سورج اور سایہ: لیوگی پیراندیلو کا افسانہ
پرانے شہر کی دیواروں کے ساتھ طویل گزرگاہ پر، درختوں کی شاخیں یوں مل رہی تھیں کہ سبز اور سایہ دار برآمدہ سا بن گیا تھا۔ ان شاخوں کے درمیان اچانک چاند حیرت سے نمودار ہوا اور اس ویران اندھیرے راستے پر بے وقت قدم اٹھاتے تنہا دراز قد آدمی سے یوں مخاطب ہوا۔ ”ہاں، میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔“
اور جیسے ہی اُس آدمی نے خود کو ظاہر ہوتا محسوس کیا۔ وہ رک گیا اور اپنا ہاتھ سینے پر رکھ کر شدید غصے سے چلایا: ”ہاں! میں چیونا ہوں!“
”چیونا۔ چیونا۔“ آہستہ آہستہ اس کے سر کے اوپر درختوں کے لاتعداد پتے سرسراہٹ کرتے اس نام کو دہرانے لگے۔ گویا وہ اسے بہت برسوں سے جانتے ہوں اور آج بھی آگاہ ہوں کہ وہ اس وقت کیوں اس ویران راستے پر تنہا چل رہا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ”چیونا۔ چیونا۔“
آدمی نے پیچھے مڑ کر دیکھا، نیم اندھیری راہ گزر پر چاندنی کے بہت سے بھوت سائے ڈال رہے تھے۔ کون کس کو جانتا ہے۔ سر سر سر۔ پتے ہوا سے جھومے۔ اس نے چاروں طرف دیکھا اور خود پر اور پتوں پر خاموشی مسلط ہوتے محسوس کی۔ سر سر سر۔ وہ ہاتھ پیچھے باندھے قدم بڑھانے لگا۔
بہت خاموشی سے دو ہزار سات سو لیرا۔ جنرل تمباکو کے گودام کے کیش رجسٹر سے دو ہزار سات سو لیرا چوری کر لیا گیا۔ اس لیے غبن کا مجرم۔ سر سر سر۔
انسپکٹر کل آئے گا اور کہے گا: ”چیونا دو ہزار سات سو لیرا غائب ہیں۔“
”جی جناب، وہ میں لے گیا ہوں۔“
”کیسے؟“
”دو انگلیوں سے انسپکٹر صاحب۔“
”اوہ شاباش چیونا! ایک چٹکی کی طرح؟ ایک طرف سے میری مبارکباد قبول کیجئے۔ دوسری طرف اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ کو جیل بھیج دیتا ہوں۔“
”اوہ نہیں جناب! مجھے معاف کر دیں۔ مجھے بہت افسوس ہے۔ اتنا کہ اگر آپ چاہیں تو دیکھیے گا کہ کل چیونا بگھی میں بیٹھ کر مرینا جائے گا۔ اس کے سینے پر ساٹھ کی دہائی کے دو تمغے اور ایک خوبصورت لاکٹ ہو گا۔ جسے وہ گلے سے باندھ کر خود کو سمندر میں پھینک دے گا۔ جناب! موت بدصورت ہے، اس کی ٹانگیں پتلی ہیں، لیکن چیونا باسٹھ سال کی بے داغ زندگی گزارنے کے بعد جیل نہیں جائے گا۔“
وہ پندرہ دن تک ان مکالموں کو دوہراتا اور عجیب و غریب اشارے کرتا رہا تھا اور شاخوں کے درمیان چاند کی طرح اس کے سب ہی واقف کار چپکے چپکے اس کے کردار اور بولنے کے مزاحیہ اور عجیب و غریب انداز و کیفیت سے لطف اندوز ہوتے تھے۔
”نکولیو! تمھارے لیے۔“ چیونا نے اپنے بیٹے کو ذہن میں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”میں نے تمھارے لیے چوری کی، لیکن یہ مت سمجھو کہ مجھے افسوس ہے۔ خداوند! چار بچے، سڑک کے بیچ میں، چار بچے اور آپ کی بیوی، نکولیو وہ کیا کرتی ہے؟ کچھ نہیں، وہ ہنستی ہے، بار بار حاملہ۔ چار اور ایک پانچ، مبارک باد۔ زرخیزی میرے بیٹے زرخیزی، چھوٹے سیوناس کے ساتھ گاؤں کو آباد کریں۔ چونکہ غربت آپ کو کوئی اطمینان نہیں دیتی۔ اس لیے زرخیز بنو بیٹا، مچھلیاں جو کل تمھارے باپ کو کھا جائیں گی۔ وہ تمھیں اور تمھارے بے شمار بچوں کو پالنے کی ذمہ دار ہوں گی۔ بحریہ کی کشتیاں میرے پوتے پوتیوں کے لیے ہر روز مچھلیوں کا بوجھ ڈھوئیں گی۔ مچھلیوں کی یہ ذمہ داری ابھی اس کے ذہن میں آئی تھی۔ کیونکہ چند دن پہلے تک اس کا ارادہ کچھ اور تھا۔
زہر۔ زہر۔ بہترین موت! ایک چھوٹی سی گولی اور شب بخیر۔
اس نے کیمیکل انسٹی ٹیوٹ کے ایک ملازم کے ذریعے آرسینک اینہائیڈ رائڈ کے کچھ ٹکڑے حاصل بھی کر لیے تھے۔ وہ ٹکڑے اپنی جیب میں ڈال کر اقرار کرنے بھی چلا گیا۔ ”مرنا ٹھیک ہے لیکن خدا کے فضل سے۔“
”اب زہر کے ساتھ نہیں۔“ اس نے مزید کہا۔ ”شدید درد، آدمی کمزور ہے۔ وہ تکلیف سے چیختا ہے، اگر بروقت مدد آ جائے تو وہ بچانے کی کوشش کرے گے۔ نہیں، نہیں، یہ بہتر نہیں، وہاں سمندر میں۔ تمغے سینے پر، گلے میں بھاری لاکٹ اور پھر بہت بڑا پیٹ۔ حضرات! ایک تیرتا ہوا گیریبالڈین، فیل ماہی کی ایک نئی نسل۔ مجھے بتاؤ، چیونا سمندر میں کیا ہے؟ چھوٹی مچھلیاں جو بھوکی ہیں، زمین پر تمہارے ننھے بچوں اور آسمان کے ننھے پرندوں کی طرح۔“
اس نے کل کے لیے گاڑی مختص کرائی ہوئی تھی۔ صبح سات بجے، ٹھنڈی ہوا میں، سڑک پر، مرینا تک ایک گھنٹہ، اور ساڑھے آٹھ پر الوداع چیونا!
