مقامی حکومتوں کے فیصلہ سازی عمل میں خواتین کی شمولیت


خیبر پختون خواہ میں بلدیاتی انتخابات لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2019 کے تحت دو مراحل میں منعقد کیے گئے تھے۔ پہلے مرحلے میں 19 دسمبر 2021 کو 17 اضلاع میں انتخابات کا انعقاد ہوا جن میں 1174783 نفوس کی آبادی والا شہر ہری پور بھی شامل تھا۔ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کے دفتر سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق جب بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا تو کل 692185 ووٹرز رجسٹرڈ تھے جن میں 368998 مرد اور 323187 خواتین ووٹرز شامل تھیں۔

ہری پور کی تین تحصیل کونسلز ہری پور، غازی اور خان پور ہیں جن کی 45 یونین کونسلز کو 155 ویلیج کونسلوں اور 25 نیبر ہڈ کونسلز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تینوں تحصیل کونسلوں میں جنرل کونسلرز کی 540 نشستیں ہیں اور 180 وی سی و نیبر ہڈ کونسلز میں خواتین، کسان، اقلیت اور یوتھ کی 180، 180 نشستیں موجود ہیں۔ ضلع ہری پور کی تینوں تحصیلوں کی کل نشستیں 1083 ہیں جن پر مختلف جماعتوں کے حمایت یافتہ اور آزاد 2098 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا جن میں سے 79 خواتین اور 98 مرد بلامقابلہ منتخب ہو گئے تھے۔ خواتین کی 180 نشستوں پر 197 امیدوار سامنے آئی تھیں جبکہ 1 خاتون نے جنرل نشست اور 2 نے تحصیل کونسلوں کی نشستوں پر الیکشن میں حصہ لیا لیکن کامیاب نہیں ہو سکیں۔ تحصیل کونسل ہری پور میں خواتین کی مخصوص نشستیں 40، غازی میں 10 اور خان پور میں 9 ہیں۔

ہر دور حکومت میں خواتین کی بھرپور نمائندگی کا دعوٰی کیا جاتا ہے۔ مختلف ایوانوں میں خواتین کو 33 فی صد نمائندگی کا حق بھی دیا گیا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں خود کو حقوق نسواں کی علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن بلدیاتی نظام میں 33 فی صد نمائندگی حاصل ہونا خواتین کے لیے کس حد تک مفید ثابت ہو رہا ہے اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو شمولیت کی کتنی آزادی حاصل ہے؟ یہ جاننے کے لیے آر ٹی آئی ایکٹ کو استعمال کرتے ہوئے تحصیل کونسل ہری پور سے سابقہ اور موجودہ مقامی حکومتوں کے دوران ہونے والی فیصلہ سازی میں خواتین کی شمولیت بارے معلومات اور اعداد و شمار حاصل کیے جن کے مطابق 28 اگست 2015 سے 28 اگست 2019 تک تحصیل کونسل کی 4 سالہ مدت میں 44 اجلاس منعقد ہوئے جن میں ایوان کی کل 12 خواتین ممبران نے بھرپور شرکت کر کے بحث اور قانون سازی میں حصہ لیا۔

کونسل میں 5 مختلف قائمہ کمیٹیاں قائم کی گئیں جن میں خواتین کو نمائندگی تو حاصل تھی لیکن کسی خاتون ممبر کو قائمہ کمیٹی کی چئیر پرسن نہیں بنایا گیا۔ ایوان کی 4 سالہ مدت میں 513 قراردادیں پیش کی گئیں جن میں 20 قراردادیں خواتین ممبران نے پاس کروائیں۔ ان قراردادوں کی روشنی میں عورتوں کے حقوق، گھریلو تشدد اور ہراسانی کے تدارک، دارالامان اور جیل میں خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور خواتین کو تعلیم و تربیت اور روزگار فراہم کر کے با اختیار بنانے کے حوالے سے اقدامات قابل ذکر ہیں۔

موجودہ مقامی حکومت کی مدت کا آغاز 15 مارچ 2022 کو ممبران کی حلف برداری تقریب سے ہوا۔ تحصیل کونسل میں جنرل ممبران کی تعداد 124، خواتین 40، خواجہ سرا 1، نوجوان 6، کسان 6 اور اقلیت کی 2 نشستیں ہیں۔ نیبر ہڈ سٹی 8 سے خاتون ممبر ربیعہ بی بی اور وی سی پھرہالہ سے فخرالنساء کی وفات کے بعد دو نشستیں خالی ہیں جن پر ضمنی انتخاب ہونا ہے۔ مقامی حکومت کے قیام کو اڑھائی سال پورے ہونے والے ہیں تاہم کل 6 اجلاس منعقد ہوئے ہیں اور کسی قائمہ کمیٹی کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا۔

