اُدین واجپئی اور شمس الرحمٰن فاروقی : ایک تاریخی مکالمہ

ایک ادیب کا تخلیقی و تنقیدی سفر کن کٹھن راستوں سے ہو کر گزرتا ہے؟ اس میں کون سے اور کیسے دشوار مقام آتے ہیں؟ کہاں عزت نفس کو چوٹ لگتی ہے؟ تو کہاں اس کے لفظوں کی تیزی نت نئے مخالف کھڑے کر دیتی ہے؟ پھر جب یہ آپ بیتی جب جگ بیتی کا روپ دھارتی ہے تو سننے میں دلچسپ مگر محسوس کرنے میں کیسی تلخ و تکلیف دہ ہو جاتی ہے کہ اس ادیب کے زمانے کے سبھی دکھ سکھ، تنگی و پریشانی سب یہاں سمٹ آتے ہیں۔ کتاب ”ایک فکشن نگار کا سفر“ ایسے ہی دلچسپ مکالمے، آپ بیتی، جگ بیتی اور خود شناسی کا امتزاج ہے۔
یہ شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کی وفات سے کوئی دو سال قبل کا ذکر ہے، جب ہندی، انگریزی اور سنسکرت ادب و شعریات کے معروف گیانی اُدین واجپئی نے اپنے ہندی رسالے ”سماس“ کے لیے اردو، ہندی، انگریزی، فارسی، عربی اور کسی حد تک سنسکرت کی طویل اور قدیم شعریات کا علم رکھنے والے رجحان ساز ادیب شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کے ساتھ ایک غیر رسمی مکالمے کی نشست رکھی۔ یہ گفتگو فاروقی صاحب کی عائلی زندگی، تعلیمی سفر، ملازمت، ان کے لڑکپن، جوانی اور اس وقت کے وقت ہندوستان کے سیاسی سماجی حالات، نو آبادیاتی عہد کے جبر و استبداد کے تناظرات میں ان کے تخلیقی و تنقیدی شب و روز پر مشتمل ہونے کے سبب بے حد اہمیت کی حامل تھی۔ جسے بعد میں انھوں نے ”اپنیاس کار کا سفر نامہ“ کے عنوان سے کتابی شکل میں بھی شائع کیا۔
اس کتاب کو اردو قارئین تک پہنچانے کے لیے نوجوان محقق رضوان الدین فاروقی نے کتاب کو اس کے اصل اسلوب، آہنگ اور فاروقی صاحب کے کھرے و بے باک انداز گفتگو کو برقرار رکھتے ہوئے، ہندی سے اردو زبان میں منقلب کیا۔ ترجمے کے اپنی اصل سے قریب ہونے کے سبب کہیں اجنبیت کا گمان نہیں گزرتا۔ کتاب کی ابتدا میں ہندوستان کے معروف ادیب خالد جاوید صاحب کی تقریظ شامل ہے، جس میں مترجم کی محنت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ فاروقی صاحب کے تبحر علمی کا بھی کھلے دل سے اعتراف کیا گیا ہے۔
اس ترجمے کی نمایاں و اہم خوبی یہاں فاروقی صاحب کی فطری راست گوئی و بے باکی ہے۔ سچائی میں گندھے فاروقی صاحب کے حقیقی جذباتی انداز و لہجے کی بدولت کتاب میں فاروقی صاحب کی سوانح کا رنگ ابھرتا نظر آتا ہے۔ فاروقی صاحب سے ہم کلام ہندی ادیب اُدین واجپائی کی عالمانہ شخصیت کے تدبر بھرے گہرے سوالات کے ذریعے فاروقی صاحب کے ماضی و حال کا احاطہ بڑی مہارت سے کیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہاں فاروقی صاحب کا بے تکلف انداز بیان، ان کی علمی و ادبی بصیرت، ماضی اور بچپن کی کہیں دلچسپ تو کہیں دکھ بھری یادیں نیز ان کے تخلیقی سفر کی داستان کتاب کو مزید دلچسپ بنا دیتی ہے۔
مثلاً اپنے وقت کے ہندوستان میں نو آبادیاتی عہد کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ برطانوی نو آباد کار کے جبر و بے حسی کو موضوع بناتے ہوئے دکھ سے بتاتے ہیں کہ:
”انگریزوں کا سزا دینے کا بس یہی طریقہ تھا کہ ساری بستی میں آگ لگا دو ۔ جیسا کہ بعد کے دنوں میں روسیوں نے افغانستان میں کیا۔ اس سے مجھ پر گہرا اثر ہوا کہ یہ سالا پرایا آدمی ہماری بستیاں جلا دیتا ہے۔ 1942 کی تحریک کے بعد جب سب امن ہوا تو ہمارے باپ کے ساتھ کام کرنے والے دیہات کے ایک استاد ہمارے ہاں آئے اور بتانے لگے کہ انگریزوں نے وہاں سب گھروں میں آگ لگوا دی کیوں کہ وہاں ایک گھر وسودھا سنگھ کا ایسا تھا جو 1942 کی تحریک میں شامل تھا۔“
