بنی اسرائیل کا گمشدہ قبیلہ: ایک اسطورہ یا ایک فتنہ پرور نظریہ


بنی اسرائیل کا گمشدہ قبیلہ، ایک اسطورہ یا ایک فتنہ پرور نظریہ: کیا ہر شخص یہودی مذہب اختیار کر سکتا ہے؟

شمال مشرقی قبائلی علاقے ”میزو رام اور منی پورہ“ سے تعلق رکھنے والا ایک انڈر گریجویٹ نوجوان جوزف ہاؤکپ اسرائیل ہجرت کر کے وہاں کی قومیت اختیار کرنے پر بے حد پرُجوش ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل جاتے ہی فوجی تربیت حاصل کرنے بعد غزہ میں اسرائیل کے دشمنوں سے لڑے گا۔ منی پورہ اور میزو رام میں تقریباً پانچ ہزار کے لگ بھگ قبائلی یہودی مذہب اختیار کرچکے ہیں۔ ان شمال مشرقی ریاستوں میں یہودیت کی ابتدا کا قصہ بہت دلچسپ ہے۔ شمال مشرقی ریاست کے ایک قبائلی سردار ”میلا چالا نے خواب دیکھا کہ اس کا تعلق کئی جنم پہلے اسرائیل سے تھا اور پچھلے جنم میں وہ یہودی تھا۔ اس بشارت کے تحت اس نے یہودی مذہب اختیار کر لیا۔ قبائلی سردار کے اس اقدام کے نتیجہ میں اور بھی بہت سے قبائلیوں نے اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہودی مذہب اختیار کر لیا۔

اساطیروں کے مطابق قدیم زمانے میں یہودیوں کی دو سلطنتیں تھیں۔ ایک سلطنت یہودا کی جنوبی سلطنت کہلاتی تھی جو یہودا اور بن یامین قبیلوں پر مشتمل تھی۔ جب اسیری ( بابی لون ) بادشاہ نے انہیں وہاں سے کھدیڑ باہر کیا تو وہ دنیا بھر میں بکھر گئے۔ دوسری سلطنت شمالی سلطنت تھی جو دیگر دس قبائل پر مشتمل تھی۔ اس سلطنت کے قبیلے بھی مختلف حصوں میں بکھر گئے۔ ان دس قبائل میں سے ایک قبیلہ پہلے چین پہنچا اور وہاں سے منی پورہ و میزو رام میں آن بسا۔ یہ اساطیر نو یہودی ہندوستانی قبیلے جس کو یہودی ربائی نے ”بنی مناشے کا نام دیا ہے اس کی ہے۔

پروفیسر شلوا ویل ہبرو یونیورسٹی کی پروفیسر اور ایک سینئر ریسرچر ہیں۔ وہ ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں میں کسی گمشدہ یہودی قبیلے کی آمد کے تصور سے متفق نہیں ہیں تاہم انہوں نے ایک اسرائیلی ربائی ایلیاہو اویچیل کو 1980 میں ان ریاستوں کے دورے پر بھیجا تھا۔ ربائی نے ان قبائلیوں کو یہودی رسم و رواج اور عبادات کی تعلیم دی تھی۔ ربائی کی سفارش پر اسی کی دہائی میں ہی اس قبیلے سے کچھ خاندانوں کی ہجرت کی درخواست قبول کرلی گئی تھی۔ ایک اور قبائلی ٹیکسی ڈرائیور اسرائیل جانے کے لئے پر عزم ہے۔ اس کی ماں پہلے ہی اسرائیل جاکر بس چکی ہے وہ اپنی ماں کے ساتھ جاکر رہنا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ 1950 کے اسرائیلی قانون ہجرت کے تحت یہودی مذہب اور عقائد پر عمل کرنے والا کوئی بھی یہودی اسرائیلی شہریت اختیار کر سکتا ہے۔ جب 1991 میں پروفیسر ویل نے بنی اسرائیل کے دس گمشدہ قبیلوں کے عنوان سے نمائش کا اہتمام کیا تو ان میں ہندوستانی قبیلے کا بھی ذکر کیا تھا۔

