اسکندریہ کی ہائپیشیا اور مابعد جدید عہد
غالباً نوم چومسکی نے کسی جگہ لکھا تھا کہ آپ کون سے مابعد جدید عہد کی بات کرتے ہیں؟ آج بھی اسی فیصد امریکی ”خروج“ پر یقین رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ خروج عہد نامۂ عتیق (بائبل) کا وہ باب ہے جس میں خدا اسرائیلیوں سے کہتا ہے کہ جب حملہ کرو تو دشمنوں کو یکسر تہ تیغ کر دو ، ان کی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر رحم نہ کھاؤ اور ان کے گھروں عبادت گاہوں کو بھی جلا دو ۔
بیسویں صدی کے ربع آخر اور اب اکیسویں صدی میں بھی مابعد جدید عہد کا غلغلہ بلند ہوتا رہتا ہے۔
مادی ترقی، اطلاعاتی انقلاب، سائنس اور ٹیکنالوجی کے حیران کن معجزوں سے کسی کو انکار نہیں مگر انسان۔ ! کیا انسان بھی اپنی اصل میں بدلا ہے؟ کیا اس میں کوئی بائیو کیمیکل تبدل ہو سکا یا عقل و عقائد کے باب میں وہ ویسا ہی ہے جیسا کہ وہ تھا۔
اس تحریر میں ہم محض اس پہلو سے قدیم و جدید کا تھوڑا سا سفر کریں گے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ عقل و عقیدہ کی کشاکش اس سے بھی کہیں قدیم ہے جس کا حوالہ یہاں دیا گیا ہے۔ سقراط اور دیو جانس کلبی قدیم تر شخصیات ہیں۔
اب آپ یہ لرزا دینے والا واقعہ پڑھ لیں۔
ہائپیشیا ( 355 تا 415 عیسوی) اپنے عہد کی سب سے بڑی نو افلاطونی فلسفی، ریاضی دان اور ماہر فلکیات تھی۔ اس کا باپ تھیون بھی معروف فلسفی تھا۔
ان دنوں اسکندریہ ( مصر) مشرقی رومی سلطنت کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ یہ شہر ایک طرف فلسفہ، دانش اور عقلی علوم کا مرکز تھا تو دوسری طرف اس میں رومی ریاستی مذہب یعنی مسیحیت بھی طاقت میں تھا۔
ہائپیشیا قدیم یونانی اعتقادات رکھتی تھی۔ تصوف کے ساتھ طبعی میلان کی وجہ سے اس نے خود کو کنواری رکھا۔ اس کی عقل و دانش کے ساتھ وابستگی اور مذہبی اختلاف کے باعث پادری اس کے خلاف ہو گئے حالانکہ وہ عیسائیوں کے ساتھ محبت بھرا رویہ رکھتی تھی اور کئی مسیحی دانش ور اس کے حلقۂ درس میں شامل تھے۔
مارچ 415 کے کسی دن، اسکندریہ کی ایک گلی میں پیٹر نامی پادری کی قیادت میں شدت پسند مذہبی ہجوم نے اسے گھوڑا گاڑی سے نیچے کھینچ کر مارا پیٹا۔ ہجوم اسے گھسیٹتے ہوئے قریبی چرچ میں لے گیا جہاں اسے مکمل برہنہ کر کے کوڑے مارے گئے۔ پھر اس کے اعضا ایک ایک کر کے کاٹے گئے۔ ہڈیوں سے گوشت الگ کر کے اسے جلا دیا گیا۔
بعد میں آنے والے زمانوں میں اسے شہید فلسفہ کہا گیا۔ اس استاد، دانش ور اور فلسفی خاتون کو اس لیے قتل کر دیا گیا کہ وہ عورت ہو کر مردوں کو تعلیم دیتی تھی اور بائبل کی تعلیمات کی رو سے یہ ایک سنگین جرم تھا۔
اس سے پہلے شدت پسند عیسائی گروہ سکندریہ کے عظیم الشان کتب خانے سے چن چن کر تاریخ، فلسفہ، سائنس اور فلکیات کے موضوعات پر بے شمار اہم کتابوں کو نذر آتش کر چکے تھے۔
ہائپیشیا کی تحریر سے ایک اقتباس:
