8 ستمبر: یوم نفاذ اردو بطور قومی زبان


muhammad salim gujranwala

اردو پاکستان کی واحد قومی زبان ہے جو پورے ملک میں بولی اور سمجھیں جاتی ہے اور یہ مختلف اقوام کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کو انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ بطور دفتری زبان بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق اردو کو کئی برس قبل دفتری اور قومی زبان بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن یہ وعدہ آج تک مکمل طور پر ایفا نہیں ہوا ہے۔ پاکستان میں اردو کو بطور مادری زبان 7.6 فی صد لوگ بولتے ہیں۔

ہندوستان میں اردو بولنے والوں کا تناسب 5.1 فی صد ہے۔ ہند کی چھ ریاستوں کی سرکاری و دفتری زبان اردو ہے۔ نیپال، بنگلہ دیش، افغانستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، کویت اور جنوبی افریقہ میں بھی اردو بطور اقلیتی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

عالمی درجہ بندی کے مطابق اردو دسویں بڑی زبان ہے اور اگر ہندی اور اردو کو مشترکہ طور پر شمار کیا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان بن جاتی ہے۔ اردو اقوام متحدہ کی بھی منظور شدہ زبان ہے۔

اردو زبان کو پہلی دفعہ اردو کا نام نامور شاعر غلام ہمدانی مصحفی نے 1780 ء میں دیا۔ اس سے پہلے اس زبان کو ہندوی، ہندی، دکنی اور ریختہ کہا جاتا تھا۔ بعد ازاں اسے اردو معلیٰ کا بھی نام دیا گیا، لیکن چار دانگ عالم میں مشہور نام اردو ہی ہوا۔ اردو ترکی زبان کے لفظ اردوا سے نکلا ہے جس کے معنی لشکر کے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اردو کو انگریزی کے ساتھ ساتھ اپنی دفتری زبان بنایا اور فارسی کو بتدریج ختم کر دیا۔ 1947 ء میں لکھنؤ اور دہلی میں اردو کی پرورش ہوئی۔ اردو کا ایک لہجہ کراچی میں بھی پرورش پایا۔

ولی دکنی کو اردو کا پہلا شاعر مانا جاتا ہے۔ اس کے بعد میر تقی میر، غالب، داغ دہلوی، ابراہیم ذوق، حکیم مومن خان مومن، میر انیس، میر درد، خواجہ حیدر علی آتش، مرزا رجب بیگ سرور، الطاف حسین حالی، نظیر اکبر آبادی، اکبر الہ آبادی حسرت موہانی سمیت سب نامور شعراء اور انشاء پردازوں جیسے سر سید احمد، ڈپٹی نذیر احمد، پطرس بخاری، مرزا فرحت اللہ بیگ، رشید احمد، غلام عباس، احمد ندیم قاسمی، فرخندہ لودھی، مرزا ادیب، منشی پریم چند اور راجندر سنگھ بیدی نے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کے لیے اسی دلنشین زبان کا انتخاب کیا۔ اردو زبان برصغیر کے تمام تاریخی، ادبی، علمی، جغرافیائی اور دینی ورثے کی وارث ہے۔ قرآن و حدیث اور سیرت النبی کا بہت بڑا ذخیرہ اردو زبان میں موجود ہے۔

پاکستان کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری شعبوں، عدالتی نظام، پارلیمان، محکموں، ذرائع نقل و حمل اور ذرائع ابلاغ میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو کا بھی بہت استعمال ہوتا ہے۔ عام اور روز مرہ گفتگو اردو میں ہوتی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور شعبہ اداکاری اور حالات حاضرہ کے سارے پروگرام اسی سوہنی اور میٹھی زبان میں ہوتے ہیں۔ پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز اردو میں نشریات پیش کرتے ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا پیجز بھی اردو میں ہوتے ہیں۔ کوئی ایک بھی ٹی وی چینلز ایسا نہیں ہے جو انگریزی زبان میں اپنی نشریات پیش کرے اور اپنے سوشل میڈیا پیجز کو انگریزی زبان میں بنائے۔ اس عمل سے اس کے سمعی و بصری ناظرین کی تعداد بہت کم ہو جاتی ہے جو سراسر ان کے مالکان کے لیے گھاٹے کا سودا ہوتا ہے۔

اردو اور ہندی میں صرف الفاظ کے استعمال کا فرق ہے۔ ہندی میں الفاظ کی غالب اکثریت سنسکرت کی ہے اور اردو میں زیادہ تر الفاظ عربی اور فارسی کے استعمال ہوتے ہیں۔ اردو خط نستعلیق اور نسخ میں لکھی جاتی ہے جب کہ ہندی دیو ناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔

تقسیم ہند سے قبل ہندی اور اردو کا تنازع پیدا ہوا تھا۔ اسی موقعہ پر مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ مجھے اردو میں سے عربی اور فارسی کی خوشبو آتی ہے۔ ماہرین لسانیات کے مطابق اردو میں ایک مکمل زبان کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اس کا ذخیرہ الفاظ بہت وسیع ہے۔ ادبی، دینی اور علمی طور پر اس میں اظہار بیان کرنا بہت آسان اور دلنشین ہے۔ کسی حد تک اسے سائنسی علوم و فنون کی درس و تدریس کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، اس کی ایک قابل عمل مثال حیدر آباد دکن کی جامعہ عثمانیہ ہے جہاں تمام علوم و فنون کی تدریس اردو زبان میں ہوتی تھی اور شاید اب بھی ہوتی ہو۔