تحصیل چیئرمین سمیع اللہ خان اور ممبر ملک فیصل اقبال خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کے مطابق منتخب بلدیاتی نمائندگان کو اختیارات اور فنڈز فراہم نہیں کیے جس کی وجہ سے مقامی حکومتوں کا نظام غیر فعال ہے۔ اختیارات اور فنڈز کی بحالی کے لیے تمام بلدیاتی نمائندگان کی مشترکہ احتجاجی مہم جاری ہے۔

مقامی حکومتوں کے فیصلہ سازی عمل میں خواتین کی شمولیت کے حوالے سے عورتوں کی نمائندگی کرنے والی مختلف خواتین کا موقف جاننے کی کوشش کی ہے۔ جنھوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں سیاسی عمل میں خواتین کی شمولیت کے مسلسل گرتے ہوئے گراف کے عوامل بیان کیے ہیں۔

ویلفیئر ایسوسی ایشن جرید کی ڈائریکٹر گلناز رشید ایڈووکیٹ 2001 سے 2019 تک بلدیاتی نظام میں منتخب ہوتی رہی ہیں۔ وہ یونین کونسل سٹی نارتھ سے خواتین کی نشست پر ممبر منتخب ہوئیں۔ بعد ازاں انھیں یونین کونسل میں انصاف کمیٹی کی چیئرپرسن بنایا گیا جہاں فعال کردار ادا کرتے ہوئے خواتین کے مسائل کو احسن طریقے سے اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2008 میں ان کی پیش کردہ قرارداد کی منظوری سے تحصیل کونسل ہال ہری پور کا نام بے نظیر بھٹو شہید ہال رکھا گیا۔ 2015 کے الیکشن میں نیبر ہڈ سٹی 3 سے جنرل کونسلر کی نشست پر حصہ لیا اور نائب ناظم منتخب ہو کر ایوان کی سپیکر رہیں۔ ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے کے ساتھ ساتھ فیصلہ و بجٹ سازی اور ترقیاتی سکیموں کی منظوری میں متحرک کردار ادا کیا۔

گلناز رشید ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمسائے ملک میں اقتدار و اختیارات کے حصول کی جنگ جاری ہے جن عوامی نمائندگان کا کام بالائی ایوانوں میں پہنچ کر قانون سازی کرنا ہے وہ بلدیاتی نمائندگان کا ترقیاتی منصوبوں پر حق برداشت نہیں کر رہے اور یہ اختیار بھی اپنے ہاتھ میں رکھنے کے خواہاں ہیں۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پولنگ عملہ کی مدد سے بد ترین دھاندلی کروا کر مخالفین کو ہروایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا گیا تھا۔

سابقہ بلدیاتی ادوار میں ہونے والی فیصلہ سازی میں خواتین کے لیے متحرک کردار ادا کرنے والی امیدوار کو اس بار ووٹوں کی گنتی میں رد و بدل کر کے شکست دی گئی اور ایک ایسی خاتون کو کامیاب کروایا گیا جو شہر سے باہر رہائش پذیر ہیں اور خواتین سے فون پر رابطہ رکھنا بھی گوارا نہیں کرتیں۔ تاہم ان کے مقابلے میں خاتون نشست پر کامیاب ہونے والی مبشرہ تسنیم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عملہ کے ذریعے گنتی میں دھاندلی کرنے کا الزام جھوٹ پر مبنی ہے مقابل امیدوار کو این سی کے ووٹرز نے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا۔ مبشرہ تسنیم نے مزید کہا کہ وہ جہاں بھی ہوں ووٹرز سے ہر حال میں رابطہ قائم رکھتی ہیں اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف وومن ونگ کی ضلعی صدر اور وی سی درویش سے 1400 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہونے والی خاتون کونسلر روبینہ شاہین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلامقابلہ منتخب خواتین کو تحصیل کونسل کا ممبر بنائے جانا مقامی حکومتوں کے ایکٹ کی ایک ایسی خامی ہے جسے سیاست میں موجود غیر جمہوری عناصر نے خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل سے باہر کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ باصلاحیت اور تعلیم یافتہ خواتین کو مقابلہ سے دستبردار کروانے کے لیے اثر رسوخ استعمال کر کے منظور نظر گھرانوں کی ان پڑھ اور سیاست سے نابلد خواتین کو بلامقابلہ کامیاب کروانے کے لیے لابنگ کی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ موجودہ تحصیل کونسل میں متعدد ممبران انگوٹھا چھاپ (ان پڑھ) ہیں۔ وہ اپنی ذمہ داریوں اور حقوق سے واقف نہیں خواتین کی نمائندگی اور فیصلہ سازی کیسے کریں گی؟ روبینہ شاہین نے حاضری رجسٹر میں ثبت شدہ انگوٹھوں کے نشانات کا حوالہ دیا جس کی تحصیل کونسل کے عملے نے بھی تصدیق کی ہے۔