انھوں نے اپنے زمانے اور زندگی کے دکھ درد کو بہت گہرائی سے محسوس کیا۔ اس سب کا ادب سے تعلق جوڑتے ہوئے وہ معروف ادیب ٹامس ہارڈی کے فن کے معترف نظر آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ادیب کا کام محض دکھ درد کا بیان نہیں بلکہ اس کی تحریر میں اتنی سکت ہونی چاہیے کہ قاری اس دکھ، درد کو اپنے سینے میں خود محسوس کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ:
”ٹامس ہارڈی کو میں نے بہت پڑھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ دنیا میں بہت دکھ ہے اور اس دکھ کو لکھنا بھی ایک طرح سے نیکی کا کام ہے۔ ہارڈی نے مجھے سکھایا کہ انسانی دکھ کو کیسے بیان کیا جاتا ہے، اس سے مجھے یہ سمجھ بھی آیا کہ ٹرین ٹو پاکستان، پشاور ایکسپریس، پھول سرخ ہیں، جب کھیت جاگے اور انسان مر گیا میں جو انسانی دکھ درد دکھایا گیا ہے وہ مشینی ہے۔ اسے پڑھ کر لگتا ہے کہ مصنف نے اسے سہا نہیں بلکہ محض بتایا ہے کہ دیکھو یہ ہو گیا۔ وہ اس درد سے اتنا دور ہے کہ نہ تو اس میں شریک ہے نہ یہ جانتا ہے کہ شریک ہونے والوں پر کیا گزر رہی ہے۔“
ایک وسیع المطالعہ شخص ہونے کے سبب وہ ادب کی کئی بڑی ہستیوں سے مرعوب نہیں ہوا کرتے، مگر جہاں کسی کی کوئی بات دل کو اچھی لگ جائے تو اسے سراہنے میں کبھی بخل سے کام نہ لیتے۔ شیکسپیئر کے حوالے سے ایک جگہ بتاتے ہیں کہ:
”شیکسپئیر نے مجھے سکھایا کہ دادا! یہ دنیا بہت بڑی ہے، اتنی بڑی دنیا کو ہم چھوٹے چھوٹے خانوں جیسے اچھا، برا، سیدھا، ٹیڑھا، مسلمان، ہندو، مذہب، دھرم، اللہ میاں، بھگوان میاں اور کرائسٹ میں نہیں بانٹ سکتے۔ اس سے میرے اندر بہت سی چیزیں بڑھیں، جیسے دکھ بڑھا، کھونے کا احساس بڑھا، کائنات کی بے معنویت کا احساس بڑھا، درحقیقت زندگی کو سمجھنے اور بنانے کے لیے شیکسپئر نے مجھے تیار کیا۔“
اپنی تعلیمی زندگی کی دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ وہ وقت کیسا دشوار تھا، گھر میں خوشحالی نہ تھی، حالات سخت بھی تھے اور مشکل بھی، مگر انھوں نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اور ان حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ قسمت کی ستم ظریفیوں کا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
”ہم نے دو تین جگہ ٹیوشن بھی پڑھائی۔ دور کے رشتے دار کے گھر کمرہ کرائے پر لے کر دو سال رہا۔ کچھ دن ہوٹل میں کھانا بھی کھایا مگر وہ نہ چلا، پھر ہمارے ایک دوست جو اب وفات پا گئے ان کے ہاں کھانا کھاتا۔ وہ مشکل دن تھے۔ یونیورسٹی دور بہت تھی، یا رکشے میں جاؤ یا پیدل۔ میرے پاس سائیکل تک نہ تھی۔ ایک کزن نے پرانی سائیکل دی، جو بعد میں چوری ہو گئی۔“
ایک کم آمیز شخص ہونے کے ناتے ان کا حلقہ احباب نہایت مختصر تھا۔ وہ لوگوں میں اپنی جلد نہ گھلنے ملنے کی صلاحیت کو کہیں سراہتے ہیں تو کہیں اس پر تاسف کا اظہار کرتے ہیں کہ اب اس عمر میں احساس ہوتا ہے کہ چند اچھے دوست ہو جاتے تو اچھا ہوتا۔ یہ ان کی طبیعت کی خاص وضع داری اور رکھ رکھاؤ ہی تھا کہ جس کے وہ سبب لوگوں سے جلد بے تکلف نہ ہو پاتے، یہی وجہ تھی کہ وہ دوستی کی روایتی رنجشوں سے بھی بچے رہے۔ اپنی زندگی کے چند قریبی لوگوں کا محبت سے تذکرہ کرتے ہوئے وہ نیر مسعود صاحب کے بارے میں بتاتے ہیں کہ:
”ان کا خاندان بہت مشہور تھا۔ ان کے والد مسعود حسن رضوی اردو کے بہت بڑے آدمی تھے۔ ان کی کتابیں ہم نے بچپن سے پڑھی تھیں۔ لکھنؤ تبادلے کے دوران میرا نیر مسعود سے بہت گھلنا ملنا ہو گیا۔ بالکل گھر کی طرح، ان کے ساتھ نہ کوئی نا اتفاقی ہوئی، نہ کبھی کوئی جھگڑا ہوا۔ وہ شیعہ ہیں، میں سنی ہوں، لیکن یہ سوال کبھی نہ اٹھا کہ شیعہ اچھے ہیں کہ سنی؟ یا یہ کہ شیعہ کیا کہتا ہے اور سنی کیا۔ اگر ان باتوں کی ہمارے درمیان کبھی گفتگو ہوتی بھی ہے تو بہت ٹھنڈے دماغ سے ہوتی۔“
انھوں نے اپنی تہذیبی شناخت کو ہمیشہ ہندوستان کی قدیم سرزمین سے منسلک کیا۔ وہ مذہب اور ثقافت کو الگ اور ایک دوسرے سے جدا عناصر سمجھتے، شاید اسی لیے ہندوستان کی قدیم تہذیبی شناخت ان کے تخلیقی و تنقیدی سرمائے میں بھی صاف ابھرتی ہے۔ خود کو ہمیشہ رنگ، نسل، زبان، ذات پات اور مذہب سے ماورا رکھنے کا بتاتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ :
”ایک بار انتظار حسین نے لاہور میں میرے سامنے جلسے میں کھل کر کہا کہ میں تھوڑا سا ہندو بھی ہوں۔ مگر اس کا پھیلاؤ کہاں تک ہے اور کتنا ہے یا ادین اگر مسلمان ہے تو کہاں تک مسلمان ہے یہ سب عقل آئی ضرور لیکن بعد میں۔ لیکن معاف کیجیے بڑے بڑے ترقی پسندوں کے یہاں یہ عقل نہیں ملتی، معاشرتی طبقہ وغیرہ مل جاتا ہے۔ کہ غریب آدمی ہے تو اچھا ہو گا اور اگر بڑا آدمی ہے تو سالا بدمعاش ہو گا۔“
ترقی پسندوں کے طبقاتی تفاوت کے پرچار سے نالاں، وہ ہندوستان کی عوام کے بڑے مسئلے کو طبقات میں جدا کر کے نہیں دیکھتے بلکہ اس اجتماعی تہذیبی ورثے کی بات کرتے ہیں جہاں ہندو، مسلم سب ایک بڑی ثقافتی شناخت کا مرکز ہیں۔ ان کے بقول:
”یہ جو انسانی حقیقت ہے، وہ ہندو مسلمان سے پرے چلی جاتی ہے، جس میں یہ دونوں ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں اور فرق نہیں معلوم ہوتا۔ ان ثقافتوں کا سنگم صدیوں کا ہے اور اس ملک کی ثقافت اسی کا نتیجہ ہے۔“
اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے وہ حسن عسکری جیسے بڑے ذہین ناقد کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آیا جب حسن عسکری جیسی بڑی صاحب المطالعہ شخصیت بھی ایسی مذہبی عناد پرستی اور تعصب کی نذر ہو گئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ: ”عسکری کو بھی اسی چیز نے مارا۔ ایک بار لاہور میں بات کرتے کرتے نماز کا وقت ہو گیا۔ کہنے لگے نماز پڑھ لوں۔ کسی صاحب نے کہا مسجد تو پاس ہی ہے پڑھ لیجیے۔ اس پر جواب ملا پتہ نہیں مسجد دیو بندیوں کی ہے یا بریلویوں کی۔“
اسی مذہبی شدت پسندی، فرقہ واریت اور تنگ نظری کو موضوع بناتے ہوئے وہ اس سب کا موازنہ اپنے عہد کے ہندوستان سے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ تب کا ہندوستان ایسی عناد پرستیوں سے پاک تھا، وہ ایک مثالی معاشرہ تھا جس میں ایک دوسرے کے مذہب اور برادریوں کی عزت کی جاتی تھی۔ وہ اس حوالے سے ایک تکلیف دہ واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