دریں اثنا وہ راہ گزر کے ساتھ چلتے ہوئے خط کا مضمون سوچ رہا تھا جو وہ چھوڑنے والا تھا۔ کس سے مخاطب ہونا چاہیے؟ بیوی سے، اس غریب بوڑھی عورت سے، یا بیٹے سے، یا کسی دوست سے؟ نہیں، نہیں دوستوں کو چھوڑو۔ کیا انہوں نے اس کی مدد کی تھی؟ سچ کہوں تو اس نے کسی سے مدد نہیں مانگی تھی۔ کیوں کہ وہ پہلے ہی جانتا تھا کہ کوئی بھی اس پر ترس نہیں کھائے گا۔ اس کا ثبوت یہ تھا کہ پورے شہر نے اسے پندرہ دن تک سڑک پر بے سر کی مکھی کی طرح گھومتے دیکھا تھا، لیکن ایک کتا بھی اس سے یہ پوچھنے کے لیے نہیں رکا تھا کہ چیونا کیا ہوا ہے؟
اگلے دن صبح سات بجے نوکرانی کے اٹھانے پر وہ حیران رہ گیا۔ کیوں کہ ساری رات اسے بہت اچھی نیند آئی تھی۔
”کیا گاڑی آ گئی؟“
”ہاں جناب، وہ نیچے انتظار کر رہا ہے۔“
”میں تیار ہوں، لیکن جوتے، روزا! رکو! میں دروازہ کھولوں گا۔“
جب وہ اپنے جوتے لینے کے لیے بستر سے اُٹھا تو ایک اور حیرت اس کی منتظر تھی، اس نے پچھلی شام ہمیشہ کی طرح اپنے جوتے دروازے کے باہر نوکرانی کے لیے چھوڑے تھے کہ وہ ان پر پالش کردے۔ گویا اسے صاف جوتوں کے ساتھ اگلی دنیا میں جانے کی فکر تھی۔
تیسری حیرت الماری کے سامنے ہوئی۔ جہاں وہ کپڑے لینے گیا تھا۔ اس نے وہ لباس منتخب کیا جو وہ عموماً دفتری دوروں یا افسروں سے ملاقات کے موقع پر پہنا کرتا تھا، نیا شہری لباس۔
اب میں اسے کس کے لیے بچا کر رکھوں؟ مختصراً یہ کہ سب کچھ ایسا تھا جیسے اسے خود بھی یقین نہیں تھا کہ وہ جلد ہی خود کو مار ڈالے گا۔
نیند۔ جوتے۔ لباس۔ اور وہ یہاں ہے، اب وہ منہ دھو رہا ہے۔ اب وہ آئینے کے سامنے ہمیشہ کی طرح احتیاط سے ٹائی باندھے کھڑا ہے۔
کیا تم مذاق کر رہے ہو؟
نہیں، خط کہاں رکھا تھا؟ یہاں تپائی کی دراز میں۔ وہاں ہے، اس نے سرخی پڑھی۔ ”نیکولینو کے لیے۔“
میں اسے کہاں رکھوں؟
آخر اس نے اسے بستر کے تکیے پر رکھنے کا سوچا، وہیں جہاں اس نے آخری بار اپنا سر رکھا تھا۔
وہ اسے یہاں بہتر طور پر دیکھیں گے۔
وہ جانتا تھا کہ اس کی بیوی اور نوکرانی کبھی دوپہر سے پہلے کمرے میں صفائی کے لیے نہیں آتے تھے۔
”دوپہر تین گھنٹے سے زیادہ ہو گی۔“
اس نے جملہ مکمل نہیں کیا۔ اپنے ارد گرد دیکھا، گویا ان چیزوں کو الوداع کہہ رہا ہے جنہیں وہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ رہا تھا۔ پھر اس کی نظر پلنگ کے کنارے پرانے پیلے رنگ کے ہاتھی دانت کی صلیب پر پڑی، اس نے اپنی ٹوپی اتاری اور گھٹنے ٹیکتے ہوئے اپنی ٹانگیں موڑ دیں۔
لیکن اندر سے وہ ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا۔ اس کی ناک اور آنکھوں میں گہری اور لذت بھری نیند ابھی باقی تھی۔
”اوہ خدا۔ اوہ خدا۔“ آخرکار اس نے کہا اور اچانک حوصلہ ہار گیا اور ہاتھ سے اپنی پیشانی کو زور سے دبایا، لیکن پھر اسے احساس ہوا کہ نیچے گاڑی انتظار کر رہی ہے۔ وہ باہر بھاگا۔
”الوداع روزا! ان سے کہنا کہ میں شام سے پہلے واپس آ جاؤں گا۔“
جب وہ گاڑی میں گاؤں سے گزر رہا تھا۔ اس نے دیکھا، کوچوانوں نے اپنے گھوڑوں پر ایسی گھنٹیاں لگا رکھی ہیں جیسے کسی دیسی تہوار کی تیاری ہو۔ چیونا نے محسوس کیا کہ تازہ ہوا نے اس کی حس مزاح بیدار کردی ہے جو اس کی فطرت کا خاصہ تھی اور اس نے تصور کیا کہ میونسپل بینڈ کے موسیقار اپنی ٹوپیوں کے پروں کو پھڑپھڑاتے ہوئے، اس کے پیچھے بھاگتے اور چیختے ہوئے بازو لہرا رہے ہیں تاکہ اسے روکیں یا آہستہ چلنے کو کہیں کہ وہ اس کے لیے جنازہ نکال رہے ہیں۔ وہ اس طرح بھاگتے ہوئے اس کا پیچھا نہیں کر سکتے تھے۔
