قلم و قرطاس کا قلندر
اپنے وادیٔ سوات میں، پشاور جی ٹی روڈ پر بری کوٹ ٹاؤن سے تین چار کلومیٹر آگے لنڈا کی چیک پوسٹ کے سنگم اور دریائے سوات کے دیار میں دو زندہ و تابندہ جڑواں بستیاں بڑی بے ہنگم طور پر پھیل رہی ہیں، نام ہیں کوٹہ اور ابوہا۔ انہیں بستیاں کہنا، لفظ بستی کی بے حرمتی ہے، کہ ان میں کل کی اُس بستی پن کی رونق آج کہاں؟ آبادی کے بے ربط و بے ترتیب بڑھوتری کے باعث دونوں بستیاں آپس میں اس طرح مدغم ہو گئی ہیں کہ پتہ نہیں چلتا کس بستی کا سر کدھر ہے اور پیر کہاں؟
ویسے ابوہا کا نام ہمیں لفظ ’آب و ہوا‘ کی بگڑی ہوئی شکل لگتی ہے۔ دریائے سوات کی آب و ہوا کے، کوٹہ ابوہا کی بود و باش پر پڑنے والے فیوض و برکات کے اثرات کتنے بھاری بھرکم ہیں؟ یہ یہاں کے باسیوں کے خوش رنگ چہروں، سرسبز فصلوں، اناج کی مٹھاس، پہاڑیوں کی شادابی، ماحول کی پاکیزگی اور ہواؤں کی ٹھنڈک و تروتازگی سے ہویدا ہیں۔ تاریخ میں ان بستیوں کا مقام کئی حوالوں سے نمایاں ہے، جیسے آثارِ قدیمہ کے وسیع ذخائر، فی الوقت جن کے نام موجود ہیں لیکن نشان نہیں۔ ریاستی دور کا وہ تاریخی قلعہ، جو اب دیکھتی آنکھوں کو عیاں نہیں۔ اور ہاں، پھلوں بالخصوص آڑو کے باغات کے دور دور تک پھیلے ہوئے سلسلے، جو اشرافیہ کے ناز، آڑھتیوں کے نخروں اور بھوکی جنتا کی روزی روٹی کا وسیلہ ہیں۔
دو اور حوالوں سے بھی ابوہا کا نام بڑا نامی گرامی ہے۔ ایک، پشتو لوک ادب کے رومانوی کردار نیمبولا خاپیرے اور بیگم جان بنتِ حوا کی روایتی داستان۔ یہ رومیوں اینڈ جولیٹ جیسی رومان پرور سیریز نہیں، نہ صحرائے عرب کے لیلیٰ مجنوں یا فارس کے شیریں فرہاد جیسی شیریں کہانی، سو اس میں زیادہ ”اِنوالو“ ہونے کی حاجت ہے نہ ہمارے افضل شاہ باچا، شوکت شرریا حاضر گل کی طرح کان کھڑے کرنے کی ضرورت۔ بس، نیمبولا سلطنتِ پرستان کا شہزادہ تھا اور مسمی بیگم جان یہاں کی ایک پری شکل دوشیزہ، جس کے درجنوں عاشق تھے، طالب کی شکل میں موجود نیمبولا بھی چھپے رستم کی طرح اسی صف کا نمایاں سپاہ نکلا، جب کہ معصوم بیگم جان جس کی منگیتر تھی، اسی کی دیوانی تھی۔ لتا منگیشکر کے بھی تو لاکھوں دیوانے تھے لیکن وہ خود جوانی میں چندر مُکھی کی دیوانی تھی۔ جانے دیجئے جی، جس کا کام اُسی کو ساجھے۔
ابوہا کا اگلا اور اصل حوالہ وہ مشفق، مہربان و معتبر ہستی ہے، جو عشق کے عارضے میں نتھنوں نتھنوں ڈوبی ہوئی ہے۔ اُن کا عشق کسی گُل پری بی بی سے نہیں، بلکہ اِس عارضِ گُل رنگ وطن، وادی سوات کی مٹی سے ہے۔ مبلغ اکیاسی سال پہلے، جس کے دارالحکومت سیدو شریف میں اُن کی ولادت ہوئی۔ تب یہ ایک خودمختار ریاست تھی۔ آپ کے والدِ گرامی محمد عظیم صاحب یہی سیدو شریف میں تعینات تھے، اس لیے وہ بھی یہیں پلے بڑھے، یہیں کے سرکاری سکول و کالج سے علم کی روشنی سے منور ہوئے۔
