مَیّا ری


میری ماں جب کسی آدمی کے ساتھ چارپائی کے اوپر ہوتی تو ہم تینوں بہن بھائی چارپائی کے نیچے ہوتے۔ ایسا میری ماں یقیناً ہم بہن بھائیوں کی حفاظت کی خاطر کرتی ہوگی۔ کیوں کہ ہمارا گھر بس ایک کمرہ تھا اور میری ماں ہم کو گھر سے باہر بھیجنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے کبھی کسی لمحے ہم کو خود سے دور نہیں کیا تھا۔

میرے باپ کے چھوڑ جانے کے بعد شاید میری ماں کو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے یہی کام ٹھیک لگا ہو گا۔ وہ ایک غریب گھرانے کی ان پڑھ عورت تھی جس کے پاس کوئی ہنر بھی نا تھا۔ وہ چارپائی پر ایک بڑی چادر ڈال دیتی جو چارپائی سے فرش تک لگتی اور ہم بہن بھائیوں کو وہ کاٹ کباڑ دے دیتی جن کو ہم کھلونے سمجھ کر کھیلا کرتے تھے۔ وہ ہمیں تاکید کرتی کہ جب تک وہ نا بلائے ہم باہر نا نکلیں۔ ایک دن میں ہم تین چار بار اور کبھی کبھی پانچ اور چھ بار بھی چارپائی کے نیچے کھیلتے۔ وہ چارپائی کب تھی! وہ تو ایک سگڑی تھی جس کے انگار پر میری ماں دن میں کئی بار لوٹتی تھی۔ کیسے کیسے داغ ملے ہوں گے اس کی روح کو۔ کیسے کیسے گھناؤنے چھالے آئے ہوں گے اس کے جسم پر۔ اپنے وجود سے گھن آنے کی تکلیف کتنی بڑی ہوتی ہوگی؟

ان آنے والوں میں سے ہر ایک ماں کو پچاس، ساٹھ روپے دیتا۔ دن بھر کے اسی دو ڈھائی سو روپے سے وہ ہمارا پیٹ بھی بھرتی اور کمرے کا کرایہ بھی دیتی جو پانچ سو روپے ماہوار تھا۔ میری ماں ہمیشہ جلدی میں ہوتی کیوں کہ وہ ہمیں زیادہ دیر تک چارپائی کے نیچے محدود نہیں دیکھ سکتی تھی۔ پھر اسے ہمارے لیے کھانا بھی بنانا ہوتا تھا اور باقی کام بھی کرنے ہوتے تھے۔ لیکن آنے والوں کو کوئی جلدی نہیں ہوتی تھی۔ وہ پچاس، ساٹھ روپے میں زیادہ وقت اور زیادہ تسکین چاہتے تھے۔

میری چھوٹی بہن چارپائی کے نیچے بہت تنگ ہوتی تھی۔ میں اس کا ایک پاؤں چارپائی کے پائے سے باندھ دیتا تھا۔ وہ بار بار ماں کو پکارتی۔ ماں اپنی مزدوری کے ساتھ ساتھ اسے وہیں سے دلاسا دیتی رہتی۔ تب مجھے لگتا کہ ماں ہونا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ میری عمر اس وقت چھ برس تھی میرا بھائی چار اور بہن دو برس کی تھی۔ میری ماں سمجھتی تھی کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا۔ اور اس وقت تھا بھی ایسا ہی۔ کیوں کہ ایک چھ سال کا بچہ اس طرح کے منظرنامے میں حیران تو ہو سکتا ہے پر کچھ سمجھ نہیں سکتا۔ لیکن میری ماں یہ نہیں جانتی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب میں اپنی ماضی کی ناسمجھی کو اپنے حال کی سمجھ سے جوڑ دوں گا۔ اور تب میری معصوم یادیں ایک دم جوان ہو کر میرے سامنے برہنہ ناچنے لگیں گی۔

میرے باپ کے چلے جانے کے بعد میں نے ماں کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا لیکن چھپ چھپ کر روتے اکثر دیکھا۔ اپنے پلو سے بندھے روپے دیکھ کر وہ ہمیشہ رنجیدہ ہو جاتی۔ مجھے لگتا تھا میری ماں کو پیسوں سے نفرت ہے۔ بہت بعد میں سمجھ آئی کہ عزت کے بدلے ملنے والا پیسہ کسی کو خوشی کیسے دے سکتا ہے؟ وہ بھی ایک عورت کو! روز مجھے اس کا چہرہ گزرے دن سے زیادہ اداس اور پژمردہ نظر آتا۔ اس کی بادامی آنکھیں کالے گھڑوں میں دھنستی معلوم ہوتیں۔

