھی مینو کا حصہ ہے، لیکن نواب خان کے ایک ساتھی کا استدلال یہ بھی ہے کہ ”فرائی ساگ نصیبوں والے بچوں کو ملتا ہے“ ۔ بوفے کے علاوہ، ہفتے میں ایک آدھ بار کچھ خوشحال گھرانے چاول بھی ابالتے ہیں اور بکری کے دودھ کے ساتھ ملغوبہ بنا کر کھاتے ہیں۔ لوبیا پکانے کی نوبت بھی آتی ہے، جس کا معدہ انتظار کرتا ہے۔ نواب خان کو کبھی بلند بانگ مطالبے پر اُبلا ہوا انڈا بھی پیش کیا جاتا ہے، جسے وہ گھر سے باہر دوسرے بچوں کو للچانے اور اپنی امارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ’بتدریج‘ کھاتا ہے۔ کبھی کبھار ڈنر کے لیے پودینہ اور مرچ کی چٹنی بنائی جاتی ہے، جسے لنچ کی بچی ہوئی روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ چٹنی اور روٹی کو ملا کر کھانے سے زبان کراری ہو جاتی ہے۔ ہفتے میں دو تین دفعہ فاقے کی نوبت آتی ہے تب ثوابی روزہ رکھنے کو من کرتا ہے کیونکہ سماجی، طبی، مذہبی اور مالی نقطہ نظر سے یہ ضروری جو ہوتا ہے۔

”کبھی گوشت پکاتے ہیں؟“ اس سوال پر نواب خان آنکھ اٹھا کر میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھتا ہے، گویا گوشت پکانا کوئی جرم ہو یا شرعی طور پر حرام۔ پھر سوچ کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور مسکرا کر سر ہلاتا ہے، ”ہاں، بڑی عید کے موقع پر ۔“ قربانی کے جانوروں کی کچھ ہڈیاں، اوجھڑی اور چھیچھڑے ان جیسے لوگوں کو ودیعت جو ہوتے ہیں انہیں سکھا کر محفوظ کرتے ہیں۔ کبھی کوئی مہمان آتا ہے تو اسے یہ گوشت اُبال کر شوربے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ نواب خان اور اس کے ساتھی اپنی خوراک کی عادات و اطوار پر بات کرتے رہے، اور ہم سن کر کبھی آنکھیں چراتے رہے، کبھی اپنے لباس کے رموز درست کرتے رہے۔ معلوم نہیں، گزشتہ برس نواب خان اور اُس کے ساتھیوں نے کتنا گوشت کھایا ہو گا، لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ یہ ہمارے ملک کے پانچ کروڑ گھرانوں میں کروڑ سوا کروڑ گھرانوں کی ’متوازن غذا‘ کا ننگا احوال ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے افراد کی تعداد پہلے بھی پانچ کروڑ سے کم نہیں تھی، تاہم موجودہ قیامت خیز مہنگائی اور حکمرانوں کی بے رحم اور بے دھڑک کرپشن نے اس صورتِ حال کو مزید اندوہناک بنا دیا ہے۔ چالیس لاکھ کے لگ بھگ سٹریٹ چلڈرن کا حساب کتاب اِن اعداد و شمار میں شامل نہیں، جو عنقریب خودکش یا ڈکیت بن کر سب کی جانیں عذاب میں ڈالیں گے۔ اِن گناہگار آنکھوں نے پنجاب کے چولستان میں جگہ جگہ بچوں اور خواتین کو اچار کا ٹکڑا سوکھی روٹی کے دامن پر مَلتے ہوئے کھاتے دیکھا۔ صوبہ سندھ کے مِٹّھی شہر کے قرب و جوار میں لوگوں کو مرچ اور روٹی کا سینڈوچ بنا کر معدے کی طرف دھکیلتے دیکھا۔ بلوچستان کی ایک دور دراز بستی گندھاوہ میں انسانوں کو باسی روٹی پانی میں تَر بہ تَر کر کے زہرمار کرتے دیکھا۔ چھوڑیں جی اِن لوگوں کو ، اِن سے ہمیں کیا لینا دینا۔

حالیہ عید الاضحیٰ میں سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے دوران جب گوشت کے چھیچھڑے، آنتیں اور گوبر بھری اوجھڑی ’ہم اپنے سامنے کھڑے بچوں میں تقسیم کر رہے تھے تو نام نہاد نواب خان کا نوحہ ہمارے آنکھوں کے سامنے دُکھڑا رو رہا تھا۔ خدا جانے اُس کو اِس سال بقرِ عید پر اوجھڑی کی خیرات ملی ہوگی کہ نہیں؟ بنا بریں یہ حال ہم جیسے‘ اشرافیہ گینگ ’سے شرمندگی کی قبر میں دفن ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔

کسی شاعر کے پشتو اشعار پڑھ کر سر دھنیئے۔

دا خار ہسے پہ نوم دہ انسانانو دے، لالیہ
زنگل دے پکے راج دہ شرمخانو دے، لالیہ
مونگ ہسے زندہ باد او مردہ باد نعرے وھلے
وطن خو دہ وطن دہ بادرانو دے، لالیہ

یہ شہر تو ویسے ہی انسانوں کا سمجھا جاتا ہے پیارے
یہ تو جنگل ہے جہاں بھیڑیوں کا راج ہوتا ہے پیارے
ہم ویسے ہی زندہ باد مردہ باد کی آہ و بکا کرتے ہیں
وطن تو وطن کے امیر بہادروں کا ہے پیارے

Facebook Comments HS