”دیکھا جائے تو اس حوالے سے اب ہندوستان پاکستان سڑ گئے ہیں۔ ایک بار ایک بریلوی مولوی صاحب نے مراد آباد میں کسی کی جنازے کی نماز پڑھائی۔ جنازہ دیوبندیوں کا تھا۔ اس پر ایسا واویلا مچا کہ سب کی نماز ہی نہ ہوئی اور ملا لوگوں نے فتویٰ دیا کہ وہ سب اب مسلمان نہ رہ گئے۔ ان کو پھر سے کلمے پڑھوائے گئے، نکاح پڑھوائے گئے۔ حالانکہ ہمارے زمانے میں ایسا نہیں ہوا کرتا تھا۔“
اپنے ادبی رسالے شب خون میں انھوں نے نئے لکھنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ اردو ادب کے آج کے کئی بڑے نام تب ان کے رسالے کے سبب ہی ادبی دنیا میں متعارف ہوئے۔ نیر مسعود اس کی ایک بہت بڑی مثال ہیں۔ نئے نوجوانوں کو اپنے مجلے میں جگہ دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ:
”کئی سال بعد ایک صاحب نے جھنجھلا کر پوچھا کہ آپ کن لوگوں کو چھاپتے ہیں۔ میں نے مسکرا کر جواب دیا، میں ان لوگوں کو چھاپتا ہوں، جنھیں کوئی نہیں چھاپتا۔ آج جب میں مرنے کے قرب ہوں تو تب جو ہزاروں چیزیں آپ مجھ میں دیکھ رہے ہیں، وہ سامنے نہ آئی ہوتیں۔ اگر یہ رسالہ نہ ہوتا اور اگر اسے میری بیوی نے سہارا نہ دیا ہوتا تو فاروقی صاحب بھی اوروں کی طرح مشاعروں میں جا کر، اخباروں میں چھپی ان خبروں کو ڈائری میں چپکا کر رکھ رہے ہوتے۔“
ادبی گروہ بندیوں کے حوالے سے انھوں نے خود کو کبھی کسی حلقے یا گروہ کا پابند نہ کیا۔ ہمیشہ اپنی مرضی کی بات کہی۔ پھر چاہے کسی کو بری ہی کیوں نہ لگی۔ ترقی پسندوں سے ان کی مخالفت کا ایک زمانہ گواہ ہے۔ اپنے لیے ادب کے کچھ راہنما اصول بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ:
”ہمارے پانچ چھ رہنما اصول ہیں کہ ادیب کو ہمیشہ اپنے دل کی بات کہنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اسی کسی پروگرام کا سیاسی ماتحت نہیں ہونا چاہیے، اسے تجربے کی آزادی ملنی چاہیے نیز ادیب پر غیر ادبی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے۔“
اس دلچسپ مکالمے کا ایک بڑا حصہ ان کے تخلیقی سفر پر مبنی ہے۔ جس میں ناول کئی چاند تھے سر آسماں کے کئی کرداروں کے بارے میں ان کی دلچسپ سوالات کے جوابات اور حیرت انگیز گفتگو ان کے اس تخلیقی سفر کا احوال رقم کرتی ہے، جس کے تحت انھوں نے نہ صرف یہ کردار تراشے بلکہ ان پر تاریخی و تہذیبی حوالے سے بہت محنت بھی کی۔ مکالمے کے اختتام پر وہ اپنے نئے ناول کا بڑی محبت سے تعارف کراتے ہیں جو گومتی ندی سے متعلق ہے۔
اس ناول کا تب تک انھوں نے ایک باب لکھ لیا تھا، جس میں فاروقی صاحب کے بقول میں گومتی ندی اپنی کہانی خود سناتے ہوئے ہندوستانی تاریخ، تہذیب، اساطیر اور ثقافت کو خود میں سمیٹ لیتی ہے۔ اس کے قصوں میں نواب آصف الدولہ کا احوال، جونپور کے شعراء اور صوفیاء کا ذکر ہے، وہ اپنے بارے میں بتاتی ہے کہ کب کیسے اس کا کہاں سے آغاز ہوا اور کتنے زمانے دیکھتے ہوئے وہ آج یہاں موجود ہے۔ مگر افسوس کہ کرونا جیسی وبا کے دنوں میں ہم نے فاروقی صاحب ایسے بے مثل تخلیقی و تنقیدی ذہن کو کھو دیا۔
فاروقی صاحب کی زندگی کی یادوں، یاداشتوں اور سوانحی مطالعہ کے حوالے سے یہ کتاب ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ محترم اُدین واجپئی کا شکریہ کہ ایسی اہم تاریخی شخصیت سے یہ دلچسپ مکالمہ قلم بند کیا۔ رضوان الدین فاروقی صاحب کا خصوصی شکریہ کہ جنھوں نے اس اہم ادبی سرمائے کو اردو زبان و ادب میں منقلب کیا۔ ان کے درخشاں مستقبل کے لیے نیک تمنائیں۔



