میری دو کمزوریاں: میٹھی چیزیں اور میٹھے لوگ

(1)
میں اپنے دوستوں سے کہا کرتا تھا میری دو کمزوریاں ہیں۔ میٹھی چیزیں اور میٹھے لوگ اب میرے ڈاکٹر کوپلینڈ نے مجھے مشورہ دیا ہے کہ میں میٹھی چیزوں سے پرہیز کروں۔ اب میں اپنے دوستوں سے کہہ سکتا ہوں کہ میری ایک کمزوری کم ہو گئی ہے۔اب میری زندگی میں صرف ایسے میٹھے لوگ رہ گئے ہیں جو جانتے ہیں کہ میٹھے بول میں جادو ہے اور انسانی رشتوں کی چاشنی اسی جادو کی مرہون منت ہے۔
(2)
میری امی جان کہا کرتی تھیں کہ مجھے بچپن سے ہی میٹھی چیزیں پسند تھیں۔ چاہے وہ چینی ہو یا گڑ، حلوہ ہو یا گجریلا، گلاب جامن ہو یا رس گلا، لڈو ہو یا برفی۔ میں ان سب کو بڑے شوق سے کھاتا تھا۔
اب ڈاکٹر نے کہا ہے کہ میں ان سب سے اجتناب کروں تا کہ اپنی موروثی بیماری ذیابیطس، جس سے مجھ سے پہلے میری امی عائشہ، میرے ماموں احسان اور میری بہن عنبر متاثر ہو چکے ہیں پر قابو پا سکوں ایک صحت مند زندگی گزار سکوں اور لمبی عمر پا سکوں۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ لمبی عمر پانے کا تو کوئی خاص شوق نہیں البتہ صحت مند زندگی گزارنے کے لیے یہ قربانی دے سکتا ہوں۔
(3)
میری سیکرٹری مارسیلینا نے مجھے بتایا کہ میرے ڈاکٹر کوپلینڈ کا پیغام آیا ہے وہ مجھ سے جلد از جلد ملنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ میرے خون کے ٹیسٹ کے نتائج دیکھ کر میرے بارے میں فکرمند ہیں۔ کووڈ کے دوران میں اپنے ڈاکٹر سے چار سال نہیں ملا تھا۔ اب ملا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرا بلڈ شوگر جو پانچ سال پہلے چھ تھا اب آٹھ ہو گیا ہے اس لیے مجھے اب شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے ادویہ کھانی چاہئیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میرا کو لیسٹرول کا نتیجہ بھی دو کی بجائے چار ہے۔ اس لیے اس کے لیے بھی مجھے دوا کھانی چاہیے اور تین ماہ بعد پھر خون کے ٹیسٹ کروانے چاہئیں۔
میرے ڈاکٹر جانتے ہیں کہ میں ڈاکٹر ہونے کے باوجود خود بھی ادویہ سے اجتناب کرتا ہوں اور اپنے مریضوں کو بھی بہت کم ادویہ دیتا ہوں۔ میں نے سوچا چند ماہ اپنے ڈاکٹر کو خوش کرنے کے لیے ادویہ بھی اور پرہیزی کھانا بھی کھا لوں اور پھر بہتر نتائج دکھا کر ادویہ کم کر سکوں۔ رخصت ہونے سے پہلے ڈاکٹر کوپلینڈ نے کہا اگر آپ ایک کتاب حاصل کر کے پڑھ سکیں تو آپ کو بہت فائدہ ہو گا۔ میں نے پوچھا کتاب کا نام کہنے لگے۔ DIABETES FOR DUMMIES
اگر آپ کا مشورہ ہے تو میں ضرور حاصل کر لوں گا۔ گھر جاتے ہوئے میں نے اپنے چند دوستوں کو فون کیا اور پوچھا "فور ڈمیز” کا اردو میں کیا ترجمہ ہو گا۔
پہلے دوست نے کہا۔ بے وقوفوں کے لیے
دوسرے دوست نے کہا۔ چغدوں کے لیے
تیسرے دوست نے کہا۔ کم عقلوں کے لیے
چوتھے دوست نے کہا۔ سادہ لوحوں کے لیے
میں نے سوچا۔ ڈاکٹروں کے لیے نہیں عام لوگوں کے لیے
(4)
اپنے ڈاکٹر سے مشورے کے بعد میں نے اپنی دوست ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کو فون کیا۔ وہ اینڈوکرائینولوجسٹ ہیں اور ذیابیطس کے موضوع پر تخصص رکھتی ہیں۔ انہوں نے بھی عوام کے لیے اس موضوع پر اردو میں کتاب لکھی ہے۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کہنے لگیں کہ وہ ذیابیطس کی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر رہی ہیں۔ انہیں پتہ چلا کہ مجھے ذیابیطس کی تشخیص ہوئی ہے تو انہوں نے مجھے ایک مضمون بھیجا۔ وہ مضمون ڈاکٹر جیما نیومین کا لکھا ہوا تھا جنہوں نے ایک صحت مند زندگی گزارنے کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا عنوان ہے، GET WELL….STAY WELL
اس کتاب میں انہوں نے ذیابیطس کے مرض پر قابو پانے کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند زندگی گزارنے کے چھ راز بتائے ہیں۔ ان چھ مشوروں کا نچوڑ حاضر خدمت ہے۔
GLOVES
G…..GRATITUDE
L………………LOVE
O…OUTDOORS
V..VEGETABLES