اس کا جسم سوکھتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ مجھے لگتا جیسے وہ تھوڑی تھوڑی کر کے مرتی جا رہی ہے۔ لیکن جب وہ ہم بہن بھائیوں کو بھاگم بھاگ نہلاتی جاتی۔ ہم کو خوشی خوشی تیار کرتی۔ نہال ہو ہو کر ہمیں لقمے کھلاتی تو مجھے لگتا کہ جیسے اس کی آنکھیں چراغ بنتی جا رہی ہیں۔ اس کے گال سرخ ہوتے جا رہے ہیں۔ تب لگتا کہ وہ کسی کلی کی طرح آہستہ آہستہ کھلتی جا رہی ہے اور ایک دن پھول بن جائے گی۔

صبح سویرے اٹھتے ہی ماں سب سے پہلے کمرے کی جھاڑو لگاتی۔ اس کے بعد کمرے کے کونے میں بنے سیمنٹ کی چوکی کا پردہ گرا کر نہا لیتی۔ پھر جلدی جلدی چائے روٹی بنا کر ہمیں ناشتہ دیتی۔ اور فوراً ہی ظہرانے کی تیاری میں جٹ جاتی۔ وہ کام کاج سے جلدی فارغ ہونا چاہتی تھی تاکہ اپنی مزدوری شروع کر سکے۔

عام طور پر صبح دس بجے کے بعد سے آدمی آنا شروع ہو جاتے۔ بد ہیئت اور میلے کچیلے۔ ان میں سے کئیوں سے دیسی بکروں کی سی بو آتی۔ کئی ننگے پاؤں ہوتے، کئی پھٹے پرانے کپڑوں میں، کئی مزدوری سے سیدھا یہیں آ جاتے، سیمنٹ بجری میں سنے ہوئے ہاتھوں پیروں اور کپڑوں کے ساتھ۔ ان کی جبلی بے تابی دیکھ کر کبھی کبھار لگتا جیسے ان کی مجبوری ماں کی مجبوری سے زیادہ بڑی ہے۔ کئی جنسی حاجت کے اس قدر مارے ہوتے کہ مجھے چارپائی کے نیچے ان کی سسکیاں سنائی دیتیں۔ جیسے انہوں نے پہلی بار عورت کا لمس پایا ہو اور تشکر، لذت، حیرانی اور محرومی کے جذبے ایک ساتھ امڈ آئے ہوں اور ان کو سمجھ نا آ رہا ہو کہ وہ حیران ہوں، تلذذ لیں یا اپنی دیرینہ محرومی کو روئیں۔

کئی ظالم اور سنگدل ہوتے۔ انہیں ماں پر تشدد کر کے لطف ملتا۔ مجھے گالیوں اور تھپڑوں کی آوازیں آتیں۔ بعد میں ماں کے چہرے پر نیل پڑے نظر آتے۔ کئی اپنے نوکیلے دانتوں کے نشان چھوڑ جاتے جنہیں ماں بعد میں توے پر کپڑا سینک کر ٹکور کرتی۔ کئی ایسے تھے جو تواتر سے آتے رہتے۔ انہیں میں سے ایک تھا جو ہفتے میں دو تین بار ضرور آتا۔ وہ ماں پر بدترین تشدد کر کے جاتا۔ وہ چھ فٹ اونچا چوڑی جسامت کا آدمی تھا۔ اس کے ہاتھ بہت بڑے بڑے تھے، انگلیاں اتنی موٹی تھیں جتنی اس وقت میری کلائی ہوتی ہوگی۔

اس کی جنگلی بیل جیسی موٹی موٹی آنکھوں کو دیکھ کر خوف آتا تھا۔ ماں ہمیشہ اس کے آنے پر خوف زدہ ہو جاتی۔ وہ یقیناً منع کرنا چاہتی ہو گی لیکن جس سے انسان خوف کھاتا ہو اسے انکار کیسے کر سکتا ہے! وہ ماں پر اتنا تشدد کرتا کہ ماں کراہنے لگتی۔ ہم تینوں بھائی بہن چارپائی کے نیچے سہم جاتے۔ وہ آدمی ہم بہن بھائیوں کو بھی کبھی نہیں بھایا جب کہ ہم چھوٹے بچے تھے۔ اس کے اندر ضرور کوئی ایسی پلیدی تھی جس کو میری دو سالہ بہن بھی محسوس کر سکتی تھی۔ میں اکثر ماں سے کہتا کہ ”یہ آدمی اچھا نہیں اس سے کہو ہمارے گھر نا آیا کرے“ ۔ تب ماں مجھے کہتی کہ ”کبھی اس کے سامنے ایسا کچھ مت کہہ دینا وہ بہت ظالم ہے ہم پر ظلم کرے گا“ ۔