یہودیت میں مختلف مذاہب کے افراد کو مختلف حیلوں سے داخل کرنے کی روایات بہت پرانی ہیں۔ ان روایات کا سراغ ہزاروں برس پرانی روایات میں بھی ملتا ہے جب ایک یہودی بادشاہ نے یمن پر حملہ آور ہو کر اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ یمن پر قبضہ کے دوران ہزاروں یمنیوں کو بزور شمشیر یہودی مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ جب یہودیوں کو ایتھوپینز اور بازنطینی ایمپائر نے شکست دی تو یمن کے یہودی یورپین ممالک کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ جس زمانے میں ایتھوپیا کی عیسائی حکومت ختم ہو گئی تھی تو وہاں کے سیاہ فام عیسائیوں کو بھی یہودی مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد پچاس ہزار سے زائد ایتھوپین یہودی ابھی تک اسرائیل کی جانب ہجرت کرچکے ہیں۔ ان سیاہ فام یہودیوں کو اسرائیل میں شدید نسلی تعصب کا سامنا ہے۔ سفید فام اسرائیلی نوجوان اکثر ایتھوپیا کی خوبصورت نین نقوش رکھنے والی لڑکیوں پر مر مٹتے ہیں جسے قدامت پرست سفید فام یہودی پسند نہیں کرتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے سیاہ فام یہودی ایتھوپینز میں ایڈز کے وائرس کا سراغ لگانے کے بہانے سیاہ فام لڑکیوں کو بڑی تعداد میں Depo Provera انجیکشن لگا کر انہیں بانجھ کر دیا ہے۔ اس ضمن میں برطانوی جریدے دی گارجین نے تفصیلی آرٹیکل شیئر کیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل یہودی ربائیوں کے ایک وفد نے جنوبی امریکہ کے غریب ملک پیرو کے دارالحکومت لیما کا دورہ کر کے ایک گروپ کو مشرف با یہودیت اس شرط پر کیا کہ انہیں اسرائیل جا کر بسنا ہو گا۔ یہ گروپ اس شرط پر بہت ہی خوش تھا۔ جیسے ہی یہ امریکن نیٹو ( المعروف ریڈ انڈین ) اسرائیل آئے تو انہیں بسوں میں بھر کر مقبوضہ علاقوں میں لے جا کر بسا دیا گیا۔

اسرائیل نے دنیا بھر کے غریب علاقوں میں یہودی بنانے کی رفتار تیز کردی ہے کیونکہ مقبوضہ علاقوں میں جنگی صورتحال کی وجہ سے سفید فام اسرائیلی بسنے کو تیار نہیں اور جو وہاں بس چکے ہیں وہ وہاں سے نکل کر تل ابیب اور دیگر پر امن علاقوں میں جاکر بس رہے ہیں۔ گمشدہ قبیلے کا شوشہ کبھی کبھی افغانستان میں بھی چھوڑا جاتا ہے اور بہت سے پشتون لاعلمی میں اس پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اپنے آپ کو بنی اسرائیل کا گمشدہ قبیلہ سمجھنے بھی لگتے ہیں۔ پشتونوں میں اسلام گہری سرایت رکھتا ہے جو انہیں اسلام چھوڑ کر یہودی بننے سے مانع رکھتا ہے۔ ابھی تک افغانستان یا پاکستان کے پشتونوں میں اجتماعی طور پر یہودی مذہب اختیار کرنے کی کوئی خبر نہیں آئی ہے البتہ اسرائیل کو پشتونوں میں بہت دلچسپی ہے کیونکہ اگر انہوں نے یہودی مذہب اختیار کیا تو یہ ایک جانباز لڑاکا فورس ثابت ہوں کے جنہیں فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا جا سکے گا۔ مجھے ذاتی طور پر یورپ میں اسرائیل سے آئے ہوئے سیاہ فام یہودیوں سے گفتگو کا موقعہ ملا ہے۔ انہوں نے اسرائیل میں سیاہ فام یہودیوں کی حالت زار کے بارے میں بتایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے بہت سے عزیز اقربا اسرائیل سے پرتگال اور اسپین ہجرت کرچکے ہیں۔

اس آرٹیکل کو لکھنے میں الجزیرہ اور گارڈین میں شائع شدہ آرٹیکلز سے مدد لی گئی ہے اور تصاویر کا کریڈٹ بھی ان دونوں جرائد کو جاتا ہے۔

Joseph Haokip
Mela Chala
Bani Manashe
Profssor Shalva Weil
Eliyahu Avichail

Facebook Comments HS