وطن عزیز میں ایک اور ممتاز قادری کا اِضافہ


وطن عزیز میں ایک بار پھر توہین رسالت کے نام پر ایک شخص کو قانون اپنے ہاتھوں میں لے کر قتل کر دیا گیا۔ مگر اس بار قتل کرنے والا خود قانون کا محافظ پولیس اہلکار ہی تھا۔ یہ واقعہ بدھ کے روز سوشل میڈیا پر ملزم عبدالعلی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پیش آیا جس کے بعد بلوچستان کی پولیس کی جانب سے ملزم کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

یہ خبر سنتے ہی علاقے میں بسنے والے مومنین بڑی تعداد میں غصے کی حالت میں پولیس تھانے کے باہر جمع ہو گئے اور تھانے کا دروازہ توڑ کر اندر جانے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ تمام مظاہرین بہت زیادہ جنونی کیفیت میں تھے اور ملزم کے خون کے پیاسے تھے۔ تمام مومنین تھانے میں موجود ملزم کے پاس تک پہنچنا چاہتے تھے تاکہ اس کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر کے جنت میں اعلیٰ مقام حاصل کر سکیں اور اس قتل میں تمام مظاہرین ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنا حصہ ڈالنا چاہتے تھے کیونکہ یہ کوئی اس طرز کا پہلا واقعہ نہیں اور افسوس کے ساتھ آخری بھی نہیں۔

چنانچہ تھانے میں موجود ایک مومن پولیس اہلکار کے دل میں بھی جنت میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کا لالچ آ گیا اور پھر ملزم کے پاس جاکر اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ اس اقدام کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک اور ممتاز قادری کا اضافہ ہو گیا اور ثابت کر دیا پاکستان میں مذہب کے نام پر قتل کرنے کا لائسنس ہر مومن کے پاس موجود ہے اور ریاست اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ اگر ریاست نے بیچ میں آنے کی کوشش کی تو اس کا سلمان تاثیر والا حال کر دیا جائے گا۔

اس واقعے کے بعد ملک کے کونے کونے تک تمام امن کے مذہب اسلام کے ماننے والوں کے اندر اسلام اور نبی پاک کے ساتھ محبت و عقیدت میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر واضح طور پر دیکھا گیا کہ عوام قتل کرنے والے پولیس اہلکار کے حق میں ہے اور قاتل کے اس اقدام کو بہت زیادہ سراہا گیا۔ قتل کرنے والے پولیس اہلکار کو ممتاز کے ساتھ بھی ملایا جانے لگا۔

ملزم کے بیٹوں میں سے ایک بیٹا گواہی دے رہا تھا کہ جب اس کے والد کو پولیس والے گرفتار کرنے آئے تھے تب مرحوم والد نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تھی اور کہا تھا کہ میں نے خدا سے بھی معافی مانگ لی ہے اور دوبارہ سے کلمہ بھی پڑھ لیا ہے۔ مگر خدا نے معاف بیشک کر دیا ہو مگر اس کے بندوں نے پھر بھی معاف نہیں کیا اور ملزم کو گرفتار کر کے تھانے میں بند کر دیا۔

افسوس کے ریاست نے اس واقعے پر ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر خاموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان و مال اور سیاست بچانے کو ترجیح دی کیونکہ اب ریاست مکمل طور پر شدت پسند سوچ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہار مان چکی ہے اور ریاست اپنی عوام کو بھی یہی مشورہ دینا چاہ رہی ہے کہ عوام شدت پسند سوچ کے آگے ہماری طرح گھٹنے ٹیک دے اور اپنی جان بچانے کے لیے مزید احتیاط سے زندگی بسر کرے۔

Facebook Comments HS