چار صدیوں کے طویل لسانی سفر کے بعد اردو آج کے دور کی ایک ترقی یافتہ زبان بن چکی ہے۔ ہماری نوجوان نسل اپنی اس قومی زبان سے دور ہو رہی ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر اردو درس و تدریس کی اشد ضرورت ہے اور اس کو اس کے اپنے نستعلیق رسم الخط میں لکھنے اور پڑھنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کرنے کی بہت اشد ضرورت ہے تاکہ ہماری نئی نسل کا تعلق اور رابطہ اپنے چار صدیوں پر محیط عملی و ادبی خزانے سے بر قرار رہ سکے۔

1973 کے آئین پاکستان میں لکھا گیا تھا کہ بارہ برس کے اندر اردو کو بطور دفتری زبان نافذ کر دیا جائے گا، لیکن یہ وعدہ 8 ستمبر 2015 کو ایفا ہوا جب پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے اردو کے بطور قومی اور دفتری زبان کے نفاذ کا حکم دیا۔ اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اردو زبان کو بطور قومی اور دفتری زبان نافذ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ انگریزی زبان نے ملک میں طبقاتی کشمکش کو بہت فروغ دیا ہے۔ نو برس گزر جانے کے باوجود اس حکم پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔ یہ عمل توہین عدالت اور اردو زبان کے ساتھ نا انصافی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

اس سے قبل 25 فروری 1948 کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے اردو کو بطور قومی زبان منظور کیا تھا اور قائد اعظم نے بطور گورنر جنرل اس پر دستخط کیے تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل اپنے اولین دورہ مشرقی پاکستان میں بھی دو ٹوک اور واضح الفاظ میں اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا تھا۔

اردو کو بطور قومی اور دفتری زبان نافذ کرنے سے صوبائی اور علاقائی زبانوں کو کوئی خطرہ لاحق ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔ یہ تو بے چاری خود ایک دبی ہوئی زبان ہے۔ پاکستان ایک کثیر القوم، کثیر المذاہب اور کثیر اللسانی ملک ہے۔ اس میں تمام زبانوں کو فروغ دیتے ہوئے اردو زبان کو بطور قومی زبان نافذ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ فیصلہ اگر بہت پہلے ہو جاتا تو آج اس کے دور رس نتائج ہمیں مل چکے ہوتے۔ اردو سے ہمیں بطور پاکستانی پیار اور محبت کرنی چاہیے، اس کے فروغ کے لیے ہر پاکستانی کو انتھک کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم ہم اردو کو رومن میں لکھنے کی بجائے اس کے اپنے نستعلیق رسم الخط میں لکھیں تو یہ بھی اردو زبان کے فروغ میں ایک بہت بڑی کوشش ہو گی۔

بہت عرصہ قبل داغ دہلوی ایسے ہی نہیں فرما گئے تھے۔

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستان میں دھوم ہماری زبان کی ہے

اردو زبان کی خوبیاں مختلف ملکی اور غیر ملکی شعراء نے اپنے اشعار میں یوں بیان کی ہیں۔ ایسے کچھ اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔

وہ عطر دان سا لہجہ مرے بزرگوں کا
رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو
بشیر بدر

وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
احمد وصی

سگی بہنوں کا جو رشتہ ہے اردو اور ہندی میں
کہیں دنیا کی دو زندہ زبانوں میں نہیں ملتا
منور رانا

چاند چہرے مجھے اچھے تو بہت لگتے ہیں
عشق میں اس سے کروں گا جسے اردو آئے
عباس تابش

بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا
منیش شکلا

مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری
تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی
منور رانا

اپنی اردو تو محبت کی زباں تھی پیارے
اب سیاست نے اسے جوڑ دیا مذہب سے
صدا انبالوی

ہندی میں اور اردو میں فرق ہے تو اتنا
وہ خواب دیکھتے ہیں ہم دیکھتے ہیں سپنا
نامعلوم

وہ اردو کا مسافر ہے یہی پہچان ہے اس کی
جدھر سے بھی گزرتا ہے سلیقہ چھوڑ جاتا ہے
نامعلوم

عجب لہجہ ہے اس کی گفتگو کا
غزل جیسی زباں وہ بولتا ہے
نامعلوم

شستہ زباں شگفتہ بیاں ہونٹ گلفشاں
ساری ہیں تجھ میں خوبیاں اردو زبان کی
فرحت احساس

اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے
وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زباں آئی
روش صدیقی

اردو کے چند لفظ ہیں جب سے زبان پر
تہذیب مہرباں ہے مرے خاندان پر
اشوک ساحل

جو یہ ہندوستاں نہیں ہوتا
تو یہ اردو زباں نہیں ہوتی
عبد السلام بنگلوری

ابھی تہذیب کا نوحہ نہ لکھنا
ابھی کچھ لوگ اردو بولتے ہیں
اختر شاہجہانپوری

میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں
جو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا
فراق گورکھپوری

سیکڑوں اور بھی دنیا میں زبانیں ہیں مگر
جس پہ مرتی ہے فصاحت وہ زباں ہے اردو
نامعلوم

شہد و شکر سے شیریں اردو زباں ہماری
ہوتی ہے جس کے بولے میٹھی زباں ہماری
الطاف حسین حالی

ہاں مجھے اردو ہے پنجابی سے بھی بڑھ کر عزیز
شکر ہے انورؔ مری سوچیں علاقائی نہیں
انور مسعود

Facebook Comments HS