پاس کر یا برداشت کر!

میری اس تحریر کا ٹائٹل پڑھ کر مردوں کو غصہ ضرور آئے گا، مگر مرد حضرات جب اس تحریر کو مکمل پڑھ لیں گے تو وہ یقیناً یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ کہیں نہ کہیں اس تحریر میں ان کا اپنا کردار بھی تو شامل نہیں۔
یہ بلاگ مجھ جیسی خواتین کے لیے ہے جو کام کے سلسلے میں گھر سے باہر نکل کر ہراسمنٹ کا سامنا کرتی ہیں۔ خواتین ہوں یا چھوٹے بچے بچیاں انہیں ہر جگہ جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
خواتین کو جنسی ہراساں کرنا پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو وقت کے ساتھ زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ میرے خیال سے پیدائش سے لے کر مرنے کے بعد تک بھی خواتین محفوظ نہیں۔ حتیٰ کہ گھر میں بھی خواتین ہراسمنٹ کا شکار ہوتی ہیں۔
جب ایک عورت نابالغ ہوتی ہے تب وہ کسی رشتے دار، محلے دار یا پھر کسی دکاندار کی ہوس کا نشانہ بنتی ہے، جب کالج یا یونیورسٹی کا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو کتنے ہی مردوں کی گندی نظروں کا سامنا کرتی ہے تو کبھی آتے جاتے مردوں کے نازیبا الفاظ سے ذہنی تشدد بھی برداشت کرتی ہے۔ جو عورت کسی مجبوری کے تحت گھر سے باہر نکل کر اپنے گھر والوں کا بازو بنتی ہے تو ہوس سے بھری سوچ کے مرد وہ بازو کاٹ ڈالنے میں دیر نہیں لگاتے۔ جب ایک عورت اپنے آخری سفر پر رخصت ہوتی ہے تو وہاں بھی مرد ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے اور قبر سے نکال کر بے جان جسم کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔
خواتین کو آج کل سب سے زیادہ مسائل کام کرنے کی جگہ پر پیش آتے ہیں جو خواتین کے کیریئر اور فلاح و بہبود پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بدقسمتی سے، یہ سب بہت عام ہے ہو چکا ہے۔ بہت سی خواتین (اور مرد بھی) کام پر کسی نہ کسی طرح کی جنسی ہراسانی کا سامنا کرتے ہیں۔ میں خود بھی ایک عورت ہوں گھر سے باہر نکل کر کام کرتی ہوں مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ ایک عورت کو کس کس طرح کی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی راہ چلتے مردوں کے منہ سے ماشاءاللہ یا سیکسی جیسے الفاظ سننا یا پھر لوگوں کے بھرے مجمعے کا فائدہ اٹھا کر عورت کو ٹچ کرنا یا پھر بازار میں شاپنگ کے دوران مرد حضرات کا گھورتے رہنا۔ افففففف۔
اسی حوالے سے میں ایک واقعہ شیئر کرنے جا رہی ہوں جسے پڑھ کر خواتین میں ہمت پیدا ہوگی۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ میں اپنی فیملی کے ساتھ لاہور ایکسپو سینٹر چلی گئی جہاں ایک فیملی فیسٹیول چل رہا تھا۔ لوگوں کا بہت زیادہ رش ہونے کی وجہ سے کوئی ایک دوسرے پر زیادہ دھیان نہیں دے رہا تھا۔ میں اور میری چھوٹی بہن ایک کھانے کے سٹال پر جا کر کھڑے ہو گئے اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگے اتنی دیر میں ایک بوڑھا آدمی آیا اور ہمارے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا۔
تھوڑی دیر کے بعد اس نے میری چھوٹی بہن کو چھونے کی کوشش کی پہلے تو اگنور کیا کہ زیادہ رش ہونے کی وجہ سے دھکا لگ گیا ہو گا مگر جب دو سے تین بار اس نے یہ عمل دہرایا تو میری بہن کو غصہ آ گیا اور اس شخص کی پٹائی کر ڈالی۔ اس ساری صورتحال کو دیکھ کر مجھے اپنی بہن پر فخر محسوس ہوا کہ یہ کتنی بہادر ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ سوال بھی میرے ذہن میں آیا کہ ہراسمنٹ کا شکار ہونے والی خواتین اپنے لئے آواز کیوں نہیں اٹھاتیں؟
کام پر جنسی طور پر ہراساں کرنا صرف ناپسندیدہ چھونا ہی نہیں بلکہ یہ کئی شکلیں لے سکتا ہے۔ یہ کسی کی ظاہری شکل یا جسم کے کسی بھی حصے کے بارے میں کیا گیا تبصرہ، اشارے، جنسی یا ڈبل میننگز جوکس، نازیبا پیغامات بھیجنا، یا پیچھا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ ملازمت پر ، کسی بھی پیشہ ورانہ میٹنگز یا کانفرنسوں اور یہاں تک کہ کام سے متعلقہ واقعات کے باہر بھی ہو سکتا ہے۔ اسی حوالے سے (جیو نیوز) کی ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ دنوں جیکب آباد کے نواحی گاؤں اللہ بخش جکھرانی میں انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو ورکر خاتون مبینہ زیادتی کا شکار ہوئی اور شوہر نے خاتون کو گھر سے نکال دیا۔ اس ساری صورتحال میں بیچاری عورت کا قصور کیا تھا؟
خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات سے عموماً ارد گرد کے لوگ آگاہ بھی ہوتے ہیں اور کچھ انفرادی طور پر اس کی مذمت بھی کرتے ہیں لیکن جب کوئی عورت انسانیت سے گرے ہوئے مجرم کی نشاندہی کرتی ہے تو ان کی گواہی دینے والا کوئی نہیں ہوتا جو کہ ان واقعات کو مزید بڑھاوا دینے کا سبب بنتے ہیں۔
