عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف

سعدی یوسف سے میرا بھرپور تعارف کروانے میں ایک کردار قدیم بغداد کے اُن قہوہ کیفوں میں منعقدہ ادبی محفلوں اور شاعروں کا بھی ہے جو میرے لاہور کی ہی طرح ادبی بیٹھکوں، گھروں اور کیفوں میں ادبی نشستوں اور مشاعروں کی صورت نئے اور پرانے شعرا کے اوپر بحث و مباحثے کے لئے اور کبھی اُن کا کلام اور مفہوم سمجھنے کے لئے منعقد ہوتی رہتی ہیں۔
بغداد میں میری بھی چند شامیں اسی سرگرمی کی نذر ہوئیں۔ بلا سے مجھے سمجھ نہ آتی مگر میرا ٹیکسی ڈرائیور انگریزی میں مجھے بتاتا اور سمجھاتا۔ بہت ساری مدد انگریزی جاننے والے ادیبوں نے بھی کی۔
مگر ہاں رُکیے ذرا۔ چند اہم یادیں بھی یادداشتوں کی گٹھڑی سے باہر نکل آئی ہیں۔ واقعات کے تناظر میں اگر دیکھوں تو کہہ لیجئیے کہ یہی پہلی پہلی ملاقات تھی اور تب ہوئی تھی جب ذہنی بلوغت ابھی غیر ملکی کلاسیکل اور جدید ادب کی رنگا رنگیوں کی دنیا میں داخلے سے گھبراتی تھی۔ ماحول اور ناموں کی نامانوسیت ہی مطالعے کے تسلسل میں روڑے اٹکاتی تھی۔ میری توجہ اور یکسوئی بہت جلد اس کی نئی نئی جہتوں کے کشادہ میدانوں میں گھو منے پھرنے اور لُطف اٹھانے سے اُکتا جاتی تھی۔
یہ بیسویں صدی کی ساٹھ کی دہائی کے درمیانی سال تھے۔ اور میں کچے پکے سے دو ناول لکھ چکی تھی۔
یہی وہ دن تھے جب میرا وہ رشتے کا ماموں ہم سے ملنے آیا۔ میں نے شوق و اشتیاق کی بلندیوں سے اِس بے حد دلچسپ کردار کو دیکھا تھا جو کبھی کبھار گھر کی بزرگ عورتوں کا موضوع بنا رہتا تھا، جو بڑے شاعرانہ سے مزاج کا آوارہ گرد اور من موجی سا بندہ تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں اپنی مرضی سے فوج میں بھرتی ہو کر مصر کے محاذ پر جا پہنچا۔ مدتوں تو کچھ پتہ ہی نہ چلا تھا کہ زندوں میں بھی ہے یا مارا گیا۔
درمیان میں ہوا کے کِسی معطر جھونکے کی مانند آیا اور بس اپنی باتوں کی خوشبو کہیں مصر، کہیں شام اور کہیں عراق کے حوالوں سے اِدھر اُدھر بکھیر کر چلا گیا۔ چاہتے ہوئے بھی میں نے کچھ زیادہ باتیں نہ کیں کہ تہی دامنی کا احساس تھا۔ یوں میری بڑی آئیڈیل شخصیت تھی۔ رشک سے سوچتی۔
”ہائے کتنا خوش قسمت ہے۔ کِسی پنچھی، کِسی پکھیرو، کسی بنجارے کی طرح زندگی گزارنے والا۔ گھومنے پھرنے کے جراثیم تو میرے اندر بھی بڑی وافر مقدار میں تھے۔
پھر کچھ سالوں کے بعد اُن کی مستقل واپسی کا سُن کر میں خود اُنہیں ملنے گئی۔ مشرق وسطیٰ کے ملکوں سے میری دلچسپی بہت بڑھ گئی تھی۔ سعدی یوسف سے میرا پہلا کچھ گیلا، کچھ سُوکھا تعارف اُنہی کے توسط سے ہوا۔
چھوٹتے ہی جو بات زبان سے نکلی وہ تھی کہ سیرتاً اتنا پیارا انسان کہ جتنا جھوٹ بول لو۔ ہاں صورت کا بھی بڑا وجیہہ ہے۔ شاعر بھی کمال کا ، اپنے نظریات میں پکّا بھی بڑا اور جیالا، جی دار بھی انتہا کا ۔ پھر بہت سی چھوٹی چھوٹی تفصیلات بیان ہونے لگیں۔ جانا کہ
Without an alphabat. Without a face
اُن کی منتخب نظموں کا مجموعہ ہے۔ اسی میں سے ایک نظم انہوں نے پڑھی۔
بہت سا وقت گزرا تو معلوم ہوا
ابن تیمیہ
جیلوں کے ٹارچنگ سیل کا نگران بن گیا ہے