E………EXERCISE
S…………….SLEEP
ڈاکٹر نیومن کے مشوروں کے مطابق وہ لوگ صحت مند زندگی گزارتے ہیں جو
1۔ زندگی کے تحفوں کے بارے میں اپنے دل میں احساس تشکر رکھتے ہیں۔
2۔ محبت بھرے رشتوں میں گھرے رہتے ہیں۔
3۔ فطرت کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
4۔ سبزیاں زیادہ کھاتے ہیں۔
5۔ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں۔
6۔ گہری نیند سوتے ہیں۔
ڈاکٹر نیومین کے مشورے پڑھ کر مجھے یونانی طبیب اور فلسفی بقراط یاد آ گئے جنہوں نے آج سے تین ہزار سال پہلے صحت مند زندگی گزارنے کے چار مشورے دیے تھے۔
1۔ متوازن خوارک کھانا۔
2۔ پانی زیادہ پینا۔۔
3۔ روزانہ سیر کو جانا اور باقاعدہ ورزش کرنا۔
4۔ گہری نیند سونا۔
ڈاکٹر نیومین کے مشورے پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ بقراط ایک دانا انسان تھے۔ انہوں نے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تحقیق سے بہت پہلے زندگی کے تجربوں اور مشاہدوں اور اپنے مریضوں کے علاج سے صحت کے راز جان لیے تھے۔
میں نے ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کا شکریہ ادا کیا اور فیصلہ کیا کہ آئندہ چند ماہ میں ان مشوروں پر عمل کر کے ایک صحتمند زندگی گزارنے کی کوشش کروں گا۔ چند مشوروں پر تو میں پہلے ہی عمل کر رہا ہوں۔ اب مجھے صرف میٹھی چیزوں سے پرہیز کرنا ہو گا اور میٹھے لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا ہو گا۔ مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ میٹھی باتوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ان سے بلڈ شوگر نہیں بڑھتی عین ممکن ہے ان سے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر دونوں کم ہو جاتے ہوں۔
(5)
میں فارمیسسٹ سے اپنی ادویہ لینے گیا تو انہوں نے مجھے شوگر اور کولیسٹرول کی ادویہ کی دو بوتلیں دیں۔ میں نے قیمت پوچھی تو کہنے لگیں دو سو ڈالر، پھر کچھ سوچ کر پوچھنے لگیں کیا آپ سینئر سٹیزن پروگرام کا حصہ ہیں؟ میں اس پروگرام کے بارے میں نہیں جانتا؟ میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔ کہنے لگیں، کینیڈا کی حکومت نے حال ہی میں اپنے پینسٹھ برس سے زیادہ عمر کے بزرگوں کا خیال رکھنے کے لیے ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پروگرام میں آپ سال میں فقط ایک دفعہ ایک سو ڈالر دیتے ہیں اور پھر سارا سال آپ مفت دوائیں حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ میں نے سو ڈالر دیے اور دو سو ڈالر کی ادویہ گھر لے آیا۔ اب مجھے آئندہ بھی اپنی ادویہ کی قیمت ادا نہیں کرنی پڑے گی۔
اب میں اپنے دوستوں کو بتا سکتا ہوں کہ کینیڈا میں زندگی کی شام گزارنے کا کیا فائدہ ہے۔ کینیڈا کی حکومت چونکہ سوشلزم کے چند اصولوں پر عمل کرتی ہے اس لیے کینیڈین اپنے بزرگوں کا خیال رکھنا جانتے ہیں اور ایسے قوانین بناتے ہیں جن سے یہاں کے بزرگ با عزت طریقے سے صحت مند زندگی گزار سکیں۔
اب آپ مجھے بتائیں کہ پاکستانی حکومت اور عوام اپنے بزرگوں کا کس طرح خیال رکھتے ہیں؟


بہت معلوماتی اور مٹھاس سے بھرپور تحریر
ذیابیطس ایک تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے اور انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 53 کروڑ سے زیادہ افراد اس مرض کا شکار ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ تعداد 40 سال پہلے کے مقابلے میں پانچ گنا ہے۔مجھے اس کی وجہ آج کل کا لائف سٹائل لگتا ہے۔اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔
ذیابیطس کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ 2021 تک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً سوا تین کروڑ لوگ اس کا شکار ہیں ۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کا مریض ہے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
یقینا” احتیاط علاج سے بہتر ہے۔