ہماری سوسائٹی کے مردوں کا جنسی ہراسانی کے حوالے سے شروع سے یہی المیہ رہا ہے کہ خواتین چھوٹے اور بیہودہ لباس زیب تن کرتی ہیں اس لیے ان کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں اور یوں مرد اپنی گندی سوچ کا سارا ملبہ خواتین کے کردار پراٹھا کر پھینک دیتا ہے۔
میں یہاں مردوں سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر عورتوں کے لباس میں مسئلہ ہے تو سکول اور مدرسوں میں زیرتعلیم چھوٹے بچے بچیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟
اسی حوالے سے گجرانوالہ کے ایک سکول کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں کینٹین والے پر بچیوں کے ریپ کا الزام لگا، اور ملزم کے موبائل سے نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بھی برآمد ہوئی۔ سٹی پولیس افسر (سی پی او) گوجرانوالہ کا کہنا ہے کہ تین بچیوں سے ریپ کی تصدیق ہوئی جبکہ دو کے ساتھ ریپ کی کوشش کی گئی، ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام تر شواہد جمع کر کے لیبارٹری بھجوائے جا رہے ہیں اور کیس کی میرٹ پر تفتیش کر کے ملزم کو سزا دلوائی جائے گی۔ یہ تو شکر ہے بچیوں نے ہمت کر کے گھر والوں کو ساری حقیقت بیان کر دی ورنہ پتہ نہیں کب تک سکول میں یہ گھناؤنا جرم جاری رہتا اور کتنی ہی معصوم کلیاں اس ہوس کی بھینٹ کے چکروں میں ہی مسلی جاتیں۔ ہمممم اب بھی قصور ننھی بچیوں کا ہی ہو گا۔ شاید یونیفارم میں ہی کوئی خرابی ہوگی۔
جب بھی ہراسمنٹ کا ذکر ہوتا ہے مجھے 2020 ستمبر میں موٹروے پر ہونے والا واقعہ ضرور یاد آتا ہے جسے پاکستان میں بہت زیادہ توجہ حاصل ہوئی۔ ایک خاتون اپنے بچوں کے ساتھ رات کے وقت موٹروے پر سفر کر رہی تھی جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوا۔ اسی دوران کچھ مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا اور انہیں ہراساں کیا۔ اس واقعے نے نہ صرف عوامی غم و غصے کو جنم دیا بلکہ اس نے جنسی ہراسانی کے خلاف تحریک کو بھی مزید قوت دی۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس واقعے پر آواز اٹھائی اور حکام کی غفلت کی مذمت کی۔ پاکستان کی ایسی بہت سی خواتین ہیں جنہوں نے ہراسمنٹ کا سامنا کیا اور اپنی آواز بلند کی ہے۔ جن میں عائشہ اکرم بھی شامل ہیں جو ایک مشہور ٹک ٹاکر ہیں، کو 14 اگست 2021 کو مینار پاکستان پر ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑا
ایک انتہائی افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ہراسانی کے واقعات کے نتیجے میں متعدد خواتین کو جان سے ہاتھ بھی دھونا پڑا جن میں قندیل بلوچ، نور مقدم، ثانیہ زہرہ جیسے کئی نام شامل ہیں اور جب ان تمام خواتین کا ذکر ہو تو زینب کو کیسے بھولا جا سکتا ہے۔
مردوں کو یہ لگتا ہے کہ دنیا کی ساری خواتین ان کی ملکیت ہیں اس لئے جب جہاں جیسے مرضی عورتوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں اور اپنی مردانگی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اگر مرد کو اپنی مردانگی دکھانے کا اتنا ہی شوق ہے تو عورت کی حفاظت کر کے مردانگی دکھائے، عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائے، عورت کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئے، جس نظر سے اپنے گھر کی خواتین کو دیکھتا ہو ویسے ہی نظر سے ہر عورت کو دیکھے تب مردانگی کا پتہ چلے گا۔
ایک عورت ہونے کے ناتے میں تمام خواتین کو یہی پیغام دینا چاہوں گی کہ اپنی لڑائی جرت و بہادری سے خود لڑنا سیکھیں، اپنے اوپر ہونے والی جسمانی اور ذہنی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانا سیکھیں، اس گلے سڑے معاشرے میں مردوں کا مقابلہ ایک مرد بن کر کرنا سیکھیں، مردوں کو ”شٹ اپ“ کال دینا سیکھیں، مردوں کو ان کی اوقات میں رکھنا سیکھیں کیونکہ پاکستان میں قانون تو بہت ہیں لیکن ان پر عمل ہوتا دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ کتنے ہی ریپ کیس کے مجرم اس معاشرے میں کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں یا آدھے سے زیادہ مجرموں کو عدالت میں نفسیاتی مریض ثابت کر دیا جاتا ہے اور کیس کی فائل بند کر دی جاتی ہے۔
ہراسمنٹ ایک سنگین مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لیے نہ صرف قانونی بلکہ سماجی سطح پر بھی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں خواتین کو ہراسمنٹ سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت سے سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے، ضرورت تو اس امر کی بھی ہے کہ گھروں میں بیٹیوں کی تربیت پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ لڑکوں کو بھی بچپن سے سمجھایا جائے کہ عورت کا احترام کیا جائے ناکہ اسے اپنے سے کمتر سمجھا جائے تاکہ مرد بھی خواتین کے حقوق کے تحفظ میں شریک بنایا جائے۔