”بہت بہت شکریہ! الوداع دوستو! میں اس کے بغیر رہ سکتا ہوں۔ گاڑی کی یہ کھڑکھڑاہٹ اور گھنٹیوں کی یہ ٹن ٹن میرے لیے کافی ہے۔“
آخری مکانوں سے گزرنے کے بعد دیہی علاقے کو دیکھ کر اس نے اپنا سینہ پھلایا، جو فصلوں کے سنہرے سمندر کی طرح لگتا تھا، جہاں بادام اور زیتون کے درخت چلتی گاڑی سے ادھر ادھر تیرتے محسوس ہو رہے تھے۔
اس نے ایک کسان عورت کو اپنے تین بچوں کے ساتھ ایک خروب (بحر روم کا ایک سدا بہار درخت) کے نیچے سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے اس پستہ قد درخت پر غور کیا اور سوچا۔ یہ ایک مرغی کی طرح ہے جو اپنے بچوں کو اپنے نیچے رکھتی ہے۔ اس نے اس کی طرف ہاتھ ہلایا۔ وہ آخری بار سب کو الوداع کہنے کے موڈ میں تھا، لیکن بغیر کسی غم کے۔ گویا اس لمحے اس نے جو خوشی محسوس کی اس نے ہر چیز کی تلافی کردی تھی کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ گاڑی اب آہستہ آہستہ دھول بھری سڑک پر اتر رہی تھی، پہلے سے زیادہ تیز۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں اوپر نیچے جا رہی تھیں۔ اس نے کبھی خچروں کی خاص لگام پر توجہ نہیں دی تھی جو ان گاڑیوں کو کھینچتی تھیں۔ مگر آج اسے محسوس ہوا کہ جیسے ان خچروں نے اسے منانے کے لیے خود کو تمام جھنڈوں، کمانوں اور رنگ برنگے ربنوں سے سجایا ہوا ہے۔ وہاں دائیں بائیں، ادھر ادھر مٹی کے ٹیلوں پر کچھ فقیر، معذور یا اندھے بیٹھے آرام کر رہے تھے۔ وہ سمندر کے کنارے گاؤں سے شہر جانے کے لیے نکلے تھے اور ایک پیسے یا روٹی کے ایک ٹکڑے کے منتظر تھے۔
ان کو دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا اور فوراً اس کے ذہن میں آیا کہ وہ ان سب کو اپنے ساتھ بگھی میں بیٹھنے کی دعوت دے : ”خوش رہو! چلو سب چلیں اور سمندر میں کودیں! مایوس لوگوں کی گاڑی! چلو چلو، چڑھ جاؤ! زندگی خوبصورت ہے۔ ہمیں اسے اپنی بدصورتی سے متاثر نہیں کرنا چاہیے۔“
وہ پیچھے ہٹ گیا، تاکہ کوچوان پر اس کے سفر کا مقصد ظاہر نہ ہو جائے، لیکن وہ اپنے ساتھ گاڑی میں تمام بھکاریوں کا تصور کرتے ہوئے مسکرایا۔ جیسے وہ واقعی وہاں موجود تھے، راستے میں کچھ اور لوگوں کو دیکھ کر اس نے اپنی دعوت دہرائی۔ ”بھئی آؤ! اوپر آؤ! میں تمہیں مفت سواری دوں گا!“
سمندر کے کنارے گاؤں میں یوں لگا ہر کوئی چیونا کو جانتا ہے۔ ”اے چیونا!“ گاڑی سے اترتے ہی کسی کی پکار سنائی دی۔ پھر اس نے خود کو اپنے نوجوان دوست ٹینو امبرو سے بغل گیر پایا۔ اس نے چیونا کے دو زوردار بوسے لیے اور کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے بولا۔ ”کیسے ہو؟ کیسے ہو؟ تم یہاں ننگے پاؤں اس گاؤں میں کیا کرنے آئے ہو؟“
”ایک چھوٹا سا کام ہے۔“ چیونا نے شرمندگی سے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
”کیا تمھارے پاس گاڑی ہے؟“
”ہاں، میں نے کرایہ پر لی ہے۔“
”بہت اچھا، میاں ڈرائیور! تم کچھ دیر سستا لو۔ پیارے چیونا، تم چاہے کتنے ہی برے کیوں نہ لگو، پیلی آنکھیں، پیلی ناک، پیلے ہونٹ، میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا۔ اگر تمھارے سر میں درد ہے تو میں اسے دور کروں گا۔“
”شکریہ میرے ٹینو۔“ چیونا نے خوش مزاج نوجوان کے جوشیلے استقبال سے متاثر ہو کر کہا۔ ”مگر دیکھو مجھے دراصل ایک بہت اہم کام ہے۔ جس کی وجہ سے میں یہاں آیا۔ پھر مجھے واپس جانا ہے، شاید آج انسپکٹر اچانک میری گردن ناپنے آ جائے۔“
”اتوار کو؟ کیوں؟ بغیر کسی انتباہ کے؟“