انیس سو اکسٹھ میں انہوں نے سیدو شریف میں ملازمت کی شروعات کی، جو تب طاقت کا سرچشمہ تھا اور اِس سرچشمے میں اٹھارہ سال کے الہڑ نوجوان کے نِکے نِکے کندھوں پر تقرری کے دوسرے ہی دن سے بڑی اہم ذمہ داری آ پڑی تھی جو وہ بہت خوش اسلوبی اور دل کے ساتھ نبھاتے رہے، محنت مہارت و ایمانداری میں نام و مقام کماتے گئے اور اپنے افسروں اور ریاست کے والی کا اعتماد حاصل کرتے رہے۔ حتیٰ کہ پلوں کے نیچے بہت سارا پانی بہتا بہتا دو ہزار تین آ گیا اور جہدِ مسلسل کا یہ جیتا جاگتا نمونہ کارِ سرکار سے سبکدوش ہو کر اِسی ابوہا بستی کو پلٹا، جہاں اُن کے بزرگوں کا خمیر تھا۔
عمر کی آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں اور اب بھی الحمدللہ اِس چلتی پھرتی دنیا کے ساتھ رمق دمق کے ساتھ چل پھر رہے ہیں، بڑے جی داری کے ساتھ۔ مبلغ ترتالیس سال کے خدمات کے دوران سوات وطن کا کونا کونا، چپہ چپہ چھان مارا۔ یہاں کے حسن و خوبصورتی کے جو رنگ ڈھنگ انہوں نے محسوس کیے ، سماجی و معاشرتی طرزِ زندگی کے جو وارے نیارے دیکھے، حق و انصاف کا بول بالا دیکھا، ترقیاتی کاموں کا بچھتا پھیلتا جال دیکھا، ریاستی دور کے مثالی امن کا عروج و زوال دیکھا، تیسری آنکھ سے معلومات کے اُس ذخیرے کو محفوظ کیا۔
اب وہ گھر بیٹھے اپنی یاداشت کی گٹھڑی میں محفوظ چشم دید واقعات، حالات کے مناسبت سے نکال نکال کر تحاریر کی صورت میں ’عکسِ ناتمام‘ کے نام سے علاقائی اخبارات میں پیش کرتے رہتے ہیں، جسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کی یادداشت کا کلیجہ کتنا تازہ دم اور زرخیز ہے، ماشاءاللہ۔ کوئی دو سال پہلے آپ کے کالموں کا پہلا مجموعہ ’عکسِ ناتمام‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ شعر و شاعری کے میدان میں بھی کسی سے کم نہیں۔
ڈاکٹر امیر فیاض پیرخیل صاحب کے ساتھ پشتو میں شاعری کی ایک دلچسپ کتاب ”یو طرز دو ہ خیالونہ“ (ایک طرز دو خیال ) لکھی، جو ایک منفرد کوشش ہے۔ اردو زبان میں شائع ہونے والے آپ کے پُرلطف و پُر معنی قطعات کی تعداد اتنی ہے کہ جس سے ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔ یہ قطعات درحقیقت ہمارے نظامِ ریاست و سیاست پر کاری ضرب اور معاش و معاشرت پر شدید طنز کا برملا اظہار ہے۔ ایک قطعہ میں، وادی سوات سے اِس انداز میں مخاطب ہے :
ہزار بار کہانی تری سناؤں میں
ہر ایک بار مجھے کل کی بات لگتی ہے
گھوما پھرا ہوں تیری ایک ایک وادی میں
تیری زمین مجھے جنت صفات لگتی ہے