تحصیل کونسل کی ممبر اور سماجی شخصیت ساجدہ حسرت خان نے خواتین کی جانب سے جنرل نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے کی عدم دلچسپی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کلچر میں لوگ خواتین کے بجائے مردوں کو زیادہ موزوں اور قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ جنرل نشست پر مقابلہ کرنے کے لیے برادریوں کی حمایت حاصل کرنا اور بھرپور انتخابی مہم چلانا بھی ضروری ہے جس کے لیے وقت اور افرادی قوت کے ساتھ ساتھ بھاری اخراجات کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کہ خواتین امیدواروں کے بس سے باہر ہوتے ہیں۔ فیصلہ سازی عمل میں شمولیت کو بڑھانے کے لیے خواتین ووٹرز اور کونسلرز کو مناسب آگاہی کی ضرورت ہے۔

کھلابٹ ٹاؤن شپ کی اربن کونسل 4 سے خاتون کونسلر طلعت زوبیہ نے موجودہ مقامی حکومتوں کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نظام کو بھی بے اثر اور غیر فعال بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور میں وہ خاتون کی مخصوص نشست پر ہی بلامقابلہ منتخب ہوئی تھیں لیکن تحصیل کونسل کی ممبر نہیں بنائی گئیں حالیہ انتخابات میں 1100 ووٹ حاصل کر کے منتخب ہوئیں تو تحصیل کونسل کی ممبر شپ اس لیے نہیں دی گئی کہ ایکٹ کے مطابق بلامقابلہ منتخب ہونے والی خواتین کونسلرز تحصیل کونسل کی ممبر بننے کی حق دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر بار کی ترامیم نے بلدیاتی نظام کو غیر موثر ہی کیا ہے۔

نیبر ہڈ سٹی 7 سے اقلیتوں کی مخصوص نشست پر انتخابات میں حصہ لینے والی نگینہ بھٹی بتاتی ہیں کہ وہ سابقہ دور میں بلا مقابلہ تحصیل کونسلر منتخب ہوئیں لیکن حالیہ الیکشن میں ایک مرد امیدوار سے کانٹے دار مقابلہ کرنے کے بعد 4 ووٹوں سے ہار گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی نشست پر عموماً بلامقابلہ فیصلہ ہو جاتا ہے لیکن انہوں نے سابقہ دور کے فعال کردار کے پیش نظر عوامی اصرار پر مقابلہ کیا حالانکہ دستبرداری کے لیے کمیونیٹی کا کافی دباؤ رہا اور کمپرومائز کے لیے آنے والے جرگوں کو بھی معذرت کے ساتھ واپس روانہ کرتی رہیں۔

فیصلہ سازی عمل میں خواتین کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عورت فاونڈیشن خیبر پختون خواہ کی منیجر صائمہ منیر نے کہا کہ 2001 میں قائم ہونے والا نظام صحیح معنوں میں اقتدار و اختیارات کا نچلی سطح پر منتقلی کا سسٹم تھا جس میں اختیارات عوام کے پاس تھے جو موجودہ دور میں بیوروکریسی کے پاس ہیں۔ جس کو 2006 میں ورلڈ بنک سمیت دیگر عالمی اداروں نے بھی اپنی رپورٹس میں سراہا تھا۔ پہلی بار خواتین کو 33 فی صد نمائندگی کا حق دیا گیا جو سول سوسائٹی کی طویل جدوجہد کا ثمر تھا۔