”ہاں۔“ چیونا نے جواب دیا۔ ”کیا آپ بھی ایک انتباہ پسند کریں گے؟ جب آپ اس کی توقع نہیں کرتے تو وہ اچانک نازل ہو جاتے ہیں۔“
”مجھے کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔“ اس نے احتجاج کیا۔ ”آج چھٹی ہے اور ہم تفریح کرنا چاہتے ہیں۔ میں اسے اغوا کر لوں گا۔ میں پھر اکیلا ہوں، تمھیں پتا ہے؟ میری بیوی، بیچاری، دن رات روتی رہی۔ میں نے پوچھا۔ کیا بات ہے میری جان؟“
”مجھے ممی سے ملنا ہے، مجھے ڈیڈی سے ملنا ہے۔“
”تم اس لیے رو رہی ہو؟ پاگل لڑکی، ماں کے پاس ڈیڈی کے پاس چلی جاؤ۔ وہ تمہیں لاڈ پیار کریں گے۔ تم جو میرے استاد ہو، کیا میں نے اچھا کیا؟“
ڈرائیور بھی اپنی نشست پر ہنس پڑا۔
ٹینو نے اسے دھپ لگائی: ”بیوقوف، کیا تم ابھی تک یہاں ہو؟ جاؤ! میں نے تم سے کہا تھا جاؤ اور آرام کرو۔“
”رکو۔“ چیونا نے اپنی اوپری جیب سے پرس نکالتے ہوئے کہا۔ ”میں پیشگی ادائیگی کردوں۔“
لیکن ٹینو نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
”ابھی نہیں، ادائیگی کرو اور مرو، اس لیے جتنی دیر ممکن ہو کرو۔“
”نہیں۔“ چیونا نے اصرار کیا۔ ”مجھے پیشگی ادائیگی کرنی ہے۔ اگر میں اس شریف آدمی کے دیس میں تھوڑی دیر کے لیے بھی زندہ رہوں تو سمجھ لو، جیسے ہی میں چلنے کے لیے پاؤں اٹھاتا ہوں، مجھے خطرہ ہے کہ میرے جوتے کے تلوے چوری ہوجائیں گے۔“
”یہ ہے میرا پرانا باس، میں نے آخرکار آپ کو پہچان لیا۔ ادائیگی کریں، ادائیگی کریں اور چلیں۔“ ٹینو بولا۔
چیونا نے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ کے ساتھ ہلکا سا سر ہلایا۔ پھر اس نے ڈرائیور کو ادائیگی کی اور امبرو سے پوچھا۔ ”تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ یاد رکھو میرے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہے۔“
”تم مذاق کر رہے ہو۔ کرایہ ادا کر دیا گیا ہے۔ اب میں پورے دن کی پلاننگ کروں گا۔ تم دیکھ رہے ہو میرے پاس بھرا ہوا پرس ہے۔ میں نہانے جا رہا تھا۔ میرے ساتھ چلو۔“
”ہرگز نہیں۔“ چیونا نے سختی سے انکار کیا۔ ”میں اور غسل؟ کیا کہہ رہے ہو میرے عزیز۔“
ٹینو امبرو نے حیرت سے اسے دیکھا۔
”کیا تمھیں ہائیڈرو فوبیا ہے؟“
”نہیں۔“ چیونا نے خچر کی طرح اپنی ایڑیوں کو زمین پر مارتے ہوئے جواب دیا۔ ”جب میں نے نہیں کہا تو میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ میں اکثر نہا لیتا ہوں، مگر اس وقت نہیں۔“
”لیکن یہ وقت غسل کے لیے مناسب ہے۔ جس کے بعد سنہرے شیر پر شاندار کھانا، پھر خوب تفریح۔“ ٹینو نے کہا۔
”یعنی ہم تفریح کریں، تم مذاق کر رہے ہو، میرے پاس نہ سوئمنگ سوٹ ہے نہ تولیہ وغیرہ اور تم جانتے ہو میں اب بھی ایک شرمیلا آدمی ہوں۔“
”تمھیں اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ تم کو وہاں اپنی ضرورت کی ہر چیز مل جائے گی۔“ اس نے چیونا کو گھسیٹتے ہوئے کہا۔
آخر چیونا نے نوجوان کی زندہ دلی اور پیار بھری ضد کے آگے ہار مان لی۔
تھوڑی دیر بعد وہ حمام میں موجود تھے۔ چیونا خاموشی سے ڈریسنگ روم کی کرسی پر گر گیا اور اپنا سر لکڑی کی دیوار پر ٹکا دیا۔ اس کے تمام اعضا ڈھے گئے تھے اور چہرے پر غصے کے تاثرات تھے۔
اگلے ڈریسنگ روم سے کھٹ پٹ اور امبرو کی آواز آ رہی تھی۔
”کیا تم نے لباس بدل لیا؟“ اس نے پوچھا۔
”ہاں بدل رہا ہوں۔“
وہ کپڑے اتارنے لگا۔ پھر اس نے واسکٹ کی جیب سے گھڑی نکالی اور ہوشیاری سے اپنے جوتے میں چھپا لی۔ وہ وقت پر نظر رکھنا چاہتا تھا۔ تقریباً ساڑھے نو بجے تھے۔ اس نے سوچا ایک گھنٹہ بڑھ گیا۔ وہ گیلے قدموں سے نیچے اترنے لگا، سردی کے احساس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