” افسانوں کو افسانے اور دیو مالائی کہانیوں کو دیو مالائی کہانیاں سمجھ کر پڑھا اور پڑھایا جائے۔ نیز معجزوں کو شاعروں کی تخیل پرواز یا مبالغہ آرائی سے زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔ فرضی داستانوں اور توہمات کو سچائی بنا کر پیش کرنا اور پڑھانا افسوسناک ہے۔ ایک معصوم بچے کا ذہن ان افسانوں، توہمات، اور شاعرانہ تخیل پرواز کو حقیقت سمجھ کر قبول کر لیتا ہے۔ پھر بے پناہ ذہنی کوفتوں، الجھنوں یا المیوں سے گزرنے کے بعد اس پر ان توہمات کی حقیقت آشکارا ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ توہمات کا دفاع یوں کرتے ہیں جیسے وہ سچائی ہوں بلکہ سچائی سے بھی بڑھ کر ۔ چونکہ ہر توہم ناقابل فہم ہوتا ہے، یعنی حواس خمسہ سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے نہ تردید لہٰذا اس کو رد کرنا یا غلط ثابت کرنا آسان نہیں۔ توہم کے برعکس سچائی ایک نقطہ نظر ہے اور اسے بدلا بھی جا سکتا ہے ”۔ ہائپیشیا کی زندگی پر اک اچھی فلم بھی بنی ہے Agora (2009)۔
خرد اور دانش کے ساتھ اہل مذہب اور مقتدرہ کا یہ رویہ ہمیں تاریخ کی ہر گلی میں نظر آتا ہے۔ مسلم سائنس دانوں کا جو حشر مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا وہ عوام کو نہیں بتایا جاتا۔ آج بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہمارے عظیم مسلم سائنس دان تھے۔ ان میں سے محض چار سائنسدانوں کا مختصر احوال پیش خدمت ہے۔
یعقوب الکندی فلسفے، طبیعات، ریاضی، طب، موسیقی، کیمیا اور فلکیات کا ماہر تھا۔ الکندی کی فکر کے مخالف خلیفہ کو اقتدار ملا تو اہل منبر کو خوش کرنے کی خاطر الکندی کا کتب خانہ ضبط کر کے اس کو ساٹھ برس کی عمر میں سرعام کوڑے مارے گئے۔ ہر کوڑے پر الکندی تکلیف سے چیختا تھا اور تماش بین عوام قہقہہ لگاتے تھے۔
یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اندلس کے مشہور عالم ابن رشد کو بے دین قرار دے کر اس کی کتابیں نذر آتش کر دی گئیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے جامع مسجد کے ستون سے باندھا گیا اور نمازیوں نے اس کے منہ پر تھوکا۔ اس عظیم عالم نے زندگی کے آخری دن ذلت اور گمنامی کی حالت میں بسر کیے۔
جدید طب کے بانی ابن سینا کو بھی گمراہی کا مرتکب اور مرتد قرار دیا گیا۔ مختلف حکمران اس کے تعاقب میں رہے اور وہ جان بچا کر چھپتا پھرا۔ اس نے اپنی وہ کتاب جو چھ سو سال تک مشرق اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی، یعنی القانون فی الطب، حالتِ روپوشی میں لکھی۔
عظیم فلسفی، کیمیا دان، فلکیات دان اور طبیب زکریا الرازی کو جھوٹا، ملحد اور کافر قرار دیا گیا۔ حاکمِ وقت نے حکم سنایا کہ رازی کی کتاب اس وقت تک اس کے سر پر ماری جائے جب تک یا کتاب نہیں پھٹ جاتی یا رازی کا سر۔ اس طرح بار بار کتابیں سر پہ مارے جانے کی وجہ سے رازی اندھا ہو گیا اور اس کے بعد موت تک کبھی نہ دیکھ سکا۔
تاریخ کی راہداریوں میں ایسے کئی سانحے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ آج کے جدید عہد کی تمام تر سہولیات اسی فکر کی دین ہیں جو اہلِ مذہب کی معتوب رہی۔ پھر بھی سارے مذاہب کے پیشوا منطقی فکر کے اسی درخت کا پھل شوق سے کھاتے ہیں جس کی جڑیں وہ سدا کاٹتے رہے۔
لگ بھگ سو برس پہلے انسان کی مادی، عقلی اور سائنسی ترقی سے متاثر ہو کر کئی مفکرین نے اندازہ لگایا کہ اب دنیا میں مذاہب کی زندگی پچاس برس سے زیادہ نہیں رہ گئی۔ اسی طرح کے دعوے اب سے پچاس برس قبل بھی کیے گئے اور اب بھی کیے جاتے ہیں۔