2001 میں سماجی تنظیموں نے خواتین سمیت تمام محروم طبقات کی نمائندگی کرنے والے بلدیاتی ممبران کے لیے تربیت و آگاہی کا اہتمام کیا اور مقامی حکومتوں کے سالانہ ڈویلپمنٹ پلان کی تیاری میں تعاون کیا۔ سول سوسائٹی اب بھی اپنا موثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن شرط یہ ہے کہ حکومت مقامی مسائل کا حل مقامی وسائل سے مقامی لوگوں کے ذریعے نکالنے میں نیک نیتی دکھائے ورنہ کروڑوں روپے خرچ کر کے بلدیاتی انتخابات منعقد کروانے والی مشق کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

صائمہ منیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کے ترمیمی ایکٹ 2019 میں ایک خامی یہ بھی موجود ہے جس کے تحت بلامقابلہ منتخب خاتون کونسلر کو بھاری اکثریت سے مقابلہ جیت کر آنے والی کونسلر کی نسبت تحصیل کونسل کی ممبرشپ کا زیادہ حق دار سمجھا جاتا ہے حالانکہ بلامقابلہ کامیابی کسی کمپرومائز کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بلامقابلہ منتخب خواتین کو تحصیل کونسل کا ممبر بنائے جانے پر الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے والی خواتین میں مایوسی پھیلی ہے ایسے اقدامات کی بدولت مقامی سطح سے باصلاحیت اور متحرک قیادت سامنے لانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

صائمہ منیر نے کہا کہ ضروری ترامیم کر کے 2001 کے بلدیاتی نظام جو کہ بہترین تھا کو بحال کیا جائے ضلع کونسل ڈسٹرکٹ میں اتحاد کی علامت سمجھی جاتی ہے ضلع کونسل کی عدم موجودگی میں جو ترقیاتی پلان زائد آمدن والی تحصیل ہری پور کے لیے دیا جا سکتا ہے وہ ہی پلان تحصیل غازی اور خان پور کے لیے نہیں دیا جا سکتا۔

مقامی حکومتوں کے فیصلہ سازی عمل میں خواتین کی شمولیت کے موضوع پر بلدیاتی نظام سے واقفیت رکھنے والی مختلف شخصیات کے موقف سے نتیجہ اخذ کیا جائے تو حقیقت واضح ہوتی ہے کہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کی خامیوں کو ایک سازش کے تحت استعمال کر کے نہ صرف مقامی حکومتوں کے نظام میں عورتوں کی شمولیت کو بے سود بنایا جا رہا ہے بلکہ عوام کو با اختیار بنانے والے نظام کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ اثر و رسوخ اور لابنگ کے نتیجے میں دیہی و شہری کونسلوں سے بلامقابلہ آنے والی خواتین کو قرعہ اندازی کے ذریعے تحصیل کونسل کا ممبر بنانے سے سیاسی شعور رکھنے والی خواتین کی حق تلفی ہو رہی ہے جس سے مستقبل میں اہل سیاسی قیادت کے فقدان اور اقتدار کو چند خاندانوں تک محدود رکھنے کی راہ پھر سے ہموار کی جا رہی ہے۔

ہمیشہ سے اقتدار میں رہنے والے با اثر سیاسی لوگ بلدیاتی نمائندگان کے فنڈز سے منظور منصوبوں پر اپنی تختیاں لگا کر سیاسی کریڈٹ حاصل کرنے کی خاطر مقامی کونسلوں میں ایسی ممبران کو لانے کے لیے لابنگ کرتے ہیں جن کو اپنے حقوق و اختیارات سے بھی آگاہی نہیں ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلدیاتی نمائندگان اور سول سوسائٹی کی جانب سے 2001 کے نظام کی خامیوں کو دور کر کے بحال کرنے کے لیے صوبائی حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے۔

جس طرح سی پی ڈی آئی اور واج سمیت دیگر سماجی تنظیمیں میڈیا نمائندگان کو آر ٹی آئی ایکٹ کے استعمال، جعلی خبروں کی تصدیق اور حساس رپورٹنگ جیسے دیگر معاملات پر تربیت فراہم کر رہی ہیں اس طرح بلدیاتی نمائندگان کی تربیت و آگاہی کے لیے سیشنز کا انعقاد کر کے تحصیل کونسلز کی بلامقابلہ منتخب کم پڑھی لکھی یا ان پڑھ ممبرز کو سیاسی شعور دینے کی بھی کوشش کریں تاکہ وہ خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے مقامی حکومت کے فیصلہ سازی عمل میں شامل ہونے کے قابل بن سکیں۔

Facebook Comments HS