اور وہ الموافق
غلاموں کی بغاوت کچلنے میں مصروف ہے
دمشق کی پولیس
عراقی پولیس
عرب امریکی پولیس
ایرانی اور عثمانی پولیس
ہم پر کتنا ظلم کرتی ہے
ہمارے معصوم اور بے ضرر سے لوگ
اُن کی خطا
تو آؤ وہ کریں جو کرنے کو
ہمارا دل چاہے
ساتھ ہی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ جانتی ہو نظم میں یہ دو حوالے ابنِ تیمیہ اور الموافق کون ہیں؟
گو پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ میں پڑھنے کی شوقین اب دنیا کے ادب کو پڑھنے اور اس سے لُطف اٹھانے لگی تھی اور خود کو خیر سے خاصی عالم فاضل چیز سمجھتے ہوئے پراعتماد بھی تھی۔ مگر اُن کے سوال پر قیں ہو گئی تھی۔ ہنستے ہوئے انہوں نے بتایا۔
ابنِ تیمیہ حنبلی فقہ کا ایک بڑا پیروکار تھا۔ امام حنبل چاروں فقہی اماموں میں سے سب سے زیادہ سخت اور متشدد نظریات کے حامل تھے۔ اور الموافق خلیفہ المتوکل کا بیٹا جو بڑا ہی ظالم اور جابر سپہ سالار تھا۔ جس نے جنوبی عراق کے دلدلی علاقوں جو اہواز ضلع کے قصبات تھے میں زنجی قبائل کے غلام لوگوں کی بغاوت کو بڑی سختی سے کُچلا تھا۔ یہ زمانہ کوئی نویں صدی کا اختتامی تھی۔ یعنی 869 سے 881 تک کا وقت۔
اور وہ سعدی یوسف کیا بات ہے اُس جوان کی۔
میں نے محسوس کیا تھا میرے رشید ماموں کے اندر سے جیسے محبت کے سوتے اُبل پڑے ہوں۔
”اس کے اندر تو گویا کوئی پارہ بھرا ہوا ہے۔ چھوٹی سی عمر سے ہی شاعری، سیاست اور سامراجی رویوں کی مخالفت اس نے اپنا نصب العین بنا لیا ہے۔“
اب خلیفہ اور سیدون سٹریٹ کے قہوہ خانوں میں اِن انقلابی شاعروں کی بیٹھک کی جو تفصیلات تھیں انہوں نے تو مجھ جیسی سیلانی عورت کے اندر طوفان اٹھا دیے۔
میرے اشتیاق بھرے سوالات کی ماموں سے ایک لام ڈور تھی کہ وہ بھی وہاں جایا کرتے تھے۔
”ارے وہ سب میرے لنگوٹیے یار تھے۔ سعدی یوسف تو میرا بڑا دلارا سا دوست ہے۔ میں تو خود عربی میں شاعری کرتا ہوں۔
اب جو منظر کشی کی تفصیل بیان ہوئی اس نے کیا لطف دیا؟ قہوے کی چسکیاں، سگریٹ کے مرغولے کے دھوئیں میں سعدی یوسف کی شعلہ بار نظم۔ واہ واہ کا سماں ابھی بندھا ہی ہے کہ پولیس کا چھاپہ پڑ گیا۔ اب بغداد کے پرانے محلوں کی پیچ در پیچ گلیوں میں بھاگتے پھرتے۔ کہیں پولیس سے دو دو ہاتھ کرتے۔ کہیں اس کی مارپیٹ کا نشانہ بنتے۔
وہ جمال عبدالناصر کا عاشق تھا۔ ارے وہ کیا ہم تو سبھی اس کے دیوانے تھے۔ پرانے بغداد کی گلیوں میں بھاگتے تو اس کے نام کے نعروں سے گلی کوچے گونج اٹھتے۔ وہ ہمارا محبوب جو تھا۔ سعدی حکام کی نظروں میں بہت کھٹکنے لگا تھا۔ وہ اور اس کے ساتھی بھی کیا شے تھے۔ بھاگتے پھرتے کبھی دمشق، کبھی قاہرہ۔
عراق جمہوریہ بنا۔ پر کہاں استقامت تھی اس ملک کے مقدر میں؟ عبدالکریم قاسمی کا زمانہ، بغاوتوں سازشوں کے وار کمیونسٹ پارٹی میں شامل دھواں دھار تقریریں کرتے اور لوگوں کو اُکساتے۔ شاعر نوجوانوں کا کام انقلابی نظمیں پڑھنا اور چھپتے بھاگتے پھرنا تھا۔ وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی سامراجی رویوں کا مخالف اور ترقی پسند نظریات کا پیروکار ہو کر سیاست کی وادی پُرخار میں اُلجھ گیا تھا۔
جاری ہے۔