دوسری طرف یہ ہوا کہ سائنس کے عطا کردہ ذرائع ( طباعت، لاؤڈ سپیکر، لائٹنگ، ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ) استعمال کر کے مذہبی اداروں نے عوام میں کہیں زیادہ اثر و نفوذ حاصل کر لیا۔ مذہبی تخلیص پسندی (Puritanism) اور اس کے نتیجے میں شدت پسندی نے زور پکڑا۔ اس کے کچھ مظاہر بھارتی ہندو انتہا پسندی اور ایشیا و افریقہ میں مسلم شدت پسند تنظیموں میں نظر آتے ہیں۔
مذاہب نے منطقی و عقلی پیش قدمی کے سامنے حیرت انگیز لچک کا مظاہرہ کیا۔ پسپائی بھی اختیار کی تو محسوس نہیں ہونے دیا۔ مسیحیت اور اسلام اس ضمن میں پیش پیش رہے۔ پوپ نے کئی سابقہ احکام منسوخ کر دیے اور بدعتی قرار دے کر چرچ کے حکم پر 1431 میں بہادر فرانسیسی لڑکی ”جون آف آرک“ کو زندہ جلانے پر عوامی معافی مانگ لی۔
ہمارے بچپن تک ٹی وی، وی سی آر، میک اپ، تصویر کشی حرام تھے۔ اس سے پہلے خون دینا، اعضا کی پیوند کاری، بیمہ پالیسی حرام تھے۔ اس سے بھی پہلے لاؤڈ سپیکر، ریل گاڑی ناجائز تھے۔ یہ تو تازہ تر واقعہ ہے کہ مرحوم خادم رضوی نے مقبول کھیل کرکٹ کو حرام قرار دیا تھا۔
فکر کی یہ دونوں لہریں، یعنی تقلید و توہم اور عقل و خرد ہمیں تاریخ کے ہر دور میں مل جائیں گی۔ دنیا جتنا آگے بڑھی ہے وہ منطق و فلسفہ و دانش کے بل پر بڑھی ہے۔ پھر بھی جدید عہد میں عقیدت، عقیدے، ماوریت، سریت اور جانے بغیر ماننے والے افراد تعداد میں کہیں زیادہ ہیں۔ ہمارے دانشور دوست اور "ہم سب” کے مقبول لکھاری ڈاکٹر خالد سہیل ان دو گروہوں کے لیے تخلیقی اقلیت اور تقلیدی اکثریت کے اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
اس مضمون کا آغاز مابعد جدید عہد کے حوالے سے ہوا تھا، اختتام میں بھی ایک جدید تر حوالہ۔
برطانیہ کی آنجہانی ملکہ ایلزبتھ کا انتقال 8 ستمبر 2022 کو ہوا۔ ان کے تابوت کی زیارت کے لیے آنے والوں کی قطار لگ گئی۔ پانچ میل سے زائد طویل اس قطار میں 24 گھنٹے کے بعد زیارت کی باری آ رہی تھی۔
لاہور میں داتا صاحب کے عرس پر اتنا رش ہوتا ہے کہ ارد گرد کے کئی میل علاقے میں بقول شخصے تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی۔ صرف اسی ایک عرس پر کیا موقوف، ایسے بہت سے ہیں جہاں اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ تھالی پھینکو تو سر ہی سر جائے۔ ہندو مذہبی اجتماعات ان سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ کمبھ کا میلا تو اردو ادب میں تمثالی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ شاہین عباس کا ایک شعر ہے
زنجیر لازمی ہے، کہ زنجیر کے بغیر
چلنا زمین پر ابھی آیا نہیں مجھے
دیوی دیوتا تو رہے ایک طرف، بادشاہ و ملکہ کے آگے رضاکارانہ سر خم کرنے کی خو بھی آدمی کی سرشت میں شامل نظر آتی ہے۔ چلیے مذہبی و صوفیانہ جذبات کا معاملہ تو کچھ الگ ہے، ملکہ و شاہ کے حضور جھک کر تسکین پانا انسان کی کون سی نفسیاتی ضرورت کے تحت ہوتا ہے؟
میں عقل پرست خوش گمانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگلے کئی سو برس تک خاطر جمع رکھیں۔ یہاں یہی سب چلتا رہے گا۔ عقل و توہم کی کشمکش بھی اور خرد و دانش کا قتل بھی۔
شاید کہیں کسی جگہ پر درمیانی علاقے ( مڈل گراؤنڈ ) کی اشد ضرورت ہے۔ وہ علاقہ جہاں نظریے، فکر اور عقیدے کی بنا پر قتل و غارت نہ ہو۔ جہاں گفتگو مخالف خیالات کے احترام سے شروع ہو۔ جہاں امن اور بقائے باہمی کے ساتھ ہر دو گروہ رہ سکیں اور ان میں مکالمہ ہو سکے۔