یہ اسی قبیح آدمی کا ظلم تھا جو اس شام ہماری کوٹھڑی میں ہمارے سامنے ہوا۔ وہ اپنی بیل جیسی موٹی آنکھیں اور بڑے بڑے ہاتھ لیے اندر چلا آیا تھا۔ ماں نے فوراً ہم تینوں کو چارپائی کے نیچے پناہ گاہ میں بھیجنا چاہا۔ کیوں کہ وہ خود بھی نہیں چاہتی تھی کہ وہ زیادہ دیر ہماری کوٹھڑی میں رکے بلکہ جلد از جلد فارغ ہو کر چلا جائے۔ ماں نے ہمیں چارپائی سے نیچے کرنے کے لیے چادر اٹھائی تو اس نے ماں کا ہاتھ جھٹک دیا اور بولا، ”ان کو آج یہیں رہنے دے“ ۔

وہ یقیناً کسی ایسے ذہنی عارضے میں مبتلا تھا جس میں انسان جنسی عمل سے تسکین نہیں پاتا بلکہ اپنا جنسی عمل دوسروں کو دکھا کر خوش ہوتا ہے۔ میری ماں بولی، ”یہ معصوم بچے ہیں ان کو جانے دے“ ۔ لیکن وہ اپنی ضد پر اڑا رہا۔ میری ماں نے اس کی منتیں کیں اس کے آگے ہاتھ جوڑے لیکن جب وہ نہیں مانا تو ماں نے صاف انکار کر دیا کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے ایسے ظلم کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ماں بخوبی جانتی تھی کہ وہ کتنا سنگدل ہے اور انکار سن کر آپے سے باہر بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن ماں نے اس سب کی پرواہ نہیں کی۔ اور ایسا ہی ہوا، اس کی بیل جیسی موٹی آنکھیں مزید باہر آ گئیں اس نے اپنا فولادی گرز جیسا ہاتھ اٹھایا اور زناٹے سے ماں کے چہرے پر دے مارا۔ ماں زمین پر جا گری۔ ہم تینوں بہن بھائی رونے لگے۔ میری ماں نے زمین پر لیٹے ہوئے اس کے پیر پکڑ لیے لیکن ایسا لگتا تھا جیسے ماں کسی پتھر سے مخاطب ہے۔ اس نے ماں کو بالوں سے پکڑ کر اٹھایا اس کی قمیض کے گلے پر ہاتھ رکھے اور گلے سے لے کر نیچے دامن تک قمیض کو پھاڑ ڈالا۔

ماں فوراً چارپائی کی طرف لپکی اور اس پر بچھی لمبی چادر اتار کر اپنے گرد لپیٹ لی۔ ماں کے دونوں ہاتھ اپنے گرد لپٹی چادر کے کونے پکڑے ہوئے بھی التجا میں اس کے آگے بندھے ہوئے تھے۔ بیل کی آنکھوں والے نے اپنے نیفے سے چاقو نکالا اور اس کا پھل کھول کر ماں کو دکھانے لگا۔ ماں جان چکی تھی کہ آگے کیا ہونے والا ہے لیکن اس نے اپنے بچوں کے آگے بے آبرو ہونے پر جان دینے کو ترجیح دی۔ بڑے ہاتھ نے چاقو ماں کے مثانے پر رکھا اور اوپر لاتے ہوئے سینے تک اس کا پیٹ چاک کر دیا۔

ماں کی ساری آنتیں اور اندرونی اعضا ایک ساتھ زمین پر آ گرے۔ جانور چاقو کا پھل بند کر کے اسے نیفے میں اڑس کر باہر نکل گیا۔ میں اتنا خوف زدہ ہو گیا تھا کہ اپنے بہن بھائی کو لے کر چارپائی کے نیچے گھس بیٹھا۔ لیکن آج چارپائی کے نیچے بیٹھ کر بھی سب نظر آ رہا تھا کیونکہ چارپائی کی چادر میری ماں کے ساتھ خون میں لت پت پڑی تھی۔

Facebook Comments HS