آپ کی تحریروں میں اُس دور کے رسم و رواج اور سماج کی جھلکیاں نگینے کی طرح جھلکتی ہیں۔ جیسے اپنے ایک کالم ’پُرانے سیدو شریف کی طعام گاہیں‘ میں بچپنے کا دَور یاد کر کے لکھتے ہیں
”شریف اللہ نامی قصاب نے تورجرمن (ہوٹل) کے پڑوس میں کڑاہی لگا کر کباب کی دکان کھولی، ارزانی اتنی تھی کہ آپ کو ایک آنے کا کباب بھی ملتا تھا۔ سردیوں میں اس کے ہاں بھیڑ لگی رہتی تھی البتہ گرمیوں میں کاروبار مکمل طور پر بند ہوتا۔ یہ سب کچھ جیسے بھی تھا مگر پُرسکون اور خوشگوار ہوا کرتا تھا۔ کوئی اضطراب نہ بے چینی، چوری چکاری، قتل و غارت گری نہ دہشت گردی۔ لوگوں میں پیار و محبت اور احترام کا رشتہ ہوا کرتا تھا۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہماری یہ جنتِ ارضی بہت جلد اُجڑنے والی ہے اور ہمیں بھیڑیے کھانے والے ہیں“ ۔
وطن سے محبت کا یہ حال ہے کہ سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کی رات ڈگر ریسٹ ہاؤس میں انہوں نے سقوط ڈھاکہ کا واقعہ ریڈیو پر سن کر جو رونا رویا وہ درد انگیز کیفیت ایک عرصہ بیت جانے کے باوجود، اُن کے دل و دماغ پر چھائی رہی۔ حساس لیکن شگفتہ مزاج کی مالک، یہ ہستی محترم فضل رازق شہاب صاحب کی ہے، جو اِس وقت جسمانی طور پر مقیم تو سوات کے اِسی سرحدی بستی لنڈاکی کے پہلو اور دریائے سوات کے ہمسائیگی میں ہے، لیکن دل و دماغ سیدو شریف میں تب کے اَٹکے ہوئے ہیں جب سے وہ پیدا ہوئے۔
ایک عرصے سے اُن کے شخصیت پر لکھنے کی شدید خواہش رہی لیکن۔ لیکن بہ قولِ کَسے، بعض لوگوں پر قلم کشائی کرنے سے قلم جھجکتا ہے۔ شہاب صاحب اِس میدان ِ کارِزار کے زمیندار ہیں۔ کہتے ہیں کہ زندگی میں بعض لوگ خوشبو کی مانند ہوتے ہیں، ساتھ ہوتے ہیں نہ پاس ہوتے ہیں، لیکن ان کی چاہت خلوص اور باتیں تا عمر ہماری سوچ و فکر، ہمارے الفاظ غرض زندگی کے ہر پہلو میں مہکتے رہتے ہیں۔ ہمارے سوات میں چند ہی لوگ ہیں ایسے، شہاب صاحب کا نام انہی چند لوگوں میں شامل ہے۔
وہ ریاست کے تب کے والی میاں گل عبدالحق جہانزیب کے دَور کے چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیا اور وادیٔ سوات کے دنیائے قلم و قرطاس کے چند قلندروں میں سے ایک ہیں۔ وہ اِس دھرتی کے بیٹے ہیں اور یہاں کے درخشندہ روایات اور سماجی اقدار کے امین۔ محترم افتخار عارف کے یہ اشعار اُن پر کتنے صادق آتے ہیں، اُن کو پڑھنے والے قارئین خوب جانتے ہیں۔
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اُس کو گھر کر دے
میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرے خدا
اُجاڑ دے مری مٹی کو دربدر کر دے
مری زمیں مرا آخری حوالہ ہے
سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کردے