”نیچے، پانی میں آؤ!“ ٹینو نے چیخ کر کہا۔ وہ پہلے ہی تالاب میں اتر چکا تھا اور ایک ہاتھ سے اس پر چھینٹے اڑانے کی دھمکی دے رہا تھا۔
”نہیں نہیں!“ چیونا کانپتے ہوئے ناراضگی سے چیخا اس جھنجھلاہٹ کے ساتھ جو سرد موسم میں پانی کی شیشے کی طرح چمکدار سطح کا سامنا کرتے ہوئے ہر کوئی کرتا اور ڈر کر پیچھے ہٹتا ہے۔ ”دیکھو میں واپس جا رہا ہوں! کیا مذاق ہے؟ میں اس کا سامنا نہیں کر سکتا۔ ہو ہو۔ کتنی ٹھنڈ ہے!“ اس نے اپنے جھریوں زدہ پیر کے انگوٹھے سے پانی کی سطح کو چھوتے ہوئے مزید کہا۔ پھر، جیسے اچانک اسے کوئی خیال آیا۔ اس نے چھلانگ لگائی اور پانی کے نیچے مکمل طور پر غائب ہو گیا۔
”بہترین!“ جیسے ہی چیونا اوپر آیا۔ دوست چلایا۔ وہ ایک فوارے کی طرح ٹپکتا ہوا دوسری طرف چلا گیا۔
”واہ بہادر!“ چیونا نے اس کے سر اور چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
”کیا تم تیر سکتے ہو؟“
”نہیں، میں کوشش کر رہا تھا۔“
پھر چیونا نیچے جھک گیا، ایک بازو سے ستون کو تھاما اور دوسرے ہاتھ سے ہلکے سے پانی کو تھپتھپایا، جیسے اسے کہنا چاہتا ہو۔ پرسکون رہو! اچھے رہو! یہ واقعی ایک ظالمانہ مذاق تھا۔ وہ ستون کا سہارا لیے نیچے جھکا رہا، جیسے پانی میں اپنا راستہ تلاش کر رہا ہو۔
تاہم، تھوڑی دیر بعد ٹینو دیوار کے پاس واپس آیا تو وہ وہاں نہیں تھا۔ اس نے اردگرد دیکھا۔ کیا وہ واپس لوٹ گیا؟ ٹینو اسے دیکھنے کے لیے ڈریسنگ روم کی سیڑھیوں کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک اس نے چیونا کو پانی کی سطح پر ابھرتے دیکھا۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور آنکھیں ابل آئی تھیں۔
”اوہ! یہ کیا وہ پاگل پن ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ اس سے گردن کی رگیں پھٹ سکتی ہیں؟“
”انہیں پھٹنے دو۔“ چیونا نے ہانپتے ہوئے کہا۔
”کیا تم نے پی رکھی ہے؟“
”تھوڑی سی۔“
”اپنی سانسوں کی جانچ کراؤ؟“
”ہاں۔“ چیونا نے بھیگے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اداس لہجے میں جواب دیا۔
”لڑکے کی تعریف کے ساتھ دس۔“ ٹینو نے کہا۔ ”چلو، کپڑے پہنتے ہیں۔ آج پانی بہت ٹھنڈا ہے۔ ویسے بھی بھوک لگنے لگی ہے، لیکن سچ بتاؤ کیا تمہیں واقعی یہ برا لگا ہے؟“
چیونا کسی ٹرکی کی طرح جھکا اور بولا۔ ”نہیں، مجھے اچھا لگا۔ خیر چلو، کپڑے پہنتے ہیں۔“ اس نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔
”کلیمز کے ساتھ اسپیگیٹی اور گلو۔ تھوڑی سی شراب! اسے مجھ پر چھوڑ دو۔ میں اس کا خیال رکھوں گا۔ میری بیوی کے رشتہ داروں کی طرف سے ایک تحفہ۔ خدا اس کو سلامت رکھے۔
تقریباً چار بج رہے جب وہ میز پر بیٹھے تھے۔ ڈرائیور ریستوراں کے دروازے پر نمودار ہوا۔
”یہ پھر آ گیا۔ تم ابھی مت جانا۔ میں اسے پیٹوں گا۔“ ٹینو نے غصیلے لہجے میں دھمکی دی۔ اس نے ایک ہاتھ سے چیونا کو گلے لگایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ میں خالی فلاسک پکڑی ہوئی تھی۔
چیونا نے خوشی محسوس کی۔ وہ مسکرایا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ دوست کی رفاقت میں بچے کی طرح خوش تھا۔
”میں نے تم سے کہا تھا کہ ہم شام سے پہلے فارغ نہیں ہوں گے۔“ ٹینو چلا کر بولا۔
”یقینا! یقیناً!“ کئی آوازوں نے اتفاق کیا۔ کیوں کہ کھانے کا کمرہ چیونا اور ٹینو کے تقریباً بیس دوستوں سے بھرا ہوا تھا، سب جڑ کر بیٹھے تھے۔ کئی میزوں کو ساتھ ملا لیا گیا تھا۔ آغاز میں وہ بڑی خوشگوار محفل تھی، پھر آہستہ آہستہ شور سے پر ہو گئی، ہنسی مذاق، چیخنا، طنز، ٹوسٹس، وہاں زبردست شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔
پھر ٹینو امبرو اپنی کرسی سے اچھل کر کھڑا ہوا اور بولا۔ ”ایک تجویز ہے! بندرگاہ پر ایک برطانوی اسٹیمر لنگر انداز ہے اس کا کپتان اپنا جگری یار ہے۔ وہ تیس سال کا ڈاڑھی والا نوجوان ہے، بے پناہ خوبیوں سے مالا مال اور اس کے پاس جن کی بوتلوں کا اچھا ذخیرہ بھی ہے۔ اس کا ذائقہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا، تو کیوں نا؟“
اس تجویز کا خیر مقدم زبردست تالیوں سے کیا گیا۔
تقریباً چھ بجے جب دوستوں کی ٹولی اسٹیمر کے سفر کے بعد منتشر ہوئی تو چیونا نے امبرو سے کہا: ”پیارے ٹینو، یہ رخصتی کا وقت ہے! مجھے نہیں معلوم کہ آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں؟“
”اس بارے میں پریشان نہ ہو۔“ ٹینو نے اسے ٹوکا۔ ”بس یہ یاد رکھو کہ تم کو اس چھوٹے سے کام کو دیکھنا ہے۔ جس کے بارے میں تم نے مجھے صبح بتایا تھا۔“
”اوہ، ہاں، تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ مجھے واقعی جانا ہے۔“ چیونا نے اپنی بھنویں اچکاتے اور دوست کے کندھے کو پکڑتے ہوئے کہا۔ جیسے وہ گرنے والا ہو۔
”کیا تم کچھ دیر اور نہیں رک سکتے؟“ ٹینو نے پوچھا۔
”نہیں، مجھے جانا ہے۔ میں نے خوب کھایا پیا، تفریح کی۔ اب۔ الوداع، ٹینو۔“ چیونا نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
”کیا میں تمھارے ساتھ چلوں؟“ اس نے پوچھا۔
”نہیں نہیں، شکریہ، میرے ٹینو، شکریہ۔ میں اکیلا ہی چلا جاؤں گا۔ میں نے کھا پی لیا، بس اب۔ الوداع، آہ۔“
”پھر میں گاڑی کے پاس انتظار کر رہا ہوں۔ تم واپس آؤں گے تو میں تمھیں رخصت کروں گا۔“
”بہت جلد! الوداع، ٹینو!“ وہ چل دیا۔
وہ بندرگاہ کے مغربی بازو کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جہاں گودی نہیں تھی۔ وہاں بس پتھریلی چٹانیں جیسے ایک دوسرے کے اوپر ڈھیر تھیں جن کے درمیان تیز سمندری لہریں چھینٹے اڑا رہی تھیں۔ وہ بمشکل اپنے پیروں پر کھڑا ہو پا رہا تھا۔ پھر بھی پھسلنے، پنڈلی ٹوٹنے، یا تقریباً بلا ارادہ سمندر میں لڑھک جانے کی نیت سے اس نے ایک چٹان سے دوسری چٹان پر چھلانگ لگائی۔ اگرچہ نیت واضح نہیں تھی۔ وہ ہانپ رہا تھا، ناک سکیڑ رہا تھا اور اپنی ناک کو ایک خاص جلن سے صاف کرنے کے لیے بار بار سر ہلا رہا تھا۔ جس کی وجہ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ پسینے سے ہو رہی ہے، آنسوؤں سے یا خود کو پتھروں کے درمیان دھکیلنے سے۔ جب وہ چٹان کی چوٹی پر پہنچا تو ٹوپی اتار کر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنی آنکھیں اور منہ بند کر لیا اور گالوں کو پھلایا۔ جیسے جسم میں موجود تمام سانسوں، تکلیفوں، مایوسی اور غصے کو جمع کر کے باہر پھینکنے کی تیاری کر رہا ہو۔
سورج غروب ہو رہا تھا۔ سمندر کا سبز پانی افق کی لرزتی وسعتوں میں شدت سے چمک رہا تھا۔ آسمان شعلوں کی لپیٹ میں تھا اور جلتے ہوئے پانی کے اس ارتعاش کے اوپر تھرکتی روشنی میں ہوا بالکل صاف تھی۔
میں وہاں ہوں گا؟ دو ہزار سات سو لیرے کے لیے؟ چیونا نے کچھ دیر بعد آخری پتھروں کے پیچھے سمندر کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا۔ وہ اسے بہت کم لگتے تھے۔ جیسے اس سمندر سے ایک بیرل پانی لینا۔
