تحریک انصاف اور نون لیگ میں کیا قدر مشترک ہے


مسلم لیگ نون کا جنم 88 کی دہائی کے اواخر میں ہوا جب محمد خان جونیجو کی مسلم لیگ سے علیحدہ ہو کر فدا محمد خان نے ایک الگ گروپ بنایا جس کے وہ خود صدر بنے اور میاں نواز شریف جنرل سیکریٹری۔

جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد ہونے والے انتخابات میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی یقینی اور تاریخی کامیابی کو بھانپ کر ان سے مقابلے کے لیے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل نے آئی جے آئی بنوائی جس کا بعد میں انہوں نے اعتراف بھی کیا، اسی آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کے جھنڈے تلے بائیں بازو کی تمام بھٹو اور پیپلز پارٹی مخالف قوتوں کو اکٹھا کیا گیا اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی دو تہائی اکثریت کو دھاندلی سے روکا گیا۔ اسی اتحاد میں سے آگے چل کر مسلم لیگ نون نے جنم لیا۔

پیپلز پارٹی اور بھٹو دشمنی نون لیگیوں کی رگوں میں خون بن کر دوڑتی تھی گو کہ خون کی اس روانی کی رفتار وقت کے ساتھ مدھم پڑ چکی ہے مگر آج بھی نون لیگی سپورٹرز کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ پیپلز پارٹی اور بھٹو دشمنی میں زہر اگلنے سے نہیں چُوکتے۔

میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگی اکابر شہید بھٹو، محترمہ شہید، ان کی والدہ کے خلاف اخلاق باختگی کی ہر حد عبور کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ حالانکہ مسلم لیگ نون اپنے روایتی بیانئے اور جدید مذہبی ٹچ کے ساتھ کارزارِ سیاست میں لانچ کی گئی مگر افسوس کہ اس کی قیادت سے لے کر عام کارکن تک بغضِ پیپلز پارٹی اور بھٹو میں مذہبی، اخلاقی، سیاسی اور انسانی اقدار کو بھی بھول کر انتہائی گرے ہوئے گھٹیا بازاری رویوں کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔

وقت بدلا دنیا نے دیکھا کہ جس بھٹو کو بعد از موت بھی گالیوں سے نوازنے، بینظیر شہید اور ان کی والدہ کی کردار کشی میں پاتال کی گہرائیوں تک گِر جانے والے میاں نواز شریف اور ان کی جماعت سے بھٹو کی قابلِ فخر بیٹی نے سب تلخ حقائق، کڑوی کسیلی یادیں فراموش کر کے، ملک میں سیاسی اور جمہوری استحکام، آئین و پارلیمان کی بحالی، عوام کی ترقی و خوشحالی اور قیام امن کے لیے میثاقِ جمہوریت کیا۔

اس سے پہلے جب پرویز مشرف نے پورے شریف خاندان کو اقتدار پہ قبضہ کر کے ملک بدر کیا۔ جب ان کے اپنے ان سے بیگانے ہو گئے منہ موڑ لیا، تو شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے سعودی عرب جا کر میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو ہمت و حوصلہ دیا اور ان سے اظہارِ یک جہتی کیا جس کا اظہار میاں نواز شریف نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا اور شہید رانی اور آصف صاحب کی اعلیٰ ظرفی اور خاندانی و اخلاقی رویے کا، ان کے خاندان کی حوصلہ افزائی پہ دونوں میاں بیوی کی تعریف کی اور شکریہ ادا کیا۔

اس کے بعد سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی اور نون لیگ دو تین بار پارلیمان اور پارلیمان سے باہر ایک دوسرے کے خلاف بھی رہے اور ایک دوسرے کے ساتھ اتحادی بھی مگر پیپلز پارٹی کے کارکنوں، سوشل میڈیا پہ سرگرم میڈیا کے جیالوں نے ہمیشہ نون لیگ کی قیادت کا احترام کیا۔ اختلافی معاملات پہ ہمیشہ قیادت کی ہدایات کو پیش نظر رکھا۔ کبھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ دوسری طرف نون لیگی کارکنان اور سوشل میڈیائی ہرکارے دونوں قیادتوں کے بیچ معمولی سے معمولی اختلاف رائے پہ بھی برداشت کا دامن چھوڑ کر گالم گلوچ اور پیپلز پارٹی کے شہداء اور قیادت کی کردار کشی پہ اتارو ہو جاتے ہیں۔