آپ کو چوری کرنے کا حق نہیں ہے، میں جانتا ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ آپ کا فرض نہیں ہے؟ خدا کی قسم جب چار بچے آپ سے روٹی کے لیے روتے ہیں اور آپ کے ہاتھ میں یہ مکروہ پیسہ ہے۔ آپ اسے گنتے ہیں۔ معاشرہ آپ کو حقوق نہیں دیتا، لیکن ابا جان آپ کا فرض ہے کہ ایسے معاملات میں چوری کریں اور میں ان چار معصوم بچوں کا دو گنا باپ ہوں۔ اگر میں مر گیا تو وہ کیا کریں گے؟ سڑک پر بھیک مانگیں گے؟ اوہ نہیں، مسٹر انسپکٹر۔ میں تمہیں بھی اپنے ساتھ رلا دوں گا اور اگر انسپکٹر صاحب آپ کا دل پتھر کی طرح سخت ہے تو بہت اچھا، مجھے ججوں کے سامنے بھیج دیں۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا ان کے پاس مجھے مجرم ٹھہرانے کا دل ہے؟ کیا میں اپنی نوکری کھو دوں گا؟ میں کوئی اور کام ڈھونڈ لوں گا۔ انسپکٹر صاحب! الجھن میں نہ پڑیں۔ میں خود کو یہاں نہیں ڈبوؤں گا۔ یہاں ماہی گیروں کی کشتیاں ہیں۔ میں ایک کلو بڑے سرخ شاہ ماہی خریدوں گا اور اپنے پوتے پوتیوں کے لیے کھانا گھر لے کر جاؤں گا۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ بھرے ہوئے ٹرالر گودی کی سمت آرہے تھے۔ وہ وقت پر مچھلی منڈی پہنچنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھا۔
اس نے ہجوم اور چیخ و پکار کے درمیان تازہ اور زندہ سرخ رنگ کی شاہ ماہی خریدی، لیکن انہیں کہاں رکھنا چاہیے؟ چند سینٹ کی ایک چھوٹی ٹوکری کائی کے ساتھ، مسٹر چیونا پریشان نہ ہوں، وہ زندہ گاؤں پہنچ جائیں گے۔
وہ سڑک پر گولڈن شیر کے سامنے دوبارہ ٹینو سے ملا، جس نے فوری طور پر اپنے ہاتھوں سے معنی خیز اشارہ کیا۔
”کیا چڑھ گئی؟“
”کیا؟ اوہ، شراب۔ کیا تم کو ایسا لگتا ہے؟“ چیونا نے کہا۔ ”دیکھو میں نے لال شاہ ماہی خریدی ہے۔ ایک بوسہ میرا ٹینو کے لیے اور ایک ملین شکریہ۔“
”کس سلسلے میں؟“
”شاید کسی دن میں تم کو بتاؤں۔ ارے ڈرائیور! گھنٹی بجاؤ! اب میں یہاں نہیں رکنا چاہتا۔“
گاؤں سے نکلتے ہی چڑھائی شروع ہو گئی۔ ڈرائیور وقتاً فوقتاً بے چارے دبلے پتلے جانوروں کو تیز آواز میں ڈانٹتا تھا۔ دونوں گھوڑے سر جھکائے بھاری قدم اٹھاتے بمشکل گاڑی کو کھینچ رہے تھے۔ ان کی گردنوں میں لٹکی ہوئی گھنٹیاں سستی اور درد کی پیمائش کرتی نظر آتی تھیں۔
اس ویران اور خاموش جگہ کی تنہائی جو ایک ہلکی سی آواز کی منتظر تھی۔ چیونا کی شراب کے بخارات میں گھری روح کو کچھ یاد دلاتی تھی اور سمندر پر غروب آفتاب کی شان و شوکت پر حیرت زدہ تھی۔
آہستہ آہستہ جیسے جیسے سائے لمبے ہوتے گئے۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، خود کو تسلی دینے لگا کہ وہ سو سکتا ہے۔ مگر تھوڑی دیر بعد اس نے ہچکولے کھاتی گاڑی کے اندھیرے میں خود کو کھلی کھڑکی سے باہر گھورتے ہوئے پایا۔ اسے لگا جیسے وہ لاشعوری طور پر کسی خواب سے نکل آیا ہو اور اس دوران وہ خود کو حرکت دینے یہاں تک کہ انگلی اٹھانے سے بھی قاصر تھا۔ اسے اپنے اعضا سیسے کی طرح ٹھوس محسوس ہوئے۔ وہ گہری اداسی میں ڈوبا ہوا تھا اور تقریباً پیٹھ کے سہارے بیٹھا ہوا تھا، ٹھوڑی سینے پر، پاؤں سامنے والی نشست پر ٹکے ہوئے تھے اور بایاں ہاتھ پتلون کی جیب میں دفن تھا۔ آدھے راستے میں اندھیرا چھا گیا۔
”رکو!“ وہ دھیمے لہجے میں بڑبڑایا۔
پھر اس نے رات کے اس سمے بگھی سے اتر کر منہ اٹھائے کسی بھی سمت کھیتوں میں گھومنے کا سوچا۔ اسے دور سے کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دی۔ اسے خیال آیا کہ کتا اس پر بھونک رہا ہے۔ وہ دور وادی میں گھوم رہا تھا۔