اس وقت بھی پیپلز پارٹی اور نون لیگ شریک اقتدار ہیں۔ دونوں جماعتوں کی قیادت اپنے درمیان اختلاف رائے اور تحفظات پہ مل بیٹھ کر بات کرتی ہے، انہیں دور کرنے کا راستہ نکالتی ہیں تو دوسری جانب نون لیگی گالم گلوچ برگیڈ چیئرمین بلاول بھٹو، صدر مملکت آصف علی زرداری سمیت پارٹی کے دیگر قائدین پہ گالیوں، طعنوں کی گولا باری شروع کر دیتے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کارکن احترام اور احتیاط کی تقاضا کو نبھاتے ہیں۔

اس وقت صدر مملکت آصف علی زرداری یقیناً مسلم لیگ نون سمیت اتحادیوں کے ووٹوں سے صدارت کے منصب پر فائز ہیں تو نون لیگ بھی پیپلز پارٹی کے ووٹوں سے اقتدار کے سنگھاسن پہ براجمان ہے۔ اگر پیپلز پارٹی مرکز سمیت دیگر صوبوں میں نون لیگ کی مخالفت پہ اتر آئے تو نون لیگ کے لیے مرکز سمیت پنجاب کا اقتدار بحال رکھنا بھی ناممکن ہو جائے گا۔

ن لیگی قیادت کو اپنے منہ زور میڈیائی گھوڑوں کی لگام کس کر پکڑنی چاہیے تاکہ جمہوری عمل کامیابی سے چلتا رہے۔ پاکستان کی سیاست میں کردار کشی، بد زبانی اور انتقامی رویوں کی جو روایت نون لیگ نے شروع کی اسے تحریک انصاف نے بامِ عروج پر پہنچایا۔

آج ملکی سیاست میں اسلامی، جمہوری، سیاسی اور سماجی شعار کا جو فقدان ہے اس کی جتنی ذمے دار تحریک انصاف ہے تو اتنی ہی مسلم لیگ نون بھی ہے۔ یہ پہلی قدر ہے جو دونوں جماعتوں میں مشترک ہے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف جس جھولے میں جھول کر پروان چڑھی اسی گود سے اتر کر میاں صاحب اور ان کی جماعت بھی کارزارِ سیاست میں داخل ہوئی، یہ دوسری قدر ہے جو دونوں جماعتوں میں مشترک ہے۔

دونوں جماعتوں اور ان کی قیادت نے وہ وہ کم کیے جو اگر پیپلز پارٹی یا کسی اور جماعت نے کیے ہوتے تو اب تک پاکستانی سیاست سے اس کا نام و نشان مٹ چکا ہوتا یا پھر ایم کیو ایم پاکستان کی طرح وہ بھی نپل منہ میں لیے اسی جھولے میں جھول رہی ہوتیں جس میں خان صاحب اور میاں صاحب جھولا کرتے تھے۔

میاں صاحب وہ خوش نصیب سیاستدان ہیں جو دو بار زیر عتاب آ کر ملک سے باہر گئے اور پھر واپس آ کر برسرِ اقتدار آئے اور عمران خان وہ خوش نصیب ہیں جس نے اپنے آقاؤں کے ساتھ وہ کچھ کیا جو ہندوستان اور اسرائیل مل کر اربوں ڈالر خرچ کر کے بھی نہ کر سکے اور آج بھی جیل میں بیٹھ کر اپنے ہی آقاؤں کو آنکھیں دکھا رہا ہے اور آقا کسی بھی سخت کارروائی سے گریزاں ہیں۔

تحریک انصاف اور نون لیگ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں کبھی اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارا ہوتی ہیں تو کبھی آنکھ میں کنکر کی طرح چبھتی ہیں مگر دونوں کو سیاسی منظرنامے سے ہمیشہ کے لیے غائب کرنے جیسی کارروائی کبھی نہیں ہوئی، جیسی پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ہوئی کہ بانی کو جھوٹے قتل کے مقدمے میں پھانسی پہ لٹکا دیا گیا اور ان کی بیٹی کو سرعام گولیوں سے بھون دیا گیا۔

یہاں عمران خان کو اجازت ہے کہ وہ چاہے تو عدلیہ کے لتے اتارے وہ چاہے تو فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ننگا کرے۔ میاں نواز شریف کو بھی اجازت ہے کہ وہ کسی جج کو چوک پہ کھڑا کردے یا جرنیلوں کو بیچ چوراہے گریبان سے پکڑ لے کیونکہ دونوں میں یہ ایک سب سے مضبوط قدر ہے جو مشترک بھی ہے اور انوکھی بھی اور اس قدر سہولت کسی دوسری سیاسی قیادت کو حاصل نہیں ہے۔

Facebook Comments HS