”رکو!“ اس نے تھوڑی دیر بعد سخت لہجے میں دہرایا۔ مگر نہیں ڈرائیور کو روکنے اور بتائے بغیر خاموشی سے گاڑی سے کودنا پڑے گا۔ میں اس وقت تک انتظار کروں جب تک کہ گاڑی سڑک کے ایک طرف اور ہلکی نہ ہو جائے۔ پھر کود کر دوڑتے ہوئے دیہات کا رخ کروں گا اور وہاں سے پیچھے سمندر تک دوڑ جاؤں گا۔
اس دوران اس نے حرکت نہیں کی۔ ”بیر!“ اس نے بے حس زبان سے کچھ کہنے کی کوشش کی، اچانک اس کے دماغ میں بجلی سے چمکی۔ وہ دائیں ہاتھ سے اپنی پیشانی کھجانے لگا: ”خط۔ خط۔“
وہ اپنے بیٹے کے لیے خط بستر کے تکیے پر چھوڑ آیا تھا۔ اس نے خط دیکھا ہو گا۔ اس وقت گھر میں اس کی موت کا ماتم ہو رہا ہو گا۔ پورے شہر میں اس کی خودکشی کی خبر پھیل گئی ہوگی اور انسپکٹر؟ انسپکٹر ضرور آیا ہو گا۔ انہوں نے اسے چابیاں دی ہوں گی۔ اس نے خالی سیف دیکھی ہوں گی۔ ذلت آمیز معطلی، غربت، تضحیک اور جیل۔
اس دوران گاڑی تیز رفتاری سے ہچکولے کھاتی حرکت کر رہی تھی۔ چیونا نے غصے کے عالم میں اسے روکنا چاہا۔ وہ کچھ بڑبڑا رہا تھا۔ پھر اس نے جیب سے اپنا بایاں ہاتھ نکالا اور انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے اپنے نچلے ہونٹ کو ایسے پکڑا جیسے کچھ سوچنا چاہتا ہو۔ جب کہ اس کی دوسری انگلی نے ہتھیلی پر کوئی سخت چیز محسوس کی۔
اس نے کھڑکی سے ہاتھ باہر نکالا اور آسمان پر چمکتے چاند کی روشنی میں آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔ زہر۔ کا ٹکڑا، جسے وہ بھول گیا تھا۔ اس نے پلک جھپکتے ہی وہ منہ میں ڈالا اور نگل لیا۔ فوراً ہاتھ دوبارہ جیب میں گیا اور ایک اور ٹکڑا باہر آیا۔ یونہی وہ کئی ٹکڑے نگل گیا۔
خالی پن، چکر اس کا سینہ اور پیٹ پھٹ رہا تھا۔ اس نے سانس پھولتی محسوس کی اور اپنا سر کھڑکی سے باہر جھکا لیا۔
”میں مر رہا ہوں۔“
وسیع وادی ٹھنڈی اور نرم چاندنی میں نہا رہی تھی۔ بالمقابل کی اونچی پہاڑیاں سیاہ ہو گئی تھیں اور دودھیا آسمان کے پس منظر میں واضح طور پر نظر آ رہی تھیں۔ خوشگوار چاندنی سے اس پر سکون طاری ہو گیا۔ اس نے دروازے پر ہاتھ رکھا اور ٹھوڑی کو ہاتھ پر رکھ کر باہر گھورنے لگا۔
وادی کے زیریں حصے سے جھینگروں کی واضح اور مسلسل جھنکار ابھر رہی تھی جو کسی پرسکون پوشیدہ ندی کے بہتے پانیوں پر لرزتے چاند کے عکس کی جلترنگ لگ رہی تھی۔
اس نے اپنی ٹھوڑی ہاتھ سے اٹھائے بغیر آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں، پھر کالی پہاڑیوں اور وادیوں کو دوبارہ دیکھا، گویا دیکھنا چاہتا ہو کہ اب دوسروں کے لیے کتنا بچا ہے، کیونکہ اس کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ جلد ہی وہ کچھ نہیں دیکھ سکے گا اور نہ ہی سن سکے گا۔ وقت رک گیا تھا؟ ابھی تک درد کی کوئی علامت کیوں محسوس نہیں ہوئی تھی؟
”کیا میں مر نہیں رہا؟“
اور فوراً، جیسے اس خیال نے اسے متوقع احساس دیا ہو وہ پیچھے ہٹ گیا اور ایک ہاتھ سے اپنا پیٹ پکڑ لیا۔ نہیں، اسے اب بھی کچھ محسوس نہیں ہوا تھا، بالکل۔ اس نے پیشانی پر ہاتھ پھیرا، آہ! وہ پہلے ہی ٹھنڈے پسینے میں بھیگ چکی تھی۔ موت کے خوف کے سرد احساس نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ سر پر منڈلاتے کالے، خوفناک اور ناگزیر سائے کے نیچے کانپ گیا اور گاڑی میں گھس گیا اور اپنا پیٹ گاڑی کی نرم نشست پر ٹکا دیا۔ تاکہ پہلی کاٹ دار اینٹھن کی چیخ کو کم کر سکے۔
گہرے سکوت میں ایک آواز سنائی دی۔ کوئی گا رہا تھا۔ اور وہ چاند۔۔۔۔ کوچوان نے بے ساختہ گانا گایا۔
جب کہ تھکے ہارے گھوڑے کالی گاڑی کو آسمان پر چمکتے چاند کی دھیمی روشنی میں دھول بھری سڑک پر بے دردی سے گھسیٹتے چلے جا رہے تھے۔
ترجمہ: جاوید بسام



